شیخ الحدیث مولانا محمد یونس بٹ 20-14 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 15, 2020

شیخ الحدیث مولانا محمد یونس بٹ 20-14

شیخ الحدیث، حضرت مولانا، محمد یونس بٹ، وفیات، شخصیات

شیخ الحدیث مولانا محمد یونس بٹ a

تحریر: جناب مولانا فاروق الرحمن یزدانی
پیدائش وتعلیم:
آپ ۴ اپریل ۱۹۵۶ء کو ساہیوال میں پیدا ہوئے ۔  آپ کے والد محترم کا اسم گرامی محمد یعقوب اور دادا کا نام محمد عبداللہ تھا۔آپ کے اباء واجداد امرتسر کے رہنے والے تھے۔ ہجرت کر کے پاکستان آئے تو ساہیوال کو اپنا مسکن بنا لیا۔
آپ کا گھرانہ مذہبی اور دیندار سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ نے ہوش سنبھالا تو آپ کے محلے کی مسجد میں آپ کو حافظ مظفر خانd کے حلقہ شاگردی میں دے دیا گیا جہاں آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے دس پارے بھی حفظ کئے اور ساتھ ہی عصری تعلیم بھی جاری رکھی۔ آپ نے ۱۹۷۱ء میں میٹرک کرنے کے بعد جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں داخلہ لیا اور کبار اساتذہ حافظ محمد عبداللہ بڈھیمالوی‘ حضرت مولانا سلطان محمود محدث جلالپوری‘ مولانا حافظ احمد اللہ بڈھیمالوی‘ مولانا محمد صدیق کرپالوی‘ مولانا علی محمد سلفی‘ حافظ محمد بنیا مین طور‘ حافظ عبدالستار حسن‘ مولانا قدرت اللہ فوق‘ مولانا عبدالسلام کیلانی‘ مولانا عبیدالرحمن مدنی‘ مولانا عبدالوہاب بلتستانی رحمہم اللہ اجمعین‘ مولانا مولانا حافظ ثناء اللہ مدنیd اور پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان اظہر المعروف ڈاکٹر بہاؤ الدینd کے سامنے مختلف علوم و فنون کے ساتھ ساتھ تفسیر واحادیث کی تعلیم کے لیے زانوئے تلمذ تہ کیا اور ۱۹۷۷ء میں سند فراغت حاصل کی۔ آپ چونکہ ماشاء اللہ بہت ذہین و فطین تھے اس لیے بعض کلاسیں ایک سال میں جمع کر کے مروجہ تعلیمی نصاب کو صرف چھ سال میں مکمل کر لیا۔
اعلیٰ تعلیم:
اسی سال آپ کا داخلہ کلیہ شرعیہ مدینہ یونیورسٹی سعودی عرب میں ہو گیا اور آپ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ وہاں بھی آپ نے خوب محنت کی اور عالم اسلام کی بڑی بڑی عظیم شخصیات سے کسب فیض کیا۔ خصوصاً ڈاکٹر حسن راشد بلتستانیa‘ الشیخ الاستاذ ابوبکر الجزائریa‘ سماحۃ الشیخ عبدالمحسن محمد العباد‘ فضیلۃ الشیخ عبدالحلیم حسن ہلالی‘ اور فضیلۃ الاستاذ الشیخ محمد مختار الشنقیطیa سے شرف تلمذ حاصل کیا۔
تدریس:
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے ۱۹۸۴ء میں سند فراغت حاصل کرنے کے بعد آپ وطن واپس تشریف لائے تو پیکر اخلاص محترم میاں فضل حقa کی درخواست پر جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں پڑھانا شروع کر دیا۔
آپ کی تدریس کی ایک خوبی یہ تھی کہ آپ نے ابتدائی کلاسوں سے پڑھانا شروع کیا اور صحیح بخاری شریف تک درس دیتے ہوئے منصب ’’شیخ الحدیث‘‘ پر پہنچے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ تمام علوم میں ماہر اور تجربہ کار تھے نیز آپ کی تدریس میں خود اعتمادی اور ٹھہراؤ تھا بلکہ آپ نئے مدرسین حضرات کو بھی یہی تلقین کرتے تھے کہ ابتداء ہی میں بڑی کتابیں پڑھانے کا لالچ نہیں کرنا چاہیے بلکہ چھوٹی کتابوں اور ابتدائی کلاسوں سے آغاز کرنا چاہیے اور پھر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے محنت کر کے بلندی تک پہنچنا چاہیے۔
