نیک بیوی کی صفات 11-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, March 13, 2020

نیک بیوی کی صفات 11-20


نیک بیوی کی صفات

تحریر: جناب الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف﷾
نیک بیوی کی پہلی صفت وہ صالحہ اور قانتہ ہو:
صالحہ بیوی کی صفات میں قرآن مجید کی یہ آیت (جو سورہ نساء میں ہے) بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے پہلے تو مرد کی قوّامیت‘ حاکمیت و بالا دستی بیان فرمائی جس سے از خود یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ گھر کا نظام امن وسکون کے ساتھ تب ہی چل سکتا ہے جب اس گھر میں آنے والی عورت (بیوی) خاوند کی بالا دستی کو تسلیم کرے گی، اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’نیک عورت فرماں بردار ہوتی ہے (اپنے رب کی بھی اور اپنے خاوند کی بھی) پوشیدہ باتوں کی حفاظت کرتی ہے بہ سبب اس کے کہ اللہ نے اس کی بھی حفاظت فرمائی ہے۔‘‘ (النساء: ۳۴)
اس کو پڑھیں:   عجلت پسندی
اس میں نیک عورت کی فرماں برداری اور پوشیدہ معاملات کی حفاظت اور اس کی غیر موجودگی میں اس کے مال، اس کے گھر اور اپنی عصمت کی حفاظت جیسی صفات کو مرد کی قوامیت کا نتیجہ بتلایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو عورت مرد کی اس فطری بالا دستی کو تسلیم نہیں کرے گی، وہ نیکی اور فرماں برداری کے تقاضے بھی پورے نہیں کر سکے گی جب کہ ان تقاضوں کی ادائیگی ہی پر گھر کے امن و سکون کا انحصار ہے۔
غیبی معاملات کی حفاظت کا سبب اللہ نے یہ بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کے حقوق بھی محفوظ کر دیے ہیں اور وہ اس طرح کہ مرد کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ عورت کو حق مہر دے، اس کے نان نفقہ اور رہائش کا انتظام کرے اور اس کی دیگر ضروریات پوری کرے۔
اس قسم کی صالحہ اور قانتہ عورت کے ساتھ مرد کی زندگی نہایت خوش گوار گزرتی ہے اور حالات و معاملات میں کوئی کشیدگی اور تنائو پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ جو عورت ان صفات سے محروم ہوگی تو اس کے اندر ان صفات کے بر عکس نشوز پیدا ہوگا جو مرد و عورت کے تعلقات کو نا خوشگوار بنائے رکھے گا۔
عورت ناشزہ نہ ہو اور اس کا مطلب:
نشوز کیا ہے اور اس کا کیا حل اللہ تعالیٰ نے بتلایا ہے؟ اسی آیت زیر بحث میں کہا گیا ہے:
’’وہ عورتیں جن سے تمہیں نشوز کا خوف ہو تو تم ان کو وعظ و نصیحت کرو اور ان کو بستروں میں الگ کردو اور ان کی سرزنش کرو۔‘‘ (النسآء: ۳۴)
نشوز عربی زبان میں ارتفاع (بلندی) کو کہتے ہیں۔ یہاں اس لفظ کا مطلب یہ ہوگا کہ جو عورت، مرد کو بالادست سمجھنے کی بجائے، اپنی بالا دستی منوانے کی کوشش کرے۔ اس کی اطاعت کرنے کے بجائے اپنا حکم چلائے‘ مرد کو زیر دست رکھنے کی کوشش کرے۔ چونکہ یہ نشوز فطرت کے خلاف ہے تو اس کا نتیجہ گھر کی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں نکلے گا۔
