وبائی امراض‘ حفاظتی تدابیر اور علاج 11-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, March 13, 2020

وبائی امراض‘ حفاظتی تدابیر اور علاج 11-20


وبائی امراض‘ حفاظتی تدابیر اور علاج

تحریر: جناب حافظ فیض اللہ ناصر
کورونا وائرس ایک خطرناک وبا:
کورونا وائرس چائنہ کے شہر ووہان سے پھوٹنے والی ایک خطرناک وبا ہے، جسے اب عالمی وبا قرار دیا جا چکا ہے۔ ووہان کی آبادی ۱۱ ملین ہے، اس وقت اس شہر کے علاوہ آس پاس کے ۱۱ شہر مکمل بند ہیں جہاں پر گھروں سے باہر نکلنے پر بھی پابندی ہے اور اس شہر کا کوئی فرد کسی دوسرے شہر میں بالکل نہیں جا سکتا۔
اسی شہر میں واقع ایک مارکیٹ کی ویڈیو فوٹیج سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوئی جس میں دکھایا گیا ہے کہ اس مارکیٹ میں ہر حرام جانور کا گوشت دستیاب ہے۔ چوہے اور بلی سے لے کر کتے، گدھے، چمگادڑ، لومڑی، مگرمچھ، بھیڑیے اور سور جیسے موذی اور حرام جانوروں تک موجود ہیں۔ صرف یہیں پر بس نہیں بلکہ انہیں زندہ، نیم مردہ اور بالکل مردہ حالت میں بیچا جاتا ہے۔ ان کی خریداری کرنے والے لوگوں کا رَش دیکھنے والے کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر ایک نفیس انسان کی طبیعت ہی مکدر ہو جاتی ہے لیکن خدا جانے یہ لوگ اسے کھا کیسے لیتے ہیں؟
اسلام کے اصول حلال و حرام سے قطع نظر بھی دیکھیں تو یہ ایسی غلیظ چیزیں ہیں کہ کوئی بھی نظافت و نفاست پسند شخص ان کو کھانا گوارا نہیں کر سکتا۔ جن جانوروں کو دیکھے سے ہی اُلجھن ہوتی ہو انہیں کھانے کا خیال بھی نہیں آ سکتا۔
طبی ماہرین کی ایک کثیر تعداد نے اس وائرس کے جنم لینے کی وجہ یہی بتائی ہے کہ حلال و حرام میں تمیز نہ کرنے کی بنا پر اور ایسے جانوروں کا گوشت سرعام بنانے، بیچنے اور کھانے کی وجہ سے اس وائرس کی پیدائش ہوئی ہے۔
اب یہ وائرس عالمی وبا بن چکا ہے اور چین سے پھیل کر ایران و افغانستان میں حملہ آور ہونے کے بعد اب پاکستان میں بھی آپہنچا ہے۔ ایران سے پاکستان آنے والے دو آدمیوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
اس سلسلے میں خوف زدہ ہونے یا گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اس کی حفاظتی تدابیر اور طبی و شرعی علاج سے آگاہ ہو کر اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
 علامات:
یہ وائرس بخار، کھانسی، گلے کی سوزش، سانس لینے میں دُشواری اور نمونیا کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے اثرات دو سے چودہ دِن کے اندر ظاہر ہوتے ہیں۔ سانس کی دیگر بیماریوں کی طرح اس کے اثرات بھی کبھی کمزور اور کبھی سنگین ہوتے ہیں۔ یہ وائرس تھوک اور سانس کے چھوٹے چھوٹے قطروں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ مثال کے طور پر جب کوئی اس وائرس سے متاثرہ شخص کھانسی کرتا ہے یا آپ کے بہت قریب بیٹھ کر سانس لے رہا ہوتا ہے تو تب یہ اثرانداز ہو سکتا ہے۔
اس کو پڑھیں:   اسلامی اقتصادی نظام
احتیاطی تدابیر:
اس سے بچاؤ کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اپنانا چاہئیں؟ ملاحظہ فرمائیے:
1          دِن میں بار بار صابن کے ساتھ ہاتھ دھوتے رہیں۔
2          کوشش کیجیے کہ ہر وقت باوضو رہیں اور نمازوں کی پابندی کریں۔ اگر دِن میں پانچ بار بھی وضو کیا جائے تو اس موذی وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے کافی ہے۔
3          گلے کو خشک نہ رکھیں اور تھوڑی تھوڑی دیر تک پانی پیتے رہیں۔
4          ہجوم والی جگہوں پر نہ جائیں، خاص طور پر ہوٹلوں اور رَش والے چوک چوراہوں پر بیٹھنے سے گریز کریں۔
5          غیرضروری سفر سے اجتناب کریں۔
6          ایسے علاقے اور شہر میں ہرگز نہ جائیں جہاں یہ بیماری پھیل چکی ہو۔
7          اگر آپ بیماری والے علاقے میں موجود ہیں تو وہاں سے مت نکلیں۔
8          گھر سے باہر جاتے وقت، مارکیٹ جاتے وقت اور سفر کرتے وقت منہ پر ماسک ضرور پہنیں۔
9          نزلہ و زکام والے مریض دوسروں سے میل ملاقات سے اجتناب برتیں۔
0          بازار کے کھانوں سے جس قدر ممکن ہو سکے؛ پرہیز کریں۔
!          مصالحہ دار اور فرائی فوڈز سے گریز کریں۔
@          گوشت سے پرہیز کریں۔
#          دال، سبزیاں اور پھل زیادہ استعمال کریں۔
$          بیمار جانوروں کو تندرست جانوروں سے الگ رکھا جائے۔
%          کھانے پینے میں حلال و حرام کی ہمیشہ تمیز رکھیں۔ حرام سے مراد صرف ان جانوروں کا گوشت ہی نہیں جو اللہ نے حرام قرار دِیے ہیں بلکہ حرام ذرائع سے کمایا جانے والا مال اور کھایا جانے والا رِزق بھی اللہ کے اس عذاب کا باعث بن سکتا ہے۔
^          اللہ سے توبہ کیجیے، گناہوں کی معافی مانگیے، اس کی حدود سے تجاوز مت کیجیے، اس کے قوانین کو توڑنے سے باز آ جائیے، اس کی بغاوت و سرکشی میں ایک لمحہ بھی گزارنے سے ڈر جائیے، ورنہ اللہ کے باغی کو اس کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا!!
 ایک اشکال اور اس کا ازالہ:
بعض اہلِ علم کا کہنا ہے کہ ایسے مریض کے ساتھ ہاتھ بھی نہ ملایا جائے اور اس سے میل جول نہ رکھا جائے۔ اس سے دوسرے آدمی کو وہ بیماری لگنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ یہ بات بظاہر اسلامی اور اخلاقی نکتہ نظر سے تو عجیب لگتی ہے لیکن صرف احتیاطی تدبیر کے پیش نظر ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ عبداللہ بن عامر روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمرt شام کی طرف روانہ ہوئے۔ جب آپ سرغ مقام پر پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ شام میں طاعون کی وبا پھوٹ چکی ہے۔ یہ سن کر سیدنا عبدالرحمن بن عوف t نے انہیں بتایا کہ رسول اللہe کا ارشادِ گرامی ہے:
’’جب تم کسی علاقے کے متعلق سنو کہ وہاں وباء پھوٹ پڑی ہے تو وہاں مت جاؤ اور جب ایسی جگہ وبا آ جائے جہاں تم خود موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو۔‘‘ یہ سن کر سیدنا عمرt نے اللہ کا شکر ادا کیا اور واپس چلے گئے۔ (صحیح البخاری: 5730)
وباء والے علاقے میں جانے کی ممانعت اور وہاں سے نکلنے کی ممانعت اسی وجہ سے ہے کہ وہ بیماری صرف اسی علاقے تک محدود رہے اور اس سے آگے نہ پھیل سکے۔ لیکن جو اہلِ علم کسی بھی بیماری کو متعدی نہیں مانتے وہ رسول اللہe کا یہ ارشاد پیش کرتے ہیں:
