مولانا میر محمد بھانبڑی رحمہ اللہ 09-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Monday, March 09, 2020

مولانا میر محمد بھانبڑی رحمہ اللہ 09-20


مولانا میر محمد بھانبڑی رحمہ اللہ

تحریر: جناب مولانا محمد یوسف انور
متحدہ پنجاب کے مشہور اور مردم خیز ضلع امرتسر کا ایک دیہی مقام بھانبڑی تھا جس میں شیخ برادری کے لوگ کثرت سے آباد تھے۔ واعظ شیریں بیان اور خوش نوا مقرر مولانا میر محمد کا تعلق اسی گاؤں سے تھا۔ وہ شیخ برادری کے معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ امرتسر کے دینی مدارس سے تعلیم حاصل کی۔ ان کے اساتذہ کا علم نہیں‘ تقسیم ملک سے قبل پنجاب بھر میں ان کی شہرت تھی۔
دیہات وقصبات میں کوئی اہم آبادی نہیں ہو گی جہاں وہ وعظ کے لیے نہ گئے ہوں۔ ہمارے شہر پٹی میں شیخ برادری میں ان کی رشتہ داری بھی تھی جن کی خوشیوں غمیوں میں ان کا آنا جانا رہتا۔ اس کے علاوہ وہ تبلیغی جلسوں میں آئے دن پٹی اور گرد ونواح کے مقامات پر ان کی تقریریں ہوتیں۔
عوام الناس میں وہ بے حد مقبول تھے۔ قرآن وحدیث کی صافی تعلیمات کے بیان وکلام کے ساتھ ساتھ وہ تقریر میں لطائف وظرائف کی بھی خوبی رکھتے تھے۔ ان کی اکثر تقریروں کا موضوع اصلاح معاشرہ‘ حقوق والدین اور ازدواجی مسائل وتعلقات ہوتا تھا۔ ان سطور کے راقم کی عمر اس زمانے میں بچپنے کی تھی‘ یہی چھ سات برس اور میں اپنے والدین کے ہمراہ جا کر ان کی تقاریر سے محظوظ ہوتا تھا۔
مولانا مرحوم خود شاعر بھی تھے۔ ان کے شعروں میں عام شعراء کی طرح کا انداز نہیں تھا بلکہ ان کا اپنا ہی انوکھا اور دلربا طرز کلام تھا۔ خاوند بیوی کے درمیان محبت والفت کے جو سلیقے اور طریقے اسلام نے بتائے ہیں ان کا ذکر کرتے ہوئے وہ حیوانات اور جانوروں کی آپس کی محبت جھوم جھوم کر بیان کرتے۔
دو اڑھائی گھنٹوں تک ان کی تقریر کا دورانیہ رہتا‘ سامعین کو منٹوں میں رلا دینا اور پھر ہنسا دینا ان کا ایک بڑا خاصا تھا۔ ایک مرتبہ تقریر کے اختتام پر منتظمین نے کہا کہ حضرت! ہمیں آپ نے بہت رلایا لیکن خود آپ کا ایک آنسو بھی نہیں ٹپکا۔ فرمانے لگے کہ ’’جب تم صبح مجھے روانہ کرو گے تو میں اس وقت روؤں گا۔‘‘
کہتے ہیں کہ میں نے ایک جگہ تقریر کی تو بعد میں ایک شخص کہنے لگا کہ مولانا! آپ نے تقریر بڑی اچھی کی ہے لیکن آپ وہابی بزرگوں کو نہیں مانتے‘ میں نے کہا کہ رب رسولe کا حکم تو مانا نہیں جاتا آپ بزرگوں کا ’’یب‘‘ (مصیبت) پا رہے ہیں۔
مولانا علیہ الرحمہ انتہائی خوش گفتار‘ خوش رفتار اور خوش اطوار تھے۔ عام مجالس اور دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں بڑے شگوفے چھوڑتے تھے۔ انہوں نے تین شادیاں کی تھیں‘ ایک شیخ برادری میں‘ ایک ارائیوں میں اور ایک رحمانیوں میں۔ ایک دفعہ وہ مولانا ثناء اللہ امرتسریa کے ہاں گئے تو مولانا امرتسری فرمانے لگے کہ مولوی میر محمد! اب کس برادری کی طرف نگاہ ہے تا کہ چار پوری ہو جائیں تو جواب میں برجستہ کہنے لگے کہ اب کشمیریوں کی طرف رجحان ہے۔
