وبائی بیماریوں سے بچنے کیلئے چند مشورے 12-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Monday, April 06, 2020

وبائی بیماریوں سے بچنے کیلئے چند مشورے 12-20


وبائی بیماریوں سے بچنے کیلئے چند مشورے

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنیd
ترجمہ: جناب عاطف الیاس
حمد و ثناء کے بعد!
بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے۔ بہترین طریقہ نبی اکرمe کا طریقہ ہے۔ ایجاد کردہ عبادتیں بد ترین کام ہیں۔ ہر ایجاد کردہ عبادت بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم کی طرف لیجاتی ہے۔
اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ یاد رکھو کہ تقویٰ ہی سعادت کی بنیاد اور دنیا وآخرت کی کامیابیوں کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا۔‘‘ (الطلاق: ۲)
’’جو شخص اللہ سے ڈرے اُس کے معاملہ میں وہ سہولت پیدا کر دیتا ہے۔‘‘ (الطلاق: ۴)
اے مسلمانو! ہم پر اللہ کی نعمتیں بے شمار اور کتنی زیادہ ہیں۔ خاتم الانبیاء، محمدe کی بعثت بھی ایک عظیم نعمت ہے۔ اس پر اللہ کا شکر ادا کیجیے۔ اس انعام کا شکر، صحیح معنوں میں ان کی پیروی کر کے ادا کیجیے۔ نبی کریمe کی فرماں برداری سے کیجیے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی، اسے ہم نکال دیں گے۔ اُن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی، اور وہ کہیں گے کہ تعریف خدا ہی کے لیے ہے، جس نے ہمیں یہ راستہ دکھایا، ہم خود راہ نہ پا سکتے تھے، اگر خدا ہماری رہنمائی نہ کرتا۔‘‘ (الاعراف: ۴۳)
اسی طرح فرمایا:
’’یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ اِنہوں نے اسلام قبول کر لیا، اِن سے کہو کہ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ اللہ تم پر اپنا احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی، اگر تم واقعی اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہو۔‘‘ (الحجرات: ۱۷)
اگر مسلمان اس نعمت پر غور کرے تو اس کا شعور بیدار ہو جائے، وہ اس کی قدر وقیمت اور فوائد کو جان لے۔ اللہ نے اسی کے ذریعے غلاف میں لپٹے دلوں، بہرے کانوں اور اندھی آنکھوں کو کھولا۔ اسی کے ذریعے لوگوں کو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف، گمراہی سے ہدایت کی طرف، جہالت سے علم کی طرف، رسوائی سے برتری کی طرف اور ظلم سے انصاف کی طرف نکالا۔ ہمیشہ بندے کی ایک جانب تو اللہ کی نعمتیں ہوتی ہیں جو قابلِ شکر ہیں، اور دوسری جانب اس کے گناہ ہوتے ہیں جو قابل استغفار ہیں۔ یہ دونوں چیزیں ہمیشہ انسان کے ساتھ رہتی ہیں۔ وہ ہمیشہ اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہے۔
اللہ کے بندو! ان ہی نعمتوں میں سماعت، بینائی اور دل کی نعمت ہے ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا، اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے، اُس نے تمہیں کان دیے، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دیے، اس لیے کہ تم شکر گزار بنو۔‘‘ (النحل: ۷۸)
اسی طرح ان نعمتوں میں ملکی امن وسکون کی نعمت ہے۔ یہ ضرورت کھانے پینے کی ضرورت سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اسی لیے خلیل اللہu نے اپنی دعا میں رزق سے پہلے امن مانگا۔ فرمایا:
’’اور یہ کہ ابراہیم نے دعا کی اے میرے رب! اس شہر کو امن کا شہر بنا دے، اور اس کے باشندوں میں جو اللہ اور آخرت کو مانیں، انہیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے۔‘‘ (البقرۃ: ۱۲۶)