’’متعدی بیماری، صفر کی نحوست اور اُلو کی کوئی حقیقت نہیں۔‘‘
یہ سن کر ایک دیہاتی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان اونٹوں کے متعلق آپ کیا کہیں گے جو ریگستان میں ہرنوں کی طرح دوڑتے ہیں لیکن ان میں ایک خارشی اونٹ آ جاتا ہے تو وہ سب کو خارشی بنا دیتا ہے؟ رسول اللہe نے فرمایا:
’’پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟‘‘ (صحیح البخاری: 5771)
یعنی جس ذات نے پہلے اونٹ کو خارش لگائی تھی اسی کی مشیئت اور فیصلے سے دوسرے اونٹوں کو خارش لگی ہے۔
اس روایت کے راوی سیدنا ابوہریرہ t بیان کیے جاتے ہیں اور ان ہی سے یہ دوسری روایت بھی مروی ہے کہ نبی کریمe نے فرمایا:
’’کسی بیمار کو صحت مند کے ساتھ ہرگز نہ ملاؤ۔‘‘
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ t سے یہ روایت سننے کے بعد میں نے کہا: کیا آپ ہی نے یہ روایت بیان نہیں کی کہ کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی؟ تو ابوہریرہ t نے غصے میں حبشی زبان میں کوئی بات کہی۔ ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے تو یہ روایت تم لوگوں سے بیان نہیں کی۔ جبکہ ابوسلمہ نے کہتے ہیں: یقینا انہوں نے بیان کی تھی اور میں نے اس حدیث کے علاوہ انہیں کوئی بھی اور حدیث بھولتے نہیں دیکھا۔ (صحیح البخاری: 5771۔ سنن أبی داود: 3911)
ہو سکتا ہے کہ سیدنا ابوہریرہt بہ تقاضائے بشریت بھول گئے ہوں گے کہ انہوں نے وہ روایت بیان کی ہے یا نہیں؟ لیکن اس کے باوجود نبی کریمe کے مذکورہ بالا فرمان ’’کسی بیمار کو صحت مند کے ساتھ ہرگز نہ ملاؤ۔‘‘ کے علاوہ درج ذیل فرمان سے بھی یہ رخصت ملتی ہے کہ اگر موذی بیماری والے سے پرہیز کیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔
سیدنا ابوہریرہt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’کوڑھی سے اس طرح دُور بھاگو جیسے تم شیر کو دیکھ کر بھاگتے ہو۔‘‘ (صحیح، مسند أحمد: 9722)
شیخ صالح بن عثیمین k فرماتے ہیں کہ بیمار شخص اور وباء زدہ علاقے سے دُور رہنے کا حکم صرف بیماری کے اسباب سے اجتناب کے باعث ہے، اس بیماری کو متعدی ثابت کرنے کے بارے میں نہیں، کیونکہ اسباب کا ذاتی کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن ان اسباب سے بچنا ضروری ہوتا ہے جو بیماری کا باعث بن جاتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔‘‘ (البقرۃ: 195)
اس کو پڑھیں:   اسلام کا تصور محبت
اور یہ کہنا بھی ممکن نہیں ہے کہ رسول اللہ a نے متعدی بیماری کے اثر انداز ہونے کا سرے سے انکار کیا ہو، اس لیے کہ اس مؤقف کو دیگر احادیث اور واقعات باطل کر دیتے ہیں۔
