قرار دادِ مقاصد کی اہمیت 12-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Monday, April 06, 2020

قرار دادِ مقاصد کی اہمیت 12-20


قرار دادِ مقاصد کی اہمیت

تحریر: جناب مولانا محمد یوسف انور
تحریک پاکستان زور دار طریق سے برصغیر کے گلی کوچوں میں چلائی جا رہی تھی جس کی قیادت قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقاء کے ساتھ ساتھ علمائے اسلام خصوصا علامہ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی‘ علامہ ثناء اللہ امرتسری‘ علامہ محمد داؤد غزنوی اور مولانا بشیر احمد عثمانی ومولانا ظفر علی خاں S جیسے زعماء اور علماء فرما رہے تھے۔ مخالفین میں کانگریسی لیڈر اور اس دور کے علم وفضل میں بلند مرتبت علماء کر رہے تھے لیکن ان کی تمام کاوشیں اور مخالفتیں کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی تھیں۔ عظیم خطیب اور احرار مقرر مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریa لاہور دہلی دروازے کے باہر ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب فرما رہے تھے کہ ایک رقعہ آیا کہ حضرت! ایک مسئلہ بتائیے کہ مردے سنتے ہیں یا نہیں؟ شاہ جی فرمانے لگے کہ بھئی! جن کی سنتے ہیں سنتے ہوں گے میری تو یہ زندے بھی نہیں سنتے۔ یہ تقریر میری سنتے ہیں اور ووٹ مسلم لیگ کو دیتے ہیں۔
حصول پاکستان کی جد وجہد میں مسلم لیگ کا ساتھ دینے والے اور قائد اعظم پر فریفتہ ہونے والے جان چکے تھے کہ قائد اعظم سچ بولتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ وہ قومیت کی بنیاد یا رنگ ونسل یا زبان وعلاقہ نہیں‘ بنگالی پنجابی اور پختون وسندھی یا بلوچ نہیں بلکہ بنیاد میں وہی تصور پیش کرتا ہے جو آج سے چودہ سو سال قبل سید الانبیاءe نے رکھی تھی اور وہ صرف اور صرف کلمہ طیبہ تھی۔ وہ بار بار اپنی تقریروں اور پریس کانفرنسوں میں نظریۂ پاکستان کو اجاگر کرتے اور نوزائیدہ مملکت کو اسلام کی تجربہ گاہ قرار دیتے تھے۔ لیکن بعض سیکولر قوتیں قائد کی وفات کے بعد اور پاکستان بننے کے تھوڑے عرصے بعد اس کوشش میں تھیں کہ پاکستان کو ایک جغرافیائی اکائی کے طور پر ابھارا جائے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے کہ جیسے چار پڑوسیوں پنجابی سندھی بلوچی اور پشتون نے مل کر ایک بڑا سا گھر یا ملک بنایا ہے‘ لیکن اس وقت تک لوگ اس حقیقت سے آشنا تھے کہ ان چاروں جگہوں میں سے کتنے ہی لوگ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چلے گئے جن کی زبانیں کلمہ طیبہ‘ سے آشنا نہ تھیں۔ لاکھوں لوگ ایسے آبسے جو زبان تو کوئی اور بولتے تھے‘ رنگ ڈھنگ تو کوئی اور تھا لیکن کلمہ طیبہ پاکستان کا مطلب کیا … لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے تھے۔ یعنی یہ جان لیا جائے کہ پاکستان جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ نظریاتی ریاست ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان طاقتوں کا زیادہ زور نہیں چلتا تھا جو اس ملک کو علاقائی اور جغرافیائی حقیقت بنانا اور ثابت کرنا چاہتے تھے۔ ان کا زور اس بات پر رہا کہ اس ملک کا آئین اور قانونی ڈھانچہ اسلام کے مطابق نہ ہو جائے‘ اگر ایسا ہو گیا تو پھر اس قوم کی نسلوں سے بھی اسلام کا تشخص ختم نہیں کیا جا سکے گا۔ قانون بھی انگریز کا رہے‘ نصاب تعلیم بھی اس کا‘ معاشی نظام بھی اسی کا بنایا ہوا اور انتظامی ڈھانچہ تو ہے ایسا کہ اب لوگوں کو اس کی عادت ہو گئی ہے۔ بس ایک آئین بھی سیکولر کر دو اور اس ملک کی بنیاد میں بھی یہ تحریر کر دو کہ یہ ملک کوئی اسلام کے نام پر نہیں بنا بلکہ یہ مسلمانوں نے نہیں پنجابیوں‘ سندھیوں‘ بلوچوں اور پشتونوں نے مل کر بنایا تھا۔
