خواتین کے چند غیر شرعی افعال 09-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Monday, March 09, 2020

خواتین کے چند غیر شرعی افعال 09-20


خواتین کے چند غیر شرعی افعال

(دوسری وآخری قسط)         تحریر: جناب مولانا عبدالسلام

شادی بیاہ کی جاہلانہ رسومات
 لڑکی کا اپنے منگیتر اور اس کے باپ سے مصافحہ کرنا
یہ جائز نہیں کہ لڑکی اپنے منگیتر اور اس کے باپ کے سامنے بے حجاب ہو ، کیونکہ وہ عقدِ نکاح کے بعد ہی اس کا محرم بنے گا،البتہ منگیتر کے سامنے محدود طور پر بے حجاب ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ، لیکن بغیر خلوت اور شہوت کے ۔ نہ ہی ازراہِ تلذذ اس کی طرف دیکھنا درست ہے ، منگیتر کے سامنے اس کا بے حجاب ہونا محض جانکاری کیلئے ہے ، پھر اگر دونوں طرف سے رغبت و شوق ظاہر ہوتا ہے تو عقدِ نکاح ہوجائے گا ، وگرنہ دونوں اپنے اپنے باپ کے گھر میں رہیں گے۔ (ابن عثیمین: نور علی الدرب: ۱۰)
لڑکی کا اپنے منگیتر کے ساتھ بیٹھنا اور گھر سے باہر جانا
لڑکی اپنے منگیتر کی نسبت اجنبی عورت ہے ، وہ اس کیلئے حلال نہیں اور وہ اس کیلئے ایسے ہی ہے جیسے دوسرے غیر مرد۔ چنانچہ آدمی کیلئے جائز نہیں کہ عقدِ نکاح سے قبل اس کے ساتھ تنہائی میں بیٹھے یا ٹیلی فون پر مخاطب ہویاکسی اور چیز کے ذریعے اس سے کلام کرے۔
کیونکہ جیسا کہ میں نے کہا وہ اس کیلئے اجنبی عورت ہے ، منگیتر ہو یا کوئی اور مرد وہ اس کیلئے برابر ہے ، کچھ لوگ اس مسئلہ (منگیتر سے بات چیت) میں کوتاہی کرتے ہیں ، بسا اوقات لڑکی تنہا اس کے ساتھ گھر سے باہر چلی جاتی ہے ، یہ حرام ہے ، حلال نہیں، اگر آدمی ایسے کرنا چاہتا ہے تو جلدی شادی کرلے۔ (ابن عثیمین‘ نور علی الدرب: ۶)
یعنی کہ نکاح سے قبل منگیتر بالکل بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح دوسرے مرد ہیں۔ علماء کا کہنا ہے کہ نکاح سے پہلے محرم کے بغیر لڑکی کیلئے جائز نہیں کہ اپنے منگیتر کے ہمراہ گھر سے باہر نکلے کیونکہ یہ فتنے اور ایسی چیز کا سبب ہے جس کا انجام اور نتیجہ اچھا نہیں ہوتا ۔(اللجنۃ الدائمۃ: ۲۰۸۹۳)
 مائیوں بٹھانے کی رسم
شادی سے چند دن پہلے گھر کی عورتیں دلہن کو گھر کے ایک کونے میں محبوس کردیتی ہیں اسے مائیوں بٹھانا کہا جاتا ہے جو کہ خالص ہندوانہ رسم کی ادائیگی ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ لڑکی کو ایک چوکی پر بٹھا دیا جاتا ہے اور اسے گھر کے کام کاج حتی کہ گھر والوں سے بول چال سے منع کردیا جاتا ہے اور اس کا گھر سے باہر نکلنا مکروہ گردانا جاتا ہے تاوقتیکہ اس کی شادی ہوجائے ۔اسلام میں اس رسم کی کوئی گنجائش نہیں ۔