شیخ ابن بازa فرماتے ہیں: رسول اللہe کا بیماری کو متعدی قرار دینا دورِ جاہلیت کے اس باطل اعتقاد کو ختم کرنا ہے کہ اشیاء طبعاً متعدی ہوتی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی چیز طبعاً متعدی نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی ہر تصرف ہوتا ہے۔ جہاں تک ان روایات کا تعلق ہے جن میں بیماری کے منتقل ہونے کا ذکر ہے تو اس میں بھی حق امر یہی ہے کہ اللہ کے حکم اور اجازت کے ساتھ ہی ایک بیماری دوسرے کو منتقل ہوتی ہے، ورنہ بذاتِ خود کسی بیماری میں یہ تاثیر نہیں کہ وہ خود بہ خود کسی کو لگ جائے۔ (مجموع فتاوی ابن باز: 352/28)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایسا عقیدہ نہیں رکھنا چاہیے کہ ایک بیمار شخص سے دوسرے کو بیماری لازماً لگ جاتی ہے، اس لیے کہ بیماری لگانے یا نہ لگانے کا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے، بیماری میں بہ ذاتِ خود ایسی کوئی اہلیت نہیں کہ وہ خود بہ خود لگ جائے، جب تک کہ اللہ کی اجازت نہ ہو۔ البتہ مریض شخص سے احتیاط کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس احتیاط سے ایک فائدہ ان احادیث پر عمل بھی ہو جائے گا جو اس سلسلے میں وارد ہوئی ہیں اور دوسرا انسان کے ذہن میں پیدا ہونے والے وہم کا خاتمہ بھی ہو جائے گا کہ اسے فلاں شخص سے بیماری لگی ہے، حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس پہلے کو بھی اللہ تعالیٰ نے ہی بیماری لگائی تھی اور دوسرے سبھی کو بھی اللہ ہی کے حکم سے لگتی ہے۔
 موذی وائرس کا طبی علاج:
اس وائرس سے محفوظ رہنے کی احتیاطی تدابیر پیچھے بیان ہو چکی ہیں۔ اگر خدانخواستہ اس کے باوجود بھی کسی شخص میں اس وائرس کی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں تو آپ اس کے بہت ہی آسان سے علاج اختیار کر کے اس مرض سے شفایاب ہو سکتے ہیں:
1          طبی ماہرین کی طرف سے بتایا جا رہا ہے کہ ایک صاف ستھرا چھوٹا سا پیاز لیں اور اس کو باریک کاٹ کر کچا کھا لیں اور پندرہ منٹ تک پانی نہ پئیں۔ کورونا وائرس کے تمام اثرات زائل ہو جائیں گے۔ ان شاء اللہ
2          علاوہ ازیں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اپنی روزمرہ کی خوراک میں ملٹھی یا جوشاندے کی چائے یا قہوہ کا ستعمال شروع کر دیجیے، کیونکہ اس وائرس کے اثرات نزلہ و زکام سے ظاہر ہونا شروع ہوتے ہیں، لہٰذا ملٹھی یا جوشاندے کی چائے اور قہوہ قدرتی طور پر نزلہ، زکام اور گلے کی بیماریوں کو رفع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
3          کلونجی کا استعمال بھی ہر موذی مرض سے شفا دینے میں بہترین تاثیر رکھتا ہے۔ سیدنا ابوہریرہt بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہe کو فرماتے سنا:
’’کالے دانے (کلونجی) میں موت کے سوا ہر بیماری کی شفا ہے۔‘‘(صحیح البخاری: 5688۔ صحیح مسلم: 2215)
اس کو پڑھیں:  ٹی وی ڈرامے اور ہم
حکماء حضرات کلونجی کے استعمال کے یہ تین طریقے بیان کرتے ہیں:
1          روزانہ نہار منہ آدھا چمچ کلونجی میں ایک چمچ شہد ملا کر نیم گرم پانی سے کھائیں۔
2          کلونجی کا تیل نیم گرم پانی میں تین سے چار قطرے ڈال کر نہار منہ پئیں۔
3          آسان طریقہ یہ ہے کہ ایک چٹکی کلونجی لے کر منہ میں ڈال لیں اور آہستہ آہستہ چباتے رہیں۔
                ان میں سے کوئی ایک طریقہ اپنا لیا جائے، اللہ تعالیٰ ہر طرح کی بیماری سے شفایاب فرما دے گا۔ ان شاء اللہ!