ان پیش آمدہ ابتدائی حالات میں وہ چٹائی نشین ہمارے اسلاف تھے جو ایک تحریک بن کر اٹھے اور پورے ملک میں دستخطوں کی ایک مہم چلی تھی‘ گلی گلی کوچے کوچے اسمبلی میں بیٹھے ارکان کو یاد دلایا گیا تھا کہ تمہیں ووٹ اس لیے ملے تھے کہ تم اسلام کے نام پر ایک ملک کے علمبردار تھے۔ تحریک اس زمانے میں چلی جبکہ اس ملک کی معاشی صورتحال ناگفتہ بہ تھی۔ مہاجروں کے قافلے کے قافلے بھی اس سرزمین پر آ رہے تھے لیکن لوگ تھے کہ اس ملک کے آئین کی پیشانی پر کلمہ طیبہ لکھوانا چاہتے تھے۔ چنانچہ ۱۲ مارچ ۱۹۴۹ء کو قرار داد مقاصد کی صورت میں اس ملک کی پیشانی پر یہ تحریر کر دیا گیا کہ یہاں بادشاہی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ بقول علامہ اقبالa:
سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمران ہے اک وہی باقی بتانِ آزری
نوزائیدہ ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں پاس ہونے والی اس قرار داد مقاصد کی نوک پلک سنوارنے میں مشرقی پاکستان سے قومی اسمبلی کے اہل حدیث رکن مولانا محمد اکرم خاں مدیر روزنامہ ’’اتفاق‘‘ ڈھاکہ کا بڑا کردار تھا۔ اس اسمبلی کے دیگر ارکان میں وہی لوگ شامل تھے جنہوں نے قیام پاکستان میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خاں نے اس قرار داد کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قرار داد آئین سازی کی طرف بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ کمال یہ ہے کہ بعض لبرل اور سیکولر ذہنیت رکھنے والوں کے لیڈر مسٹر ذوالفقار علی خاں بھٹو نے جب ۱۹۷۳ء میں آئین بنایا تو اسے ابتدائیہ میں شامل کیا۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ اپنے آپ کو بھٹو کا نظریاتی وارث اور عاشق کہنے والے انقلابی بھٹو کے بنائے ہوئے آئین کے بارے میں شکوک وشبہات میں مبتلا ہیں۔ یہ صرف اس لیے کہ قرار داد مقاصد سے قطع نظر ۱۹۷۳ء کا آئین یہ اعلان اور وعدہ کرتا ہے کہ مسلمانانِ پاکستان کی زندگیوں کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور مواقع بہم پہنچائے جائیں گے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں زندگی گذارنے کا مفہوم سمجھ سکیں۔ بعض نوجوان علماء کے استفسار پر راقم الحروف نے ملک کی اساس قرار داد مقاصد کی یہ تفصیل تحریر کی ہے۔
اس کو پڑھیں:   کتابیں اپنے آباء کی
یہ بھی المیہ ہوا کہ قرار داد مقاصد پاس ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے اعتراض اٹھایا کہ کس فرقے کا اسلام نافذ کیا جائے؟ مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے امیر حضرت مولانا سید محمد داؤد غزنویa نے اسے ایک چیلنج سمجھتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے جلیل القدر علماء کے دروازے پر دستک دی جنہوں نے مولانا غزنویa کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے چند ہفتوں بعد کراچی میں سید محمد سلیمان ندویa کی صدارت میں نمائندہ اجلاس منعقد کیا جس نے ۲۲ نکات کی صورت میں متفقہ لائحہ عمل تیار کیا۔ اس اجلاس میں مولانا مودودی‘ مولانا احتشام الحق تھانوی اور سید اظہر حسن زیدی جیسے اپنی جماعتوں کے اکابر علماء موجود تھے۔ مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے نمائندگان مولانا غزنوی‘ علامہ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی‘ مولانا محمد اسماعیل سلفی‘ مولانا محمد حنیف ندوی اور مولانا عطاء اللہ حنیف S جیسے علم وفضل کے حاملین تشریف رکھتے تھے۔
اس تاریخی اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے ممتاز علماء جن کی مجموعی تعداد ۳۳ تھی شمولیت فرمائی تھی۔ جنرل ضیاء الحق نے جب اسلامائزیشن کے چند اقدامات کیے تو علماء کے توجہ دلانے پر انہوں نے ان بائیس نکات کو آئین پاکستان کے دیباچہ میں سمو دیا جو بہرحال ایک اچھی پیش رفت تھی۔ ازاں بعد ملک میں جب بھی نفاذ اسلام کی آواز اٹھائی گئی یا کوئی تحریک چلی تو اس میں اہل حدیث اسلاف اور آج کی قیادت کے اسمائے گرامی سر فہرست نظر آتے ہیں۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جن جماعتوں کے نام کے ساتھ اسلام کا نام نتھی ہے وہ غیر اسلامی قوتوں اور یہود ونصاریٰ کے ایجنٹوں سے اشتراک تو نہیں کرتے لیکن عملی طور پر ان کی پیٹھ ٹھونکتے‘ ان کی آواز میں آواز ملاتے اور انہیں برسر اقتدار لانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔


No comments:

Post a Comment

Pages