اللہ تعالیٰ نے مرد کو دو وجہ سے عورت پر قوّام بنایا ہے، ایک کا تعلق وھبی صفت سے ہے کہ اس کو عورت کے مقابلے میں زیادہ قوت و توانائی اور زیادہ دماغی و ذہنی صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے۔ دوسری کا تعلق کسبی صفت سے ہے کہ مرد محنت کرکے عورت کی تمام ضروریات پوری کرتا ہے (مہر، نان نفقہ اور دیگر ضروریات مرد کے ذمے ہے) جو عورت صالحہ، قانتہ ہوتی ہے وہ اس حقیقت کو سمجھتی ہے اور مرد کی شکر گزار اور فرماں بردار بن کر رہتی ہے۔ جو صالحہ قانتہ نہ ہو، وہ عدم اطاعت اور ناشکری کا راستہ اختیار کرکے فطرت سے جنگ کرتی ہے، اس کے نتیجے میں میاں بیوی کے تعلقات میں جو ناہمواری اور ناخوش گواری پیدا ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کا حل یہ بتلایا ہے کہ
1          اس کو وعظ و نصیحت کی جائے، اس کو اللہ سے ڈرایا جائے۔
2          یہ کار گر نہ ہو تو مرد رات کو اس کے ساتھ سونا چھوڑ دے اور رات کی حد تک علیحدگی اختیار کر لے۔
3          یہ علیحدگی بھی اس کوسمجھنے پر آمادہ نہ کرے تو اس کو ہلکی سی مار مار لے جس سے اس کے کسی عضو کو نقصان نہ پہنچے۔ کیونکہ اس تادیب (سرزنش) سے مقصود اس کی اصلاح ہے نہ کہ اس کو جسمانی نقصان پہنچانا۔
4          اس سے بھی مسئلہ حل نہ ہو تو پھر خاندان کے لوگوں کو صورت حال سے مطلع کرکے دوحَکَم(ثالث) مقرر کیے جائیں، جو دونوں کی باتیں سن کر اس کی روشنی میں ان کا فیصلہ کریں۔
 اس تفصیل سے یہ واضح ہوا کہ نیک عورت کی صفات میں ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ ناشزہ نہ ہو۔ یعنی وہ خاوند کی فرماں بردار ہو نہ کہ اس کو اپنا فرماں بردار بنانے والی۔ گھر میں اس کی بالا دستی کو تسلیم کرنے والی ہو نہ کہ اپنے کو بالا دست سمجھنے والی، خاوند کی بن کر رہنے والی ہو نہ کہ خاوند کو اپنا بنا کر رکھنے والی اور خاوند کے حق کو سمجھنے والی اور اس کو ادا کرنے والی ہو نہ کہ اس کے برعکس صرف اپنا ہی حق جتلانے اور منوانے والی۔ فنعوذ باللّٰہ من ھذہ المراۃ
خیر اور بھلائی کے کاموں میں خاوند کی فرماں بردار:
رسول اللہe سے پوچھا گیا: کون سی عورت بہتر ہے؟ آپe نے فرمایا:
’’وہ عورت کہ جب خاوند اس کی طرف دیکھے تو اسے خوش کن نظر سے دیکھے، جب خاوند اس کو کسی بات کا حکم دے تو اسے بجا لائے اور عورت اپنے نفس اور خاوند کے مال میں اس کی خواہش کے برعکس ایسا رویہ اختیار نہ کرے جو اس کے خاوند کو ناپسند ہو۔‘‘ (النسائی: ۳۲۳۳)
خاوند کا استقبال مسکراہٹ اور اچھے لباس میں کرے:
اس حدیث میں فرماں برداری کے علاوہ چند اور صفات کا بھی بیان ہے۔ ان میں ایک صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ خاوند اس کی طرف دیکھے تو اس کا رویہ اور اس کی ہیئت ایسی ہو کہ خاوند اس کو دیکھ کر باغ باغ ہوجائے۔ اس سے ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ عورت مسکراہٹ کے ساتھ خاوند کا استقبال کرے، منہ بنایا ہوا نہ ہو، خفگی اور ناراضی کے آثار چہرے پر نہ ہوں، غصے میں بھری ہوئی نہ ہو۔
اپنی عصمت و آبرو کا پورا تحفظ کرے:
ایک صفت یہ معلوم ہوئی کہ اپنی عصمت و آبرو کا پورا تحفظ کرے۔ کسی بھی وقت اور کسی کے ساتھ بھی ایسا رویہ اختیار نہ کرے جس سے خاوند کو کوئی شکایت پیدا ہو یا اس کی مردانہ غیرت و حمیت کے خلاف ہو۔ اسی لیے ایک حدیث میں عورت کو یہ تاکید بھی کی گئی ہے کہ وہ گھر میں ایسے کسی شخص کو آنے کی اجازت نہ دے جس کو خاوند ناپسند کرتا ہو۔