4          شہد کا استعمال کیا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شہد کو باعثِ شفا قرار دیا ہے۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں فرمایا:
’’اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔‘‘(النحل: 69)
اس کو چمچ سے بھی کھایا جا سکتا ہے، کسی مشروب میں ملا کر بھی پیا جا سکتا ہے۔ لیکن کورونا وائرس چونکہ گلے، سانس اور نزلہ و زکام جیسے امراض سے شروع ہوتا ہے، ان سے بچاؤ کے لیے شہد کا استعمال اس طرح کرنا چاہیے کہ روزانہ صبح نہار منہ نیم گرم پانی میں لیموں کا پانی اور شہد ملا کر پیا جائے۔ کرسٹل ڈیوس نامی امریکی تھراپسٹ نے لکھا ہے کہ میں نے ایک سال تک یہ معمول رکھا تو مجھے بخار، نزلہ و زکام اور معدے کی کسی بیماری کا سامنا نہیں ہوا۔ یہ مکسچر صبح استعمال ہونے والی پہلی چیز ہوتی ہے جو نظام ہاضمہ کو حرکت میں لاکر آنتوں اور دیگر اعضاء کو ہائیڈریٹ کرتی ہے۔
5          سیدنا جابر بن عبداللہ t بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہe کو فرماتے سنا:
’’آبِ زم زم جس مقصد کے لیے پیا جائے؛ وہ حاصل ہوتا ہے۔‘‘(صحیح، سنن ابن ماجہ: 3062)
لہٰذا اگر شفا کی نیت سے پیا جائے تو یقینا اس سے شفا حاصل ہوتی ہے۔
امام ابن القیم k فرماتے ہیں کہ ایک بار میں مکہ مکرمہ میں شدید بیمار پڑ گیا اور مجھے کوئی طبیب وغیرہ بھی میسر نہ ہو سکا، تو میں قرآن کو شفا مانتے ہوئے اپنی مرض کا خود ہی علاج کرنے لگا، میں نے یوں کیا کہ آبِ زم زم لے کر اس پر سورۃ فاتحہ پڑھ کر دِم کیا اور اسے پینے لگا، میں نے یہ عمل بارہا کیا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مرض سے مکمل طور پر صحت یاب کر دیا۔ پھر میں نے اور بھی بہت سی امراض و تکالیف میں اس پر عمل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بھی افاقہ عطا فرمایا۔ اس کے بعد جو شخص بھی مجھے اپنی کسی بیماری کی شکایت کرتا تو میں اسے یہی نسخہ بتاتا اور بہت سے لوگوں کو شفایابی ہوئی۔ (زاد المعاد لابن القیم: 178/4)
 اس وائرس کا روحانی علاج:
یاد رکھیں کہ موت سے زیادہ سخت اس کا خوف ہوتا ہے، لہٰذا بلاوجہ خوف و ہراس پھیلانے اور خود بھی خوف زدہ ہونے سے گریز کریں۔ مومن کا ایمان و یقین صرف اللہ کی ذات پر ہوتا ہے۔ اگر ہم اللہ و رسول کے بتلائے ہوئے طریقوں کے مطابق شب و روز گزاریں اور مسنون اذکار کی پابندی کریں گے تو دنیا کی کوئی بھی چیز ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔
ذیل میں ہم ایسے اذکار بیان کر رہے ہیں جن کی صبح و شام پابندی کرنے سے بندہ ہر قسم کے موذی مرض، تکلیف اور وائرس سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے اور انہیں اپنے شب و روز کا معمول بنا لیجیے۔
Ý          صبح و شام تین تین مرتبہ دعا پڑھیے:
[اَللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی بَدَنِی، اَللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی سَمْعِی، اَللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی بَصَرِی، لَا إِلٰہَ إِلَّا اَنْتَ۔] (حسن الإسناد، سنن أبی داود: 5090)
’’اے اللہ! میرے بدن کو بیماری سے محفوظ رکھ، میری سماعت کو عارضے سے بچا، میری بصارت کو تکلیف سے بچائے رکھ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔‘‘
Þ          اس دعا کو عام حالات میں بھی اپنا معمول بنا لیجیے:
[اَللّٰہُمَّ إِنِّی اَعُوذُ بِکَ مِنَ البَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الْاَسْقَامِ۔] (صحیح، سنن أبی داود: 1554)
’’اے اللہ! میں پھلبہری، پاگل پن، کوڑھ اور بری بیماریوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘
ß          سیدنا عثمان بن عفانt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ یہ کلمات پڑھے تو اسے شام تک دنیا کی کوئی بھی چیز کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اسی طرح جو شام کے وقت تین مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے تو صبح تک وہ ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہے گا:
[بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِی لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَائِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ۔] (صحیح، سنن أبی داود: 5088۔ سنن الترمذی: 3388۔سنن ابن ماجہ: 3869)
’’اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ کہ جس کے نام سے کوئی بھی چیز، چاہے وہ زمین میں ہو یا آسمان میں، نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ سننے والا علم رکھنے والا ہے۔‘‘
à          سیدنا ابوہریرہ t بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایا: جو شخص آزمائش (مرض، تکلیف، مصیبت یا معذوری) میں مبتلا شخص کو دیکھ کر یہ دعا پڑھ لے تو اس کو اس آزمائش سے بچا لیا جاتا ہے، خواہ وہ جیسی بھی ہو:
[اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِی مِمَّا ابْتَلَاکَ بِہٖ وَفَضَّلَنِی عَلٰی کَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیلًا۔]
’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اس (آزمائش) سے بچا کررکھا جس میں اس نے تجھے مبتلا کیا ہے اور اس نے مجھے اپنی مخلوق میں سے بہت سے لوگوں پر فضیلت عطا فرمائی۔‘‘
لہٰذا آپ بھی جب کسی کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کو دیکھیں تو فوراً یہ دعا پڑھ لیں، اللہ تعالیٰ آپ کو اس وائرس سے بالکل محفوظ فرما لے گا، ان شاء اللہ!
á          سیدنا ابن عباسw بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: جب کوئی مسلمان کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت نہ ہوا ہو اور وہ اس کے پاس بیٹھ کر سات مرتبہ یہ دعا پڑھے، تو اسے اس مرض سے شفا دے دی جاتی ہے:
[اَسْأَلُ اللّٰہُ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیَکَ۔] (صحیح، سنن أبی داود: 3106۔ سنن الترمذی: 2083)
’’میں بڑی عظمت والے اللہ سے؛ جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سوال کرتا ہوں کہ وہ تجھے شفا دے دے۔‘‘
مومنوں کے لیے چند نصیحتیں اور بشارتیں:
مومن کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ اللہ کی مرضی اور حکم کے بغیر کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوتا اور اللہ کے فیصلے پر رضامندی کا اظہار ہی ہر مومن سے مطلوب ہے۔ لہٰذا ہمیں کوئی بھی تکلیف، مصیبت یا پریشانی آئے تو اس پر آہ و بکاء اور واویلا کرنے کی بجائے صبر کرنا چاہیے، تاکہ اللہ تعالیٰ اس مرض و تکلیف کو ہمارے گناہوں کا کفارہ بناتے ہوئے ہمارے لیے آخرت کو بہتر بنا دے۔
سیدنا ابوہریرہ t بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کو مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔‘‘(صحیح البخاری: 5645)
اس خیر و بھلائی سے مراد اجر و ثواب کا حصول، گناہوں سے پاکیزگی اور درجات کی بلندی ہے۔ مصیبت میں مبتلا کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو دنیا کی کسی آزمائش میں مبتلا کر کے آخرت کی بڑی آزمائش سے بچا لیتا ہے بلکہ اس کو دنیا میں ہی گناہوں سے پاک صاف کر کے اپنے پاس بلاتا ہے اور پھر اپنے ہاں عظیم درجات پر فائز کر دیتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا ابن مسعودt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’جس بھی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔‘‘(صحیح البخاری: 5647)
