حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کی یاد میں 12-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Monday, April 06, 2020

حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کی یاد میں 12-20


حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدکی یاد میں

تحریر: جناب حافظ عبدالغفار ریحان
23 مارچ کو اہل پاکستان یوم پاکستان مناتے ہیں۔ ہر طرف سرکاری و غیر سرکاری مختلف تقریبات کا اہتمام ہوتا ہے۔ ایسے ہی ایک 23مارچ کو احباب نے قلعہ لچھمن سنگھ لاہور میں ایک جلسہ عام کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں ممتاز خطیب اور مقرر علامہ احسان الٰہی ظہیر بھی شامل تھے۔ مسلسل کئی دنوں سے جلسوں میں متواتر خطابات کی وجہ سے طبیعت بوجھل اور جسم تھکا ہوا ہے مگر اللہ کے دین کیلئے سستی نہیں۔ جلسہ شروع ہوتا ہے، مقررین کتاب و سنت کی روشنی میں مسائل کا حل پیش کرتے ہیں اور سامعین ہیں کہ علامہ کے خطاب کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں، ان کی بے تابی دیدنی ہے۔ ہر جلسہ میں علامہ صاحب کا خطاب آخری ہوتا کہ اس کے بعد محفل کا رنگ ختم ہو جاتا ہے۔ منتظمین جلسہ کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ علامہ صاحب کا خطاب سب سے آخر میں ہو تاکہ علامہ کے خطاب کے بعد دیگر مقررین کے سامنے منتظمین کو خفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
علامہ کا خطاب شروع ہوتا ہے کہ وہ اپنے خاص انداز سے سیرت رسولe اور سیرت صحابہؓ کی روشنی میں عالم اسلام کے حالات کا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ سامعین بڑے انہماک سے ان کی تقریر سن رہے ہیں۔ محفل جوبن پر ہے، پھر وہ گھڑی آئی جس کا تصور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ دورانِ تقریر آپ کی زبان پر علامہ اقبال کا یہ شعر آیا کہ
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ..................
دوسرا مصرعہ پورا نہیں ہوا تھا کہ ایک زور دار بم دھماکہ ہوا۔
جلسہ گاہ قیامت صغریٰ کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ہر طرف چیخ و پکار ہے۔ زخمیوں کے کراہنے کی آوازیں، چند ایک موقع پر شہید ہو جاتے ہیں اور بیسیوں زخمی، زخمیوں میں حضرت علامہ بھی ہیں۔ اندرون ملک ہی نہیں بیرون ملک بھی اس حادثہ فاجعہ کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ احباب ایک دوسرے سے علامہ کی خیریت دریافت کرتے ہیں۔ عیادت کیلئے سب قافلے، سب راستے ہسپتال کی طرف رواں دواں ہیں۔ خصوصی نگہداشت میں حضرت علامہ زیرِعلاج ہیں مگر ڈاکٹروں اور حکمرانوں کی روایتی غفلت کا شکار۔
ادھر سعودی حکومت نے الریاض میں علامہ کے علاج کی پرخلوص پیشکش کر دی ہے۔ چنانچہ چند دن لاہور میں زیرعلاج رہنے کے بعد خصوصی طیارے کے ذریعے ان کو ریاض میں منتقل کر دیاجاتا ہے۔ ڈاکٹروں کی تمام تدابیر تقدیر الٰہی کے سامنے بے بس ہو جاتی ہیں اور 30 مارچ بروز سوموار بوقت فجر آپ کی روح اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہو جاتی ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
علامہ کی وفات کی خبر ذرائع ابلاغ نے نمایاں طور پر نشر کی، جو آناً فاناً پوری دنیا میں پھیل گئی۔ بعد از دوپہر ریاض میں ان کا جنازہ پڑھایا گیا جو بلاشبہ ریاض کے بڑے جنازوں میں سے ایک تھا۔ پھر تدفین کیلئے آپ کے جسد خاکی کو مدینہ منورہ لے جایا گیا۔ بہت سارے احباب آپ کی میت کے ساتھ ریاض سے مدینہ منورہ گئے جن کی آمدورفت کیلئے سعودی ائیرلائن نے خصوصی انتظام کیا تھا۔ نماز مغرب کے بعد مسجد نبوی میں دوبارہ جنازہ پڑھا گیا۔ لوگوں کا اس قدر اژدھام تھا کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ مدینہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کے علاوہ دوسرے شہروں سے احباب کثیر تعدادمیں جنازہ میں شرکت کیلئے آئے تھے، ہر آنکھ اشکبار تھی۔ سسکیوں اور آہوں کے ساتھ آنسوئوں کی جھڑی میں جنت البقیع میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
