امام مہدی کا ظہور 10-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Tuesday, March 10, 2020

امام مہدی کا ظہور 10-20


امام مہدی﷜ کا ظہور

تحریر: جناب مولانا خلیق الرحمن
امام مہدی کے ظہورکے بارے میں اہل السنۃ والجماعۃ کا چودہ سوسالہ یہ نظریہ ہے کہ آپ آخری دور میں مکہ مکرمہ میں ظہور پذیر ہوں گے‘ مسلمانوں کی قیادت کریں گے،امت مسلمہ میں خلافت قائم کریں گے۔اللہ کی زمین پر عدل وانصاف پرمبنی حقیقی شریعت نافذکریں گے۔ جس کے نتیجے میں امن وآشتی اورسکون سے انسانیت کوواسطہ پڑیگا۔الغرض خلافت راشدہ کی بھولی بسری یادیں تازہ ہوجائیں گی۔
البتہ یہ ذہن نشین رہے کہ حقیقی امام مہدی کی آمد سے پہلے بہت سے لوگ مہدی ہونیکادعوی کریں گے، زیرنظرمضمون میں ایسے جھوٹے اوردنیا پرست لوگوں کاپردہ چاک کیاجائے گا۔اوران شاء اللہ صحیح احادیث کی روشنی میں بے دین طبقوں کی فریب کاریوں… حکومت ودولت کے طلب گار علمائے سوء کی دھوکے بازیوںکی بھی وضاحت کی جائیگی، نیزساتھ حقیقی امام مہدی کے بارے میں اہل السنۃ کا کیا نظریہ ہے؟ اسے بھی تفصیلاً تحریر کیا جائے گا۔
سیدناعبداللہ بن مسعودt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’دنیاکااختتام نہیں ہوگا حتی کہ عرب کاامیرایک شخص ہوگا جومیرے اہل بیت سے ہوگا‘ اس کانام میرے نام جیسا اور اس کے والد کانام میرے والدجیسا ہوگا‘ وہ زمین کوعدل وانصاف سے بھردے گا‘ جیساکہ ان سے پہلے ظلم وزیادتی سے بھری ہوگی ۔‘‘ (ترمذی: ۲۳۹۴، ابوداؤد: ۴۲۸۲)
اس حدیث سے اور آئندہ چند احادیث سے معلوم ہوجائیگا کہ امام مہدیu کے بارے میں عقائد ونظریات بڑے ہی نازک ہیں اورعلمی اخلاص سے ہی ان کاکوئی نتیجہ نکالاجاسکتاہے۔امت میں سادہ لوح نوجوانوں کو کس طرح گمراہ کیاگیا اورآئندہ فتنے سے مزید کتنے افراد خطرناک غلطیوں اور دھوکے کا شکار ہو سکتے ہیں اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایاجاسکتاہے۔
 اہل تکفیر کی کارستانیاں:
یہ ۲۲ نومبر ۱۹۷۹ء کی نمازفجرکاوقت تھا،بیت اللہ میں طواف کرنیوالے نمازکی ادائیگی کے منتظر تھے‘ عمرہ کرنے اورزیارت کرنے والے بارگاہ الٰہی میں دعاؤں مناجات میں مصروف تھے۔اس وقت کے امام محمدبن عبداللہ السبیل رحمہ اللہ آگے آئے اور نمازفجر کی امامت کرائی … سلام کے بعد اچانک کچھ لوگ آگے آئے اورامام کعبہ امام السبیل کے ہاتھوں سے مائک چھین لیا۔ایک شخص جو چہرے مہرے سے متقی پرہیزگار اورعالم فاضل معلوم ہوتاتھا آگے آیا اورتقریر شروع کر دی۔ اتنے میں ایک شخص جو اس فتنہ پرور گروہ کا لیڈرتھا۔اس کانام جہیمان العتیبی معلوم ہوا۔اس نے اعلان کیاکہ یہ عالم دین جو وعظ ونصیحت کر رہے تھے، یہ امام مہدی ہیں… ان کانام محمدبن عبداللہ ہے‘ یہ مدینہ سے مکہ آئے ہیں اورحجراسود اورمقام ابراہیم کے درمیان کھڑے ہیں۔ رسول اللہe کی بیان کردہ تمام پیش گوئیاں سچ ہوچکی ہیں ،لہٰذا میں تو امام مہدی کے ہاتھ پر بیعت کررہاہوں ،تم سب بھی بیعت کرو۔