اسی طرح سیدنا ابوہریرہ t بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایا:
’’مسلمان کو جو بھی پریشانی، مصیبت، رنج، دُکھ، تکلیف اور غم پہنچتا ہے، یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھ کر تکلیف دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے بھی اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔‘‘(صحیح البخاری: 5642۔ صحیح مسلم: 2573)
گویا مسلمان پر آنے والی بڑی بیماری یا اذِیت تو بہت دُور کی بات ہے، چھوٹی سے چھوٹی تکلیف بھی اس کے گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
سیدناابوہریرہ t بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہe کو فرماتے سنا:
’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو بیماری کے ساتھ آزماتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس بیماری کی وجہ سے اس کے ہر گناہ کو ختم کر دیتا ہے۔‘‘(حسن صحیح، صحیح الترغیب والترھیب: 3435)
سیدہ عائشہr بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریمe کو فرماتے سنا:
’’مومن کی کوئی رَگ بھی پھڑکتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں بھی اس کا ایک گناہ ختم کر دیتا ہے، اس کی ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے۔‘‘(إسنادہ حسن، المعجم الأوسط للطبرانی: 2460)
سبحان اللہ! اندازہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کس قدر مہربان ہے کہ اس کی ذرا ذرا سی تکلیف کو بھی اس کے لیے گناہوں کی بخشش، اجر و ثواب کے حصول اور بلندیٔ درجات کا ذریعہ بنا رہا ہے۔
لیکن یہ تمام انعامات اسی صورت میں حاصل ہوں گے جب ہم اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر رضامندی کا اظہار اور اس کی طرف سے آنے والی آزمائش پر صبر کا مظاہرہ کریں گے، بہ صورتِ دیگر نیست۔ جیسا کہ سیدنا انس بن مالکt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’بڑی آزمائش پر ثواب بھی زیادہ ہی ملتا ہے اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت فرماتا ہے تو ان پر آزمائش ڈالتا ہے، پھر جو (اللہ کے اس فیصلے پر) راضی رہے اسے (اللہ کی) رضا حاصل ہوتی ہے اور ناراض ہو جائے اسے ناراضی ہی ملتی ہے۔‘‘(حسن، سنن الترمذی: 2396۔ سنن ابن ماجہ: 4031)
صبر اس قدر عظیم عمل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں جنت ہی عطا فرماتا ہے۔ عطاء بن ابی رباحt بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباسw  نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں جنتی عورت نہ دِکھاؤں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ تو انہوں نے کہا: یہ سیاہ فام عورت نبیe کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور میں بے پردہ ہو جاتی ہوں، لہٰذا میرے لیے اللہ تعالیٰ سے (شفا کی) دعا فرما دیجیے۔ تو آپe نے فرمایا: اگر تم صبر کر لو تو تمہیں جنت ملے گی، اور اگر تم چاہتی ہو تو میں اللہ سے دعا کر دیتا ہوں، وہ تجھے شفا عطا فرما دے گا۔ اس نے کہا: میں بے پردہ ہو جاتی ہوں، بس آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا فرما دیں کہ میں بے پردہ نہ ہوں۔ تو آپe نے اس کے لیے دعا فرما دی۔ (صحیح البخاری: 5652۔ صحیح مسلم: 2576)
یعنی اس صحابیہ نے اپنی شدید تکلیف پر صبر کا مظاہرہ کر کے اللہ تعالیٰ سے جنت حاصل کر لی۔


No comments:

Post a Comment

Pages