اس حدیث کے بین السطور سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گھر میں خاوند کے قریبی رشتے دار چھوٹے بڑے بھائی (عورت کے دیور، جیٹھ) اور اسی طرح عورت کے قریبی رشتے دار بہنوئی، اس کے ماموں زاد، چچا زاد، خالہ زاد، پھوپھی زاد، (جن کو آج کل کزن کہا جاتا ہے) سے بھی پردے کا اہتمام کرے، ان سے بے تکلف نہ ہو۔ ان سے زیادہ بے تکلفی ، قربت اور بے پردگی نہایت خطرناک ہے جس سے اس کی عصمت کی ردائے تقدس بھی تار تار ہوسکتی ہے۔ اس لیے حدیث میں دیور، جیٹھ وغیرہ کو موت قرار دیا گیا ہے۔
خاوند کے مال میں بے جا تصرف نہ کرے:
ایک اور صفت اس حدیث میں یہ بتلائی گئی ہے کہ عورت خاوند کے مال میں ایسا تصرف نہ کرے جو خاوند کو ناپسند ہو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ فضول خرچی سے اور اسی طرح غیر ضروری چیزوں میں پیسے خرچ کرنے سے اجتناب کرے۔ ہر وقت مرد کی آمدنی کو سامنے رکھے اور اس کے مطابق ہی اپنا بجٹ بنائے اور اسی دائرے میں رہ کر ہی سب کچھ خرچ کرے۔ حتی کہ صدقہ و خیرات بھی اسی دائرے میں رہ کر کرے تاکہ خاوند کو بھی اس پر اعتراض نہ ہو اور اگر کہیں صدقہ و خیرات زیادہ کرنے کی ضرورت محسوس کرے تو خاوند سے مشورہ کرے اور اس کی اجازت کے بغیر اس طرح طاقت سے زیادہ صدقہ و خیرات نہ کرے جس سے گھریلو بجٹ متاثر ہویا خاوند کے لیے مشکلات کا باعث ہو۔
بچوں پر نہایت مہربان، خاوند کے مفادات کا خیال رکھنے والی
ایک حدیث میں بہترین اور صالح ترین عورت کی یہ دو صفات بیان ہوئی ہیں:
’’اپنے بچوں پر جب کہ وہ کم عمر ہوتے ہیں، بڑی مہربان‘ شفیق اور اپنے خاوندوں کے معاملات میں ان کے مفادات کا بہت خیال رکھنے والی۔‘‘ (بخاری: ۵۳۶۵)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ عورت کا دائرہ کار گھر کی چار دیواری ہے جس میں گھریلو امور سر انجام دینے کے علاوہ، مزید دو ذمے داریوں کا بوجھ بھی اس نے اٹھانا ہے۔ ایک بچوں کی حفاظت، جس میں حمل سے لے کر رضاعت تک اور اس کے بعد بھی بدوِ شعور تک کے مراحل ہیں۔ دوسرے خاوند کی خدمت و اطاعت۔ گویا عورت نے بہ یک وقت تین خدمات سر انجام دینا ہیں:
1          امور خانہ داری۔
2          بچوں کی پرورش و نگرانی۔
3          خاوند کی خدمت اور اس کی خواہشات کی تسکین۔
یہ تینوں خدمات اتنی عظیم ہیں کہ اس کے شب و روز کے تمام لمحات اس میں صرف ہوجاتے ہیں یوں وہ پورے طور پر مرد کی شریک زندگی بن کر مرد کو سکون مہیا کرتی ہے جس کی وجہ سے مرد گھریلو معاملات سے بے فکر ہو کر یکسوئی سے کسب معاش میں مصروف رہتا ہے۔
اسی لیے شریعت اسلامیہ نے عورت کو کسب معاش کے جھمیلوں میں ڈالنا پسند نہیں کیا ہے کیونکہ یہ دوہری ذمے داری ہوتی کہ وہ گھر کا سارا انتظام بھی سنبھالے اور گھر کا نظام چلانے کے لیے سرمایایہ بھی مہیا کرے۔ یہ ظلم ہے اسلام نے عورت کو اس ظلم سے بچایا اور کسب معاش کا مکمل ذمے دار مرد کو قرار دیا ہے۔
خاوند کی خدمت و اطاعت کی اہمیت و تاکید:
خاوند کی خدمت و اطاعت کی اسلام میں کتنی اہمیت اور تاکید ہے، اس کااندازہ ذیل کی چند احادیث سے لگایا جا سکتا ہے۔
ایک حدیث میں رسول اللہe نے فرمایا:
’’اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو یقینا عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کیا کرے۔‘‘ (ترمذی: ۱۱۵۹)
دوسری حدیث میں فرمایا:
’’عورت خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔‘‘ (مسلم: ۱۰۲۶)
خاوند جب بھی بیوی کو بلائے، بلا تاخیر اس کی خواہش پوری کرے:
ایک حدیث میں رسول اللہe نے فرمایا:
’’قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدe کی جان ہے! عورت اپنے رب کا حق اس وقت تک ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرتی، اگر خاوند اس سے اپنی (ہم بستری کی) خواہش کا اظہار کرے جب کہ وہ اونٹ کے کجاوے پر بیٹھی ہو (پا رکاب ہو، کہیں جانے کے لیے گاڑی وغیرہ میں بیٹھی ہو) تب بھی اسے اس کی خواہش پوری کرنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ (ابن ماجہ: ۱۸۵۳)
معصیت میں خاوند کی اطاعت کی اجازت نہیں:
البتہ خاوند اگرعورت کو ایسا کام کرنے پر مجبور کرے جس کی شرعاً اجازت نہیں تو معصیت الٰہی والے کاموں میں خاوند کی اطاعت نہیں بلکہ انکار ضروری ہے۔
جیسے خاوند عورت کو حالت حیض میں جماع پر مجبور کرے تو عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ انکار کر دے اور اس کو یہ ناجائز خواہش پوری نہ کرنے دے۔
یا جیسے آج کل بہت سے لوگ اپنی بیویوں کو اپنے دوستوں کے سامنے بے پردہ آنے پر یا سرے سے بے پردہ ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔ خاوند کے کہنے پر ایسا کرنے کی قطعاً اجازت نہیں۔
نبی کریمe کا فرمان ہے:
’’جس کام میں خالق کی معصیت ہو، وہاں کسی بھی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (ترمذی: باب ما جاء فی معصیۃ الخالق)
بنا بریں کسی بھی کام یا معاملے میں اللہ کی نافرمانی نہیں کرنی، نہ اپنی مرضی سے اور نہ خاوند یا کسی اور کے کہنے پر۔ اس قسم کے موقع پر یعنی دین پر ثابت قدمی کی وجہ سے جو تکلیف یا آزمائش آئے، اس کو برداشت کیا جائے، یہ دنیا کی آزمائش آخرت کے اس عذاب کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی جو اللہ کی نافرمانی کے نتیجے میں مل سکتاہے۔ عورت مرد کی قوّامیت(حاکمیت) کو برداشت کرے۔
کسی کے لیے بد دعا نہ کرے:
عورت جِبّلی طور پر کمزور ہے اسی لیے اسے صنف نازک کہا جاتا ہے۔ اس فطری کمزوری کی وجہ سے عورت جلد ہی پریشان ہوجاتی ہے اور بد دعا دینے پراتر آتی ہے۔ بچوں نے پریشان کیا تو ان کو بد دعا دینا شروع کردی ، خاوند کے رویے کی وجہ سے اس کو بد دعا دے دی، حتی کہ بعض دفعہ اپنے آپ کے لیے بھی بد دعا کر دیتی ہے۔ یہ طرز عمل یکسر غلط ہے، عورت کوہر موقعے پر صبر و تحمل ، برداشت اور حوصلہ مندی سے کام لینا چاہیے اور زبان سے اپنے لیے یا بچوں کے لیے یا خاوند یا گھر کے کسی اور فرد کے لیے ایسے بد دعا کے الفاظ نہیں نکالنے چاہئیں کہ اگر وہ اللہ کے ہاں قبول ہوگئے تو عورت پچھتانے پر مجبور ہوجائے۔ اس لیے کہ اس کی بد دعا کے نتیجے میں اگر اولاد یا خاوند یا خود اسے نقصان پہنچے گا تو اس کا خمیازہ تو اس کو بھی بھگتنا پڑے گا، ظاہر بات ہے کہ یہ رویہ دانش مندی کے خلاف ہے۔