قارئین کرام! اس واقعے پرجس قدر حیرانی آپ کوہورہی ہوگی اس سے کہیں زیادہ ششدر وہاں کے نمازی حضرات تھے جو ہکابکا ہوکر ساری کارروائی دیکھ رہے تھے۔ جہیمان العتیبی نے بڑاکاری وار کیاتھا … ایسے عالم کوتلاش کرکے لایاتھا جو واقعتا (محمدبن عبداللہ) نام کا تھا … مگر چونکہ جہیمان خارجی ذہنیت رکھنے والا فتنہ پرور تھا اس نے نہ صرف سادہ لوح متقی اورتہجدگزار نوجوانوں کو اس فتنے میں ڈالابلکہ بیت اللہ اورحرم پاک پر قبضہ کر کے اس کے درودیوار کو لہو لہان کردیا۔
اس کو پڑھیں:   فضائل ماہِ رجب
بالآخر جب حکومت کاپیمانہ صبرلبریز ہوا تو علمائے کرام سے باقاعدہ فتوی لے کر فوجی ایکشن شروع کیا گیا۔ اس تصادم میں ۳۰۰ افراد ہلاک ہوئے جس میں حکومتی اہلکار بھی تھے اورتکفیری نوجوان بھی۔ بعدازاں حرم کے تہہ خانوں میں مورچہ زن افراد کو باہر نکالنے میں بڑی مشکل پیش آرہی تھی کہ کوئی بھی زینوں سے اترکرنیچے جاتاتو اس کو فائرنگ کرکے گرایاجاتاتھا۔ پھر تہہ خانے کوپانی سے بھر کر اس میں کرنٹ چھوڑاگیا تو زخمی حالت میں ۷۰ افراد باہر آئے جن میں ان کا لیڈر جہیمان بھی تھا۔ ان افراد کو پھانسی دے دی گئی۔۔ نام نہاد امام مہدی کی لاش مل گئی تھی۔یہ ساری کارروائی ۹ دن میں پوری ہوئی۔
اس بیانیے کا مقصد صرف اورصرف موجودہ دور کے پر خلوص نوجوانوں کو دھوکے سے بچانا اور واضح کرناہے کہ مطلب پرست علما سوء اور دہشت گردوں کے سرپرست کس طرح قرآنی آیات اوراحادیث کواپنے مطلب کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تکفیریوں کی کارروائیوں سے فائدے کی بجائے الٹا نقصانِ عظیم ہوتا ہے۔ امت کے پرخلوص جان نچھاور کرنے والے افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں اوران کے بعد مسلم عوام کوفتنوں کے داغ صاف کرنے میں صدیاں بیت جاتی ہیں ۔بھلا کعبہ پر قبضہ کرنے اور طواف کو روک دینے سے بڑا جرم کیا ہوسکتاہے؟! حرم میں ناحق خون بہانے سے کون سی خلافت قائم ہوسکتی ہے؟ آج داعش اور تکفیری افراد کا بڑا نشانہ حرمین شریفین کی حکومت و علماء کیوں ہیں؟ آج بھی ان کا نشانہ صرف اور صرف مسلم ممالک اور ان کے بے گناہ عوام کیوں بنتے ہیں؟! بھلا مساجد اور اسکولوں کے بچوں کا کیا قصور ہے کہ عالمی سیاست کا انتقام ان سے لیا جائے۔
واقعی سچ فرمایا تھا سرکار دوعالم نے کہ
’’یہ لوگ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔‘‘ (بخاری، کتاب التوحید: ۷۴۳۲)
نیز آپe نے فرمایا:
’’یہ مسلسل نکلتے رہیں گے حتی کہ ان کے آخری ساتھی دجال کے ساتھ نکلیں گے۔‘‘ (سنن النسائی: ۴۱۱۴)
ایک اور روایت میں آپe کا فرمان ہے:
’’یہ لوگ حکومتِ وقت یا امراء کے خلاف خوب طعنہ زنی کریں گے‘ ان پر ضلالت وگمراہی کا فتویٰ لگائیں گے۔‘‘ (مجمع الزوائد: ۶/۲۲۸)
اللہ رب العزت ہم سب کو فتنوں سے محفوظ رکھے آمین!