چونکہ امن نہ ہو تو لوگ کھانے پینے سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے، تو اللہ تعالیٰ نے قبیلہ قریش پر احسان کرتے ہوئے فرمایا:
’’لہٰذا اُن کو چاہیے کہ اِس گھر کے رب کی عبادت کریں۔ جس نے اُنہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا۔‘‘ (قریش: ۳-۴)
شکر کے پانچ اصول ہیں: پہلا شکرگزار کا اپنے محسن کے سامنے جھکنا۔ دوسرا: اس سے محبت کرنا، تیسرا: اس کی نعمتوں کا اعتراف کرنا، چوتھا: اس کی وجہ سے اس کی تعریف کرنا، اور پانچواں: اس کی نعمتوں کو اسی کی نافرمانی میں استعمال نہ کرنا۔ ان میں ایک بھی کم ہو جائے تو شکر کا ایک ستون گر جاتا ہے۔ اللہ کی پے در پے نعمتوں کو دیکھ کر حیا کرنا بھی ایک طرح کا شکر ہے۔ شکرِ کامل سے قاصر ہونے کا احساس بھی ایک طرح کا شکر ہے۔ اللہ کی بے انتہا بردباری اور مسلسل پردہ پوشی کا احساس کرنا بھی ایک طرح کا شکر ہے۔ عطائیں، اللہ کی طرف سے ہونے، اور خود ان کے قابل نہ ہونے کا اعتراف بھی ایک طرح کا شکر ہے۔ شکر کو نعمت سمجھنا بھی ایک طرح کا شکر ہے۔ نعمتیں ملنے کے بعد تواضع اپنانا اور عجز وانکساری اختیار کرنا بھی ایک طرح کا شکر ہے۔ نعمتیں ملنے پر خوش ہونا اور چھوٹی نعمتوں کو بھی عظیم سمجھنا ایک طرح کا شکر ہے۔ شکر کے زمرے میں آنے والے اقوال واعمال کا شمار ممکن نہیں۔ شکر گزاری نعمتوں کو گرہ لگانے اور حفاظت کا ذریعہ ہے۔ اگر یہ گرہ کھل جائے تو نعمتیں غائب ہو جاتی ہیں پھر لوٹ کر نہیں آتیں۔
امام مسلم نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں سیدنا ابو ہریرہt سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’روز قیامت اللہ بندے سے کہے گا: اے فلاں! کیا میں نے تیرا اکرام نہیں کیا؟ تجھے ہم سفر نہیں دیا، تمہیں سردار نہیں بنایا، گھوڑوں اور اونٹوں کو تیرے ما تحت نہیں بنایا؟ تجھے سردار بنا کر لوگوں کی آمدنی کا چوتھائی حصہ تمہارا نہیں کیا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں۔ اللہ فرمائے گا: کیا تم سمجھتے تھے کہ تم مجھ سے ملوگے؟ وہ کہے گا: نہیں، اللہ فرمائے گا: جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے، آج میں بھی تجھے بھلا دیتا ہوں۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہے تو بے نیاز، مگر وہ اپنے محسن بندوں کی قدر کرتا ہے۔ اگر وہ بے نیاز ہونے کے باوجود بندے کی قدر کرتا ہے تو بندے کو تو پہلے اس کا شکر کرنا چاہیے۔ رسول اللہe نے فرمایا: جو کسی کے احسان کے بدلے اسے یہ کہہ دے کہ اللہ آپ کو جزا دے،تو اس نے اس کی خوب تعریف کی۔ (ترمذی)
میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے!
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو علانیہ اور پوشیدہ کاموں میں اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔
اللہ کے بندو! سیدنا ابن عباسw سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمرt شام کی طرف محو سفر ہوئے، جب وہ سرغ نامی مقام پر پہنچے تو انہیں فوجی دستوں کے سربراہ ملے، یعنی ابو عبیدہ بن الجراحt اور ان کے ساتھی۔ جنہوں نے شام کے علاقے میں وبائی بیماری پھیلنے کی خبر دی۔ ابن عباسw بیان کرتے ہیں کہ عمر t نے فرمایا: سینئر مہاجرین کو اکٹھا کرو، ان سب کو جمع کر کے مشورہ کیا۔ انہیں وبا کے بارے میں بتایا۔ ان کی آراء مختلف تھیں۔ کسی نے کہا: ہم ایک مقصد کے تحت نکلے ہیں‘ واپس جانا مناسب نہیں۔ کسی نے کہا: آپ کے ساتھ رسول اللہ کے بقیہ ساتھی ہیں، جبکہ بہت سے صحابہ فوت بھی ہو چکے، انہیں لے کر اس وبائی علاقے میں نہیں جانا چاہیے۔ عمرt نے کہا: اچھا! چلے جاؤ۔ پھر کہا: میرے لیے انصاریوں کو اکٹھا کرو۔ چنانچہ انہیں بلایا گیا اور مشورہ ہوا۔ انہوں نے بھی مہاجرین کی طرح کی باتیں کیں اور ان میں بھی اختلاف نظر آیا۔ عمرt نے کہا: اچھا! چلے جاؤ۔ پھر کہا: اب قریش کے وہ سردار بلاؤ جو فتح مکہ کے موقع پر ہجرت کر کے آئے تھے۔ چنانچہ انہیں بلایا گیا تو وہ سب ایک ہی بات پر متفق تھے۔ کہتے: ہمارا خیال ہے کہ آپ واپس چلے جائیں اور لوگوں کو لے کر اس وبائی علاقے میں داخل نہ ہوں۔ اس پر عمرt نے لوگوں میں اعلان کیا: میں علیٰ الصبح روانہ ہونے والا ہوں۔ تم بھی ساتھ ہی چل پڑنا۔ ابو عبیدہ بن الجراحt نے کہا: کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں؟ عمرt نے کہا: کم از کم تمہیں تو یہ نہیں کہنا چاہیے تھا؟ جی ہاں! ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ ذرا سوچو کہ اگر تم اپنی بکریاں کسی ایسی وادی میں لے جاؤ، جس کے دو کنارے ہوں؟ ایک ذرخیز ہو اور دوسرا سوکھا، تو کیا اگر تم ذرخیز کنارے میں جاؤ گے تو اللہ کی تقدیر سے نہیں جاؤ گے؟ اور اگر سوکھے کنارے میں جاؤ گے تو اللہ کی تقدیر سے نہیں جاؤ گے؟ بیان کرتے ہیں کہ اتنے میں عبد الرحمٰن بن عوفt آ گئے، پہلے وہ کسی ضرورت کے تحت کہیں گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا، اس بارے میں میرے پاس علم ہے۔ میں نے رسول اللہe کو فرماتے ہوئے سنا: جب پتا چلے کہ کسی علاقے میں وبائی بیماری پھیل گئی ہے تو اس کا رخ نہ کرو اور اگر کسی ایسے علاقے میں پھیل جائے جہاں تم پہلے سے موجود ہو تو ڈر کر وہاں سے نہ نکلو۔ بیان کرتے ہیں: اس پر عمر t نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور پھر چل پڑے۔ (بخاری ومسلم)
اس کو پڑھیں:   موت کی تیاری
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ وبائی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے خوب محنت کرنی چاہیے۔
اللہ کے بندو! اسی مقصد کو لے کر سعودی عرب کی حکومت نے چند تدابیر اختیار کی ہیں۔ جن کی قیادت خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کر رہے ہیں۔ اللہ دونوں کی تائید فرمائے۔ ان تدابیر میں عمرہ اور زیارت کا سلسلہ عارضی طور پر بند کرنا بھی شامل ہے۔ تاکہ یہ قاتل وبا مزید نہ پھیلے اور یہ فیصلہ شریعت کے احکام کے مطابق ہے۔ جانوں کی حفاظت تو حاکم کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ اسے یقینی بنانے کے لیے وہ اہل علم کے مشورے سے جو فیصلہ مناسب سمجھے کر سکتا ہے۔ تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اللہ پر بھروسہ کریں، اس سے دعا کریں اور التجائیں کریں کہ وہ بندوں سے اس آفت کو دور کر دے۔ کیونکہ دعا سے وہ آفتیں بھی دور ہو جاتی ہیں جو آ چکی ہوں اور وہ بھی جو ابھی نہیں آئی ہوتیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’پیغمبر! آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہاری دعائیں نہ ہوتیں تو پروردگار تمہاری پروا بھی نہ کرتا۔‘‘ (الفرقان: ۷۷)
اے اللہ! ہم تیری پناہ میں آتے ہیں، آفتوں سے اور وبائی بیماریوں، اپنی ذات کی، گھر والوں کی، مال کی اور اولاد کی آفتوں سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ جن چیزوں سے ڈرتے ہیں اور جن سے بچنا چاہیے، اللہ ان سب سے بڑا ہے، اے اللہ! ہم تیری پناہ میں آتے ہیں، پھلبہری سے، پاگل پن سے اور جلد کی بیماریوں سے، اور تمام بری بیماریوں سے۔


No comments:

Post a Comment

Pages