سوالات کے آداب 09-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Monday, March 09, 2020

سوالات کے آداب 09-20


سوالات کے آداب

تحریر: محترمہ بنت عبدالغفار سہیل
لوگوں کو خیر کی دعوت دینے کی غرض سے مورخہ ۲۵ اور ۲۶ اکتوبر ۲۰۱۹ء کو کلیۃ القرآن الکریم والتربیہ الاسلامیہ پھول نگر بونگہ بلوچاں ضلع قصور میں ایک اجتماع کا اہتمام کیا گیا جس میں ملک کے نامور شیوخ کو مدعو کیا گیا۔ اجتماع کے دوسرے دن ۲۶ اکتوبر کو شیخ الحدیث حافظ ابومحمد عبدالستار الحماد کو خطاب کا اعزاز بخشا گیا۔
آپ کو لوگوں کی رہنمائی کے لیے گائیڈ لائن دینے کا موضوع دیا گیا۔ انہوں نے کتاب وسنت کی روشنی میں سوالات کے تفصیلا جوابات دیئے۔ اس سے قبل انہوں نے سوال وجواب کے آداب کے حوالے سے کچھ تمہیدی گفتگو ارشاد فرمائی جو آپ کے لیے ایک تحریر کی صورت میں پیش کی جا رہی ہے کیونکہ ہم سب کو اپنی دنیاوی ودینی حوالے سے ضروریات کے پیش نظر علماء سے سوال کرنے کا مسئلہ درپیش ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اس حوالے سے علم رکھتے ہوں کہ کون سے سوال ہمیں پوچھنے چاہئیں اور کون سے نہیں۔ پھر اس کے آداب سے بخوبی واقف ہونا ضروری ہے۔
شیخ محترم جب ۱۹۸۷ء میں مکتب الدعوہ سعودی عرب کی جانب سے جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں بطور مدرس تعینات ہوئے تو وہاں سوال وجواب کے سلسلے کے حوالے سے لوگوں کی دینی رہنمائی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔
اس کمیٹی میں شیخ الحدیث حافظ عبدالستار الحماد‘ شیخ الحدیث حافظ عبدالعزیز علوی‘ مولانا محمد یونس بٹ‘ شیخ اسماعیل محمد مالدیپی شامل تھے۔
اس کمیٹی کے سربراہ حضرت مولانا شیخ الحدیث ثناء اللہ ہوشیارپوریa تھے۔ سائلین کی طرف سے آمدہ سوالات کو ہفتہ وار اجلاس میں پیش کر دیا جاتا اور خوب بحث وتمحیص کے بعد فتویٰ صادر کیا جاتا۔ اس کمیٹی میں فتویٰ نویسی کا کام شیخ الحدیث حافظ عبدالستار کے ذمے تھا جس سے انہیں اس کام سے دلچسپی پیدا ہو گئی۔
پھر با ضابطہ فتویٰ نویسی کا آغاز ۲۰۰۱ء میں ہوا جب انہیں ادارہ ہفت روزہ اہل حدیث لاہور کی جانب سے اس عظیم کام کی ذمہ داری سونپی گئی اور الحمد للہ! آج تک وہ اپنی اس ذمہ داری کو بخوبی انجام دے رہے ہیں۔
ہفت روزہ اہل حدیث میگزین میں شائع ہونے والے فتاویٰ جات کو فقہی ترتیب کے ساتھ ’’فتاویٰ اصحاب الحدیث‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع کیا جاتا ہے جس کی ۵ جلدیں منظر عام پر آچگی ہیں اور چھٹی جلد زیر طبع ہے۔ عوام الناس کے استفادہ کے لیے اسے آسان فہم اور کم قیمت پر مکتبہ اسلامیہ نے شائع کیا ہے۔
شیخ محترم شہر میاں چنوں کی پہچان ہیں‘ آپ نے ’’ہدایۃ القاری شرح صحیح بخاری‘‘ کو عوام الناس‘ شیوخ الحدیث وعلماء کرام کے لیے بڑی محنت کے ساتھ مرتب کیا ہے‘ دیگر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ آپ نے اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ایک جماعت کا کام تن تنہا ہی کیا ہے۔ اللہ پاک ان کی عمر‘ عمل اور علم میں اضافہ فرمائے اور ہمیں علماء کی قدر کرنے اور ان سے استفادہ کرنے کی تفویق دے۔ آمین!