اس کو پڑھیں:   اسلام کا تصور محبت
 آمدم برسر مطلب:
اب ہم اپنے موضوع کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔ احادیث میں قیامت کی دس بڑی بڑی نشانیوں کو بیان کیاگیاہے۔ کتاب الفتن کے موضوع پرتمام محدثین نے بے شمار چھوٹی چھوٹی علامات کو بھی بیان فرمایاہے کہ مساجد میں زیبائش اور رنگ وروغن ہوگا۔لوگ اونچی اونچی عمارتیں کوبنائیں گے۔ گانے اور آلات ساز عام ہوں گے‘ جہالت کا دور دورہ ہوگا‘ یہ علاماتِ صغریٰ کہلاتی ہیں۔ یہ علامات قرب قیامت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہیں گی۔ ان کی روک تھام ممکن نہیں ۔ایسا نہیں کہ اگر لوگ اونچی عمارتیں نہ بنائیں تو قیامت نہ آئے گی۔ بلکہ یہ دورانِ سفر آنے والے سنگ ِ میل ہیں جوہر صورت آکر رہتے ہیں ۔ان چھوٹی اور بڑی علامات کے درمیان امام مہدیt ظاہر ہوں گے۔ظہورِمہدی کے سات سال بعد نزولِ عیسیٰ علیہ السلام اور آمدِ دجال کا سلسلہ شروع ہوگا اور یہ قیامت کی بڑی علامات ہیں۔
 مہدی نام ونسب:
واضح رہے کہ سنن ابی داؤد کی روایت کے مطابق اس کا نام محمد بن عبداللہ۔ ہوگا مہدی(ہدایت یافتہ) لقب ہوگا‘ جیساکہ ابتدائی خلفائے راشدین کو بھی مہدیین یعنی ہدایت یافتہ کہا گیاہے۔فرمان رسول کریمe ہے:
’’میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: ۴۲)
عون المعبود شرح سنن ابوداؤد میں ہے کہ
’’امام مہدی اولاد سیدناحسنt سے ہوں گے۔ سیدنا علیt کے سیدہ فاطمہr سے دوبیٹے تھے سیدناحسن اورحسین ]۔‘‘
سیدنا حسنt نے حق دار ہونے کے باوجود حکمت ودانائی سے کام لیتے ہوئے سیدنا معاویہt کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور مسلمانوں کے درمیان ہورہی جنگ کا خاتمہ فرمایاتھا۔ شایداسی قربانی کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ ان کی اولاد سے آخری دور میں ایک عظیم خلیفہ پیدا فرمائے گا۔ اس بات کی گواہی اس حدیث سے بھی مل جاتی ہے کہ
’’مہدی میرے خاندان سے ہوگااورفاطمہ کی اولاد سے ہوگا۔‘‘ (سنن أبی داؤد: ۴۲۸۴)
سیدناابوسعید خدریt فرماتے ہیں کہ رسول کریمe نے فرمایا:
’’مہدی میری اولاد سے ہوں گے۔ روشن پیشانی اوراونچی ناک والے۔ وہ روئے زمین کو عدل وانصاف سے بھردیں گے جس طرح ظلم وستم سے بھری ہوئی تھی، وہ سات برس تک زمین پر برسراقتدر رہیں گے۔‘‘ (سنن ابی داؤد: ۴۲۸۵)
اس کو پڑھیں:   ٹی وی ڈرامے اور ہم
ان احادیث کا بغور جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ
1          امام مہدی قریشی النسل ہوں گے۔
2          بنوہاشم سے اور اولادِحسنt سے ہوں گے۔
3          جس دن پیداہوں گے ان کانام محمد ہو گا، والد کانام عبداللہ ہوگا۔
