شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید راشد ہزاروی 20-14 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 15, 2020

شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید راشد ہزاروی 20-14

شیخ الحدیث، حضرت مولانا، عبدالرشید راشد ہزاروی، وفیات، شخصیات

شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید راشد ہزاروی a

تحریر: جناب مولانا محمد سعید (وساویوالہ)
راقم کا خیال ہے کہ ہری پور ہزارہ کے لوگ پاکستان بھر کے بسنے والے لوگوں سے زیادہ وجیہہ اور خوبصورت ہوتے ہیں۔ رنگ روپ، قد کاٹھ اور نین نقش میں اس خطے کے لوگ اپنی مثال آپ ہیں۔پھر اس علاقے کی جغرافیائی خوبصورتی میں ایک ایسی کشش ہے جو اپنے اندر ایک خاص جاذبیت رکھتی ہے جو پاکستان کے دیگرحسین خطوں میں مجھے نظر نہیں آئی، حالانکہ وطن عزیز میں جغرافیائی حسن وجمال کی کمی نہیں،مگر    ؎
کہتے ہیں جس کو حسن وہ کچھ شے ہی اور ہے
پھرتے ہیں جامہ زیب بھی ، تجھ سا مگر کہاں!
ہری پور کے بارے میں تو نامور شاعر قتیل شفائیؔ نے بہت خوبصورت اشعار کہے ہیں۔ مثلا    ؎
شہروں میں کیا شہر ہے ہری پور اک شہر
جہاں روپ کی بارشیں برسیں آٹھوں پہر
جب تپتے لاہور میں چڑھے مہینہ چیت
آئیں یاد قتیل کو ہری پور کے کھیت
اس خوبصورت زمین ،ہزارہ میں ایک گائوں’’کیہری صرافالی‘‘ہے۔وہاں ایک علمی خاندان آباد تھا۔علم وفضل کے نشانات جو ہمیں اس خاندان میں ملے ہیں وہ مولانا محمد اسحاق ؒ سے شروع ہوتے ہیں۔ ان کی نرینہ اولاد میں دو بیٹے تھے۔ ایک مولانا عبدالعزیز اوردوسرے مولانا عبدالمجید۔ دونوں بھائی علم وفضل سے بہرہ ور تھے۔ مولانا عبدالمجید کو بھی اللہ نے نرینہ اولاد میں دو بیٹے عطا کیے۔ایک مولانا بنیابین جو ۱۹۶۸ء میں طویل علالت کے باعث انتقال کر گئے۔ دوسرے مولانا عبدالرشید ،جن کو آج دنیا شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید راشد ہزاروی کے نام نامی سے جانتی ہے۔یہ وہ گلِ سر سبد تھا جو ہزارہ کی خوبصورت دھرتی سے جسمانی اور روحانی وجاہت لے کر پیدا ہوئے۔ان کو دیکھنے سے ہی ہزارہ کا حسن وجمال اپنے تمام تر مناظر کے ساتھ سامنے آجا تا تھے۔ ننھیال میں نانا مولانا ولی محمد اور ان کے برادران علمائے دین تھے اور مسلک اسلاف پر کاربند تھے۔ مولانا عبدالرشید ؒتین سال کی عمر کے تھے کہ والد کا سایۂ عاطفت اٹھ گیا۔ان حالات میں ایک یتیم کے جسم و جان پر جو گزرتی ہے سو وہ ان پر بھی گزری۔کہنا سننا آسان ہے لیکن جھیلنا سہنا بہت سے شدائد پر مشتمل ہوتا ہے۔والد مرحوم نصیحت فرماگئے تھے کہ میرے بچوں کی یتیمی کا زیادہ احساس نہ کرنا، انہیں تعلیم کے لیے باہر نکلنے دینا۔پروفیسر میاں یوسف سجاد کی ایک تحریر کے مطابق جو انہوں نے علمائے اہل حدیث کے احوال میں رقم کی ہے اس میں انہوں نے مولانا ہزاروی ؒکے حالات میں جو لکھا ہے اس میں یہ الفاظ ہیں کہ والد نے کہا’’میرے بچوں کو گھر سے نکال دینا ،خود گرتے پڑتے علم سیکھ جائیں گے۔‘‘