حمد وثناء کے بعد:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{قُلْ هلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۱ اِنَّمَا یَتَذَكرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ}(الزمر: ۹)
معزز علمائے کرام! قابل قدر حاضرین مجلس‘ عزت مآب ماؤں بہنوں اور بیٹیو! ہمیں اپنی جسمانی نشو ونما کے لیے جس طرح خوراک کا بندوبست کرنا پڑتا ہے اسی طرح ہمارے اندر ایک روح کار فرما ہے۔ اس روح کی غذا کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے آسمانوں سے کتابیں اور صحیفے نازل کیے ہیں۔ دنیا میں انبیاء اور رسل کا سلسلہ جاری فرمایا تا کہ اس روح کی تربیت اور نشو ونما ہو سکے جو انسان کے اندر موجود ہے۔
اس روح کی نشو ونما کے لیے جس چیز کی ضرورت ہے اسے ہم علم کہتے ہیں۔ اس علم کی اہمیت کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے رسول مکرمe کو کسی بھی چیز میں اضافے کے لیے دعا مانگنے کا نہیں کہا کہ آپ کی صحت میں مال میں دنیا میں اضافہ ہو جائے۔ آپ پورے قرآن واحادیث کی کتابوں کا مطالعہ کریں آپ کو کہیں سے بھی یہ نہیں ملے گا۔
لیکن خاص علم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپe کو دعا سکھلائی ہے:
’’اے میرے حبیب آپ یہ دعا کیا کریں کہ ’’اے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما۔‘‘
باوجود اس کے کہ آپe سب لوگوں سے زیادہ علم رکھنے والے تھے پھر بھی آپe کثرت سے اس دعا کو پڑھتے تھے۔
اس بناء پر کبھی بھی کسی انسان کو یہ ذہن نہیں بنانا چاہیے کہ میں علم کے آخری مقام تک پہنچ گیا ہوں۔ البتہ ایک مرحلہ مکمل ہو سکتا ہے لیکن کبھی بھی کسی کا علم مکمل نہیں ہو سکتا۔
ہر انسان کی کچھ روحانی‘ دنیاوی اور دینی ضروریات ہوتی ہیں‘ وہ ضروریات اس علم کو حاصل کیے بغیر پوری نہیں ہو سکتیں۔ اس علم کو حاصل کرنے کے کئی ایک ذرائع ہیں ان میں ایک بہترین ذریعہ سوال وجواب کا ہے۔ چنانچہ بعض اوقات جو وحی نازل ہوتی تھی وہ بھی سوال وجواب کی صورت اختیار کر لیتی تھی۔ اس سلسلے میں حدیث جبریلu مشہور ہے۔
سیدنا عمر بن الخطابt فرماتے ہیں:
’’رسول مکرمe کے پاس ایک شخص آیا‘ اس کے کپڑے انتہائی سفید اور بال انتہائی سیاہ تھے۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ وہ ابھی غسل کر کے آیا ہے۔ اس کی وضع قطع شکل وصورت کو دیکھ کر تو یوں ہی معلوم ہوتا تھا کہ وہ قریب کسی علاقے سے آیا ہے یعنی سفر کے اثرات دکھائی نہیں دے رہے تھے‘ لیکن ہم میں سے کوئی اسے جانتا بھی نہیں تھا۔ وہ رسول مکرمe کے پاس دوزانوں ہو کر اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ کر ادب سے بیٹھ گیا۔ پھر اس نے اللہ کے رسولe سے ایمان‘ اسلام‘ احسان اور قیامت کی نشانیوں کے بارے سوالات کیے۔ وہ شخص سوال کرتا تھا‘ اللہ کے رسولe اس کا جواب دیتے۔ پھر وہ شخص اس جواب کی تصدیق بھی کرتا۔ صحابہ کرام] فرماتے ہیں: ہم اس پر حیران بھی ہوئے کہ وہ سوال بھی کرتا ہے اور پھر جواب کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر وہ شخص چلا گیا۔‘‘