4          پہلے کوئی اور نام ہو‘ بعدمیں بڑا ہو کر نام بدل لے تو اس کے جھوٹاہونے کے لیے یہی بات کافی ہو گی۔ ملعونِ زمانہ قادیانی ایساہی مہدی ہونے کا دعویدار نکلا۔
 ہندوستانی مہدی کی داستان:
اس کا نام مرزا غلام‘ قادیان میں اپنے آباء واجداد کی ریاست ودولت سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ انگریز کی محبت، دولت کاحصول، جاہ پرستی نے اس ملعون سے بے شمار خرافات کروائیں۔ اس جھوٹے بدکردار ملعون نے مسلمانوں کی حالت ِزار کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔
۱۸۵۷ء کے بعد انگریز سرکار نے بہت تباہی پھیلائی۔ خاص طور پر مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا گیا۔ صادق پور، بنگال، یوپی‘ بہار میں درختوں پر لٹکتی علمائے حق کی لاشیں مسلمانوں کی تباہی کی منہ بولتی داستانیں بن گئی تھیں۔ بے دین اورجاہل عوام کو ہزاروں کی تعداد میں جبراً عیسائی بنایا گیا۔ آج بھی پاکستان وہندوستان میں جو چرچ آباد ہیں اور عیسائی آبادیاں ہیں یہ اس دور کی یاد ہیں۔ حق بولنے والے اور جہادکی بات کرنے والے علماء یاتو شہید کر دیے گئے یا کالا پانی میں جلاوطن کردیے گئے۔ ایسے حالات میں لوگ واقعی کسی مجدد‘ کسی مہدی یا نجات دھندہ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے تھے۔
مرزا ملعون بڑاکایاں نکلا‘ پہلے عیسائی مبلغوں سے اسلام کی حقانیت پر مناظرے کرتارہا۔پھر موقع دیکھ کر مہدی ہونے کا پرچار کرنے لگا۔جھوٹی نبوت کا دعویدار بعدمیں بنا اور ملکہ برطانیہ کی سرپرستی میں مسلمانوں کے درمیان فرقہ پرستی کی بھی داستانیں چھوڑگیا۔آج بھی قادیانی امت کا سب سے بڑا سرپرست یاتو برطانیہ ہے یا اسرائیل۔ الغرض اس ملعون نے جب خرافات پھیلانا شروع کیں تو مذہبی حوالہ مطلوب تھا۔ایسے لوگوں کے نزدیک نظریہ مہدویت بڑی کارآمد چیز تھا۔لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہاشمی اورقریشی کیسے بنا جائے۔ دیگر قادیانی حوالہ جات کے مطابق اس نے یہ الہام گھڑ لیا کہ ہمارے آباء واجداد کے شجرہ نسب کے مطابق میں مغل ہوں ،لیکن اللہ نے الہام میں مجھے قریشی کہاہے، لہٰذا شجرے جھوٹے ہیں اوراللہ کاالہام سچاہے۔
یوں نام بدل‘ نسب نامہ بدلا اورمہدی ہونیکاپرچار کرنے لگا۔پاک وہند میں گوہر شاہی فتنے کی بھی کچھ ایسی ہی حیثیت ہے۔جھوٹوں کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی ۔بے پیندے لوٹے کی طرح ہر وقت حالت بدلتے رہتے ہیں۔
