وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا 10-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Tuesday, March 10, 2020

وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا 10-20


وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا

حج اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اس نے ان لوگوں پر حج بیت اللہ فرض کیا ہے جو اس کی طرف سفر کرنے کی طاقت رکھتے ہوں۔‘‘ زادِ راہ وغیرہ ہونے کے باوجود حج نہ کرنے کو قرآن مجید نے کفر سے تعبیر کیا ہے۔ اس سے حج کی فرضیت اور تاکید کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔ حقیقی بات یہ ہے کہ حج‘ نبی اکرمe کی تعلیمات کے مطابق بجا لانے اور روزِ قیامت پر پختہ ایمان لانے کا نام ہے۔ سفر حج کے دوران لڑائی جھگڑے سے یکسر پرہیز کرنا‘ گناہوں کی بخشش کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا‘ قبر اور عذاب جہنم سے ڈرنا‘ توبہ کرنا اور زندگی کے ہر شعبے میں دینی تعلیمات کے مطابق اعمال بجا لانا حج مبرور کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اسلام میں جس طرح نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ‘ اسلام کے بنیادی ارکان اور فرائض ہیں اسی طرح حج دین اسلام کا بہت بڑا رکن اور عظیم فریضہ ہے۔ نماز اور روزہ صرف بدنی عبادات ہیں جبکہ زکوٰۃ مالی عبادت کا نام ہے۔ لیکن حج اپنے اندر بدنی اور مالی دونوں قسم کی عبادتیں لیے ہوئے ہے۔ ایک حاجی گھر سے چل کر جب مکہ مکرمہ‘ عرفات اور مدینہ طیبہ سے ہو کر گھر لوٹتا ہے اور اس میں مال حلال خرچ کرتا ہے تو گویا دونوں یعنی بدنی اور مالی عبادتوں سے سرفراز ہو جاتا ہے۔ رسول اللہe نے حج کی بڑی فضیلت اور بزرگی بیان فرمائی ہے۔ آپe کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’وہ شخص جس نے صرف اللہ کی رضا کے لیے حج کیا اور اس میں فسق وفجور سے اجتناب کیا تو وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے اسے ماں نے آج ہی جنا ہے۔‘‘
نبی اکرمe نے حج کے موقعے پر فرمایا تھا کہ ’’کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں۔‘‘ اسی طرح آپe نے سب کو مساوات کی ایک ہی لڑی میں پرو دیا اور یہ بھی فرمایا کہ ’’سیدنا آدمu مٹی سے پیدا ہوئے تھے‘ اس لیے ذات پات‘ رنگ نسل اور وطن وغیرہ کا فخر وغرور کوئی وقعت نہیں رکھتا۔ اسلام نے سب مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیا ہے۔ ہر مسلمان خواہ کسی قوم اور وطن کا ہو دوسرے مسلمان کا بھائی بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے غلاموں کو بھی حقیر نہ سمجھو جو آپ کھاؤ‘ انہیں بھی وہی کھلاؤ اور جو آپ پہنو انہیں بھی اس میں سے پہناؤ۔‘‘
ایک خطبہ حج میں امام حج الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل شیخ نے فرمایا کہ ’’حج کا یہ عظیم اجتماع پرہیزگاری اور تقویٰ کی افزائش کا عملی نمونہ ہونا چاہیے۔ اتحاد ویگانگت اور باہمی ایثار وخلوص اور مسلم امت کا ایک مرکز پر جمع ہونے کا یہ دلکش منظر ہی امت مسلمہ کی سلامتی اور نجات کا راستہ ہے۔ یہ قیام امن کی سب سے بڑی تحریک اور دنیا میں واحد امن کا مرکز ہے۔ ہمیں حج کو یہ حیثیت عبادت فرض منصبی جان کر اس کے جملہ سیاسی‘ اجتماعی‘ اقتصادی‘ روحانی اور تحریکی عوامل کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی رسی سنت کے اعتصام سے جماعت بندی یعنی اتحاد امت مسلمہ کا عملی ثبوت دے۔‘‘