مجھے اگرچہ آپ سے باقاعدہ شرف تلمذ تو حاصل نہیں لیکن عرصہ بیس سال کی رفاقت نے یہ بات سمجھائی کہ آپ کا انداز تدریس انتہائی سہل اور اعتدال پر مبنی تھا۔ نہ تو آپ انتہائی اختصار کرتے کہ طلبہ تشنہ تکمیل رہ جائیں اور نہ ہی غیر ضروری طوالت اختیار کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا‘ آپ نے بھی اپنی خداداد صلاحیتوں کو ادارے اور طلبہ کی بہتری کے لیے ہی صرف کیا اور ساری زندگی اسی ادارے کی خدمت اور تعمیر و ترقی میں لگا دی۔
آپ طلبہ کو نہ صرف کہ نماز کے لیے بیدار کرتے بلکہ وقتاً فوقتاً اپنے پندونصائح کے ذریعے انہیں نیکی پر انگیخت بھی کرتے رہتے۔
ادارہ ا لنادی الاسلامی: آپ تعلیم و تدریس کے علاوہ طلبہ کی غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی ان کی خوب حوصلہ افزائی کرتے اور اپنا ہر ممکن تعاون مہیا کرتے۔ آپ نے طلبہ میں تقریر وخطابت کا شوق اور نکھار پیدا کرنے کے لے ’’النادی الاسلامی‘‘ کے نام سے پلیٹ فارم مہیا کیا اور آپ بنفس نفیس خود نگرانی و سرپرستی فرماتے رہے۔ بعد ازاں اسے وسعت دیکر ادارے کی شکل دی گئی اور اس کا مدیر منتظم فضیلۃ الشیخ مولانا محمد اکرم مدنیd کو بنایا گیا اور اس کا نام ’’ادارہ النادی الاسلامی‘‘ رکھا گیا۔ اس ادارے کے زیر انتظام طلبہ میں تقریری و تحریری مقابلے‘ مضمون نویسی اور مباحثے و مناظرے کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں دور حاضر کے قدیم و جدید مسائل کو حل کرنے کے لیے طلبہ کو ہدف دیا جاتا ہے جس سے طلبہ میں تحقیق کی جستجو ‘ محنت کی لگن پیدا ہوتی ہے اور صلاحیتوں میںنکھا رآتا ہے۔ بعض اوقات طنز و مزاح اور مشاعرے کی مجالس بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ خصوصی طور پر سال کے آخر میں آل جامعہ کوئز پروگرام کا اہتمام کیا جاتا ہے جس کے روح رواں حضرت بٹ صاحب a ہی ہوتے۔
اس وقت عرصہ دراز سے ’’ادارہ النادی الاسلامی‘‘ کی ادارت ہردلعزیز شخصیت مولانا محمد ادریس سلفیd فرما رہے ہیں۔
وفاق المدارس السلفیہ:
بٹ صاحب مرحوم جامعہ میں بہت سے انتظامی معاملات میں بھی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ خصوصا دفتری امور آپ بڑے احسن طریقے سے نمٹاتے تو آپ کی حسن کارکردگی کو دیکھ کر ۱۹۸۶ء میں وفاق المدارس السلفیہ پاکستان کا مرکزی دفتر جامعہ سلفیہ میں منتقل کر دیا گیا اور اس کے مدارالمہام مولانا محمد یونسa کو مقرر کر دیا گیا۔
آپ نے اس کے پورے ریکارڈ کو نہ صرف مرتب کیا بلکہ ہر ایک صنف کے الگ الگ رجسٹر بنائے اور اس کی ضروری درجہ بندی کی۔ خصوصاً اس کے نظام امتحان کو ایک خاص انداز سے منظم کیا اور پھر اپنے ان اصولوں پر ہمیشہ کا ر بند رہے۔ آپ پرچہ جات کی تیاری‘ امتحانات‘ پھر ان کی مارکنگ اور رزلٹ کے معاملے میں کسی قسم کی مداہنت اور لاپرواہی برادشت نہیں کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاق المدارس السلفیہ کی اسناد کو نہ صرف سرکاری اداروں میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ بھری مجلسوں میں دوسرے وفاقوں کے ذمہ داران کے سامنے حکومتی اہلکار وفاق المدارس السلفیہ کے حسن انتظام کی مثالیں دیتے اور اس کی اسناد کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور حاملین مسلک اہل حدیث کی للہیت ‘ تقویٰ و پرہیزگاری‘ دیانت و امانت کے ساتھ ساتھ مولانا محمد یونس بٹa کی محنت و لگن ‘ اصول پسندی اور کڑی نگرانی کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کی بہترین جزاء عطا فرمائے اور ادارے کو مزید عزتوں سے نوازے۔ (آمین)