قادیانی تلبیس کو بیان کرنے کامقصد یہ ہے کہ آج تک بلکہ قیامت تک آنیوالے دجال اور کذاب لوگ چند روایات کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے اور رہیں گے۔ ان شاء اللہ علمائے حق ان کا پول کھولتے رہیں گے اوراحادیث رسولe کا صحیح مطلب جومنہج سلف صالحین کے عین مطابق ہو بیان کرتے رہیں گے۔
 سنن ابوداؤدکی روایت کے مطابق:
سیدہ ام سلمہr سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’ایک خلیفہ کی وفات پر اختلاف ہوگا۔خاندان بنی ہاشم کاایک شخص مدینہ سے مکہ چلا جائیگا۔لوگ اس کو گھر سے باہر نکال لائیں گے اور حجر اسوداور مقام ابراہیم کے درمیان اس کے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔(اس کی بیعت ِ خلافت) کی خبر سن کر شام سے ایک لشکران سے مقابلہ کے لیے روانہ ہوگا‘ چنانچہ یہ لشکر جب بیداء میں پہنچے گا تو دھنسا دیا جائیگا۔‘‘ (سنن ابوداؤد: ۴۲۸۶)
واضح رہے کہ امام مہدی کے متعلق بیان کردہ کچھ احادیث میں ضعف بھی ہے لیکن کوئی روایت موضوع درجہ کی نہیں۔مسندابویعلیٰ کی اس روایت کو محقق حسین سلیم اسد نے حسن درجہ کی قراردی ہے۔لیکن اگر ضعیف روایات کودرج ذیل صحیح مسلم کی اس حدیث کے ساتھ ملاکر پڑھیں تو حقیقت بالکل واضح ہوجائیگی۔
سیدنا عبداللہ بن زبیرw فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہr نے فرمایا: ایک رات رسول کریمe خواب میں پریشان ہوکر اٹھے ۔ہم نے عرض کی اللہ کے رسول! آج آپ نیند میں پریشان ہوئے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔آپe نے فرمایا: ’’بڑے تعجب کی بات ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ بیت اللہ کا ارادہ کرکے آئیں گے۔قریش کا ایک آدمی بیت اللہ میں پناہ پکڑے گاحتی کہ جب (ان کوگرفتار کرنے والا) لشکربیداء مقام پر پہنچے گا تو ان کو زمین نگل لے گی۔ ہم نے عرض کی اللہ کے رسول! راستے پرتو لوگ جمع ہوتے ہیں۔ فرمایا: ’’ہاں ان میں کچھ جان بوجھ کر لشکر میں آئیں گے‘ کچھ مجبور ہوں گے‘ کچھ مسافر لیکن سب کو ایک ساتھ ہلاک کردیاجائیگا ۔سب لوگ (روزقیامت) الگ الگ حالت میں اٹھیں گے۔ ان کی نیت کے مطابق اللہ تعالیٰ ان کواٹھائے گا۔‘‘ (صحیح مسلم، الفتن)
امام نوویa نے اس حدیث کے ضمن میں بڑی خوبصورت بات بیان فرمائی ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ مسلمانوں کو اہل ظلم سے دور رہنا چاہیے‘ باغیوں سرکشوں کی مجالس سے شدت کے ساتھ اجتناب کریں تاکہ عذاب الٰہی کے خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔
قارئین! آپ امام مہدی سے متعلق جان چکے ہیں اور حقیقت ِ مہدی سے آشکارہوچکے ہوں گے کہ
1          امام مہدی مدینہ سے مکہ آئیںگے ۔
2          ان کی آمد سے پہلے فتنے اورقتل وغارت گری کا دور دورہ ہوگا۔