پہلے پہل تو حالات نے آپ کو اِدھر سے اُدھراور اُدھر سے اِدھرلُڑھکانے اور دھکیلنے کا شغل جاری رکھا۔آپ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ مختلف قریبی رشتہ داروں کے ہاں یتیمی کے تھپیڑے سہتے رہے۔کبھی اِس کے ہاں ،کبھی اُس کے ہاں۔بقول مولانا حالیؔ     ؎
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
بالآخر مدارس دینیہ نے اپنی شفقت کا دامن پھیلا دیا اور مولانا ہزاروی اپنے ایک آبائی دینی مدرسہ میں داخل ہو گئے۔تین سال تک بڑی تیزی سے ابتدائی مراحل طے کیے اور ۱۹۴۹ء میں صوفی محمد عبداللہؒ امیر المجاہدین کے دینی ادارہ تعلیم الاسلام اوڈاں والا میں آگئے۔ آپ کے اساتذہ کرام میں بہت سی نامور ہستیوں کے نام ملتے ہیں۔مثلاً حضرت العلام حافظ محمد گوندلویؒ،شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ بڈھیمالویؒ،مولانا پیر محمد یعقوبؒ،مولانا محمد صادق خلیل ؒ اور دیگر کئی نامور علماء و فضلاء ۔ رحمہم اللہ!
مولانا ہزاروی ؒ نے اوڈاں والا میں کسبِ فیض کیا اور اسی ادارے میں دل جمعی سے بیٹھ گئے اور اپنی خدمات اسی ادارہ کے سپرد کر دیں۔حضرت صوفی محمد عبداللہؒ ان کی خدمات سے بے حد متاثر تھے۔ اس لیے وہ ان پر خصوصی شفقت فرماتے۔پرانے جماعتی رسائل و اخبارات دیکھیں تو یہ تاثر اور زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔گندم کی کٹائی کے موقع پر جامعہ تعلیم الاسلام کے لیے پورے سال کی گندم اکٹھی کی جاتی ہے اس سلسلہ میں اوکاڑہ،ساہیوال اور چیچہ وطنی کے وسیع و عریض علاقوں میں فراہمیٔ گندم کے لیے دوڑدھوپ کرتے،گائوں گائوں جاتے ،حضرت صوفی محمد عبداللہ ؒ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے اور چاروں پلّو بھر کر واپس لوٹتے۔اس دور میں جامعہ کے تمام اساتذہ ایک ٹیم کی طرح تھے جس کے تمام کھلاڑی میدان میں ایک ہی مقصد کے لیے ڈٹے ہوتے ہیں۔
سید ابوبکر غزنویؒ نے انتقال فرمایا تو قاضی محمد اسلم سیف فیروزپوری مرحوم کی ایک تعزیتی رپورٹ جو ’’الاعتصام‘‘ میں شائع ہوئی اس سے جامعہ مذکورہ کے تمام اساتذہ کرام کے غم وحزن کا عکس واضح ہوتا ہے۔جامعہ کے جن اساتذہ کی ٹیم اکٹھی حضرت سیدؒ کے جنازے میں شریک ہونے کے لیے روانہ ہوئی ان میں سرفہرست مولانا عبدالرشید راشد ہزارویؒ تھے۔باقی قابل صد احترام اساتذہ میں مولانا عبداللہ مشتاقؒ، مولانا محمد صدیق اظہرؒ، مولانا عبدالرشید اٹارویؒ، مولانا رفیع الدین فردوسیؒ اور مولانا عبدالرب مجاہدؒ تھے۔