مولانا ثناء اللہ کشمیری تھے اور حاضر جواب بھی مگر مولوی میر محمد صاحب نے انہیں لا جواب کر دیا۔ مولوی میر محمد ایسے بہت سے بول بولتے۔ حافظ عبدالحق صدیقی یہ لطائف سنایا کرتے تھے جو مولانا امرتسریa کے خدام میں سے تھے۔ متحدہ ہندوستان خصوصا پنجاب کے خطہ میں ان کے وعظ کا بڑا شہرہ تھا جیسا کہ شروع میں ذکر کیا گیا ہے۔ قادیانیت کے خلاف بھی انہوں نے مؤثر کردار ادا کیا۔ ان کے صاحبزادگان مولوی محمد یعقوب (شافی دواخانہ کارخانہ بازار فیصل آباد) اور مولوی محمد ابراہیم بھی ان مبلغین میں شامل تھے جو مولانا ثناء اللہa کی سرپرستی میں مرزائیت کا پوسٹ مارٹم کرتے تھے۔ ان میں مولانا احمد الدین گکھڑوی‘ مولانا محمد عبداللہ ثانی‘ مولانا علی محمد صمصام اور روپڑی برادران حافظ محمد اسماعیل اور حافظ عبدالقادر خاص طور پر نمایاں تھے۔ میدان مناظرہ میں بھی مرزائی مناظروں کو شکست فاش سے دو چار کرتے تھے۔
تذکرہ ہو رہا تھا مولانا محمد یعقوب کے والد گرامی مولانا میر محمد a کا‘ ان کی وعظ وتذکیر کا ایک اور واقعہ یاد آیا۔ ہمارے شہر پٹی سے پانچ میل کے فاصلے پر ایک گاؤں ’’گدھے کے‘‘ تھا جہاں کا نمبردار بڑا جاگیردار اور بہت سے مربعوں زمین کا مالک تھا۔ خود وہ نمازی اور عام سا مسلمان تھا لیکن اس کا ایک ہی بیٹا تھا جس کا چال چلن اچھا نہ تھا۔ اس کی شادی کا وقت آیا تو بیٹے نے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ خوشیاں کرنا چاہتا ہے۔ بینڈ باجوں کے ساتھ ساتھ امرتسر سے طوائفوں کو بھی بلاؤں گا تا کہ گاؤں بھر میں رونق اور جشن کا سماں ہو۔ اس کے نمبردار والد‘ میرے والد حاجی عبدالرحمن کے پاس پگڑی رنگانے کے لیے آیا کرتے تھے۔ میرے والد پٹی کے بڑے بازار میں رنگریزی کی دکان کرتے تھے‘ اس زمانے میں پگڑیاں یا دوپٹے رنگ کر کے دونوں کونوں سے دو اشخاص پکڑ کر بازار میں سوکھایا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں بھی اس کام کے لیے دو سکھ بچے کام کرتے تھے۔
بہرحال نمبردار صاحب نے ابا جی سے بات کی کہ بیٹا شادی پر اس قسم کی خرافات کرنا چاہتا ہے جس سے میری سبکی بھی ہو گی اور روپیہ کا ضیاع بھی ہو گا۔ ابا جی نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں اور اسے سمجھاتا ہوں شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا فرما دے۔
چنانچہ وہاں جا کر بیٹے کو سمجھایا کہ تم شادی پر خوشی کرنا چاہتے ہو اور رونق وغیرہ کا اہتمام کرنا چاہتے ہو تو میں ایک مولوی صاحب کو مدعو کرتا ہوں جن کی بڑی شہرت ہے۔ ان کی تقریر دلپذیر تین چار گھنٹے ہو گی اور بلا امتیاز ہندو سکھ بھی اور تمہارے دوست احباب بھی انہیں سراہیں گے اور ایک پسندیدہ خوشکن ماحول ان شاء اللہ پیدا ہو جائے گا۔ وہ بیٹا مان گیا۔ ابا جی نے مولانا میر محمد صاحب سے وقت لیا اور شادی کی رات گاؤں کے چوک میں جلسے اور تقریر کا گرد ونواح میں اعلان کرا دیا۔
غرضیکہ مولانا میر محمد تشریف لائے‘ سامعین کی بھاری تعداد تمام مذاہب کے پیروکاروں کی جلسہ گاہ میں نظر آ رہی تھی۔ مولانا مرحوم نے اپنی تقریر کو انتہائی خوبصورت لہجہ اور پیرائے میں اسلام کی خوبیاں‘ معاشرتی برائیوں کا لطیفانہ انداز میں انسداد اور ازواج کے تقدس واحترام کا موضوع نہایت خوش اسلوبی اور شعر وشاعری سے مزین کیا۔ ان کی ظرافت اور خوش طبعی نے سب کو خوش بھی کر دیا اور عقائد واعمال کی اصلاح کا حق بھی بخوبی ادا کر دیا۔ بس پھر کیا تھا کہ ہر ماہ ڈیڑھ ماہ بعد مولانا میر محمد کی وہاں آمد ہوتی اور ان کی شیریں بیانی کی تاثیر سے پورا علاقہ ایک دینی انقلاب میں تبدیل ہو گیا۔ بعض موقعوں پر مولانا صمصامa کو بھی مدعو کیا جاتا رہا۔