3          خلیفہ یاحاکم وقت کی موت کے بعداختلافات ہوں گے اور مسلح افراد آپس میں جنگ کریں گے۔
4          لازماً محمدبن عبداللہ نامی شخص کوئی معروف اثرورسوخ والاشخص ہوگا ورنہ وہ کیوں مدینہ سے مکہ آئے گا اور لوگ صرف اسی کو کیوں زبردستی امامِ وقت یاخلیفہ بنائیں گے۔
5          پہلے سے لوگ اسے مہدی کے لقب سے جانتے نہ ہوں گے ۔بعدازاں جب عدل وانصاف والی خلافت قائم ہوگی تب عقدہ کھلے گا کہ جس کاانتظار تھا وہ آپ ہی ہیں۔
6          اس وقت کے ظالم جابر حکمران قطعاً امام مہدی کے حق میں نہ ہوں گے ۔ان کو گرفتار کرنے کے لیے لشکر بھیجیں گے۔ صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق یہ لشکر عذابِ الٰہی کا شکار ہوگا تو ساری دنیا کے نزدیک حقیقت ِ مہدی واضح ہوجائے گی۔اس کے بعد کیاہوگا ؟ اس کے لیے سب سے اہم روایت یہ ہے۔
سیدناابوہریرہt سے مرفوعا روایت ہے: جب کالے جھنڈے مشرق سے نکلیں گے تو کوئی چیز ان کوروک نہیں سکے گی۔ حتی کہ وہ ایلیاء (بیت المقدس) میں نصب کریں گے۔ (مسند احمد: ۲۲۶۹)
اسی طرح فرمان نبویe ہے:
’’جب تم دیکھو کہ کالے جھنڈے آگئے ہیں خراسان سے توتم اس میں ضرور شامل ہوجانا کیونکہ ان میں اللہ کے خلیفہ مہدی ہوں گے۔‘‘
سنن ابوداوکے مطابق ’’امام مہدی کی خلافت مسلسل سات سال جاری رہے گی۔‘‘ (ابوداؤد: ۴۲۸۵)
یہ سال سب سے بہترین امن وسکون اورعدل وانصاف والے ہوں گے۔بیت المقدس فتح ہوگا۔ساری دنیا پر خلافت قائم ہوگی۔ ان روایات کی استنادی حیثیت کمزور ہے لیکن علما ئے اہل سنت کا چودہ سوسالہ عقیدہ یہی رہاہے کہ مہدی آخری زمانے میں تشریف لائیں گے۔ کفار سے جہاد کرکے روئے زمین پر خلافت اسلامیہ قائم کریں گے جونبوت کے طریقہ پر ہوگی۔دراصل مہدویت کوئی دعوے کرنے یا جماعت بنانے کی چیز نہیں بلکہ کچھ کرکے دکھانے کانام ہے۔ جب خلافت قائم ہوگی انصاف ہوگا،اسلامی حکومت کے فوائد دنیاکو نظر آئیں گے تو مہدیt خودبخود تسلیم کرلیے جائیں گے۔
مشہور مفسرومحدث امام ابن کثیرa نے اپنی تاریخ میں لکھاہے کہ یعنی امام مہدی کاظہور مشرق سے ہوگا ۔یہ عقیدہ غلط ہے کہ سامراء کی غار سے نکلیں گے جیساکہ جاہل روافض گمان کیے بیٹھے ہیں۔یہ آخری زمانے میں ان کے نکلنے کاانتظار کررہے ہیں ۔یہ ان کی مایوسی کاثبوت ہے۔اہل مشرق ان کی تائید کریں گے ۔ان کی خلافت قائم کریں گے ۔اہل مشرق کے جھنڈے بھی کالے ہوں گے ۔کیونکہ نبی کریمe کا جھنڈا بھی کالاتھا۔ جس کو العقاب کہاجاتاتھا۔خلاصہ یہ کہ مہدی کا اصلی خروج یاغلبہ مشرق سے ہوگا اوران کی بیعت بیت اللہ میں لی جائے گی۔ جیساکہ احادیث اس بات پر گواہ ہیں۔ (النہایہ فی الفتن: ۱/۵۵)
