میت اور نمازِ جنازہ کے مسائل 13-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, April 12, 2020

میت اور نمازِ جنازہ کے مسائل 13-20


میت اور نمازِ جنازہ کے مسائل

تحریر: جناب مولانا محمود الحسن
اس دنیا فانی میں جو بھی شخص آیا اس پر موت آ کر رہے گی‘ اس کا وقت مقرر ہے جس میں نہ تقدیم ہو گی نہ ہی تاخیر۔ سورۃ الملک میں ہے:
’’اللہ نے موت اور حیات کو اس لئے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے اور وہ غالب (اور) بخشنے والا ہے۔‘‘ (الملک:۲)
روح ایک ایسی غیر مرئی چیز ہے کہ جس بدن سے اس کا اتصال ہو جائے وہ زندہ کہلاتا ہے اور جس بدن سے جدا ہو جائے وہ مردہ کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عارضی زندگی کا سلسلہ جس کے بعد موت ہے اس لئے قائم کیا ہے تا کہ وہ آزمائے کہ اس زندگی کا صحیح استعمال کون کرتا ہے؟ جو اسے ایمان و اطاعت کے لئے استعمال کرے گا اس کیلئے اچھا بدلہ ہے اور دوسروں کیلئے دردناک عذاب ہے۔
انسان کی روح جب اس کے جسم سے پرواز کر جاتی ہے تو آنکھیں اس کے تعاقب میں کھلی رہ جاتی ہیں اس لیے میت کی آنکھوں کو بند کر دینا چاہیے۔ اہل علم و فضل کو چاہیے کہ جب وہ میت والے گھر میں آئیں تو میت کیلئے مغفرت و بخشش کی دعا کریں اور لواحقین کیلئے صبر جمیل اور دیگر امور خیر کی دعا کریں۔ مرنے والے کے گھر آ کر تعزیت کرنا اور دعا کرنا ایک مسنون عمل ہے جس کے جائز بلکہ سنت ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، لیکن ہمارے ملک میں رواج ہے کہ کسی جگہ دری یا صفیں بچھا کر بیٹھ جاتے ہیں اور تین دن تک بیٹھے رہتے ہیں، ان ایام میں لوگ آتے ہیں اور بار بار ہاتھ اٹھا کر فاتحہ پڑھتے ہیں، یہ طریقہ خلاف سنت ہے۔ اس موقعہ پر فاتحہ پڑھنے کا کوئی جواز نہیں۔ اس لئے اس رواج سے کلی طور پر اجتناب کریں اور مسنون طرز عمل اپنائیں۔ آپe نے ابوسلمہؓ کے پاس آ کر دعا فرمائی:
’’اے اللہ! ابو سلمہؓ کو بخش دے اور اس کے درجے مہدیین میں بلند فرما اور اس کے بعد اس کے پسماندگان میں اس کا جانشین بن جا اور ہمیں اور اس کو اے رب العالمین! بخش دے، اس کی قبر کو فراخ کر دے اور اس کیلئے اس کی قبر کو روشن فرما۔‘‘  (مسلم)
یہ ہے نبی e کا تعزیت کرنے کا مسنون طرز عمل۔ اس موقعے پر نبیe سے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ثابت نہیں، اس لئے ہاتھ اٹھائے بغیر دعا کرنا بہتر ہے۔ سیدہ ام سلمہr سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہe کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس بندے کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ کہے:
’’ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر عطا فرما اور اس کی جگہ بہتر بدل عطا فرما۔‘‘
تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت میں اجر عطا کرتا اور اس کی جگہ اسے بہترین جانشین عطا فرماتا ہے۔
سیدہ ام سلمہr فرماتی ہیں کہ جب ابوسلمہt فوت ہو گئے تو میں نے اسی طرح دعا کی جس طرح مجھے رسول اللہe نے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے (بہت) بہتر جانشین یعنی رسول اللہe عطا فرما دئیے۔ (صحیح مسلم کتاب الجنائز باب ما یقال عند المصیبۃ)
سیدنا ابو موسیٰt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: جب بندے کا بچہ فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے کہ تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کر لی؟ وہ کہتے ہیں ہاں! پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا؟ وہ کہتے ہیں ہاں! تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے کیا کہا؟ وہ بتلاتے ہیں کہ اس نے تیری حمد کی اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے کیلئے جنت میں گھر بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔ (سنن ترمذی ابواب الجنائز باب فضل المصیبۃ اذا احتسب، یہ حدیث حسن درجہ کی ہے)
میت پر نوحہ کرنا حرام ہے اور اونچی آواز سے رونے کی ممانعت بھی حدیث سے ثابت ہے۔ البتہ رونے پر جس میں آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں یہ جائز ہے اور اس پر مؤاخذہ نہیں ہو گا، جس کی دلیل یہ حدیث ہے:
سیدنا ابن عمرw سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے سیدنا سعد بن عبادۃؓ کی عیادت کی اور آپe کے ساتھ عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعودy بھی تھے (وہاں پہنچ کر) رسول اللہe (بے اختیار) رو پڑے پس جب لوگوں نے آپe کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی رو پڑے پس آپe نے فرمایا: کیا تم سنتے نہیں؟ یقینا اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو اور دل کے غم پر عذاب نہیں دے گا۔ لیکن اس کی وجہ سے عذاب دے گا یا رحم کرے گا اور اپنی زبان کی طرف اشارہ فرمایا۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز باب البکاء عند المریض و صحیح مسلم کتاب الجنائز باب البکاء علی المیت)
شدت غم سے آنکھوں سے آنسوئوں کا جاری ہو جانا، اسی طرح دل کا غمگین ہونا یہ دونوں فطری چیزیں ہیں جن پر انسان کا اختیار نہیں بلکہ یہ رحمت کا ایک حصہ ہیں، یہ ممنوع نہیں اور نہ ہی قابل مواخذہ۔ البتہ جس پر مواخذہ ہو گا اور جس کی ممانعت ہے وہ ہے زبان سے نوحہ کرنا۔ اگر اسی زبان سے کلمات صبر و شکر ادا کئے جائیں تو انسان رحمت الٰہی کا مستحق ہوگا۔
مرنے والے کے محاسن اور خوبیوں کا تذکرہ کرنا مستحسن ہے تا کہ دوسرے لوگوں کو بھی انہیں اختیار کرنے کی ترغیب ہو۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ اس میں بھی ایک تو رونے سے مراد وہی بین اور ماتم کرنا ہے ورنہ محض رونا تو فطری عمل ہے وہ نہ ممنوع ہے اور نہ ہی قابل مواخذہ۔ علاوہ ازیں یہ حکم ایسے شخص کیلئے ہے جو خود بھی اپنی زندگی میں نوحہ و ماتم کرتا رہا ہو گا یا اپنی میت پر نوحہ و ماتم کرنے کی وصیت کر کے مرا ہو گا یا اس کے علم میں ہو گا کہ میرے مرنے کے بعد میرے گھر والے مجھ پر خوب نوحہ و ماتم کریں گے۔ جیسا کہ بعض خاندانوں میں رواج ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں منع کر کے نہیں مرا۔ ان تینوں صورتوں میں وہ خود بھی شریک جرم متصور ہو گا اور اس پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہو گا۔ لیکن اگر تینوں صورتوں میں کوئی ایک صورت بھی نہ ہو گی اور اس کے باوجود میت کے گھر والے محض اپنی جہالت کی وجہ سے اس پر نوحہ و ماتم کریں گے تو سارا گناہ، نوحہ و ماتم کرنے والوں کو ہی ہو گا، میت کو ان کی وجہ سے عذاب نہیں ہو گا کیونکہ یہ کسی طرح بھی ان کے اس گناہ میں شریک نہیں۔ کیونکہ ارشاد ربانی ہے:
{وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ اُخْرَی} (بنی اسرائیل: ۱۵)
کے مطابق اس پر کوئی وبال نہیں ہو گا۔
سیدنا انسt سے مروی ہے کہ رسول اللہe اپنے بیٹے ابراہیمؓ کے پاس آئے اور وہ جان کنی کے عالم میں تھے، پس رسول اللہe کی آنکھوں کے ساغر چھلک پڑے تو سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ نے آپe سے کہا اور آپe بھی (روتے ہیں) یا رسول اللہ؟ پس آپe نے فرمایا: اے ابن عوف! یہ رحمت و شفقت ہے۔ آپe پھر دوبارہ رو پڑے اور فرمایا: بے شک آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور دل غمگین ہے لیکن ہم وہی بات کہیں گے جو ہمارے رب کو راضی کر دے اور اے ابراہیم! ہم تیری جدائی پر یقینا غم زدہ ہیں۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز)
 جنازے کے ساتھ چلتے ہوئے بلند آواز سے کلمہ شہادت پکارنا:
اکثر لوگ جنازے کے ساتھ چلتے ہوئے بلند آواز سے کلمہ شہادت کی صدا بلند کرتے ہیں اور دیگر شرکاء جنازہ اس کا جواب کلمہ شہادت پڑھ کر دیتے ہیں‘ اگر انہیں سمجھایا جائے تو وہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ عمل حدیث سے ثابت ہے۔ آئیے اس حقیقت کو معلوم کرنے کے لیے حدیث رسولe کی طرف رجوع کریں، اس سلسلہ میں میرے سامنے دو راوی احادیث ہیں۔
 ایک حدیث کا تعلق قریب المرگ کو لا الٰہ الا اللہ کی تلقین کرنا، اس کے سیدنا معاذt راوی ہیں‘ رسول اللہe نے فرمایا: جس کی آخری گفتگو لا الٰہ الا اللہ ہو گی وہ جنت میں جائے گا۔ (ابودائود حاکم، امام حاکم نے اسے صحیح الاسناد کہا ہے)
اس کا مطلب یہ ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کا زبان پر جاری ہو جانا اس کے مومن ہونے کی علامت ہے۔ مومن یقینا جنتی ہے تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ پہلے مرحلے میں جنت میں چلا جائے گا یا سزا بھگتنے کے بعد دوسرے مرحلے میں جائے گا، یہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے۔ اسی طرح توحید اور اس کے تقاضوں کو بھی اگر وہ سمجھنے اور شرک سے اجتناب کرنے والا ہو گا تب جنت میں جائے گا ورنہ بہت سے نام نہاد کلمہ گو صریحاً شرک میں مبتلا ہیں‘ وہ کس طرح جنت میں جا سکتے ہیں؟
دوسری حدیث کے راوی ابوسعید خدریt ہیں، رسول اللہe نے فرمایا:
’’اپنے مردوں کو لا الہ الا اللہ پڑھنے کی تلقین کرو۔‘‘ (مسلم)
مردوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو قریب المرگ ہوں۔ تلقین کا مطلب بعض کے نزدیک یہ ہے کہ ان کے پاس بیٹھ کر لا الٰہ الا اللہ پڑھا جائے تا کہ اسے سن کر وہ بھی پڑھ لیں۔ لیکن شیخ ناصر الدین البانی  ؒنے لکھا ہے کہ تلقین کا مطلب یہ ہے کہ اسے لا الہ الا اللہ پڑھنے کیلئے کہا جائے۔ مذکورہ احادیث سے حقیقت آشکارا ہو گئی، لہٰذا ثابت ہوا کہ جنازے میں ایسا عمل ثابت نہیں‘ اس لئے اس بدعت کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔
نماز جنازہ پڑھنے کی فضیلت:  
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص جنازے میں حاضر ہوا یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے، اس کیلئے ایک قیراط اجر ہے اور جو اس کے دفن ہونے تک موجود رہے اس کے لئے دو قیراط اجر ہے۔ آپe سے پوچھا گیا کہ دو قیراط کی مقدار کیا ہے؟ آپe نے فرمایا: دو بڑے پہاڑوں کی مثل۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز )
دوسری حدیث کے راوی بھی سیدنا ابوہریرہt ہیں، اس میں قیراط کی وضاحت کی گئی ہے کہ ہر قیراط احد پہاڑ کی مانند ہے۔ (صحیح بخاری کتاب الایمان باب اتباع الجنازۃ من الایمان)
مذکورہ حدیث میں واضح کر دیا گیا ہے کہ یہ اجر صرف اس شخص کو ملے گا جو ایمان کے تقاضے سے اور صرف اللہ کی خوشنودی کیلئے اس کا حکم سمجھ کر جنازے میں شرکت کرے گا‘ لیکن اس کے برعکس جو کسی اور غرض سے شریک ہو تو ایسی صورت میں اجر کی توقع عبث ہے۔
سیدنا ابن عباسw سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہe کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو مسلمان آدمی مر جائے اور اس کے جنازے پر ایسے چالیس آدمی نماز پڑھیں جو اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراتے ہوں تو اللہ تعالیٰ میت کے حق میں ان کی مغفرت کی سفارش کو قبول فرماتا ہے۔ (مسلم)
 نماز جنازہ پڑھنے کا طریقہ:  
امام‘ مرد (میت) کے سر کے برابر اور عورت کے درمیان کھڑا ہو۔ (صحیح ابودائود کتاب الجنائز باب این یقوم الامام من المیت اذا صلی علیہ)
نماز جنازہ کیلئے صفیں طاق ہونا ضروری نہیں:
حسب ضرورت کم یا زیادہ صفیں بنائی جا سکتی ہیں، حبش کا ایک صالح آدمی فوت ہو گیا، سیدنا جابرt بیان کرتے ہیں کہ [فصففنا فصلی النبیﷺ ونحن صفوف] پھر ہم نے صفیں بنائیں اور آپe نے نماز پڑھائی اور ہم کئی صفوں میں تھے۔‘‘ (بخاری)
سیدنا جابرt بیان کرتے ہیں کہ جب آپe نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تو میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔ (بخاری کتاب الجنائز)
صحیح مسلم کی ایک روایت میں دو صفوں کی تعیین بھی موجود ہے۔ (مسلم کتاب الجنائز)
تین صفوں والی حدیث ضعیف ہے۔ (ابوداؤد)
چار تکبیریں:  
سیدنا جابرt سے مروی ہے کہ نبیe نے نجاشی کا جنازہ پڑھایا تو اس پر چار تکبیریں کہیں۔ (بخاری کتاب الجنائز)
سیدنا ابن عباسw سے مروی ہے کہ رسول اللہe نے ایک قبر پر میت کی تدفین کے بعد نماز جنازہ پڑھی اور اس پر چار تکبیریں کہیں۔ (مسلم)
سیدنا ابوامامہt سے مروی ہے: ’’نماز جنازہ میں سنت یہ ہے کہ پہلی تکبیر کے بعد امام سورۃ فاتحہ ہلکی آواز میں تلاوت کرے پھر تین تکبیریں کہے اور آخری تکبیر کے ساتھ سلام پھیر دے۔ (صحیح احکام الجنائز ص ۱۴۲)
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰt سے مروی ہے کہ رسول اللہe چار تکبیریں کہا کرتے تھے۔ (صحیح احکام الجنائز) جمہور فقہاء مالکؒ، شافعیؒ، ابوحنیفہؒ کے نزدیک نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہی جائیں گی۔ (عبدالرحمن مبارکپوریؒ) اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں۔
اس کو پڑھیں:   اسلامی اقتصادی نظام
پہلی تکبیر کے بعد کیا پڑھے؟  
نماز جنازہ بھی ایک نماز ہی ہے اس لئے دیگر نمازوں کی طرح اس میں بھی سورۃ فاتحہ پڑھنا لازمی ہے، رسول اللہe نے فرمایا:
’’جس شخص نے سورۃ فاتحہ کی قرأت نہ کی اس کی کوئی نماز نہیں۔‘‘ (بخاری ومسلم)
طلحہ بن عبداللہ بن عوف سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا ابن عباسt کے پیچھے ایک جنازے میں نماز پڑھی‘ انہوں نے سورۂ فاتحہ کی قرأت کی اور کہا (یہ اس لئے پڑھی ہے) تا کہ تمہیں علم ہو جائے کہ یہ سنت ہے۔ (بخاری، ترمذی، نسائی)
