تحریک ختم نبوت میں مولانا محمد یوسف راجووالوی کا کردار 11-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, March 13, 2020

تحریک ختم نبوت میں مولانا محمد یوسف راجووالوی کا کردار 11-20


تحریک ختم نبوت میں مولانا محمد یوسف راجووالویکا کردار

تحریر: جناب مولانا عنایت اللہ امین
عقیدہ ختم نبوت تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمدe سید الاوّلین والآخرین امام الانبیاء وخاتم النبیین ہیں۔ جس طرح آپ آخری نبی ہیں بعینہٖ آپ کی اُمت بھی آخری امت ہے۔ جس طرح آپ کی ذات آخری ہے آپ کی بات بھی حرف آخر ہے۔ آپ پر نازل شدہ کتاب قرآن مجید بھی آخری کتاب ہے۔ آپ کے بعد مزید کسی نبوت یا دوسری کتاب کی چنداں ضرورت نہیں۔ پھر مسلمانوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ سیدنا عیسیٰu کو موت نہیں آئی بلکہ وہ زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے اور قرب قیامت وہ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔
انیسوی صدی کے آخری عشرہ میں ہندوستان کے قصبہ قادیان سے مرزا غلام احمد نامی ایک شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ
’’سیدنا عیسیٰu فوت ہو چکے ہیں۔ لوگ جس عیسیٰ نبی کے منتظر ہیں وہ میں ہوں۔‘‘
بعد ازاں اس نے یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ ’’میں اللہ کا نبی ہوں‘‘
اس دعویٰ کے رد عمل میں ہندوستان میں تحفظ ختم نبوت کی تحریک شروع ہوئی۔اپنے اپنے مقام اور وقت پر ہندوستان کے بے شمار علماء مشائخ نے مرزا قادیانی کے دعویٰ کی تردید اور مسلمہ عقیدے کی تائید میں کام کیا۔ تمام مکاتبِ فکر نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اس مقدس تحریک میں حصہ لے کر اس خدمت کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھ کر انجام دیا۔
بالآخر اس تحریک میں جس طرح بھی کسی نے حصہ لیا اس پر وہ امت مسلمہ کی طرف سے مبارک باد کے مستحق ہیں۔ پھر یہ بات مبنی برحقیقت ہے کہ اس تحریک کا وجود مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کا مرہونِ منت ہے۔ اگر مرزا قادیانی دعویٰ نبوت نہ کرتا تو اس تحریک کا وجود بھی نہ ہوتا۔ پھر یہ تحریک کوئی ایک دن یا مہینے میں آناً فاناً پورے برصغیر میں نہیں پھیلی۔ اُس دور کا ہندوستان ذرائع مواصلات کے حوالے سے وہ نہیں تھا جو آج ہے۔ جس طرح مرزا قادیانی کا دعویٰ قادیان سے نکل کر بلاد و امصار، دورونزدیک پھیلتا گیا‘ اسی طرح اس تحریک کی آواز بھی بتدریج مختلف مراحل سے گزر کر عوام و خواص تک پہنچتی رہی۔
انیسویں صدی کے آخری عشرہ میں شروع ہونے والی یہ تحریک ختم نبوت ایک طویل سفر کا نام ہے جو تاایں دم جاری ہے۔ اپنے اپنے دور کے نئے لوگ شامل ہوتے رہے۔ یقینا یہ تحریک بانیان تحریک کے لیے تا قیامت صدقہ جاریہ ہے۔ اپنے اپنے مقام پر سب اہل قافلہ کی خدمات لائق تحسین ہیں جس کا وہ عند اللہ ضرور اجر پائیں گے۔ (إن شاء اللہ)
اُس دور میں اوکاڑہ ضلع ساہیوال مِنٹگمری میں تھا اور ضلع کی قیادت مجلس عمل کے تحت مولانا معین الدین لکھویa (وفات ۲۰۱۱ء) نے کی۔ اس تحریک میں علمائِ دیوبند اور بریلوی مکتب فکر کے علماء نے بھی پورے جوش و خروش سے حصہ لیا۔ تحصیل اوکاڑہ اور دیپالپور سے جن لوگوں نے گرفتاریاں پیش کیں اُن میں مولانا معین الدین لکھویa سر فہرست ہیں‘ جن کی ذہانت و فطانت اور تدبر سے تحریک پورے ضلع میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ بالآخر تحریک کے تیرہویں دن ان کو گرفتار کر کے منٹگمری جیل میں بند کر دیا گیا۔ مولانا جیل میں نماز باجماعت کا اہتمام اور درسِ قرآن سے احباب گرامی کو مستفید کرتے رہے۔ ضلع اوکاڑہ سے مولانا کے ساتھ اہل حدیث افراد میں حضرت الاستاذ مولانا محمد یوسفa (وفات ۲۰۱۴ء) نے راجووال سے بھر پور تحریک چلائی اور گرفتاریاں پیش کیں۔ مولانا یوسفa نے راجووال کے قرب و جوار میں جو دینی خدمات انجام دیں وہ قابل رشک ہیں۔ دارالحدیث راجووال سے روحانی فیض حاصل کرنیوالوں کے ساتھ مولانا کی تبلیغی مساعی سے عوام الناس نے بھی بہت استفادہ کیا ہے اور مولانا سے علاقائی احباب بے حد متأثر تھے۔ اس تحریک میں راجواول اور قرب و جوار سے مولانا کے ساتھ جن احباب نے حصہ لیا اُن میں راجووال سے محمد صدیق اشرفa (وفات ۲۰۰۹ء) اور صفِ اول کے نمازی صوفی سلیمانa (وفات ۱۹۹۲ء) میاں محمد اسماعیلa کمبوہ (وفات ۱۹۹۱ء) اور حاجی محمد علیaعرف دارا (وفات ۲۰۱۵ء) وغیرہ انہوں نے مولانا مرحوم کے ساتھ شانہ بشانہ حصہ لیا اور تحریک کے اختتام تک جیل میں رہے۔ جبکہ بہت سے لوگ معافی نامہ پر دستخط کر کے جیل سے رہائی حاصل کرتے رہے اور مولانا کے شاگرد صوفی محمد علی آف کھڈیاں (وفات ۱۹۹۶ء) جو اُس دور میں مدرسہ میں زیر تعلیم تھے یہ بھی ساتھ تھے۔ اسی طرح جماعت کے بزرگ عالم دین حافظ عبدالغفور جہلمیa (وفات ۱۹۸۶ء) بھی جیل میں رہے۔ حافظ صاحب اصل رہائشی قصبہ فتح پور گوگیرہ ضلع اوکاڑہ کے ہیں۔ اپنے قصبہ فتح پور سے اس تحریک میں شامل ہوئے‘ اسی طرح قلعہ دیوا سنگھ حویلی لکھا سے قاری عبدالعزیز بھی اس تحریک کے سرگرم رکن تھے۔ راجووال کے قریب موضع ڈاہر جو اَب ضلع اوکاڑہ میں ہے وہاں سے بھی میاں ولی محمدa‘ مولانا عبدالجبار سلفی کے والد اور صوفی عبدالرحمنa سکاف (وفات ۲۰۰۸ء) یہ اُس وقت ڈاہر میں اقامت گزیں تھے بعد میں راجووال آگئے تھے اور حاجی دوست محمدa (وفات ۱۹۸۳ء) جو راقم کے پھوپھا تھے اور منڈی احمد آباد سے مولوی رحمت اللہa زرگر نے اس تحریک میں شامل ہو کر ساہیوال میں گرفتاری پیش کی۔ جیل میں محبوس احباب کو حضرت الاستاذ مولانا محمد یوسفa بھی عقیدہ ختم نبوت سے تازہ دم کرتے رہے۔ ان احباب کا دورانیہ جیل مختلف ہے لیکن مولانا یوسفa ۴ ما ہ جیل میں رہے۔ کبھی گبھراہٹ اور بے چینی کا شکار نہ ہوئے اور بتایاکرتے تھے کہ جیل میں ہمیں جو کھانا ملتا تھا وہ نہایت ناقص ہوتا تھا۔ بعض دفعہ جانوروں کا چارہ پکا کر دیا جاتا لیکن ختم نبوت کے پروانوں نے کبھی مایوسی کا اظہار نہ کیا۔ بلکہ یہ سب کچھ محبت رسولe میں عقیدہ ختم نبوت کی خاطر برداشت کیا اور جیل کی صعوبتوں کو خندہ پیشانی سے قبول کیا اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی قربانی کو بالآخر شرف قبولیت بخشا۔
یہ تحریک ۱۹۵۳ء سے شروع ہو کر ۱۹۷۴ء میں تکمیل کو پہنچی اور ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی کے پر زور مطالبے پر مرزائیت کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ نیز بتایا کہ میں نے عرصہ جیل میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ اے اللہ! مجھے بیت اللہ شریف میں اعتکاف نصیب فرما۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کی۔ تیسرے حج ۱۹۷۹ء میں رمضان المبارک کا پورا اعتکاف بیت اللہ شریف میں ادا کیا۔ اسی طرح ۱۹۷۶ء تا ۱۹۷۷ء میں تحریک نظامِ مصطفیe چلی‘ اس میں بھی مولانا مرحوم نے بھر پور حصہ لیا اور رینالہ خورد سے گرفتاری پیش کی۔ اِن کے ساتھ راجووال سے شریک سفر صفِ اول کا نمازی اور مشہور مؤذن بابا جان محمد علی (وفات ۲۰۰۰ء) تھا اللہ تعالیٰ اِن پاک باز ہستیوں کو محبت رسول میں پیش کردہ تکالیف کا صلہ کاملہ عطاء فرما۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

Pages