امام ابن کثیرa نے بڑے واضح انداز میں امام مہدی کے بارے میں غلط فکری اور کج فہمی کاتوڑ بھی فرمایاہے کہ روافض اپنے آخری مزعومہ امام محمدبن حسن عسکری کو(مہدی آخرالزماں) کے نام سے پکارتے ہیں۔ بھلا گزشتہ گیارہ صدیوں سے سامراء کی غار میں کوئی کیونکر زندہ رہ سکتاہے۔ ہر سال محرم کے مہینے میں لاکھوں لوگوں کا سامراء کی غار کے قریب جمع ہوکر (ادرکنی امام الدھر) پکارنا انتہائی ہذیانی کیفیت کا واضح ثبوت ہے۔
آخری دورمیں جب امام مہدی سات برس خلافت قائم کرچکے ہوں گے اوربلادشام میں قسطنطنیہ کی جنگ میں شریک ہوں گے‘ اس کا احوال صحیح مسلم میں اس طرح بیان کیاگیاہے:
سیدنا ابوہریرہt بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمe نے فرمایا: کیا تم نے کسی شہر کے بارے میں سناہے جس کی ایک طرف سمندر اوردوسری طرف خشکی ہے ۔عرض کی گئی جی ہاں! آپe نے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک سیدنا اسحاقu کی اولاد میں سے ستر ہزار آدمی اس شہر کے لوگوں سے جنگ نہیں کرلیتے۔ چنانچہ وہ لوگ (سترہزار)جنگ کے لیے شہر میں آئیں گے تو اس شہر کے باہر پڑاؤ ڈالیں گے ۔یہ لوگ شہر والوں سے ہتھیاروں کے ذریعے جنگ نہیں کریں گے اور نہ ان کی طرف تیر پھینکیں گے بلکہ (لاالہ الااللہ واللہ اکبر) کانعرہ بلند کریں گے تو شہر کے دونوں اطراف کی دیوار میں سے ایک طرف کی دیوار گر جائیگی۔پھر مسلمان دوسری بار (لاالہ الااللہ واللہ اکبر) کا نعرہ بلند کریں گے تو شہر کی دوسری جانب والی دیوار بھی گرپڑے گی۔ اس کے بعد وہ لوگ تیسری بار نعرہ بلند کریں گے تو اس لشکر کے لیے شہر میں داخل ہونے کا راستہ کشادہ ہوجائے گا۔یہ لشکر شہرمیں داخل ہوکر مال ِ غنیمت جمع کریں گے اوراس مال ِ غنیمت کو آپس میں تقسیم کررہے ہوں گے کہ اچانک یہ آواز آئے گی کہ دجال نکل آیاہے۔ چنانچہ سب کچھ چھوڑ کردجال سے لڑنے کے لیے واپس لوٹ آئیں گے۔ (مسلم، الفتن: ۲۹۲۰)
امام مہدی کی زیر قیادت لشکردجال کے خلاف جہاد کررہاہوگا ۔آپ جانتے ہوں گے کہ دجال سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں مارا جائے گا لیکن آخری جنگ ِ عظیم میں جہاد کرنے والے مسلمانوں کے لیڈر امام مہدی ہوں گے اوریہودیوں منافقوں کا سر براہ مسیح دجال ہوگا۔ اس مرحلے کا ذکر صحیح مسلم میں اس طرح ہے :
سیدنا ابوہریرہt کے مطابق فرمان نبویe ہے کہ ’’اللہ کی قسم! عیسیٰ بن مریم ضرور بہ ضرور نازل ہوں گے ۔ عدل کرنے والے حاکم ہوں گے‘ آپ صلیب کو توڑیں گے‘ خنزیر کو قتل کریں گے،جزیہ ختم کریں گے (دولت عام ہوگی کہ) اونٹنی کو چھوڑ دیاجائیگا‘ اس پر کوئی سوار نہ ہوگا۔لوگوں کے درمیان دشمنی بغض حسد ختم ہوگا۔ لوگوں کومال کی طرف بلایاجائیگا لیکن کوئی قبول نہ کرے گا۔‘‘ (مسلم: ۲۴۳)