تیل مہندی کی رسم
شادی سے کچھ دن پہلے لڑکے والوں کی طرف سے عورتیں دلہن کے لیے مہندی لیکر جاتی ہیں‘ اسی طرح لڑکی والوں کی طرف سے دولہا کے لیے مہندی بھیجی جاتی ہے ۔
مہندی بھیجنے کا انتظام اسی طرح کیا جاتا ہے جس طرح بہت بڑے جلوس کا کیا جاتا ہے ۔ پھر مہندی کی رسم میں ناچ گانے کا بھی بھر پور اہتمام کیا جاتا ہے‘ اگرچہ دلہن کی مہندی لگانا جائز ہی نہیں بلکہ مستحب بھی ہے لیکن اس کیلئے اجتماع ، کھانے پینے کا انتظام اور ناچ گانے میں
مہندی کا استعمال درست نہیں‘ علاوہ ازیں دولہا کے ہاںمہندی کی رسم دلہن کے بنسبت زیادہ قبیح اور بدتر ہے ۔
منگنی کی انگوٹھی
مرد کے لیے صرف چاندی کی اور عورت کے لیے سونا اور چاندی دونوں طرح کی انگوٹھی پہننا جائز ہے‘ اس لیے اگر تعلق بڑھانے کے لیے انگوٹھی کا تحفہ دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ تحفے کی نسبت سے ایسے کیا جائے رسم و روایات کے بت پوجنے کیلئے ایسا نہ کیا جائے۔
لیکن ہمارے ہاں انگوٹھی کو منگنی کی خاص علامت اور رسم بنا لیا گیا ہے۔ حالانکہ اول تو شادی سے پہلے منگنی کرنا کوئی ضروری نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ اسے جائز ہی قرار دیا جاسکتا ہے اور پھر منگنی کا تعلق طرفین سے عہد و پیمان کاسا ہے ۔ اس عہد و پیمان کی شہادت خود عہد و پیمان کرنے والوں کی زبان ہے نہ کہ انگوٹھیاں جو لڑکے اور لڑکی کو پہنائی جاتی ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ انگوٹھی کی فضول رسم کا خاتمہ کیا جائے بالخصوص اس لئے بھی کہ یہ عیسائیوں کی رسم ہے۔ (آداب الزفاف از شیخ البانی ، ص: ۱۴۰-۱۴۱)
سر بالہ اور دولہا کے ساتھ غیر اخلاقی حرکتیں
ہندؤں کے ہاں شادی بیاہ کی رسومات میں چونکہ دولہا کے ساتھ مختلف شرارتیں کی جاتی تھیں اس لئے ایک سمجھدار بچے کو خصوصی طور پر دولہے کے ساتھ رکھا جاتا جسے سر بالہ کا نام دیا گیا ۔
اس کا کام یہ کہ دولہا کو خطرات سے آگاہ کرتا رہے۔ مثلا: اگر دولہا کو دودھ کا گلاس پیش کیا گیا ہے تو پہلے سربالہ اس کا ذائقہ دیکھ کر دولہا کو ہاں یا ناں میں بتائے ۔
اسلام چونکہ اس طرح کی غیر اخلاقی حرکتوں کی اجازت ہی نہیں دیتا اس لئے سر بالہ کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عہد نبوی اور عہد صحابہ میں شادی بیاہ کے واقعات میں سر بالہ کا کوئی کردار دکھائی نہیں دیتا!
البتہ آج کل ہمارے معاشرے میں شادی کے موقع میں دولہا کے ساتھ بعض غیر اخلاقی حرکتیں بھی شادی کا حصہ بن چکی ہیں مثلا: دولہا کو ٹوٹی ہوئی چار پائی پر بٹھا کر گرادیا جاتا ہے ۔ اسے ایسا دودھ یا مشروب پیش کیا جاتا ہے جس میں مرچیں یا بہت زیادہ نمک ملایا گیا ہو ، اسی طرح دولہا کی جوتی چرانے کی کوشش کی جاتی ہے اور جوتا واپسی کی رقم طلب کی جاتی ہے ۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ تمام حرکتیں دولہا کی سالیاں اور دوسری غیر محرم لڑکیاں کرتی ہیں۔
منہ دکھائی کی رسم
دلہن کو لڑکے والے گھر لے جاکر ایک کمرے میں بٹھا دیتے ہیں اور پھر منہ دکھائی کی رسم پوری کی جاتی ہے جس میں خاندان کی کوئی بوڑھی عورت سب سے پہلے بہو کا منہ دیکھتی ہے اور اس کے ساتھ بہو کو منہ دکھلائی کی کوئی چیز پیش کرتی ہے۔ اسی طرح معاشرے کی دوسری خواتین کرتی ہیں حتی کہ جس کے پاس کوئی پیش کرنے کی کوئی چیز نہیں ہوتی اسے منہ نہیں دکھلایا جاتا۔ پھر اس میں ایک بیہودگی کی بات یہ ہے کہ بعض غیر محرم مثلا: لڑکی کے دیور ، جیٹھ وغیرہ بھی اس کے منہ دکھلائی کی رسم میں شریک ہوتے ہیں جو اسلامی قدروں کی پامالی کرتے ہیں۔ (تحفۃ النساء از محمد عظیم حاصلپوری، ص: ۴۴۱-۴۶۰)
تقریبات میں طبلے وغیرہ بجانا
آلات طرب ، بانسری و سارنگی اور طبلے وغیرہ بجانا غیر شرعی عمل ہیں‘ اکثر تقریبات میں خواتین کی طرف سے ان چیزوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ سیدنا ابو مالک الاشعریt سے مروی ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا :
’’میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زناکاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر (اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے) چلے جائیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے لیے اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ تعالیٰ رات کو ان کو (سرکشی کی وجہ سے) ہلاک کر دے گا‘ پہاڑ کو (ان پر) گرا دے گا اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کر دے گا۔‘‘ (صحیح بخاری: ۵۵۹۰)
لفظ ’’معازف‘‘ ہر قسم کے گانوں اور تمام آلات طرب کو شامل ہے ۔
زکواۃ کی ادائیگی کے بغیر سونا پہننا
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ اپنے دادے سے روایت کرتے ہیں کہ
’’ایک عورت رسول اللہe کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بچی تھی، اس بچی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے، آپe نے اس سے پوچھا: کیا تم ان کی زکاۃ دیتی ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپe نے فرمایا: کیا تمہیں یہ اچھا لگے گا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے دو کنگن ان کے بدلے میں پہنائے ۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن العاصw کہتے ہیں کہ اس عورت نے دونوں کنگن اتار کر انہیں رسول اللہe کے سامنے ڈال دیا اور بولی ’’یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔‘‘ (سنن نسائی: ۲۴۸۱، سنن ابی داؤد: ۱۵۶۳)
اسی طرح سیدنا ابو ہریرہt سے مروی ہے کہ نبی کریمe نے فرمایا:
’’دو سرخ چیزوں میں عورتوں کے لئے ہلاکت ہے، سونے اور عصفر (زردرنگ) سے رنگے ہوئے کپڑے میں۔‘‘ (شعب الایمان للیہقی: ۵۹۲۰)
عورتوں پر سونے کے زیوارت اس صورت میں حرام اور عذاب الہی کے باعث ہیں جب وہ انکی زکوٰۃ ادا نہ کریں، اگر زکواۃ ادا کریں تو مباح ہے۔ (تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا فتوی اردو جزء اول ص: ۲۴۵ تا ۲۴۹)
یعنی اگر عورت زکوۃ دیئے بغیر سونا پہنتی ہے تو وہ بھی ناجائز، غیر شرعی، حرام اورعذاب الٰہی کا ذریعہ ہے البتہ اگر زکوۃ دیتی ہے تو مباح ہے ۔
شوہر کا راز افشاء کرنا
اکثر خواتین شادی کی پہلی رات جو باتیں شوہر سے کرتی ہیں دوسرے دن صبح کو اپنی سہیلیوں سے وہ بیان کیا کرتی ہیں حالانکہ میاں بیوی دونوں کیلئے حرام ہے کہ وہ ایک دوسرے کے راز افشاء کریں ۔
سیدنا ابو ہریرہt سے مروی ہے انہوں نے کہا:
’’رسول اللہe مسجد میں داخل ہوئے تو کچھ انصاری عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں حکم دیا کہ وہ صدقہ کریں چاہے زیورات ہی ہوں، پھر فرمایا: کیا کوئی ایسی عورت ہے جو دوسری عورتوں کو اپنے شوہر کے ساتھ علیحدگی والی باتیں بتاتی ہو؟ کہا کوئی ایسا مرد ہے جو دوسرے لوگوں کو اپنی بیوی کے ساتھ علیحدگی والی باتیں بتاتا ہو ؟ ان میں سے سیاہی مائل بدلی ہوئی رنگت والی عورت کھڑی ہوئی، اور کہنے لگی: اللہ کی قسم! مرد بھی ایسا کرتے ہیں اور عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو‘ کیا میں تمہیں اس کی مثال نہ بتاوں ؟ یہ اس شیطان کی مثال ہے جو راستے میں کسی شیطانہ کے پاس آتا ہے اس سے جماع کرتا ہے اور لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔(الصحیحۃ للالبانی: ۸۴۶)
اسی طرح سیدنا ابوسعید خدریt سے مروی ہے رسول اللہe نے فرمایا :
’’قیامت کے دن ، اللہ کے ہاں لوگوں میں مرتبے کے اعتبار سے بدترین وہ آدمی ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس خلوت میں جاتا ہے اور وہ اس کے پاس خلوت میں آتی ہے پھر وہ (آدمی) اس کا راز افشا کر دیتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۳۵۴۲)
لہٰذا مرد وزن کو اس بات میں محتاط رہنا چاہیے کہ وہ اپنی اندرونی گفتگو کسی دوسرے فرد کے آگے بیان نہ کریں۔ ہمارے ہاں اکثر مرد جنسی معلومات ذکر کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے‘ اسی طرح خواتین اپنی سہیلیوں کے آگے اپنے شوہروں کے ساتھ گزرنے والے مخصوص حالات بلاجھجھک بیان کرتی ہیں اور پوچھتی ہیں ، لہذا ہر مرد وزن کو اس سے گریز کرنا چاہیے ۔
عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ بآواز بلند بولنا
ایسی عورت جواپنے خاوند کے سامنے بلند آواز سے بولتی ہے یہ اس کی حرکت سوء ِ ادب ہے ، اس لئے کہ اس کا خاوند اس پر نگران اور محافظ ہے ، عورت کو چاہیے کہ اس کا احترام کرے اور باادب ہوکر اس سے مخاطب ہو ، اس طرح ان کے درمیان محبت و الفت کی فضا پیدا ہوگی اور پائیداری رہے گی ، جیسا کہ مرد کو بھی چاہیے کہ اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے ، حسن سلوک کا طرفین سے تبادلہ ہونا چاہیے ، فرمان باری تعالی ہے :
’’اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو ، پھر اگر تم انہیں ناپسند کرو تو ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔‘‘ (النساء: ۱۹)
ایسی عورت کو میری نصیحت ہے کہ اپنے اور اپنے خاوند کے متعلق اللہ تعالی سے ڈرے ، اس سے آواز بلند نہ کرے ، خاص طور پر جب اس کا خاوند نرم اور دھیمی آواز میں اس سے مخاطب ہو۔ (ابن عثیمین: نور علی الدواب: ۲۸)
بیوی کا قیام اللیل کا عذر کرتے ہوئے خاوند کے بستر پر نہ آنا
یہ عذر درست نہیں‘ سیدنا ابوہریرہt سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریمe نے فرمایا:
جب آدمی اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے اوروہ اس پر غصہ کی حالت میں رات گزارے تو صبح تک فرشتے ایسی خاتون پر لعنت کریں گے۔ ’حتی ترجع‘ حتی کہ وہ لوٹ آئے۔ (صحیح بخاری: ۵۱۹۴)
عورتوں کے درمیان ہم جنس پرستی:
عورتوں کے درمیان ہم جنس پرستی حرام ہے ، بلکہ کبیرہ گناہ ہے، کیونکہ یہ عمل اس فرمان خداوندی کے مخالف ہے:
’’اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیںمگراپنی بیویوں پریاجس کے مالک ان کے دائیں ہاتھ ہیں ، تو یقیناً وہ ملامت کئے ہوئے نہیں۔ پھر جو اس کے علاوہ کوئی راستہ ڈھونڈے تو وہ ہی حد سے گزرنے والے ہیں۔‘‘ (اللجنۃ الدائمۃ: ۵۵۲۰)
عورت کی ڈرائیونگ
عورت کیلئے موٹر ڈرائیونگ بہت سے مفاسد کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے اور شریعت مطہرہ نے حرام چیزوں کو پہنچانے والے ذرائع بھی حرام قرار دیا ہے۔ اللہ نے اپنے نبی کریمe کی بیویوں کو یہ حکم دیا ہے :
’’اور اپنے گھروں میں قرار پکڑے رہو، پہلے دور جاہلیت کی طرح اپنی زیب و زینت کی نمائش نہ کرتی پھرو۔‘‘
ڈرائیونگ کے دوران مردوں کے ساتھ اختلاط کا ہونا بھی لازمی ہے۔ حدیث پاک میں ہے:
’’کوئی آدمی کسی اجنبی عورت سے تنہائی میں ملے تو ان  دونوں کا تیسرا شیطان ہوتا ہے۔‘‘ (عورت اور اسلام از مولانا جلال الدین قاسمی، ص: ۸۴)
عورت کا اداکاری کا پیشہ اختیار کرنا
اداکاری کے پیشے سے وابستہ ہونا تمہارے لئے جائز نہیں، کیونکہ اگر مخصوص افراد کی نقل کی جائے تو ان کی تنقیص ہوتی ہے ، نیز یہ پیشہ مذاق اور کھیل تماشے پر مشتمل ہوتا ہے جو مسلمان کے لائق نہیں۔ لہٰذا ہم تجھے یہ پیشہ ترک کرنے اور اس کے علاوہ کسی دوسری جگہ رزق طلب کرنے کی نصیحت کرتے ہیں ۔ جو شخص اللہ تعالی کیلئے کوئی چیز ترک کردیتا ہے تو اللہ تعالی اس کو اس کا بہتر عوض دیتا ہے:
’’جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنادے گا ۔ اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا۔‘‘ (اللجنۃ الدائمۃ: ۲۱۲۰۳)
اسی طرح خواتین کیلئے ہر وہ پیشہ حرام ہے جس سے شریعت نے منع فرمایا مثلا: ایسا پیشہ جہاں مردوں کا اختلاط وغیرہ ہو ۔
عورتوں کا غیر محرم مردوں سے مصافحہ
عورتوں کا غیر محرم مردوں سے مصافحہ کرنا ناجائز اور حرام ہے ۔ سیدہ امیمہ بنت رقیقہr سے مروی ہے کہ نبی کریمe نے عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے فرمایا:
’’میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔‘‘ (سنن نسائی: ۴۱۸۶‘ سنن ترمذی: ۱۵۹۷‘ سنن ابن ماجہ: ۲۸۸۴)
سیدہ عائشہr فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہe کا ہاتھ کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں لگا۔ (مسلم، کتاب الامارۃ )
غیر محرم اوراجنبی مردوں سے قطعا مصافحہ نہیں کرنا چاہیے تاکہ فتنہ و فساد اور مشکوک ماحول سے اجتناب ہو ۔
عورت کا ستردوسری عورت کی لیے سترہے:
سیدنا ابو سعید الخدریt سے مروی ہے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا :
’’ مرد، مردکا ستر نہ دیکھے اور عورت ، عورت کا ستر نہ دیکھے۔ مرد ، مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ ہو اور عورت ، عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ ہو۔‘‘ (صحیح مسلم: ۷۶۸)
عورت کا دوسری عورت کیلئے طلاق کا مطالبہ کرنا
سیدنا ابوہریرہt سے مروی ہے کہ
رسول اللہe نے منع فرمایا کہ کسی عورت کے ساتھ ، اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے (نکاح میں) ہوتے ہوئے ، نکاح کیا جائے اور اس سے کہ کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کی پلیٹ میں ہے، وہ (اسے اپنے لیے) انڈیل لے ۔ بلاشبہ اللہ عزوجل (خود) اس کو رزق دینے والا ہے۔ (صحیح مسلم: ۳۴۴۳)
نماز میں بیوی کا اپنے خاوند کے ساتھ کھڑے ہونا:
عورت کیلئے مشروع نہیں کہ اپنے خاوند کے پہلو میں کھڑی ہو ، بلکہ نماز میں اس کے پیچھے ہی کھڑی ہوگی ۔ سیدنا انسt فرماتے ہیں:
رسول اللہe نے انہیں اور ان کی والدہ یا ان کی خالہ کو نماز پڑھائی، کہا: آپ نے مجھے اپنی دائیں جانب اور عورت کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا۔ (صحیح مسلم: ۱۵۰۲)
اگر عورت کیلئے مرد کے ساتھ کھڑا ہونا درست ہوتا تو آپe اسے اپنے پیچھے کھڑا کرتے اور انسt کو اس کے ساتھ کھڑا کرتے، لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ مکروہ ہے۔ (اللجنۃ الدائمہ: ۱۴۸۳۷)
عورتوں کی مردوں کو امامت کرانا
عورت مردوں کی امامت نہیں کرواسکتی کیونکہ حدیث میں ہے:
’’وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا معاملہ عورتوں کے سپرد کردیا۔‘‘ (ابن عثیمین: مجموع الفتاوی و الرسائل: ۱۰۷)
عورتوں کی بچوں کو امامت کرانا
مرد چھوٹا ہو یا بڑا صحیح بات یہ ہے کہ عورت اسے امامت نہیں کراسکتی ، اگر عورت باجماعت نماز ادا کرنا چاہتی ہے تو وہ اس بچے کو ہی امام بنا لے اور اس کے پیچھے نماز پڑھ لے ، کیونکہ بچے کی امامت فرض نماز میں بھی جائز ہے ۔
سیدناعمرو بن سلمہ جرمیt فرماتے ہیں: میرے والد گرامی نبی کریمe کے پاس تشریف لائے (یہ سن نو ہجری کی بات ہے جب ان کے والد وفد کے ہمراہ آئے تھے اور مسلمان ہوئے تھے) اور فرمایا: میں تمہارے پاس رسولe کے پاس سے حق لے کر آیا ہوں اور آپe نے ارشاد فرمایا ہے:
’’جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے کوئی اذان کہے ، اور امامت وہ کروائے جو تم میں سب سے زیادہ قرآن جانتا ہے ۔‘‘
کہتے ہیں لوگوں نے دیکھا کہ کوئی ایسا نہ تھا جسے مجھ سے زیادہ قرآن آتا ہو ، سو انہوں نے مجھے امامت کیلئے آگے کردیا ، اس وقت میری عمر چھ یا سات سال تھی۔ (صحیح بخاری: ۴۳۰۲)
اس سے معلوم ہوا کہ فرض نماز میں بچے کی امامت جائز ہے۔ (ابن عثیمین: مجموعۃ الفتاوی و الرسائل: ۱۰۰۵)
تعزیت کیلئے عورتوں کا اکٹھا ہونا
واضح رہے یہ تعزیت فنکشن نہیں کہ لوگ یہاں جمع ہوں اور رات بسر کریں ۔ سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ آگ روشن کرتے ہیں اور مرگ والا گھر کوئی شادی بیاہ والا منظر پیش کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ اصلی مقصد تو سوگوار کو تسلی تشفی دینا ہے اور یہ ظاہر و حسّی چیزوں سے ممکن ہے ۔
اسے یقین دہانی کروائی جائے کہ جو رنج اسے پہنچا ہے ، یہ سب اللہ کی طرف سے ہے، جیسا کہ نبی کریمe نے اپنی بیٹی کو کسی کے توسط سے تلقین فرمائی کہ صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے یقینا وہ اللہ ہی کا تھا جو اس نے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے عطا کیا اور ہر چیز اس کے پاس ایک مقرر وقت تک کیلئے ہے۔ یہ تسلی ہے ، اس کا مقصود فرحت کا اظہار نہیں۔
سوگوار سے کہنا چاہیے! اے بھائی صبر کر ، ثواب کی امید رکھ ، یہ دنیا ہے اور اللہ کی بادشاہت ہے ، اسی کا ہے جو اس نے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے دیا ، ہر چیز کا وقت مقرر ہے ، اس سے آگے اور پیچھے نہیں ہوسکتا ۔
صحابہ کرام] میت کے گھر میں اکٹھے ہونا اور ان کیلئے کھانا تیار کرنا نوحہ شمار کرتے تھے اور یہ درست نہیں، ہاں قریبی رشتہ دار تھوڑی دیر کے لیے آجائیں اور تعزیت کرلیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ (ابن عثیمین: مجموعۃ الفتاوی والرسائل: ۳۱۲)
عورتوں کا کثرت سے قبرستان کی زیارت کرنا
رسول اللہe نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔ (مسند احمد: ۳۳۴۹)
عورتیں فتنہ ہیں، ان میں صبر بھی کم ہے ، یہ اللہ تعالی کی رحمت اور احسان ہے کہ اس نے عورتوں پر قبروں کی زیارت کو حرام قرار دے دیا ہے تاکہ نہ خود فتنہ میں مبتلا ہوں نہ کسی کو مبتلا کریں۔ (ابن باز: مجموعۃ الفتاوی والمقالات: ۱۳/۳۲۵)
البتہ کبھی کبھار کسی قریبی رشتہ دار کی قبر کی زیارت کے لیے جاسکتی ہیں۔ (المستدرک للحاکم: ۱/۳۷۶‘ حدیث: ۱۳۹۲)
تعزیت کیلئے عورتوں کا سیاہ لباس استعمال کرنا
ہماری رائے میں تعزیت کا خاص لباس بدعت ہے، یہ تقدیر الٰہی کے سامنے انسانی احتجاج کی خبر دیتا ہے ، کچھ لوگ اس میں نرم گوشہ استعمال کرتے ہیں لیکن جب سلف الصالحین نے ایسا نہیں کیا اور یہ ناپسندیدگی کا مظہر بھی ہے تو اسے چھوڑنا ہی مناسب ہے کیونکہ انسان جب اس کو پہنے گا تو سلامتی کی نسبت گناہ کے زیادہ قریب ہوگا۔ (ابن عثیمین: المجموع الفتاوی والرسائل: ۴۴۳)
میت کے کپڑوں کو سنبھال کر رکھنا
فوت شدگان کے کپڑے زیرِ استعمال لائے جاسکتے ہیں، افرادِ کنبہ میں سے کوئی استعمال کرے یا ضرورتمندوں کو دے دئیے جائیں لیکن ضائع نہ کیے جائیں ، یہ میت کی وراثت ہیں ، البتہ یادگار کے طور پر رکھنا جائز نہیں۔ اگر تبرکا رکھے جائیں تو حرام ہے ، پھر ایسا کرنے سے ضائع کرنا لازم آئے گا اور جس چیز سے نفع حاصل کیا جائے اسے یوں بے فائدہ نہیں چھوڑا جاسکتا۔ (الفوزان: المنتقی: ۳۴۳)
اس طرح کے دیگر امور میں بھی عورتیں غلطی کر جاتی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ دین اسلام کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور غیر اسلامی رسوم ورواج سے اجتناب کریں۔ اللہ تعالیٰ حق بات سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق دے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

Pages