مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ 09-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Monday, March 09, 2020

مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ 09-20


مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ

دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد اقوام عالم نے مستقبل میں نسل انسانی کو مزید جنگ وجدل اور اس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے انصاف‘ مساوات اور حقوق انسانی کی پاسداری پر مبنی پائیدار امن وامان کو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ جیسے ادارے کی بنیاد رکھی۔ جس کے اہداف ومقاصد میں جنگیں روکنے کے علاوہ ایسے اقدامات بھی شامل تھے جن کے تحت تمام چھوٹی بڑی قوموں کی سلامتی کا تحفظ یقینی اور بنی نوع انسان کی سماجی ومعاشرتی ترقی اور بہتر معیار زندگی کا فروغ ممکن بنایا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے قیام کے کچھ ہی عرصہ بعد برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں ریاست جموں وکشمیر کا تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ بھارت نے یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا جس نے متفقہ فیصلہ دیا کہ کشمیری عوام کو رائے شماری کے ذریعے حق خود ارادیت کے استعمال کا موقع دیا جائے۔ وہ اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کریں کہ انہیں پاکستان میں شامل ہونا ہے یا بھارت کے ساتھ رہنا ہے؟ بعد میں بھی متعدد بار سلامتی کونسل نے اس قرار داد کی توثیق کی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اقوام متحدہ بھارت پر دباؤ ڈال کر اس قرار داد پر عمل کرواتی لیکن اس سے بے اعتنائی برتی گئی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں یاددہانی کے لیے یہ مسئلہ کئی بار اٹھایا لیکن طفل تسلیوں کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہوا۔ گویا یہ ادارہ مسلمانوں کے مسائل کے حل کی بجائے اقوام مغرب کا آلۂ کار اور جانبدارانہ طرز عمل اختیار کیے ہوئے ہے۔
عالمی برادری خصوصا بڑی طاقتیں جن کا جس جگہ اپنا مفاد ہو وہاں یہ ادارہ فورا حرکت میں آجاتا ہے۔ الجھا ہوا مسئلہ برسوں اور مہینوں نہیں بلکہ چند دنوں اور گھنٹوں میں حل کرا لیا جاتا ہے۔ اس کی زندہ مثال مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان جیسی ریاستیں ہیں جنہیں جھٹ پٹ علیحدگی دلا کر اسلامی دنیا کے نقشوں پر نمودار کر دیا گیا۔ وہی بڑی طاقتیں کشمیر سے متعلق قرار دادوں پر عمل کراتیں تو آج کشمیری مسلمان آزادی اور امن کی زندگی بسر کر رہے ہوتے۔ مگر اس کے سبب پاکستان اور بھارت کے درمیان تین بڑی جنگوں اور ۷۲ سال کا طویل عرصہ گذرنے کے باوجود اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو آج یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ’’جموں وکشمیر کے مسئلہ کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کیا جائے۔‘‘
اس کو پڑھیں:   فرد قائم ربط ملت سے ہے
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے اس ادارے کے سربراہ پیش کش کر رہے ہیں کہ دونوں ملک اگر چاہیں تو وہ امن کی بحالی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اپنے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عمل درآمد میں اقوام متحدہ کی بری طرح ناکامی کا یہ واضح ثبوت ہے۔ بات اگر مگر کی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈال کر زبردستی اس پر عمل درآمد کروائے۔ بھارت نہیں چاہتا کہ یہ مسئلہ حل ہو‘ وہ ہمیشہ لیت ولعل سے کام لیتا رہا ہے اور اب اس نے ان قرار دادوں کو بوسیدہ قرار دے کر انہیں ماننے سے سراسر انکار کر دیا ہے۔
اس لیے بھارت نے اپنے آئین میں ترمیم کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے۔ اس نے گذشتہ سات ماہ سے ۸۰ لاکھ کشمیری مسلمانوں کو کرفیو نافذ کر کے یرغمال بنا رکھا ہے۔ ۹ لاکھ بھارتی افواج سرچ آپریشنز کے نام پر ان کا قتل عام کر رہی ہیں۔ عالمی برادری یہ سب کچھ جانتی ہے اور اس حقیقت کا اعتراف تو کرتی ہے مگر بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھاتی۔ یو این سیکرٹری جنرل نے یہ تو کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے اور مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالے‘ لیکن یہ سب زبانی کلامی جمع خرچ ہے۔ دراصل بھارت کی اندرون خانہ مسلم مخالف سازش کا نتیجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس مسئلہ کو حل طلب نہیں سمجھتیں۔ یوں ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل سے باہمی ملاقات کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جابرانہ اقدامات‘ ایل او سی پر بھارتی اشتعال انگیزیوں اور آئے روز جنگ کی دھمکیوں سے پیدا شدہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ اسی طرح وزیر اعظم نے بھی اس مسئلہ کی نزاکت واضح کی۔ لیکن ان کے کان پر جوں تک رینگتی نظر نہیں آ رہی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی کئی بار ثالثی کی پیشکش کی بشرطیکہ بھارت بھی آمادہ ہو۔ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ سلامتی کونسل کی قرار داد بھارت ہی کی درخواست پر منظور ہوئی تھی۔ اب یہ معاملہ اس کی صوابدید پر چھوڑنے کی بجائے عالمی برادری اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے اس پر عمل درآمد کرائے اور مظلوم کشمیری مسلمانوں کو استصواب رائے کا حق دلائے۔
اگر یو این سیکرٹری جنرل اور دوسری عالمی طاقتیں کونسل کی قرار دادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر حل کرانے میں واقعی سنجیدہ ہوں تو یہ حل ان کے اپنے بس میں ہے۔ وہ اقوام متحدہ کے فورم سے بھارت پر دباؤ ڈال کر اسے ان قرار دادوں کی راہ پر لا سکتی ہیں۔ مذاکرات کے ذریعے تو یہ مسئلہ حل ہونے سے رہا‘ کیونکہ بھارت پہلے ہی ہربار مذاکرات کی میز الٹاتا رہا ہے۔ اس تناظر میں سیکرٹری جنرل خود مدبرانہ کردار ادا کریں۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی قیادتوں کو اس معاملہ میں بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لیے قائل کریں۔ یہ حقیقت ہے کہ علاقائی امن وسلامتی کا دار ومدار مسئلہ کشمیر کے حل پر ہے۔ اگر دو ایٹمی ملکوں کے ما بین یہ تنازعہ حل نہ کیا گیا تو بھارتی غیر سنجیدہ حرکتوں اور جنونیت کے ہاتھوں کسی بھی وقت علاقائی اور عالمی تباہی کی نوبت آ سکتی ہے۔ لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ مسئلہ کشمیر کو جلد از جلد پر امن طریقے سے حل کیا جائے۔


No comments:

Post a Comment

Pages