حضرت قاضی منصور پوریa نے لکھا ہے کہ ’’عالم اسلام میں رابطہ دین کے مضبوط کرنے‘ مختلف قوموں‘ مختلف نسلوں‘ مختلف رنگوں اور مختلف ملکوں کے افراد کو دین واحد کی وحدت میں شامل ہونے کے لیے حج عمر بھر میں ایک دفعہ ان سب اشخاص پر جو وہاں جانے کی استطاعت رکھتے ہوں فرض کیا گیا ہے۔ حج میں سب کے لیے وہ سادہ بن سلا لباس جو نسل انسانی کے پدر اعظم آدمu کا تھا تجویز کیا گیا‘ تا کہ ایک ہی رسولe‘ ایک ہی قرآن‘ ایک ہی کنبہ پر ایمان رکھنے والے ایک ہی صورت‘ ایک ہی لباس میں ایک ہی سطح پر نظر آئیں اور چشم ظاہر بین کو بھی ان اتحاد معنوی رکھنے والوں کے اندر کوئی اختلاف ظاہری محسوس نہ ہو سکے۔
حج سے مقصود شوکت اسلام کا اظہار ہی ہے اور مسلمانوں کو سفر بحر وبر سے جو فوائد حاصل ہو سکتے ہیں وہ بھی اس مقصود کے ضمن میں داخل ہیں۔
بین الاقوامی کانفرنسوں‘ سالانہ جلسوں اور وفود کے اجتماع سے جو مقصود ہے وہ سب حج کے اندر مرکوز وملحوظ ہیں۔ تجارت اور عالمگیر نمائشوں کے قیام اور علمی‘ تاریخی اور جغرافیۂ عالم کو جن باتوں کی تلاش وطلب ہوتی ہے وہ سب امور حج سے پورے ہو جائیں۔ حج سے مقصود اور بھی بہت سے امور ہیں جن سب کا تذکرہ مشکل ہے۔
اس کو پڑھیں:   پرویز مشرف کے جرائم
المختصر حج کے انعامات واحکامات بے شمار ہیں۔ حج کے موقع پر آپe پر یہ آیت نازل ہوئی جو امت مسلمہ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے: {اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا} یعنی ’’آج میں نے تمہارے اس دین کو کامل کر دیا‘ جس نے تم کو ایک قومیت کے رشتے میں منسلک کر دیا ہے اور اپنے تمام احسانات تم پر پورے کر دیئے ہیں اور تمہارے لیے صرف ایک دین اسلام ہی کو منتخب کیا۔‘‘
آپ حج بیت اللہ کی اہمیت وفضیلت اور اس کے بہت سے فوائد سے بھی آگاہ ہو چکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ایسی حج پالیسی ترتیب دی جائے جس سے آسانی کے ساتھ اہل ایمان یہ فریضہ ادا کر سکیں۔ مگر حکومت نے حج پالیسی ۲۰۲۰ء کے تحت واجبات میں ناروا اضافہ کر دیا ہے۔ جس سے عازمین حج کو مشکلات سے دو چار ہونا پڑے گا۔ نیز پالیسی کے تحت حج کوٹہ میں بھی کمی کر دی ہے۔ حج پیکج میں اضافہ کی وجہ فضائی اخراجات میں اضافہ بتایا گیا ہے۔ پاکستان کے عازمین حج بذریعہ پی آئی اے سفر کرتے ہیں اور بین الاقوامی طور پر پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا۔ البتہ سعودی عرب نے ویزا فیس میں اضافہ کر دیا ہے۔
اخراجات میں اضافہ کے باوجود ہر مسلمان کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ وہ ایک بار زندگی میں حج بیت اللہ کی سعادت سے بہرہ ور ہو جائے۔ کئی غیر مسلم ممالک میں حج پر معقول سبسڈی دی جاتی ہے مگر پاکستان کے عازمین حج اس سے محروم رہتے ہیں۔ عوامی حلقوں اور پارلیمنٹ کی مذہبی امور کی کمیٹی نے حکومت سے اخراجات میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ملک میں جبکہ ضروریات زندگی گراں ہوتی جا رہی ہیں اور ذرائع آمدنی محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کو حج اخراجات میں کمی پر ضرور غور کرنا چاہیے تا کہ عازمین حج کو کچھ آسانی میسر آ جائے۔

بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی … کہاں ہیں امن کے عالمی ٹھیکیدار
۲۷ فروری … بھارتی دارلحکومت دہلی میں مسلمانوں کے لیے زمین تنگ کردی گئی ہے ۔انتہا پسند ہندو دہشت گردوں کے مسلمانوں پر حملے جاری ہیں‘ ابتک ۲۵ مسلمان شہید جبکہ سینکڑوں شدید زخمی ہیں ۔ کئی مساجد کو نذر آتش کر دیا گیا ہے ۔
قرآن پاک نہ صرف جلائے جارہے ہیں بلکہ گلیوں میں پھینکے جا رہے ہیں۔ شاہراہوں پر مسلمانوں کو روک کر گاڑیاں تباہ کردی جاتی ہیں اور انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انتہا پسند ہندوؤں کے جتھے مسلمان علاقوں میں پھر رہے ہیں اور کوئی بھی مسلمان گھر نظر آئے تو اس کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوجاتے ہیں‘ پورے گھر کو تباہ کردیتے ہیں اور وہاں کے مسلمانوں کو شدید زخمی کر دیتے ہیں۔ ان سارے فسادات میں انہیں بھارتی پولیس اور دیگر اداروں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے کیونکہ ایسی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آ چکی ہیں جن میں پولیس باقاعدہ ان غنڈوں کی مدد کر رہی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی مارکیٹوں اور ان کی دکانوں کو بھی جلایا جارہا ہے۔ بعض جگہوں پر تو ایسے مناظر بھی دیکھے گئے ہیں کہ جہاں صرف مسلمانوں کی دکانوں کو جلا دیا گیا جبکہ ان کے ساتھ موجود ہندوؤں کی دکانوں کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا ۔ مسلمان نوجوانوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انہیں بندے ماترم گانے کے لیے کہا جاتا ہے۔ پورے شہر میں ایمبولینس اور میڈیکل اسٹاف تک موجود نہیں جو مسلمانوں کو ہسپتالوں تک پہنچا سکیں ۔ مسلمانوں کو موٹر سائیکل اور کندھوں پر اٹھا کر زخمیوں کو طبی امداد کے لیے لیجانا پڑ رہا ہے۔
اس کو پڑھیں:   فرد قائم ربط ملت سے ہے
یہ کوئی اچانک ہونے والا واقعہ نہیں بلکہ یہ قتل و غارتگری تین دن سے جاری ہے جس میں نہتے مسلمانوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے‘ ان کی املاک لوٹی جارہی ہیں‘ ان کی دکانیں و مارکیٹیں تباہ کی جارہی ہیں اور سب سے افسوسناک یہ کہ مساجد تک کو نظرآتش کر دیا گیا ہے۔
یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب دنیا میں امن کا سب سے بڑا نام نہاد ٹھیکیدار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت میں موجود ہے اور وہ مودی حکومت کے ساتھ اسلحے کی فراہمی کے بڑے معاہدے کر رہا ہے۔
دنیا میں ایسی ریاستی دہشت گردی کی مثال نہیں ملتی کہ جب پولیس اور فوج کی باقاعدہ سرپرستی ونگرانی میں مشتعل جھتے نہتے لوگوں پر حملہ آور ہوں‘ ان کے گھروں میں گھس رہے ہوں‘ سر عام تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہو۔ تین دن تک نام نہاد جمہوریت کے دارالحکومت میں یہ خون کی ہولی کھیلی جائے اور کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگے ۔
مسلمان امت کو اب اٹھ کھڑے ہونا چاہیے‘ ان کا قرآن چلایا جارہا ہے‘ ان کی مساجد کو نذر آتش کردیا گیا ہے‘ مقدس ترین مقامات کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ صرف اور صرف مذہبی بنیاد پر قتل و غارت کی جارہی ہے۔ کیا اب بھی امت مسلمہ کے بڑے بیدار نہیں ہونگے‘ کیا بھارت کو ایک سخت پیغام نہیں دیا جائے گا‘ کیا اب عرب اور دیگر ممالک کا فرض نہیں بنتا کہ وہ اپنا اثر رسوخ استعمال کریں اور مودی کو اس ساری قتل و غارت سے روکیں؟!
سقوط کشمیر کے بعد مودی کو یہ جرأت ہوئی ہے کہ وہ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی زندگی تباہ کردے ان کا جینا حرام کر دے اور ان پر بھارت کی سرزمین تنگ کر دے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کو بھی سوچنا ہوگا کہ اگر انہیں اپنی زندگیاں بچانی ہیں‘ اگر انہیں جینے کا حق لینا ہے تو پھر متحد ہونا ہوگا‘ ورنہ فلسطین‘ افغانستان‘ کشمیر‘ عراق اور دیگر علاقوں کی طرح ہر جگہ ان کا خون بہایا جائے گا۔کوئی ان کا ہمدرد نہیں بنے گا ۔ … (پروفیسر محمد عاصم حفیظ )


No comments:

Post a Comment

Pages