رسول مکرمe نے فرمایا:
’’یہ جبریلu تھے جو سوال جواب کی شکل میں تمہیں دین سکھانے آئے تھے۔‘‘ (بخاری: الإیمان: حدیث: ۵۰)
اس کو پڑھیں:  عجلت پسندی
قرآن پاک نے {یَسْئَلُوْنَك} کے انداز سے ایسے کئی مسائل کی نشاندہی کی ہے جو صحابہ کرام] نے رسول مکرمe سے دریافت کیے اور اللہ تعالیٰ نے رسول اللہe کے ذریعے ان کے جوابات دیئے۔
اس طرح صحابہ کرام] کو جب بھی کوئی ضرورت پڑتی تو وہ فورا اللہ کے رسول e کے پاس آتے اور اپنے مسئلے کے بارے دریافت فرماتے۔ وہاں یہ نہیں ہوتا تھا جیسے کہ ہمارے ہاں کوئی مسئلہ ہو تو اسے محفوظ کر لیا جاتا ہے‘ جب کبھی مولانا یا مفتی صاحب بازار میں سامنے آ جائیں تو وہاں دریافت کر لیا جاتا ہے۔
سیدنا عقبہ بن حارثt کو ایک ضرورت پڑی وہ اس وقت مکہ میں رہائش رکھے ہوئے تھے۔ فورا سواری تیار کی‘ راتوں رات ہی مکہ سے مدینہ کا سفر شروع کر دیا‘ صرف ایک مسئلے کی خاطر اتنا لمبا سفر طے کر کے اللہ کے رسول e کے پاس آئے اور اپنا مسئلہ دریافت فرمایا۔
سیدنا عمرt کا ایک انصاری پڑوسی تھا‘ انہوں نے علم کے حوالے سے باری مقرر کر رکھی تھی‘ ایک دن وہ معاش کے سلسلے میں جاتا تو سیدنا عمرt رسول اللہe کی مجلس میں حاضر ہوتے۔ دوسرے دن وہ مجلس میں ہوتا تو سیدنا عمرt معاش کے لیے جاتے۔ شام کو جو کچھ انہوں نے سیکھا ہوتا وہ انہیں بتا دیتے۔
ہمیں بھی اس علم کو سیکھنے کے لیے کچھ وقت نکال لینا چاہیے۔ دینی معلومات کو حاصل کرنے کے لیے ان پاکیزہ مجالس میں شریک ہونا چاہیے۔ میری چونکہ سوال وجواب پر مشتمل ذمہ داری ہے‘ مجھ سے اکثر لوگ ایسے سوالات کرتے ہیں جن کا دنیوی ودینی حوالے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا‘ فضول اور بے مقصد سوالات کیے جاتے ہیں۔ مثلاً
’’ہم نے اپنی بیٹی کے حوالے سے فلاں جگہ رشتہ کرنا ہے آپ ہمیں استخارہ کر کے بتائیں کہ وہ ہمارے لیے بہتر ہو گا یا نہیں؟‘‘ … یا پھر …
’’ہمارے گھر میں کپڑوں پر خون کے دھبے لگ جاتے ہیں‘ بچوں کے بال کٹ جاتے ہیں‘ سامان وغیرہ چوری ہو جاتا ہے۔ آپ ہمیں حساب لگا کر بتائیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟‘‘ وغیرہ
رسول مکرمe نے اس طرح کے سوالات سے منع فرمایا ہے بلکہ ایک مجلس میں آپe تشریف فرما تھے‘ سوال وجواب کی نشست جاری تھی کہ ایک آدمی نے سوال کیا میرا باپ کون ہے؟ بھلا یہ بات بھی پوچھنے کی ہے کہ میرا باپ کون ہے؟ رسول مکرمe غصے میں آگئے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ پیغام نازل فرماتے ہیں:
{یٰٓاَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآء َ اِنْ تُبْدَ لَكمْ تَسُؤْكمْ٭} (المائده: ۱۰۱)
اس طرح کے غیر ضروری سوالات کرنے پر مدینہ والوں کے لیے پابندی لگا دی گئی اور انہیں سوالات کرنے سے منع کر دیا گیا۔
سیدنا انسt بیان فرماتے ہیں کہ
جب ہمیں رسول اللہe سے غیر ضروری سوالات کے متعلق منع کر دیا گیا تو ہم کسی عقل مند دیہاتی کے انتظار میں رہتے کہ وہ آپe سے سوال کرتا اور ہم رسول اللہe کا جواب سنتے اور اپنی دینی معلومات میں اضافہ کرتے۔ (مسلم‘ الایمان)