یوں عالم اسلام ایک جلیل القدر عالم، بین الاقوامی شہرت یافتہ مفکر، میدان خطابت کے شہسوار، اسلام کے نڈر اور بے باک سپاہی، عظیم محب وطن راہنما، علم و فضل کے بحربیکراں، مسلک اہل حدیث کے ترجمان، حق پر ڈٹ جانے والے انسان اور دنیائے سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سیاستدان سے محروم ہو گیا۔ علامہ کی وفات پر خصوصی ضمیمے شائع ہوئے، اخبارات نے بہت کچھ لکھا، سوانح نگاروں اور مضمون نگاروں نے آپ کی زندگی کے حوالے سے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کیا۔
  ولادت اور تعلیم و تربیت   
علامہ احسان الٰہی ظہیر کی ولادت 31 مئی 1945ء کو سیالکوٹ میں ہوئی۔ گھرانہ چونکہ خالص دینی ماحول رکھتا تھا اس لئے آپ کی تربیت بھی اسی نہج پر ہوئی۔ نو سال کی عمر میں قرآن پاک مکمل حفظ کیا۔ اس کے بعد جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ، جامعہ سلفیہ فیصل آباد اور مدینہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ ہمیشہ امتیازی نمبروں سے اپنے ساتھیوں پر سبقت پائی۔ انہیں  یہ اعزاز حاصل ہے کہ مدینہ یونیورسٹی سے فراغت سے قبل ہی فارغ التحصیل لکھنے اور یہ الفاظ استعمال کرنے کی خصوصی اجازت دی گئی جو کہ آپ کی کتاب ’’القادیانیہ‘‘ کی طباعت کے سلسلے میں مطلوب تھی۔ انہوں نے اسلامیات، عربی، اردو، فارسی اور تاریخ و فلسفہ میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔
مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد انہوں نے عملی زندگی کیلئے وطن عزیز پاکستان کو منتخب کیا جہاں سے آپ کا دائرہ عمل پوری دنیا پر محیط ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت سی صلاحیتوں سے نوازا تھا جن کا آپ نے بھرپور استعمال کیا۔ دعوت کیلئے آپ نے مختلف ذرائع اختیارکئے اور ان کا پورا پورا حق ادا کیا۔ علم، ثقافت، متانت، وجاہت، ذہانت، جرأت، فصاحت و بلاغت، ادب و صحافت، دلائل، قوت استدلال، زبان و بیان پر دسترس، الفاظ کا زیروبم، آواز کا مدوجزر، شخصیت میں رعب و دبدبہ، خطابت کی تمام خوبیاں آپ کو وافر عطا ہوئی تھیں۔ برصغیر نے ابوالکلام  آزاد، سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور شورش کاشمیری کے بعد علامہ احسان الٰہی ظہیر سے بڑا خطیب پیدا نہیں کیا۔ آپ کی خطابت کا لوہا عرب و عجم نے مانا ہے۔ حافظِ قرآن تو تھے ہی اس کے ساتھ بے شمار احادیث ازبر، اردو اور فارسی کے ہزاروں اشعار نوک زباں پر تھے، جن کا برمحل استعمال کرتے۔ الفاظ قطار باندھے کھڑے نظر آتے جن سے حسن انتخاب کی داد سامعین دئیے بغیر نہ رہ سکتے۔ ان کی حق گوئی سے اپنے اور بیگانے سبھی ڈرتے تھے۔ ان کی گھن گرج سے منافقوں کی نیندیں اڑی رہتیں۔ فروری 1967ء سے لے کر مارچ 1987ء تک مسلسل 20 سال جامع مسجد چینیانوالی لاہور میں خطابت کے علاوہ روزانہ کئی کئی جلسوں سے خطاب کیا۔ اہل بدعت و اہل قبور کے گمراہ کن پروپیگنڈے نے مسلک اہلحدیث کے دامن پر جو داغ لگائے تھے علامہ کی مسلسل محنت، بے باکی اور پرجوش خطابت نے ان کو صاف کر کے مسلک اہلحدیث کو اس طرح جلا بخشی کہ نہ صرف اہل حدیث فخر سے اپنے مسلک کا برملا اظہار کرنے لگے بلکہ بہت سارے بھٹکے ہوئے لوگوں نے دین حق کی راہ پائی۔ امریکہ، یورپ، افریقہ، مشرق وسطیٰ، ایشیا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں کتاب و سنت کی دعوت پیش نہ کی ہو۔ آپ حقیقی معنوں میں کتاب و سنت کے داعی، مسلک اہلحدیث کے ترجمان اور منہج محدثین کے علمبردار تھے۔ خالص کتاب و سنت کے پیغام کو عام کرنے کیلئے انہوں نے صحافت کو بھی اپنایا۔ مختلف رسائل و جرائد میں لکھنے کے علاوہ الاعتصام، اہلحدیث اور ترجمان الحدیث کے ایڈیٹر بھی رہے۔ خطابت کی طرح آپ کے مضامین بھی جاندار اور مؤثر ہوتے۔ مختلف فرقوں نے خالص اسلام کے ساتھ جو پیوندکاری کر رکھی تھی اور اپنے آپ کو مسلمان کے طور پر پیش کرتے تھے‘ ان کے چہروں سے علامہ کے قلم نے نقاب اتار کر لوگوں کے سامنے عیاں کر دیا۔ آپ دورِ حاضر میں ادیان پر اتھارٹی تصور کئے جاتے تھے۔ مدینہ یونیورسٹی میں قیام کے دور ہی سے مختلف مذاہب پر آپ کی بات کو سند مانا جانے لگا۔ درجن سے زائد آپ کی تصانیف ہیں جن میں ٭ القادیانیہ، ٭الشیعہ والسنہ، ٭الشیعہ والتشیع، ٭الشیعہ والقرآن، ٭الشیعہ واہل البیت، ٭السبائیہ، ٭البابیہ، ٭البریلویہ، ٭بین الشیعہ واہل السنہ، ٭الاسماعیلیہ، ٭التصوف، ٭دراسۃ فی التصوف، ٭مرزائیت اور اسلام، ٭ سقوط ڈھاکہ، ٭سفرِ حجاز شامل ہیں۔