اسی طرح صحیح مسلم کی دوسری روایت کے مطابق:
رسول اللہe نے فرمایا: ’’تمہار اسوقت کیا حال ہوگا جب عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔‘‘ (مسلم: ۲۴۴)
صحیح مسلم کی اس حدیث پرتمام شارحین محدثین یہی فرماتے آئے ہیں کہ تمہارا امام تم میں موجود ہوگا سے مراد صرف اورصرف امام محمدبن عبداللہ المہدی ہوں گے۔ دمشق کی مسجد میں فجر کی اذان ہوچکی ہوگی‘ امام مہدی نماز پڑھانے کے لیے تیارہوں گے کہ میناروں پر سیدنا عیسیٰu نازل ہوں گے۔ امام مہدی ان کو نماز کی امامت کے لیے درخواست کریں گے لیکن سیدنا عیسیٰu فرمائیں گے کہ آپ امامت کریں ،پھراس کے بعد کی صحیح روایت میں امام مہدی کاذکر نہیں کہ ان کا کیابنا،کیونکہ اس کے بعد سیدنا عیسیٰu دجال کو (لُد) مقام پر قتل کریں گے۔ (اس مقام پر اب اسرائیل کا ایئر پورٹ واقع ہے۔)
صحیح مسلم کے مطابق:
سیدنا جابرt بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمe نے فرمایا: ’’تم میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق کے ساتھ جہاد کرتی رہے گی۔ قیامت تک وہ غالب رہیں گے۔ پھر عیسیٰu نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا امیر (مہدی) کہے گا: آئیے! ہمارے لیے نماز کی امامت کرائیں‘ عیسیٰu فرمائیں گے کہ نہیں‘ تم میں سے بعض بعض کا امیرہے‘ یہ اللہ تعالیٰ کی اس امت کے لیے عزت افزائی ہے۔‘‘
واقعی امت محمدیہ کی عزت جہاد میں ہے ۔جہاد قیامت تک جاری رہیگا‘ اس امت کا آخری گروہ امام مہدی پھر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ دجال کے خلاف جہاد کریگا۔ ان احادیث سے معلوم ہواکہ پھر امام مہدی کاکام ختم ہوگا۔گویا آپ آخری جنگ ِ عظیم اورنزول عیسیٰ کے لیے راہ ہموار کریں گے۔ اس کے بعد آپ وفات پاجائیں گے … دنیامیں قیامت کی بڑی علامات تیزی سے نمودار ہونے لگیں گی… ان تمام احادیث سے معلوم ہواکہ امام مہدیt کے لیے کوئی ٹائم فریم مقررنہیں‘ ان کاوقت سوسال بعدبھی ہوسکتاہے اور ہزار سال بعد بھی۔ امام مہدی اپنے مہدی ہونے کادعویٰ نہیں کریگا بلکہ کچھ کردکھانے کے بعد وہ مسلمانوں کے نزدیک مہدی کہلائے گا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو امام مہدی کاساتھی بننے کی توفیق عطافرمائے۔دشمنان اسلام ہر دور میں فتنوں کی راہ ہموار کرتے اور گمراہ کن اماموں،حکمرانوں اور علمائے سوء کے ذریعے ہر وقت عوام الناس کو راہ ِ خدا سے بھٹکاتے رہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


No comments:

Post a Comment

Pages