بلکہ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ مدینہ میں کوئی دیہاتی آتا تو صحابہ کرام] اسے چادر وغیرہ کا تحفہ دے کر رسول اللہe سے دینی سوالات کرنے پر آمادہ کرتے۔ یاد رہے کہ یہ پابندی مہاجرین اور مدینہ کے رہائش پذیر حضرات کے لیے تھی‘ دیہاتی لوگ اس سے مستثنیٰ تھے۔
سوالات وجوابات کے کچھ آداب ہیں‘ آپ انہیں ملحوظ خاطر رکھیے گا۔
\          بلا ضرورت سوالات گھڑ گھڑ کر ان کی تحقیقات میں دماغ خرچ کرنا منع ہے کیونکہ اس میں اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کرنا ہوتا ہے۔ مثلاً
’’زلیخا کی شادی سیدنا یوسفu سے ہوئی تھی یا نہیں؟ سیدنا موسیٰu کی والدہ کا نام کیا تھا؟ سیدنا آدم اور حواء کا نکاح کس نے پڑھایا تھا؟ اصحاب کہف کے کتے کا رنگ کیا تھا؟‘‘
\          مشکل ترین اور حساس معاملات کے متعلق سوالات کرنا تا کہ جواب دینے والا الجھن اور پیچیدگی کا شکار ہو جائے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہe نے معمہ جات اور پہیلیوں کی صورت میں سوالات کرنے (اغلوطات) سے منع فرمایا۔ مثلاً
’’ایک عورت ہے‘ وہ کسی نبی کی ماں ہے‘ کسی نبی کی بہن ہے‘ کسی نبی کی بیٹی ہے لیکن وہ ہے ایک ہی عورت۔ آپ بتائیں وہ عورت کون سی ہے؟‘‘
\          تعبدی احکام کی غرض وغایت اور ان کی علت سے متعلق سوال کرنا۔ مثلاً
سیدہ معاذہr نے سیدہ عائشہr سے سوال کیا تھا کہ حائضہ عورت روزوں کی قضاء تو دیتی ہے لیکن اس کے لیے نماز کی قضاء دینا کیوں ضروری نہیں؟ سیدہ عائشہr نے یہ سوال ناپسند کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’تو حروریہ معلوم ہوتی ہے۔‘‘
\          تکلف کرتے ہوئے کسی چیز کی گہرائی اور اس کی حقیقت کے متعلق سوال کرنا۔ جیسے:
سیدنا عمرو بن العاصt نے ایک حوض کے متعلق اس کے مالک سے دریافت کیا تھا کہ درندوں کی آمد ورفت تو نہیں ہوتی۔ سیدنا عمرt نے اس سوال کو ناپسند کرتے ہوئے فرمایا: ’’تجھے اس کے متعلق ہمیں بتانے کی قطعا ضرورت نہیں۔‘‘
\          ایسے سوالات کرنا جن میں عقل وقیاس کے ذریعے کتاب وسنت کی صریح نصوص کا رد مقصود ہو۔ جیسا کہ رسول مکرمe نے ایک دفعہ شکم مادر میں قتل ہونے والے بچے کے متعلق فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بدلے ایک غلام یا لونڈی تاوان دیا جائے جس کے خلاف یہ فیصلہ ہوا تھا وہ کہنے لگا کہ میں ایسے بچے کا تاوان کیوں ادا کروں جس نے نہ کھایا ہے نہ پیا ہے اور نہ ہی وہ بولا اور چلایا ہے۔ ایسے بچے کا خون تو رائیگاں ہے۔
آپe نے اس کے اس انداز گفتگو کو ناپسند کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’یہ تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔‘‘