علامہ کے علم کا اعتراف دوست دشمن سب نے کیا ہے۔ بڑے سے بڑا مخالف بھی ان کو لاعلمی کا طعنہ نہیں دے سکتا کہ کس طرح آپ دلائل کا انبار لگا دیتے ہیں اور حسنِ استدلال اس پر مستزاد۔
   سیاست    
اپنے خیالات کو عام کرنے کیلئے علامہ احسان الٰہی ظہیر نے سیاست میں بھی طبع آزمائی کی اور خوب کی۔ بطور سیاستدان آپ نے بڑے سیاسی باووں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ قومی مفاد کو ہمیشہ ذاتی مفاد پر ترجیح دی۔ جو بات حق سمجھی اس کا برملا اظہار کیا خواہ اس کا تعلق عوام سے ہو یا حکمرانوں سے۔ عملی زندگی میں چار حکمرانوں سے واسطہ پڑا: ایوب، یحییٰ، بھٹو اور ضیاء الحق۔ حق گوئی کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ بے شمار مقدمات کا سامنا کیا مگر آپ جھکے نہ بکے۔ حکمرانوں کی عیاریوں اور مکاریوں کو کھل کر طشت ازبام کیا۔ تحریک ختم نبوت ہو یا تحریک نظام مصطفی آپ ہمیشہ صف اول میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ اس دن کو کون بھول سکتا ہے جس دن عوام کے بڑھتے ہوئے دبائو کو دیکھ کر فوج نے سڑک پر لکیر کھینچ دی تھی کہ جو اس لکیر کو پار کرے گا اس کو گولی مار دی جائے گی۔ اس لکیر کو سب سے پہلے علامہ احسان الٰہی ظہیر نے عبور کیا اور گریبان کے بٹن کھول کر کھڑے ہو گئے کہ اگر فوج میں جرأت ہے تو مجھے گولی مارے، ہم نے جھپٹنا سیکھا ہے پلٹنا نہیں سیکھا۔ بالآخر فوج کو لاہور سے کرفیو اٹھانا پڑا۔ ان کے اہم کاموں میں سے ایک جماعت کی نشاۃ ثانیہ ہے جس میں آپ کو مصائب و شدائد کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم آپ کی شبانہ روز محنت اور جہد مسلسل سے جماعت نے تھوڑے ہی عرصے میں ملک کی صفِ اول کی سیاسی جماعتوں میں قد آور حیثیت اختیار کر لی۔ دشمنانِ دین دلائل کا جواب دلائل سے تو نہ لا سکے مگر کمینگی اور بزدلی کی حدوں کو پھلانگتے ہوئے اپنا وار کر گئے اور وہ حادثہ فاجعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں علامہ سمیت درجن بھر علماء شہید ہوگئے۔ اللہم اغفرلہم وارحمہم
علامہ احسان الٰہی ظہیرa جب تک چینیانوالی مسجد لاہور میں رہے تب تک رمضان المبارک میں قرآن مجید بھی سنایا اور تراویح بھی پڑھاتے رہے۔ قرآن مجید کا خلاصہ بیان کرنے کی طُرح ڈالی۔ اللہ کے حضور رو رو کر دعائیں کرنا بھی آپ کا ہی خاصا تھا۔ دوران سفر ہمیشہ ان کو تلاوت میں مشغول پایا۔ ارض مقدس کی حاضری تو ان کے لئے روح کی غذا تھی۔ اپنی محنت کو ثمربار دیکھ کر عموماً یہ شعر پڑھتے:
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں
جب مخالفین سے لاپروائی اور لاتعلقی کا اظہار کرتے تو فرماتے:
کیا عشق نے سمجھا ہے کیا حسن نے جانا ہے
ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے
اگر کہا جائے کہ امام نوویؒ کے بعد علامہ کی ذات گرامی نے اتنی قلیل عمر میں اتنے اہم دینی کام انجام دئیے ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ روزانہ کئی کئی جلسوں سے خطاب، دور دراز علاقوں میں کئی کئی دن کا سفر، تصنیف وتالیف میں مصروفیت، سیاست میں دلچسپی، جماعتی نظم ونسق، لاہور میں مستقل خطبہ جمعہ، ایک معمولی انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہ کام اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل اور احسان کے بغیر ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو غریق رحمت کرے۔ آپ کی خطائوں سے درگزر کر کے بلند درجات عطا فرمائے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

Pages