یہ سب اصحاب علم و فضل، ۲۶ اپریل ۱۹۷۶ء بروز سوموار اکھٹے لاہور پہنچے اور شامل جنازہ ہوئے۔ اسی طرح جامعہ کے مختلف پروگراموں اور جماعتی خبروں کی اشاعت میں مولانا ہزارویؒ کی جدوجہد ہمیں صاف نظر آتی ہے۔مثلاًحضرت مولانا حافظ بنیامین ؒ کے والدگرامی فوت ہوئے توان کی وفات کی خبر اور دعائے مغفرت کی اپیل مولانا ہزاروی ؒ کی طرف سے ’’الاعتصام‘‘ ۷ مئی ۱۹۷۶ء کے پرچے میں اشاعت پذیر ہوئی۔
اس دوران مولانا ہزارویؒ ساہیوال سبزی منڈی والی مسجد میں خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے رہے۔حضرت صوفی محمد عبداللہؒ ان پر خصوصی شفقت فرماتے اور اعتماد کرتے تھے۔یہ شفقت و اعتماد جامعہ کی انتظامیہ میں موجود بعض عناصر کو کھٹکنے لگا۔یہ ایک ایسا روگ ہے جو ازل سے انسانی سوچوں کو لاحق ہے اور ابدتک رہے گا۔ اس سے شفایابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔جب حالات نے سنگینی اختیار کی تو ساہیوال کی جماعت نے ان حالات کے پیش نظر انہیں ساہیوال تشریف لانے کی پیش کش کی۔مولانا ہزارویؒ نے ٹرک پر سامان لادا اور ساہیوال کی طرف چل پڑے۔ان کے دل کی کیفیت محسوس تو کی جا سکتی ہے ، بیان نہیں کی جاسکتی۔جامعہ تعلیم الاسلام سے ان کا ایک ہونہار شاگرد ان کے ساتھ تھا جوانھیں ساہیوال تک چھوڑنے آرہا تھا۔اس کانام حافظ محمد اسلم حنیف ہے۔جو آج کل مرکزی جمعیت اہلحدیث پنجاب کے نائب امیر ہیں اور لیاقت پور ،رحیم یار خان میں ایک دینی ادارے’’جامعہ محمدیہ‘‘ کے مہتمم ہیں۔ مولانا ہزارویؒ کی وفات کی خبر سن کر رحیم یار خاں سے وہ سیدھے راقم کے غریب خانے پر تشریف لائے اور مولانا ہزاروی ؒ سے اپنے متعلمانہ تعلقات کی تاریخ اور ماموں کانجن سے ساہیوال منتقلی کی وجوہات بڑے پرسوز اسلوب سے اشاروں کنایوں میں بیان کر دی۔ماموں کانجن میں انہوں نے مولانا ہزارویؒ سے جامع ترمذی ، السراجی اور ادب و لغت کی بعض کتب پڑھی تھیں، انہیں مولانا سے بڑی عقیدت تھی ۔اسی تعلق ِ خاطر کے تحت وہ ماموں کانجن کے بعض مقتدر اصحاب جو مولانا سے خار کھاتے تھے ، کی پروا  نہ کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہو لیے اور ساہیوال میں سامان اتروایا اور سلیقے سے رکھا۔اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا ۔مسجد میں نماز پڑھی، بعد ازاں حافظ محمداسلم حنیف کھڑے ہوگئے اور مسجد کی انتظامیہ اور نمازیوں سے جذباتی انداز میں خطاب کرنے لگے اور کہا کہ مولانا عبدالرشیدراشد ہزاروی کی قدر کریں ،ان کے علم وفضل سے استفادہ کریں اور ان کے علمی مقام کے مطابق ان سے حسن سلوک سے پیش آئیں۔یہ کوئی الہامی گفتگو تھی جو دل سے نکلی اور دلوں میں اتر گئی۔اس وقت سے لے کر آج تک اس شہر کی جماعت نے ان الفاظ کی لاج رکھی ہے۔ مولانا نے بھی وفا نبھائی اور اسی شہر کے ہو کر رہ گئے۔      ؎