مولانا میر محمد نے بڑی لمبی عمر پائی‘ وہ ایک صد بیس سال کی عمر میں غالباً ۱۹۵۱ء میں انتقال کر گئے۔ مضبوط قد کاٹھ اور بھاری بھرکم جسم‘ سرخ وسفید رنگت تھی۔ تقسیم ملک کے بعد ایک ہی مرتبہ ان کی زیارت اور تقریر سنی۔ انہوں نے مسجد مبارک منٹگمری بازار میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا تھا۔ بڑھاپے کے باوجود آواز میں طنطنہ اور خوشگوار کلام وبیان تھا لیکن یاد نہیں کہ انہوں نے خطبہ میں کیا کچھ ارشاد فرمایا تھا۔ وہ کثیر الاولاد بھی تھے۔ ایک دفعہ ان سطور کا راقم میاں فضل حق مرحوم اور حافظ محمد ابراہیم کمیرپوریa کی رفاقت میں بھکر جلسہ پر گئے‘ کمپنی باغ میں بہت بڑا اجتماع تھا۔ صدر جلسہ سے تعارف ہوا تو انہوں نے بتایا کہ وہ مولوی میر محمد بھانبڑیa کے بیٹے ہیں۔ پنجاب کے بیشتر شہروں میں تقسیم ملک کے بعد ان کی آل اولاد مقیم ہو گئی تھی۔ فیصل آباد میں مولوی محمد یعقوب دواخانہ پنساری وغیرہ کی کارخانہ بازار میں دکان کرتے تھے۔ وہ کئی سال تک مرکزی جمعیت اہل حدیث فیصل آباد شہر کے ناظم بھی رہے جبکہ مولانا عبیداللہ احرار صدر ہوا کرتے تھے۔ دونوں کی یکے بعد دیگرے وفات کے بعد ان عہدوں پر مولانا محمد صدیق صدر اور راقم ناظم کے طور پر کام کرتے رہے۔ شبان اہل حدیث کے زمانے میں سالہا سال پہلے مولوی محمد یعقوب کی دکان کے آگے اسٹیج لگتا تھا اور جلسے منعقد ہوتے تھے۔
آج کے جماعتی احباب تو کئی علماء کو بھی اپنے ان اسلاف مولانا میر محمد جیسے اہل علم کی خدمات اور دعوت وارشاد کی کمال صفات کا کوئی پتہ نہیں۔ وقت کا دھارا کس تیز رفتاری سے بہتا ہے‘ حالات بدلنے تو کیا تھے بلکہ دن بہ دن ابتر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
مولوی حکیم محمد یعقوب اگرچہ دبلے پتلے خوبصورت چہرہ مہرہ رکھنے والے اور بڑھاپے کی عمر میں تھے مگر بڑے سرگرم تھے۔ دکانداری کی مصروفیات کے باوجود جماعتی امور میں بڑی دلچسپی لیتے‘ رمضان المبارک میں جامعہ سلفیہ کے لیے چندہ کی فراہمی اور عید قربان کے موقع پر شہر ومضافات سے شبان اہل حدیث کے جو کارکنان کھالیں اکٹھی کرتے ان کی سرپرستی اور پوری پوری نگرانی رکھتے۔
علماء کرام کے احترام اور طلبۂ دین سے شفقت وحوصلہ افزائی میں ان جیسی مثالیں کم لوگوں میں دیکھنے میں آئیں۔ راقم الحروف نے ان کی شفقتوں اور کارگذاریوں سے بہت کچھ سیکھا۔
ان کی رہائش بٹالہ کالونی میں تھی‘ جہاں آج جماعتی اور مسلکی تبلیغ کا مرکز مسجد اقصیٰ واقع ہے۔ انہوں نے دس مرلہ پلاٹ اپنی جیب سے خرچ کر کے اس کی بنیاد رکھی‘ قریبا چالیسی برس قبل سنگ بنیاد کی تقریب اور مشوروں میں ان سطور کا راقم بھی بحمد اللہ پیش پیش تھا۔ جوں جوں کالونی اور گرد ونواح میں آبادی بڑھتی چلی گئی یہ مسجد شایان شان عمارت میں تبدیل ہوتی گئی۔ کئی برسوں سے یہاں ہمارے دوست مولانا عبدالرشید حجازیd خطیب ہیں جن کی اصل خطابت اسی مسجد کے منبر ومحراب سے عروج میں آئی۔
اللہ کرے زور بیاں اور زیادہ
کیا وہ دورِ بہاراں تھا جبکہ فیصل آباد کے چار درویش مولانا محمد صدیق‘ مولانا محمد اسحاق چیمہ‘ مولانا عبیداللہ احرار اور مولانا محمد یعقوب بھانبڑی‘ مرکزی سطح پر مولانا غزنوی اور مولانا سلفی ومولانا عطاء اللہ حنیفs کے دوش بدوش نظر آتے اور فیصل آباد میں بھی اونچی سطح کی یہ علمی قیادت ہمیں میسر تھی۔ پھر جب ان میں لاہور سے مولانا محمد اسحاق بھٹی بھی تشریف لے آئے تو ان اکابر کی محفلیں کشت زعفران کا منظر بن جاتیں۔ اب تو یہ حال ہے کہ
ویراں ہے میکدہ خم وساغر اداس ہے
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے


No comments:

Post a Comment

Pages