اسلامی اقتصادی نظام 08-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, February 28, 2020

اسلامی اقتصادی نظام 08-20


اسلامی اقتصادی نظام

تحریر: جناب ڈاکٹر زید بن محمد
کچھ ماہرین اقتصاد، اخلاقیات سے اقتصادیات کا ربط مشکل سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ علم الاقتصادایک غیر جانبدارانہ فن ہے جس کا اخلاقی مباحث سے کوئی تعلق نہیں لیکن اسلامی اقتصاد میں اخلاقیات کو اسلامی عقیدے کا ایک جزء سمجھا جاتاہے۔ اس لیے تجارتی اور اقتصادی معاملات کو شریعت اسلامی کے عام دائرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ مسلمان دوسروں کے ساتھ اپنے دیگر تعامل کی طرح ایسے معاملے میں بھی اللہ کی نگرانی کا خیال رکھتا ہے۔ اقتصادی اخلاقیات کے کئی اسلامی اصول وضابطے ہیں جن میں سے چند ایک حسب ذیل ہیں۔
اس کو پڑھیں:    تقریب تکمیل صحیح بخاری
 اسلامی اقتصاد ایمان وتقویٰ کا داعی ہے:
تقویٰ اسلامی اقتصاد کے اصول وضوابط میں سے ایک اہم بنیادی ضابطہ ہے بلکہ جملہ شعبہ حیات میں ہی وہ ایک بنیادی ضابطہ ہے۔ کیونکہ زندگی بجائے خود اللہ کی امانت، رضائے مولیٰ کی مشتاق اور اس کے عذاب سے خائف ہے۔ طریقہ ہائے تقویٰ میں سے چند ایک یہ ہیں:
امانت: عام لوگ امانت کو اس کے سب سے تنگ معنیٰ ومفہوم سونپے گئے سامان کی حفاظت میں ہی محصورکرتے ہیں جبکہ اس کے اور بھی دیگر معنیٰ مفہوم ہیں‘ جیسے آدمی (فیکٹری ہو یا کھیت کھلیان یا پھر دوکان ،بازار کہیں بھی) کام میں اپنی مکمل ذمہ داری ادا کرنے کا خواہاں وکوشاں رہے اور لوگوں کے ان سبھی حقوق کا خیال رکھے جو اس پر عائد ہیں، اسلامی اقتصاد میں امانت کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اپنے کسی ذاتی فائدے یا رشتہ دارکے مفاد کی خاطر اپنے منصب کا ناجائز استعمال نہ کرے۔
امانت کے ان معانی ومفاہیم کی کئی احادیث دلیل بھی ہیں ، جیسے نبی کریمe کا یہ فرمان:
[لكل غادر لواء یرفع له بقدر غدرته إلا ولا غادر أعظم من أمیر عامة۔]
ہر فریبی کیلئے (قیامت کے دن) ایک جھنڈا ہوگا جو اس کے دھوکہ وفریب کے حساب سے بلند رہے گا۔ سنو! امیر عام کے بدعہدی کرنے والے سے بڑھ کر کوئی فریبی نہیں۔ اور یہ ارشاد:
[من استعملناه علی عمل فرزقناه رزقاً فما أخذ بعد ذلك فهو غلول۔]
یعنی ہم نے کسی کو کسی کام کیلئے مزدوری پہ رکھا اور اسے اجرت بھی دے دی پھر اس کے بعد بھی وہ کچھ لے لیتا ہے تو یہ خیانت ہے۔ بعثت سے قبل آپ کی سب سے ممتاز صفت یہی امانت تھی یہاں تک کہ آپ کو امین (امانت دار) کے لقب سے پکارا جاتاتھا۔
وفا: اسلامی اقتصاد میں عقد اور عہد وپیمان کی بڑی اہمیت ہے‘ اسی وجہ سے انسان کی وعدہ وفائی دنیا وآخرت میں اس کی عزت وسعادت کی بنیاد ہے۔ اسلامی اقتصاد اسی عہد وعقد پر مبنی ہے جس کے اندر مالی معاملات ملحوظ ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ کتا ب وسنت کے مطابق شریعت کے مقاصد بروئے کار لانے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{یَا اَیُّها الَّذِینَ اٰمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ}(المائدة: ۱)
’’اے ایمان والو! عہد وپیمان پورے کرو۔ اور فرماتاہے:
{أَوْفُوا بِالْعَهدِ إِنَّ الْعَهدَ كانَ مَسْئُولًا} (اسراء ۳۴)
’’اور وعدے پورے کرو ، کیونکہ قول وقرار کی باز پرس ہوگی۔‘‘
اسلامی اقتصاد خیر کی آفاقیت کا پیغام دیتاہے:
اسلامی اقتصاد بذل وانفاق پر مبنی ہے اس لیے اسلام نے مسلمانوں کو ایثار وسخاوت وعطیہ وبخشش کی دعوت دی ہے اور نیکی واحسان کی طرف بڑھنے کی نصیحت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{وَیَسْأَلُونَك مَاذَا یُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ}(بقرة: ۲۱۹)
’’اور لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ تو آپ فرما دیجئے کہ حاجت سے زائد چیز۔‘‘
اور فرماتا ہے:
{یَسْأَلُونَك مَاذَا یُنْفِقُونَ قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَالْأَقْرَبِینَ وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاكینِ وَابْنِ السَّبِیلِ} (بقرة: ۲۱۵)
’’لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں تو آپ فرما دیں کہ جو مال تم خرچ کرو، وہ ماں باپ کیلئے ہے اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کیلئے ہے۔‘‘
اور فرماتا ہے:
{وَلَكنَّ الْبِرَّ مَنْ آَمَنَ بِاللَّه وَالْیَوْمِ الْآَخِرِ وَالْمَلَائِكة وَالْكتَابِ وَالنَّبِیِّینَ وَآَتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّه ذَوِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاكینَ وَابْنَ السَّبِیلِ وَالسَّائِلِینَ وَفِی الرِّقَابِ} (البقرة: ۱۷۷)
’’بلکہ حقیقتاً اچھا شخص وہ ہے جو اللہ پر ، قیامت کے دن پر ، فرشتوں پر ، کتاب پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو ، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سوال کرنے والوں اور غلام آزاد کرانے میں دے۔‘‘
اسلامی اقتصاد میں بِر(نیکی) کا مفہوم اتنا وسیع ہے کہ اس میں آپ ہر صحیح ودرست کی تصویر دیکھ سکتے ہیں۔
اسلامی اقتصاد اعتدال میانہ روی کی دعوت دیتاہے:
اسلامی اقتصاد لوگوں کے انفرادی ومعاشرتی اور اقتصادی مسائل منظم کرتاہے تاکہ مسلمان مہلک رہبانیت اور تباہ کن مادیت کی طرف مائل نہ ہو، وہ توسط ومیانہ روی، صحیح راستہ کی پیروی اور اعتدال وتوازن کی بات کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{وَابْتَغِ فِیمَا آَتَاك اللَّه الدَّارَ الْاٰخِرَة وَلَا تَنْسَ نَصِیبَك مِنَ الدُّنْیَا} (القصص: ۷۷)
’’اور جو کچھ اللہ نے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول۔‘‘
اس کو پڑھیں: 
اس لیے اسلامی اقتصاد کی اولین بات یہ ہے کہ مسلمان شکم پرور نہ ہو ، جس کی صرف یہی فکر ہوکہ اس کے دستر خوان پر قسم قسم کے کھانے رہیں، اسراف وتبذیر اور عیش کوشی کی ممانعت تواسی وجہ سے ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{یَا بَنِی آَدَمَ خُذُوا زِینَتَكمْ عِنْدَ كلِّ مَسْجِدٍ وَكلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّه لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِینَ} (الاعراف: ۳۱)
’’اے آدم کے بیٹو! ہر نماز کے وقت اپنی زینت اختیار کرو، کھاؤ، پیو اور فضول خرچی مت کرو، بلاشبہ وہ فضول خرچوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
اور فرمایا:
{وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیرًا٭إِنَّ الْمُبَذِّرِینَ كانُوا إِخْوَانَ الشَّیَاطِینِ} (اسراء: ۱۶-۲۷)
’’اور اسراف وبے جا خرچ سے بچو‘ بے جا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔‘‘
نیز فرمایا:
{وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُهلِك قَرْیَة أَمَرْنَا مُتْرَفِیها فَفَسَقُوا فِیها} (اسراء: ۱۶)
’’اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیں او روہ اس بستی میں کھلے عام نافرمانی کرنے لگتے ہیں۔‘‘
اسی طرح بخل اور کنجوسی کی بھی ممانعت آئی ہے:
{وَلَا تَجْعَلْ یَدَك مَغْلُولَة إِلَی عُنُقِك} (اسراء: ۲۹)
’’اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا مت رکھ۔‘‘
اور فرمایا:
{فَمِنْكمْ مَنْ یَبْخَلُ وَمَنْ یَبْخَلْ فَإِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَفْسِه} (محمد: ۳۸)
’’تم میں سے کچھ بخیلی کرتے ہیں اور جو بخل کرتاہے وہ دراصل اپنی جان سے بخیلی کرتاہے ۔‘‘
اور نبیe کا فرمان ہے کہ [ایّاكم والشح۔] (ترمذی) ’’بخالت سے بچو۔‘‘
اسراف وفضول خرچی اور بخالت وکنجوسی کی ممانعت اعتدال ومیانہ روی کی ہی دعوت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
{وَالَّذِینَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ یُسْرِفُوا وَلَمْ یَقْتُرُوا وَكانَ بَیْنَ ذَلِك قَوَامًا} (فرقان: ۶۷)
’’اور جو خرچ کرتے وقت اسراف کرتے ہیں اور نہ ہی بخیلی ، بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل طریقے پر خرچ کرتے ہیں۔‘‘
اقتصادی نقطئہ نظر سے بخالت لوگوں کو بربادی کی طرف بڑھنے کی راہ بتاتی ہے جبکہ اسراف وعیش کوشی تبذیر وغیر ضروری خرچ کی اور یہ دونوں ہی ناپسندیدہ ہیں اس لیے اعتدال ومیانہ روی کی تلقین کی گئی ہے‘ کیونکہ فرد اور معاشرے پر اس کے مثبت معاشرتی ، اخلاقی اور اقتصادی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اقتصادی عمل کے قرآنی طریقے:
قرآنی آیات ، انسان اور حیات وکائنات سے متعلق بحث کرتی ہیں۔ سبب ومسبب ، علت ومعلول کے مطابق مختلف واقعات کے مابین پائے جانے والے تعلقات کو بھی یقینی بتاتی ہیں۔
قرآنی آیات کا استقراء بتاتاہے کہ قرآن جن طریقوں کی وضاحت کرتاہے ، ان کے مختلف رنگ اور خاص مقاصد ہیں۔ اس لیے انسان کو بحث وتحقیق اور سنن واحکام کے جائزہ کی دعوت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكمْ سُنَنٌ فَسِیرُوا فِی الْاَرْضِ} (آل عمران: ۱۳۷)
’’تم سے پہلے بھی ایسے واقعات گزرچکے ہیں سو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو۔‘‘
مختلف قرآنی آیات ایسے کچھ طریقوں کی وضاحت کرتی ہیں جو تاریکی کے بیچ راہ یابی کے بنیادی ضابطے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{وَلَقَدْ اَنْزَلْنَا إِلَیْكمْ آَیَاتٍ مُبَیِّنَاتٍ وَمَثَلًا مِنَ الَّذِینَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكمْ وَمَوْعِظَة لِلْمُتَّقِینَ}
’’ہم نے تمہاری طرف کھلی اور روشن آیتیں اتاردی ہیں اور ان لوگوں کی کہاوتیں جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور پرہیز گاروں کیلئے نصیحت ہے۔‘‘ (نور: ۳۴)
آئندہ سطور میں ہم بہ اختصار کچھ ایسے قرآنی طریقے پیش کررہے ہیں، جن کا اقتصادی تقاضوں سے گہرا رشتہ ہے:
امت کی اصلاح واقتصادی حالت کے مابین ربط:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{وَلَوْ اَنَّهمْ اَقَامُوا التَّوْرَاة وَالْاِنْجِیلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْهمْ مِنْ رَبِّهمْ لَاَكلُوا مِنْ فَوْقِهمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهمْ} (مائدة: ۶۶)
’’اور اگر یہ لوگ تورات انجیل اور ان کی طرف اللہ کے پاس سے جو کچھ نازل کیا گیا ہے ان کے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر اور نیچے سے بھی روزی پاتے اورکھاتے۔‘‘
اور فرماتا ہے:
{وَلَوْ اَنَّ اَهلَ الْقُرَیٓ اٰمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ}(الاعراف: ۹۶)
’’اور اگر ان بستیوں والے ایمان لے آتے اور پرہیز گاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان وزمین کی برکتیں کھول دیتے۔‘‘
نیز فرماتا ہے:
{وَمَنْ یَتَّقِ اللَّه یَجْعَلْ لَـــه مَخْرَجًا٭ وَیَرْزُقْه مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَمَنْ یَتَوَكلْ عَلَی اللّٰه فَهوَ حَسْبُه} (طلاق: ۲-۳)
’’اور جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کیلئے سبیل نکالے گا اور اسے اس طرح روزی دے گا کہ اس کو پتہ بھی نہیں چلے گا اور جوشخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔‘‘
ان آیات میں اس بات کا اشارہ ہے کہ تقوی اور توکل علی اللہ کے فوراً یا بعد میں ایسے آثار ضرورنمایا ں ہوتے ہیں جو ربانی عنایت ، الٰہی حکمت اور اقتصادی ومعاشرتی زندگی میں مدد واصلاح کی تصویر ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{إِنَّ اللّٰه لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِاَنْفُسِهمْ} (الرعد: ۱۱)
’’اللہ کسی قوم کی حالت تب تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل لیں۔‘‘
یہ آیت ہمارے سامنے فرد ومعاشرے کے بیچ کے گہرے رشتے کا معیار بتاتی ہے جو دونوں کی داخلی وخارجی حقیقت کے درمیان قائم رہتاہے ۔
{ذَلِك بِأَنَّ اللَّه لَمْ یَك مُغَیِّرًا نِعْمَة أَنْعَمَها عَلَی قَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهمْ} (الأنفال: ۵۳)
’’یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ کسی قوم پر کوئی نعمت انعام فرما کر پھر بدل دے، جب تک کہ وہ خود اپنی اس حالت کو نہ بدل لیں۔‘‘
اس کو پڑھیں:    عظمتِ رفتہ کی بازیابی
مذکورہ آیات ایسے حقیقی مضامین وتفاہیم بیان کرتی ہیں جن کو مروج وفروغ کا راز سمجھا جاتاہے یا پھر زوال وانحطاط کی تصویر۔ اور یہ بھی کہ انجماد وانحطاط کے سلبی دور سے تب ہی نکلاجا سکتاہے جب کہ بنیادی مسائل معلوم ہوں ۔ علل واسباب کا پتہ چلے اور فرد وجماعت کی داخلی حالت سے پیدا باتوں کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ مذکورہ بحث سے یہ بھی واضح ہوتاہے کہ اسلام تاریخی واجتماعی اور اقتصادی واقعات وحقائق کے طریقے وتفصیلی اصول بیان کرنے میں سب سے کامیاب ہے اس لیے کہ وہ سب الٰہی احکام وقوانین پر مبنی ہیں۔
[عن النعمان بن بشیر رضی الله عنه قال:  قال رسول اللهﷺ: ’مَثَلُ الْمُؤمِنِ فِی تَودِھِم وَتَرَاحُمِھِمْ وَتَعَاطُفِھِمْ، مَثْلَ الْجَسَدِ، اِذَا اشْتَكی مِنْه عُضْوٌ تُدَاعَی لَه سَائِرَ الْجَسَدِ بِا لسَّھْرِ وَالْحُمَّی۔‘]
’’سیدنا نعمان بن بشیرt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا؛ کہ باہمی محبت ، رحمت اور شفقت کے اعتبار سے مومنوں کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ جب اس کے کسی ایک عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم بیداری اور بخار سے بے قرار ہو جاتا ہے۔‘‘
[عن ابی هریرة رضی الله عنه قال قال رسول اللهﷺ: ’الْحِكمَة ضَالَّة المُومِن، فَحَیْثُ وَجَدَھَا فَھُوَ أحَقُّ بِھَا۔‘] (جامع الترمذی، حدیث: ۶۶۸۷)
سیدنا ابو ہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: حکیمانہ بات مومن کی گمشدہ متاع ہے ، وہ اسے جہاں بھی پائے ، وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔‘‘ (امام ترمذی نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیاہے )


No comments:

Post a Comment

Pages