جنتی عورتوں کی صفات سے متصف:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جنتی عورتوں کی بہت سی صفات بیان فرمائی ہیں، جن میں بہت سی تو ایسی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے لیے بطور انعام خصوصی، وہ صفتیں ان کے اندر ودیعت فرمائے گا جس کی تفصیل قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں موجود ہے۔ وہ صفتیں دنیا میں بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں، بلکہ بعض تو ممکن بھی نہیں ہیں۔
تاہم بعض صفتیں ایسی ہیں کہ ہر عورت اپنے کو ان صفات سے آراستہ (متصف) کر سکتی ہیں اور وہ مثال ہیں:
1          اپنی نگاہوں کو پست رکھنے والی ہوں۔
2          پاکدامن وپاکباز ہوں۔
3          بن سنور کر بازاروں میں نہ جائیں۔
ارشاد الٰہی ہے:
’’بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں،مومن مرد اور مومن عورتیں، فرماں بر دار مرد اور فرماں بردار عورتیں،سچے مرد اورسچی عورتیں،صابر مرد اور صابر عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اورعاجزی کرنے والی عورتیں،صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں،روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں،اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، ان سب کے لیے اللہ نے مغفرت اور بہت بڑا اجر تیار کررکھا ہے۔‘‘
مذکورہ صفات جس طرح ایک مومن مرد کے لیے ضروری ہیں، اسی طرح مومنہ عورتوں کو بھی ان صفات کا حامل ہونا چاہیے۔
خاوند کو تسلی دینے والی:
نیک عورت کی ایک صفت یہ ہے کہ خاوند کو زندگی میں کوئی ایسا مرحلہ پیش آجائے جس سے وہ گھبرا جائے اور اندیشہ ہائے دور درازمیں مبتلا ہو جائے تو عورت اس کو تسلی دے، اس کی ڈھارس بندھائے اور اس کی خوبیوں کا ذکر کر کے اس کو اللہ سے اچھی امیدیں وابستہ کرنے کی تلقین کرے۔
جیسا کہ سیدہ خدیجہr نے پہلی نزول وحی پر نبی کریمe کی دلجوئی وحوصلہ افزائی فرمائی تھی۔
صبر و ضبط کا نمونہ:
اسی طرح عورت کو صبر و ضبط کا بھی ایسا نمونہ ہونا چاہیے جس سے مرد کو بھی حوصلہ ملے اور پہنچنے والا صدمہ برداشت کرنا آسان ہوجائے۔ غم و حزن کے موقعے پر عورت بے صبری اورعدم برداشت کا مظاہرہ کرے گی تو یہ ایک تو شریعت کی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ دوسرے مرد کو بھی غلط راستے پر ڈالنے کی مجرم ہوگی۔ اس کے برعکس صبر و ضبط کا مظاہرہ کرنے پر اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کے نزول کی خوش خبری ہے۔
شکر گزار عورت:
مسلمان عورت کی ایک اہم صفت شکر گزاری ہے، یعنی عسر و یسر، خوش حالی اور تنگ دستی ہر حالت میں اللہ کا بھی شکر ادا کرے اور اپنے خاوند کی بھی شکر گزار ہو۔
آج کل ہماری معیشت و معاشرت میں جو تکلفات در آئے ہیں، اس نے ہر مرد و عورت کو احساس محرومی میں مبتلا کر دیا ہے جس کی وجہ سے کلمات تشکر ہماری زبان پر آتے ہی نہیں، نہ اللہ کے لیے اور نہ خاوند اور والدین کے لیے ، حالانکہ انسان پر سب سے پہلے احسانات اللہ تعالیٰ کے ہیں، پھر والدین کے اور خاوند کے اور درجہ بدرجہ دیگر قرابت داروں کے۔ اللہ کے ساتھ ساتھ ان سب کا مرہون احسان رہنا نہایت ضروری ہے، ورنہ انسان ناشکری میں مبتلا ہوجاتا ہے اور یہ ناشکری بہت بڑا جرم ہے۔ عورتوں کی اکثریت اسی ناشکری کی وجہ سے جہنم کا ایندھن بنے گی۔


No comments:

Post a Comment

Pages