جب ہم شیخ محترم سے بخاری شریف پڑھتے تھے اس وقت کا واقعہ ہے کہ ایک شخص وفات پاگیا‘ اس کے قرابت داروں میں سے ایک شخص شیخ محترم کے پاس وراثت کے حوالے سے مسئلہ لے کر آیا۔ آپ نے انہیں مسئلہ بتایا کہ فلاں کے اتنے حصے ہیں اور فلاں کو ترکے میں سے اتنا مال ملے گا۔ شریعت کی رو سے اس شخص کا حصہ مقرر نہ تھا وہ کہنے لگا: آپ مجھے اپنے لیٹر پیڈ میں فتویٰ لکھ کر دیں‘ شیخ نے انہیں کافی محنت اور حساب لگا کر وارثوں کے حصے مقرر کر کے لکھ کر دے دیا۔ اس شخص نے راستے میں غصے میں آکر اس فتویٰ کو پھاڑ دیا کیونکہ وہ اس کی مرضی کے خلاف تھا۔ کچھ دنوں کے بعد انہی کی فیملی میں سے جن کا حق بنتا تھا وہ لوگ آئے اور شیخ صاحب سے اپنا مسئلہ دریافت کرنا چاہا اور مطالبہ کیا کہ ہمیں لکھ کر فتویٰ چاہیے۔ شیخ صاحب چونکہ کافی مصروف ہوتے ہیں کہنے لگے کہ میں نے فلاں کو لکھ کر فتویٰ دے دیا ہے آپ اس سے لے لیں۔ جب اس کے پاس گئے تو وہ کہنے لگا کہ میں نے تو اسی وقت اسے پھاڑ دیا تھا۔ شیخ صاحب نے کونسا میرا حصہ مقرر کیا تھا۔
اسی طرح کے متعدد واقعات ہمارے معاشرے میں علماء کو پیش آتے ہیں۔
\          متشابہات کے متعلق سوالات کرنا بھی اسی قبیل سے ہے۔ جیسا کہ امام مالک کے سامنے کسی نے یہ آیت پڑھی:
{اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی٭} (طٰهٰ: ۵)
پھر امام مالکa سے سوال کیا کہ استواء کیا ہے؟ آپa نے فرمایا: استواء تو معروف ہے‘ اس کی کیفیت نا معلوم ہے اس کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے۔
فتویٰ طلب کرنے والے کو مستفتی کہا جاتا ہے‘ اس کے متعلق آداب کا مختصر‘ ہم نے جائزہ لیا جن کو ملحوظ خاطر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
فتویٰ دینے والے حضرات کو مفتی کہا جاتا ہے‘ ان کی بھی متعدد ذمہ داریاں ہوتی ہیں جن میں چند ایک کے حوالے سے میں یہاں تذکرہ کرنا ضروری خیال کرتا ہوں:
\          مفتی کو چاہیے کہ وہ متواضع اور منکسر المزاج ہو‘ اگر کوئی مسئلہ سمجھ میں نہ آئے یا اس کے جواب سے خود مطمئن نہ ہو تو صاف صاف کہہ دیا جائے کہ مجھے معلوم نہیں‘ صرف عزت کو بچانے کے لیے کوئی نہ کوئی جواب دینا جو خود سے تراشا گیا ہو درست نہیں۔ رسول مکرمe سے کوئی ایسا مسئلہ دریافت کیا جاتا جسے آپ نہیں جانتے ہوتے تھے‘ آپe فرماتے [لا ادری] میں نہیں جانتا یا فرماتے: [الله اعلم]۔
علامہ ابن صلاح a فرماتے ہیں:
’’سلف صالحین سے جب مسائل دریافت کیے جاتے اور انہیں اگر جواب معلوم نہ ہوتا تو بلا دھڑک کہہ دیتے کہ میں نہیں جانتا یا جواب معلوم ہونے تک اسے مؤخر کر دیتے کہ بعد میں جواب دوں گا۔ کیونکہ جس چیز کا علم نہ ہو اسے تسلیم کر لینا ہی عالم کی شان ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہe کے عہد مبارک میں ایک شخص زخمی ہو گیا اور اسی دوران اس کو احتلام ہوا تو اس کے ساتھیوں نے اسے غسل کرنے کا فتویٰ دیا۔ چنانچہ اس نے غسل کیا اور سردی لگنے سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ جب رسول اللہe کو اس کی اطلاع ملی تو آپe نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
’’اللہ انہیں غارت کرے انہوں نے اسے مار دیا ہے۔‘‘