جس جگہ بھی تھکے ، وہ لیٹ گئے
ان فقیروں کے سَو ٹھکانے ہیں
یاد رہے حضرت صوفی محمد عبداللہؒ ۲۸ اپریل ۱۹۷۵ء کو فوت ہوئے تو ان پر بہت سے اہل قلم نے مختلف رسائل و جرائد میں مضامین لکھے لیکن سب سے زیادہ جاندار اور معلوماتی تحریر مولانا ہزاروی ؒ کی تھی جو ہفت روزہ ’’الاسلام ‘‘میں ۲ جون ۱۹۷۸ء کے پرچے میں چھپی۔مولانا ہزارویؒ نے ان کی خدمت میں تقریباً ۲۸ سال گزارے تھے۔
اب مولانا نے ساہیوال شہر اور گردو نواح میں دعوت وتبلیغ کے ساتھ ساتھ اہل حدیث مساجد کی تعمیر میں خصوصی تگ و دو کی۔ کچھ عرصہ بعد دارالحدیث اوکاڑہ میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہوئے۔آپ روازنہ ساہیوال سے اوکاڑہ آتے اور عصر کے بعد روانہ ہو جاتے۔
۱۹۸۴ء کی بات ہے ،راقم نے گورنمنٹ ملٹری فارم ہائی سکول اوکاڑہ میں PTCکی ٹریننگ کلاس میں داخلہ لے لیا۔ وساوے والا سے روزانہ ملٹری فارم تک آناجانا ممکن نہیں تھا اور اوکاڑہ شہر میرے لیے بالکل اجنبی تھا۔ پھرتے پھراتے دارالحدیث میں جا نکلا۔ مولانا ہزاروی ؒ کا نام سن رکھاتھاکیونکہ اس سے پیشتر ایک دفعہ وہ ہمارے گائوں میں خطاب کے لیے تشریف لاچکے تھے۔مولانا عصر کے بعد دارالحدیث سے نکلے، میں پیچھے پیچھے ہو لیا۔آپ ساہیوال روڈ پر پہنچے ،یہاں سے انہوں نے بس میں سوار ہونا تھا تو میں نے ہمت کی ،سلام عرض کیا اور اپنی پریشانی کا اظہار کیا اور درخواست کی کہ اگر وہ مولنا عبداللہ یوسف ؒصاحب ناظم دارالحدیث سے سفارش فرمادیں تو مجھے اپنے کورس کے لیے ایک سال تک دارالحدیث میں رہائش کی سہولت مل سکتی ہے۔آپ مسکرائے اور شفقت سے اپنا دستِ مبارک میرے سر پر پھیرنے لگے اور فرمایا کہ میں کل مولانا عبداللہ یوسف صاحب سے اس سلسلہ میں بات کروں گا ،اللہ خیر کرے گا۔یوں دوسرے دن دارالحدیث میںمجھے قیام کی اجازت مل گئی۔اس طرح ایک سال تک اس ادارے میں قیام پذیر رہااور ہر ماہ ایک معمولی سی رقم اس ادارے کے فنڈ میں جمع کراتا رہا۔صبح کا ناشتہ ، دوپہر اورشام کا کھانا ادارے کے باورچی چاچا محمد شفیعؒ کے ہاتھ سے پکا ہوا کھاتا۔اس دوران تقریباً روزانہ مولاناکو سلام کرنے کی سعادت نصیب ہوتی رہی۔
مولانا عبدالرشید راشد ہزارویؒ کا ایک بیٹا عبدالرئوف جانبازؔ جو جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن میں زیرتعلیم تھا ۳۰ ستمبر ۱۹۸۹ء کو افغانستان میں روسی فوج سے جہاد کرتے ہوئے جا م شہادت نوش کر گیا۔ انہوں نے اپنے اس ہونہاربیٹے کا داغِ مفارقت بڑی استقامت سے برداشت کیااورحسبِ طبع اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھی۔ مولانا کے دوسرے فرزندگرامی عبدالغفور یورشؔ انہی دنوں دارالحدیث میں زیرتعلیم تھے۔ان سے میری آشنائی دوستی میں بدل گئی۔حصول تعلیم کے بعد وہ سرکاری سکول میں ٹیچر تعینات ہوگئے اور تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔مولانا ہزارویؒ کی ان دنوں کی یادیں ایک سرمایہ کی طرح میرے قلب و جاں میں محفوظ ہو گئیں۔میں نے ان کی خدمت میں ایک عریضہ ارسال کیا تھا انہوں نے باکمال شفقت جواباً مکتوب سے نوازا۔ ۶ دسمبر ۱۹۸۶ء کا لکھا ہوا ان کا یہ مکتوب گرامی میرے پاس ابھی محفوظ ہے۔مختلف اوقات میں ان کی زیارت ہوتی رہی، میں سلام عرض کرتا وہ بڑی شفقت سے نوازتے۔میرے چچاجان میاں نورمحمدؒفوت ہوئے تو ان سے جنازہ پڑھانے کی درخواست کی گئی ،سخت گرمی میں عین دوپہر کے وقت تشریف لائے اور جنازہ پڑھایا۔میری گزارش و دعوت پر ایک دفعہ وساوے والا میں سالانہ کانفرنس سے خطاب کے لیے تشریف لائے اور نہایت عالمانہ خطاب فرمایا۔ جماعت سے تنظیمی وابستگی ان کا ہمیشہ شعار رہا ۔ایک دور ایسا بھی گزرا ہے اور سبھی اس سے واقف ہیں کہ بڑے جذباتی نعروںسے پاکستان کا پورا ماحول گرمادیا گیا تھا۔جماعت میں اہل علم کے لیے یہ نعرے ایک آزمائش سے کم نہ تھے لیکن مولانا ہزاوری ؒ بڑی بصیرت کے ساتھ جماعت سے وابستہ رہے۔مرکزی جمعیت اہلحدیث صوبہ پنجاب کے مرکزی عہدہ دار رہے، انہیں مرکزی قیادت کا بھرپور اعتماد حاصل تھا۔اللہ ان کی حسنات قبول فرمائے اور اعلیٰ علیین میں گوشۂ مغفرت نصیب کرے۔آمین ۔ ابھی آنسو پونچھے بھی نہ تھے کہ امام التجویدحضرت قاری محمد یحییٰ رسولنگری کی وفات کی خبر ملی۔یکے بعد دیگرے ان دو شخصیات کا ساہیوال سے اٹھ جانا پورے ماحول کو سوگوار کر گیا۔ چند دن قبل ہزارہ سے نسبت رکھنے والی ایک اور شخصیت جو پاکستان کی علمی وجاہت رکھنے والوںمیں ایک نمایاں مقام رکھتی تھی یعنی شیخ الحدیث والتفسیر مولانا عبدالحمید ہزاروی ؒ داغِ مفارقت دے گئے تھے۔
یہ سطور زیرتکمیل تھیں کہ حضرت پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی ؒ بھی عازم فردوس ہوگئے،اب خود بتائیں زبان و قلم میں کیا سکت رہ گئی ہے کہ ان روح فرسا جدائیوں پر تبصرہ کیا جائے۔ غم کے محسوسات کا نا قابل بیان عالم طاری ہے۔مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کو عام الحزن کا سامنا ہے۔علمی دنیا پرایک سکتہ سا طاری ہو گیا ہے۔ ان سینئر شخصیات کے اٹھ جانے سے علمی میدان میں بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ایسی شخصیات انعام کے طور پر قوموں کو عطا کی جاتی ہیں۔ان میں سے ہر ایک کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ     ؎
ایک سورج تھا ستاروں کے گھرانے سے اٹھا
آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages