تخلیق انسانی كے مختلف مراحل 11-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, March 13, 2020

تخلیق انسانی كے مختلف مراحل 11-20


تخلیق انسانی كے مختلف مراحل

تحریر: جناب ڈاکٹر عبدالغفور راشد
انسان کے لیے اس امر میں تدبر وتفکر کے وسیع تر ذخائر موجود ہیں کہ فضاؤں میں اڑنے والا‘ سمندروں میں تیرنے والا اور ستاروں پر کمندیں ڈالنے والا انسان زمین کی مٹی سے پیدا کیا گیا۔ وہی انسان جس نے پہاڑوں میں سے راستے بنائے‘ چٹانوں کو پاش پاش کر دیا اور بے آب وگیاہ جنگلوں میں پر رونق شہر بسا دیے‘ اپنی بے کیف وسرور زندگی کے لیے جدید ترین آسانیاں ڈھونڈ نکالیں‘ بلکہ نت نئی دریافتوں کا سفر جاری وساری ہے۔ آنے والے وقتوں میں خدا ہی جانتا ہے کہ انسانی شعور نے کن کن ایجادات سے بہرہ ور ہونا ہے۔ اتنا خوش شکل‘ اتنا با شعور اور اتنا قوی ہیکل انسان خود بے نام ونشان اور عجز وانکسار کی پیکر مٹی سے پیدا ہوا ہے۔ یہ تو قادر مطلق کی کاریگری اور اس کا شاہکار ہے کہ اس نے آدمu اور اس کی اولاد کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر غیر معمولی وجود اور احسن تقویم میں پیدا کیا۔ اولین تخلیق آدمu کی ہوئی جسے خلاّق عظیم نے مٹی (تراب) سے پیدا کیا اور پھر ان سے ان کی ذریت واولاد کا سلسلہ آگے بڑھایا۔ ان کی نسل کی افزائش اس پانی (نطفہ) سے کی جو مرد وزن کے صلب وترائب اور پشت وسینے سے نکلتا ہے جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے:
’’وہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا‘ جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔‘‘ (الطلاق: ۶-۷)
اس کو پڑھیں:   سوالات کے آداب
اس پانی تک پہنچنے کے لیے مٹی کا جو کیمیائی ارتقاء ہوتا ہے اس کے لیے مٹی کو سات مرحلوں سے گذرنا پڑتا ہے اور وہ ہیں خشک مٹی‘ پانی‘ گارا‘ چکنی مٹی‘ سڑا ہوا گارا‘ کھنکھناتی مٹی اور مٹی کا جوہر۔ ان مذکورہ تمام مراحل کا ذکر قرآن مجید میں مختلف مقامات پر بڑے احسن انداز میں کیا گیا ہے جو لائق مطالعہ ہے۔
 خشک مٹی:
انسانی تخلیق کا اولین مادہ خشک مٹی ہے جسے قرآن مجید نے تراب کے لفظ سے ذکر کیا ہے:
’’تراب کا معنی بیان کرتے ہوئے امام راغبa نے لکھا ہے کہ اگر اس کا معنی تَرِبَ سے لیا جائے تو اس سے مراد فقیر ہونا ہے۔ ویسے اس کا معنی خاک آلود ہونا بھی ہے۔‘‘ (المفردات)
قادرِ مطلق کی عظیم قدرت ہے کہ اس نے آدمu اور اس کی نسل کو تراب سے پیدا کیا۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’وہی تو ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ (المؤمن: ۶۷)
نسل انسانی کی پہلی تخلیق مٹی سے ہوئی اور وہ مٹی پوری زمین سے لی گئی جس میں تمام رنگوں‘ موسموں اور نسلوں کا امتزاج تھا۔ جیسا کہ جامع ترمذی میں سیدنا ابوموسیٰ اشعریt کی ایک روایت بیان کی گئی ہے کہ رسول اکرمe نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ نے آدمu کو ایک مٹھی (مٹی) سے پیدا کیا جو اس نے ساری زمین سے لی۔ تو بنی آدم اس زمین کے اندازے کے مطابق وجود میں آئے۔ ان میں سرخ‘ سفید‘ سیاہ اور ان کے ما بین لوگ ہیں۔ نرم‘ سخت‘ خبیث اور طیب اور اس کے ما بین بھی ہیں۔‘‘ (جامع ترمذی: ۲۹۵۵)
اس کرہ ارضی پر انسانی جمال وکمال کے جتنے رنگ وروپ ہیں یہ سبھی اُس خلاق عظیم کی تخلیق کے شاہکار ہیں۔ جس نے فقر وعجز کی پیکر اور بے نام ونشان مٹی سے خوبصورت شکلیں بنا دی ہیں۔
 پانی:
