وراثت میں عورت کا حصہ 13-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, April 12, 2020

وراثت میں عورت کا حصہ 13-20


وراثت میں عورت کا حصہ

تحریر: جناب مقبول احمد قاضی رحمہ اللہ
پاکستان کی خواتین کا ایک مخصوص طبقہ جو خود کو حقوق نسواں کا علمبردار سمجھتا ہے، مسلسل یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ مرحوم یا مرحومہ کے ترکہ میں سے عورت کو برابر کا حصہ دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ صنف کی بنیاد پر یہ امتیازی سلوک، اسلامی شریعت اور آئین پاکستان کے خلاف ہے۔ کئی ’’دانشور‘‘ بھی سیمیناروں میں اپنے ارشادات میں یہی بات کہتے ہیں کہ عورت کے ساتھ یہ امتیازی سلوک ختم کیا جائے اور عورت مرد کو برابر کا حصہ دیا جائے۔ محترم جناب حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے اپنی کتاب ’’عورتوں کے امتیازی مسائل‘‘ میں لکھا ہے کہ کسی فاضل عدالت نے یہ فرمایا، یہ بھی فرمایا کہ عورت کا نصف حصہ جو قرآن کریم نے بتایا ہے وہ کم از کم ہے اسے بڑھایا بھی جا سکتا ہے، اسے مرد کے برابر کیا جا سکتا ہے۔
اس کو پڑھیں:   سجدۂ سہو کا بیان
لیکن اس رائے سے اتفاق کرنا بوجوہ ناممکن ہے کہ یہ امتیازی شرعی قانون محض جنس یا صنف کی بنیاد پر ہے۔ کئی صورتیں ایسی ہیں کہ عورت مرد کے برابر یا اس سے زائد حصہ لیتی ہے، مثلاً:
1          میت کے ورثاء میں دو بیٹے، ماں اور باپ ہیں۔ اس کا کل ترکہ چھ روپے ہے، ماں اور باپ میں سے ہر ایک برابر ایک ایک روپیہ لیں گے، باقی چار روپے میں دونوں بیٹے برابر کے وارث ہوں گے۔
2          میت کے ورثاء میں ایک بیٹی اور باپ ہیں، کل ترکہ چار روپے ہیں۔ دو روپے بیٹی اور دو باپ کو ملیں گے، عورت اور مرد کو برابر حصہ ملا۔
3          میت کے ورثاء میں دو بیٹیاں اور باپ ہیں۔ کل ترکہ تین روپے ہے۔ دو روپے بیٹیوں کو اور ایک روپیہ باپ کو ملے گا، انفرادی طور پر عورت مرد کے برابر حصہ دار ہے اور مجموعی طور پر عورتوں کا حصہ مرد سے زیادہ ہے۔
4          مرحومہ کے ورثاء میں ایک بیٹی، مرحومہ کا شوہر اور باپ ہیں۔ اس کا کل ترکہ چار روپے ہے۔ دو روپے بیٹی کو اور ایک ایک روپیہ مرحومہ کے شوہر اور باپ کو ملے گا۔ اس صورت میں عورت نے مرد سے دوگنا حصہ زیادہ لیا ہے۔
ان شرعی قوانین جن کا ذکر قرآن کریم میں ہے کی موجودگی میں یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی شریعت میں جنس کی بنیاد پر حق وراثت کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
اسلام میں وراثت کے استحقاق کی بنیاد صنف اور جنس پر نہیں۔ اس کی بنیاد زوجیت کے تعلق پر ہے جس کی بناء پر شوہر بیوی کا اور بیوی شوہر کی وارث ہوتی ہے۔ دوسری اہم بنیاد مرحوم یا مرحومہ کے ساتھ نسبی رشتہ ہے۔ اس رشتہ اور نسبی تعلق کی بناء پر باپ، دادا، بھائی، چچا، چچا زاد بھائی، بیٹے، بیٹیاں وارث ہوتی ہیں۔ لہٰذا صرف ایک صورت ایسی ہے جس میں عورت کو مرد سے نصف حصہ ملتا ہے جبکہ وہ بھائی کے ساتھ بطور بہن وارث ہو۔ یہ تفریق اس بناء پر نہیں کہ بیٹی عورت اور بیٹا مرد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہن پر مرحوم کا سلسلہ نسب ختم ہو جاتا ہے اور باقی سے مرحوم کا نسب جاری رہتا ہے۔ بیٹی کی اولاد کا نسب اس کے شوہر سے شروع ہو جاتاجبکہ بیٹے کی اولاد سے مرحوم کا نسب جاری رہتا ہے۔ اسی لئے نواسہ اپنے نانا کا وارث نہیں ہوتا جبکہ پوتا اپنے دادا کا وارث ہوتا ہے۔ وہ مرحوم کے بیٹے کی جگہ بطور بیٹا وارث ہوتا ہے۔ یہی حکم پوتی کا ہے کہ وہ مرحوم کی بیٹی کی جگہ وارث ہوتی جبکہ نواسہ اور نواسی ایک پائی کے حق دار نہیں کہ وہ اپنے دادا کے وارث ہیں۔ اس نسبی فرق کی وجہ سے حق وراثت میں فرق رکھا گیا ہے اور یہ عین عقل سلیم کے مطابق ہے کہ جس پر نسب ختم ہو گیا ہے اسے اس کے برابر حصہ کیوں دیا جائے جس سے مرحوم کا نسب جاری ہے۔
اس کو پڑھیں:   کتابیں اپنے آباء کی
دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر بیٹی کو بھائی (بیٹے) کے برابر حصہ دیا جائے گا تو لازماً بھائی کا حصہ کم ہو جائے گا۔ اگر بہن بھائی ایک روپیہ اور دو روپیہ کے وارث ہیں اور آپ بہن کا حصہ بھائی کے برابر کر دیتے ہیں تو آپ نے بھائی کا حصہ پچاس پیسے کم دیا۔ مالیاتی قوانین رحم پر نہیں بنتے اور بغیر مجاز اتھارٹی کے حکم کے بغیر کسی حصہ کو کم یا زیادہ نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن کریم نے ایک مالیاتی قانون بنایا کہ بیٹی کا ایک اور بیٹے کے دو حصے ہیں۔ اب بیٹے کا حصہ کم کرنے اور بیٹی کا حصہ بڑھانے کیلئے قرآن کی کسی آیت کی ضرورت ہے جو موجود نہیں۔ لہٰذا بیٹے کا حصہ کس قانون کے تحت کم کیا جا سکتا ہے، یہ تو بالکل ایسا ہی غلط خیال ہے کہ چونکہ بیٹا امیر ہے اور بیٹی غریب ہے لہٰذا بیٹے کا سارا حصہ اس کی رضا کے خلاف بیٹی کو دے دیا جائے۔ یہ حقوق نسواں کی داعی خواتین دراصل عورت (بہن) پر ترس اور رحم کھاتی ہیں لیکن انہیں معلوم نہیں کہ وراثت کی تقسیم غربت، امارت اور ترس و رحم کے قابل ہونے کی بنیاد پر نہیں بلکہ نسبی استحقاق پر ہوتی ہے۔
بہن کو بھائی کے برابر حصہ دینے کی واحد ممکنہ صورت یہی ہے کہ نواسے اور نواسی کو اپنے دادا کی بجائے اپنے نانا کی نسل قرار دیا جائے، کیا یہ محترم دانشور حضرات و خواتین اس کیلئے تیار ہیں؟


No comments:

Post a Comment

Pages