سنن نسائی میں اس طرح ہے: [فقرأ بفاتحۃ الکتاب و سورۃ وجھر فلما فرغ قال سنۃ وحق] سیدنا ابن عباسt نے (جنازے میں) فاتحہ اور کوئی سورت پڑھی اور اونچی آواز سے قراءت کی پھر جب فارغ ہوئے تو کہا یہ سنت اور حق ہے۔ (صحیح احکام الجنائز و بدعھا، نسائی کتاب الجنائز باب قرأت فاتحۃ الکتاب علی الجنازۃ)
جہری نماز جنازہ پڑھنے کی دلیل: 
سیدنا ابوعبدالرحمن عوف بن مالکt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے ایک جنازے پر نماز پڑھی تو آپ کی دعا میں نے یاد کر لی۔ (مسلم)
  دوسری تکبیر کے بعد:  
دوسری تکبیر کے بعد درود شریف (ابراہیمی) اللھم صل علی محمد وعلٰی اٰل محمد سے انک حمید مجید تک مکمل پڑھے۔
  تیسری تکبیر کے بعد:
تیسری تکبیر کے بعد مسنون دعائیں پڑھی جائیں، سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو تو اس کیلئے خالص دعا کرو۔‘‘ (کتاب الجنائز باب الدعا للمیت ابن ماجہ)
\          [اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہٖ واعف عنہ واکرم نزلہ ووسع مدخلہ واغسلہ بالماء والثلج والبرد ونقہ من الخطایا کما نقیت الثوب الابیض من الدنس وابدلہ داراً خیراً من دارہٖ واھلا خیراً من اھلہ وزوجا خیراً من زوجہ وادخلہ الجنۃ واعذہ من عذاب القبر ومن عذاب النار۔] (صحیح مسلم کتاب الجنائز باب الدعاء للمیت فی الصلوٰۃ)
\          [اللھم اغفر لحینا ومیتنا وشاھدنا وغائبنا وصغیرنا وکبیرنا وذکرنا وانثانا اللھم من احییتہ منا فاحیہٖ علی الاسلام ومن توفیتہ منا فتوفہ علی الایمان اللھم لاتحرمنا اجرہٗ ولا تضلنا بعدہٗ۔] (صحیح احکام الجنائز)
\          [اللھم ان فلان بن فلان فی زمتک وقہ من فتنۃ القبر وعذاب النار وانت اھل الوفاء والحق فاغفرلہٗ وارحمہ انک انت الغفور الرحیم۔] (ابوداؤد، ابن ماجہ، ابن حبان)
\          [اللھم انہ عبدک وابن عبدک وابن امتک کان یشھد ان لا الٰہ الا انت وان محمداً عبدک ورسولک وانت اعلم بہٖ اللھم لاتحرمنا أجرہ ولا تفتنا بعدہٗ۔] (مؤطا، احکام الجنائز للالبانی ص:۱۵۹)
 بچہ ہو تو یہ دعا پڑھی جائے: 
[اللھم اجعلہ لنا سلفاً وفرطاً واجراً۔] (بخاری، قبل الحدیث ۱۳۳۵، کتاب الجنائز باب قدأۃ فاتحۃ الکتاب)
مذکورہ تمام دعائیں مسنون ہیں‘ اگر ان سب کو جمع کر کے پڑھ لیا جائے تو بہت بہتر ہے کیونکہ قبولیت کیلئے خلوص قلب سے دعا کرنے کا حکم ہے۔ دعائوں کے بعد اللہ اکبر کہہ کر سلام پھیر دیا جائے۔ نماز جنازہ کے بعد میت کی چارپائی کے گرد کھڑے ہو کر دعا کرنا نبیe سے ثابت نہیں۔ آپe نے نماز جنازہ کے بعد اس طرح دعا نہیں مانگی بلکہ دعائوں کا محل نماز جنازہ ہے۔
اسی طرح قبر کے پاس اذان و اقامت کہنا جائز نہیں، نہ تدفین کے بعد اور نہ ہی قبر میں کیونکہ یہ من گھڑت بدعت ہے۔
 تدفین کے بعد قبر پر دعا:  
حدیث پاک میں ہے:
[کان النبیﷺ اذا فرغ من دفن المیت وقف علیہ فقال استغفروا لاخیکم وسئلوا  لہٗ التثبیت فانہ الآن یسئل۔] (ابوداؤد کتاب الجنائز باب الاستغفار عند القبر)
’’نبیe جب میت کی تدفین سے فارغ ہوتے تو اس پر ٹھہرتے اور فرماتے کہ اپنے بھائی کیلئے بخشش طلب کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو، یقینا اس سے اب سوال کیا جا رہا ہے۔‘‘
الٰہ العالمین ہمیں اپنی زندگی کے تمام معاملات کتاب و سنت کی روشنی میں انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

Pages