\          حسن عمل: جس نیکی اور بھلائی کے کام میں جواز کا فتویٰ دیا جائے یا کسی برائی اور اس کی حرمت کا کہا جائے تو مفتی کو چاہیے کہ اپنے فتویٰ پر خود بھی عمل پیرا ہو کیونکہ مخالفت کی صورت میں سائل اس کا فتویٰ قبول کرنے سے انکار کر دے گا یا کم از کم شکوک وشبہات میں مبتلا ہو گا۔
\          صبر وتحمل:  فتویٰ پوچھنے والا اگر کمزور فہم کا حامل ہو تو مفتی کو چاہیے کہ اس کے ساتھ شفقت اور نرمی سے پیش آئے اور صبر وتحمل کے ساتھ اس کی گفتگو سنے‘ پھر نرمی کے ساتھ اس سے مسئلہ کی جزئیات معلوم کر کے اس کے بعد محبت کے ساتھ اس کا جواب دے۔ اللہ تعالیٰ اس کام پر بہت اجر دیں گے۔
\          راز کی حفاظت: مفتی کی حیثیت ایک طبیب کی سی ہوتی ہے‘ لوگ اس کے پاس اپنے ذاتی احوال وظروف بیان کر کے فتویٰ طلب کرتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کے ذاتی رازوں پر کوئی دوسرا مطلع ہو۔ ایسے حالات میں مفتی کو چاہیے کہ وہ سائلین کے اسرار وخصوصی احوال کو کسی پر ظاہر نہ کرے کیونکہ ایسا کرنا خیانت ہے۔
ہم نے مفتی اور مستفتی کے چند آداب کا مختصر جائزہ لیا ہے‘ جن کو ملحوظ خاطر رکھنا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔
علم کو حاصل کرنا اس کا آخری مقام نہیں‘ کوئی بھی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا علم مکمل ہو گیا ہے مزید علم حاصل کرنے کی گنجائش نہیں۔
آپ جس بھی سٹیج پر پہنچ جائیں اپنے ظرف اور برتن کو خالی رکھیں تا کہ علم اس کے اندر آس کے۔
آپ اپنے گھروں میں بھی یہ فضا پیدا کریں کہ آپ کے بچے آپ سے سوالات کریں‘ آپ کبھی بھی ان کے سوالات پر اپنے ماتھے پر شکن نہ ڈالیے گا۔
اسی طرح اگر آپ کسی جامعہ میں یا سکول کالج میں لیکچرار ہیں تو وہاں بھی سوال وجواب کی فضا پیدا کریں‘ ادب کی آڑ میں درمیان میں دیوار نہیں کھڑی کرنا چاہیے۔
اسی طرح دوست واحباب کی مجالس میں سوال وجواب کو آپس میں زیر بحث لائیں۔
یہ بڑی پاکیزہ مجالس ہوتی ہیں‘ ان میں کئی مسائل حل ہوتے ہیں۔ ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ میں احکام ومسائل پر مشتمل ایک کالم ہوتا ہے اور لوگ مجھ سے فون پر‘ خط وکتابت کے ذریعے سوالات ارسال کرتے ہیں‘ میں قرآن وسنت کے مطابق اللہ کے فضل سے لوگوں کو جوابات دیتا ہوں۔ الحمد للہ!
بعض اوقات میں معاشرے میں کسی ضرورت کو محسوس کرتا ہوں‘ اس کے لیے میں خود سے ایک فرضی سوال بنا لیتا ہوں۔ پھر اس کا جواب دیتا ہوں تو ہمیں ایسی پاکیزہ فضا کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
الحمد للہ! اللہ کا احسان ہے کہ ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ میں احکام ومسائل پر مشتمل کالم تین سالوں میں ایک کتاب کی صورت اختیار کر لیتے ہیں جو کہ ’’فتاویٰ اصحاب الحدیث‘‘ کے نام سے منظر عام پر موجود ہیں۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کے لیے چن لے‘ ہماری محنتوں‘ کوششوں کو اپنی بارگاہ عالیہ میں قبول فرمائے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

Pages