تخلیق انسانی کے لیے مٹی کے کیمیائی ارتقاء کا دوسرا مرحلہ پانی ہے جسے قرآن عزیز نے مَائٌ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’وہی تو ہے جس نے پیدا کیا انسان کو پانی کی بوند سے اور بنا دیا اسے خاندان اور سسرال والا۔‘‘ (الفرقان: ۵۴)
تیرا رب قدرت والا ہے۔ پانی وہ قیمتی شے ہے جس سے کائنات کی ہر مخلوق کو زندگی ملی بلکہ جمادات ونباتات سب کی حیات پانی سے ہے۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور ہر زندہ چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا۔‘‘ (الأنبیاء: ۳۰)
 گارا:
انسانی تخلیق کے لیے استعمال ہونے والی مٹی کا جب مزید کیمیائی ارتقاء ہوتا ہے اور وہ تبدیلی کے تیسرے مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو گارا بن جاتی ہے جسے قرآن عزیز نے طِیْن کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ آسان الفاظ میں طِیْن پانی میں ملی ہوئی وہ مٹی ہے جسے گارا کہتے ہیں جس کی مثال قرآن مجید نے اس طرح بیان کی ہے:
’’اے ہامان! میرے لیے گارے کو آگ لگا کر (اینٹیں تیار کرو)۔‘‘ (القصص: ۳۸)
کیمرج ڈکشنری کے مطابق طین سے مراد وہ گیلی مٹی ہے جس سے اینٹیں تیار کی جاتی ہیں۔ امام راغبa نے اپنی کتاب مفردات میں لکھا ہے کہ
’’اس سے مراد یہ ہے کہ مٹی اور پانی ملا ہوا ہو۔ یعنی مٹی میں پانی ڈالنے کے بعد جو شکل بنتی ہے اس مٹی کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح کیا گیا ہے:
’’وہ وہی ہے جس نے تمہیں مٹی (گارے) سے پیدا کیا۔‘‘ (الأنعام: ۲)
 چکنی مٹی:
اس کا چوتھا مرحلہ چکنی مٹی ہے جسے قرآن عزیز نے طِیْن لَازِب سے موسوم کیا ہے۔ ایسی مٹی جو گرم ہو کر سخت ہو جاتی ہے اور وہ چپکنے لگتی ہے‘ مزید یہ کہ وہ جذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ اس چکنی مٹی ـ(طین لازب) کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح کیا گیا ہے:
’’ہم نے انہیں لیس دار (چپکنے والی) مٹی سے پیدا کیا ہے۔‘‘ (الصافات: ۱۱)
یہ مٹی کے کیمیائی ارتقاء کا چوتھا مرحلہ ہے۔
 سڑا ہوا گارا:
چکنی مٹی مزید تبدیل ہوتے ہوئے اپنا ارتقائی سفر طے کرتی ہے تو وہ سڑے ہوئے گارے کی شکل اختیار کر لیتی ہے جسے قرآن مجید نے صَلْصَالٌ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُوْن کا نام دیا ہے۔ یہ مٹی کا طبیعاتی اور کیمیائی طور پر تبدیل شدہ وہ مرحلہ ہے جو کیچڑ اور سڑے ہوئے گارے کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس میں بو پیدا ہو چکی ہے۔
بلکہ اس سے آواز اور کھنکھناہٹ بھی پیدا ہوتی ہے۔ امام راغبa نے اس کی تعریف اس انداز میں کی ہے:
’’خشک چیز سے پیدا ہونے والی آواز کا تردد یعنی کھنکھناہٹ۔‘‘ (المفردات)
ایک مفہوم یہ بھی ہے:
’’گویا کہ خشک مٹی سے پیدا ہونے والی آواز یا کھنکھناہٹ‘ قرآن مجید میں اس کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔‘‘ (المنجد)
’’یقینا ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا جو سڑے ہوئے گارے کی تھی۔‘‘ (الحجر: ۲۶)
 کھنکھناتی ٹھیکری:
سڑا ہوا گارا جب مزید تبدیل ہو جاتا ہے تو وہ کھنکھناتی ہوئی ٹھیکری کی شکل اختیار کر لیتا ہے جسے قرآن کریم نے صَلْصَالٌ کَالْفَخَّار کے نام سے ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’پیدا کیا انسان کو کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکرا ہو۔‘‘ (الرحمن: ۱۴)
یہ مٹی کی وہ شکل ہے جو تپانے اور جلانے کے بعد پک کر تیار ہو جاتی ہے اور کثافتوں سے پاک ہو کر نہایت لطیف اور عمدہ شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جسے امام راغبa اپنے الفاظ میں ذکر کرتے ہیں:
یہاں پر نفاست اور عمدگی کو فخار کہا گیا ہے۔ (المفردات)
 مٹی کا جوہر:
مٹی کے کیمیائی ارتقاء کا سفر جب ساتویں منزل پر پہنچتا ہے تو وہ ایک جوہر کی شکل اختیار کر لیتا ہے جسے قرآن کریم نے سُلَالَۃٌ مِّنْ طِیْن کے نام سے ذکر کیا ہے۔ یہ مٹی کا وہ جوہر وگوہر ہے جس سے انسانی تخلیق ہوتی ہے۔ اس کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح کیا گیا ہے:
’’ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔‘‘ (المؤمنون: ۱۲)
مندرجہ بالا سطور کے مطالعہ سے قادر مطلق کی قدرت کاملہ اور نظام تخلیق کا ایک بڑا ہی خوبصورت اور دلرباء تصور ہمارے سامنے آیا کہ وہ خلاق اعظم اس بات پر قادر ہے کہ ارادۂ کن کے ذریعے ایک لمحے بلکہ لمحے کے کسی حصے میں انسان کو پیدا کر سکتا ہے مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ اس نے جس مٹی سے انسان کو پیدا کیا اسے بھی سات مرحلوں سے گذارا۔ پھر جا کر مٹی کا وہ جوہر سامنے آیا جس سے مرد وزن کی ظہر وصدر سے پانی کا۔ قطرہ ٹپکایا جس سے انسانی تخلیق کی بنیادیں استوار کیں اور وہ بھی چشم زدن میں انجام نہیں دیا بلکہ اسے بھی سات مرحلوں سے گذارا۔ سلالۃ من طین‘ نطفہ‘ علقہ‘ مضغۃ‘ عظام‘ لحم اور خلق آخر۔
یہ بات مزید نکھر کر سامنے آ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات زمینیں بنائیں اور سات ہی آسمان اور ان کو بنانے میں بھی پورا ہفتہ لگا دیا۔ یعنی فی ستۃ ایام۔ انسانی زندگی کو بھی سات مرحلوں‘ ولادت‘ ایام رضاعت‘ ایام طفولیت‘ ایام شباب‘ ایام کہولت‘ ایام ارزل العمر اور موت سے گذارا۔
اس کے مرنے کے بعد بھی سات منزلیں‘ تجہیز وتکفین وتدفین‘ قبر کی زندگی‘ برزخ کی زندگی‘ دوبارہ زندگی‘ میزان‘ جزا وسزا اور اعلیٰ زندگی بنا دیں۔
جہنم کے دروازے بھی سات بنائے اور جنت کے آٹھ بنائے جبکہ جہنم کے طبقے بھی سات بنائے جن کے نام: جہنم‘ سعیر‘ لظیٰ‘ حطمہ‘ سقر‘ حمیم اور ہاویہ ہیں۔
اس مالک کون ومکان اور خالق جن وانس نے انسانی زندگی کی بقاء اکل وشرب سے منسلک کر دی اور اس کو سات اقسام میں قرآن مجید میں بیان کر دیں۔ مثلاً: خب‘ عنب‘ خضر‘ زیتون‘ نخل‘ حدائق اور فاکہہ۔
قرآن مجید نے سورۂ مومنون میں تخلیق انسان کے ذکر سے پہلے بندہ مومن کی سات صفات بیان کر دیں اور پھر کامیاب انسانوں کی اقسام اور پھر عدل وجزاء کے دن اپنے مالک حقیقی کا خاص سایہ رحمت وعاطفت حاصل کرنے والے افراد بھی سات ہیں جن کا ذکر پیغمبر آخر الزمانu نے اپنی زبان اقدس سے بیان فرما دیا: امام عادل‘ عبادت گذار نوجوان‘ مسجد سے محبت کرنے والا شخص‘ اللہ کے لیے محبت ونفرت کرنے والے دو انسان‘ صاحب جمال ومنصب عورت کی دعوت گناہ کو ٹھکرانے والا شخص‘ چھپا کر صدقہ کرنے والا آدمی اور تنہائی میں اللہ کے ذکر میں رونے والا بندہ‘ یہ ہیں وہ سات بندے جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل وکرم ہو گا اور ان کو سایہ نصیب ہو گا۔
قارئین کرام! اس شخص سے زیادہ خوش نصیب کون ہے کہ جسے اپنی زندگی میں یہ توفیق مل جائے۔ وہ قرآن کریم کے بحر علم وعرفان میں غوطہ زن ہو جائے اور پھر وہاں سے رموز حیات نکال کر اپنی منزل حقیقی کو پانے کے لیے صراط مستقیم پر چل پڑے۔ بلاشبہ اس کی عارضی زندگی پر سکون ہو گی اور حیات جاوداں بھی کامیاب وکامران ہو گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دنیا وآخرت کی لا زوال دولت سے بہرہ ور کر دے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

Pages