تصنیف وتالیف:
حضرت الشیخ بٹ صاحبa نے اگرچہ اپنی بعض دیگر مصروفیات کی وجہ سے وسیع پیمانے پر تصنیف و تالیف کا کام نہیں کیا لیکن آپ اس کا عمدہ ذوق رکھتے تھے اور جتنا کیا وہ ماشاء اللہ خوب کیا۔ آپ نے ’’صفات الامربالمعروف ونہی عن المنکر‘‘کا اردو ترجمہ ’’راہ حق کے تقاضے‘‘ کے نام سے کیا ہے۔ اسی طرح ایک اور عربی کتاب ’’السیرۃ النبویہ‘‘ مصنفہ الشیخ علی محمد جلالیa کے کچھ حصے کا اردو ترجمہ کر کے اسے ’’سیرت النبیe‘‘ کا نام دیا ہے۔ یہ دونوں کتابیں معروف عالمی اشاعتی ادارے ’’دارالسلام لاہور‘‘ نے شائع کی ہیں ۔ آپ دیگر علوم وفنون کی مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ ’’علم الفرائض‘‘ میں تو گویا امام مانے جاتے تھے۔ چنانچہ آپ نے ’’علم میراث‘‘ کی گتھیوں کو سلجھانے کے لیے بھی ایک کتاب مرتب کی ہے جو کہ ابھی تک طباعت کی منتظر ہے۔ امید ہے کہ اسے جلد ہی جامعہ سلفیہ کی جانب سے شائع کیا جائے گا۔ اسی طرح آپ نے کئی ایک اہم عناوین پر مضامین لکھے اور کئی ایک کتب پر مقدمے اور تقاریظ تحریر فرمائیں۔
خطابت:
آپ کہنہ مشق ‘ تجربہ کار اور ماہر استاد ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین مصنف اور بڑے مؤثر خطیب بھی تھے۔ آپ نے فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا محمد داؤد مدنیa کے بعد جامعہ سلفیہ کی مسجد میں مستقل خطبہ جمعہ ارشاد فرمانا شروع کیا تو آپ کی خطابتی صلاحیتیں نکھرنا شروع ہوئیں اور دن بہ دن اس کے رنگ میں نکھار آتا گیا۔ حتیٰ کہ جامعہ کی مسجد اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگیٔ داماں کا شکوہ کرنے لگی۔ قرب وجوار سے اہل حدیث وغیر اہل حدیث حضرات کی کثرت آپ کے خطبات میں شریک ہونے لگی جن میں آفیسرز‘ وکلاء‘ ڈاکٹر اور پروفیسر حضرات بھی شامل تھے۔ بہت سوں کے عقیدے اور عمل و کردار میں واضح تبدیلی آئی اور وہ صراط مستقیم پہ گامزن ہو گئے۔
واعظ پر تاثیر:
خطبات جمعہ کے علاوہ آپ مختلف مقامات پر علمی و تحقیقی خطابات و مقالات کے علاوہ عوامی تقاریر اور دروس بھی ارشاد فرماتے‘ آپ کا عمومی طور پر موضوع ’’حقوق العباد‘‘ ہی ہوتا۔ اگرچہ آپ کوئی لجاجت والا انداز اختیار نہیں کرتے تھے بلکہ رسول اللہe کی سنت کے مطابق بڑے بارعب انداز اور دھیمے مزاج میں جب لوگوں کو ان کے ذمہ حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ فرماتے اور آخرت میں اس کی جواب دہی کا احساس پیدا کرتے تو بسا اوقات آپ کی آواز بھرا جاتی اور آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے۔ سامعین میں بھی کوئی آنکھ ایسی نہ ہوتی جو نم نہ ہو اور کوئی وجود اور جسم ایسا نہ ہوتا جس پر رقت طاری نہ ہوتی ہو۔
شخصیت وکردار:
آپ کی شخصیت بڑی با رعب تھی اور آپ کے صاف ستھرے اور اجلے کردار نے اس کو مزید پُروقار بنا دیا تھا۔ آپ کی خوبیوں کا احاطہ تو نہیں کیا جا سکتا لیکن چند ایک کو اپنے قارئین کے سامنے رکھنے کی کوشش کرتا ہوں شاید کہ کوئی ایک کسی ایک خوبی کو ہی اپنا کر اپنے اور معاشرے کے سنوار کا باعث بن  جائے۔
تواضع وانکساری:
باوجود اس بات کے کہ آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ ‘ ایک بڑی جامعہ کے روح رواں اور وفاق المدارس السلفیہ جیسے ادارے کے کرتا دھرتا تھے اور پھر دنیاوی لحاظ سے بھی آپ مالی طور پر آسودہ حال تھے ‘بحمد اللہ تعالیٰ۔ عام آئمہ و خطباء یا مدرسین کی طرح محتاج نہیں تھے لیکن عاجزی و انکساری کا یہ عالم تھا کہ جامعہ میں کسی طالب علم نے بٹھا لیا یا کھڑے کھڑے ہی مسئلہ پوچھ لیا تو کبھی حرف انکار زبان پر نہیں لاتے تھے اور نہ ہی اکتاہٹ کا اظہار کرتے ۔
کوئی دعوت دیتا اگر ممکن ہوتا تو ضرور تشریف لے جاتے‘ کسی کی غربت یا سادگی کو وجہ انکار نہ بناتے تھے۔ پھر جہاں میزبان نے بٹھا دیا یا جو کچھ بھی جس انداز میں پیش کر دیادستر خوان سے ضرورت کے مطابق تناول ضرورفرماتے اور میزبان کو قطعا یہ احساس نہ ہونے دیتے کہ کوئی ڈش ’’مہمان‘‘ کو پسند نہیں بلکہ اپنے ساتھ شریک طعام دوستوں اور بعض اوقات شاگردوں کو بھی پلیٹیں وغیرہ تھما دیتے اور کھانے کی ڈشیں ان کے قریب کرتے تاکہ ان کو کوئی حجاب نہ رہے اور وہ بلا جھجک خوب سیر ہو کر کھاناکھا لیں۔
خوشی و غمی کے مواقع پر حالات کی نزاکت کا پورا خیال رکھتے اور اپنے وقار کا تحفظ کرتے ہوئے شریک سفر افراد سے دوستانہ ماحول بنانے کی کوشش کرتے خواہ مخواہ اپنے آپ کو ایسے خول میں بند نہیں کر لیتے تھے کہ دوسرے اجنبیت محسوس کریں۔
مہمان نوازی:
یہ ایک ایسا وصف ہے جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولe نے بہت پسند فرمایا ہے۔ آج یہ وصف علماء کرام میں بہت کم رہ گیا ہے۔ الاماشاء اللہ! حالانکہ یہ خوبی خطیب و مبلغ کو تبلیغ کے لیے بہت ہی زیادہ معاون ثابت ہوئی ہے۔ اس لیے علماء کرام کو خصوصاً یہ وصف اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے‘ اس کے لیے ضروری نہیں کہ بہت پُرتکلف ضیافت ہو بلکہ حالات و موسم اور اپنی بساط کے مطابق سادہ و مختصر بھی ہو تو اللہ تعالیٰ برکت فرمائے گا۔ حضرت بٹ صاحب مرحوم میں یہ خوبی تھی کہ دفتر میں بھی اکثر اوقات دوستوں کی دعوت کرتے رہتے اور کوئی نہ کوئی موقعہ مل بیٹھنے کا پیدا کر لیتے۔ کئی مرتبہ آپ گھر میں بھی مدعو کرتے اور دوسروں کی آسانی اور ضرورت کا بہت زیادہ خیال رکھتے۔
صاف گوئی:
اللہ تعالیٰ نے آپ کو گوناگوں خوبیوں سے نوازا تھاجس میں ہر ایک خوبی دوسری سے بڑھ کر تھی لیکن آپ کی جس خوبی نے مجھے کم از کم بہت متاثر کیا اور میں آپ کی شخصیت کے اجلے پن کا گرویدہ ہو گیا وہ تھی آپ کی ’’صاف گوئی‘‘ اور یہ خوبی شاید آپ کی ہزاروں خوبیوں پہ بھاری تھی۔ جامعہ کا معاملہ ہو یا وفاق المدارس کا‘ دینی مسئلہ ہو یا دنیا وی آپ دوٹوک اور صاف بات کر دیتے‘ اگر کسی کا کام ہو سکتا ہے تو ٹال مٹول نہیں کرتے کہ بلا وجہ اس کو لیٹ کر دیا یا چکر لگواتے رہے اور انتظار کی سولی پہ لٹکا دیا اور اگر کام نہیں ہو سکتا یا کرنا نہیں تو پھر بھی لگی لپٹی رکھے بغیر صاف جواب دے دیتے کہ یہ کام نہیں ہو گا۔ تاکہ دوسرا آدمی آس ‘ امیدمیں اپنا وقت ضائع نہ کرے کوئی متبادل حل تلاش کرلے۔
اس سے معلوم ہوا کہ آپ کو سائلین کی مجبوریوں کا پورا پورا احساس تھا‘ آپ خود بھی اس کا اہتمام کرتے کہ اس کا وقت ‘ پیسہ بچے اور وہ پریشان نہ ہو اور اپنے عملے کی بھی نہ صرف یہ کہ تربیت کرتے بلکہ انہیں اس بات کی تلقین بھی کرتے تھے ۔
علالت ووفات:
۲ جون بروز پیر قاری محمد یحییٰ رسولنگریa کے جنازے سے واپس آتے ہوئے جامعہ سلفیہ میں آیا تو معلوم ہوا کہ مولانا محمد یونس صاحب کی طبیعت خراب ہے۔ راقم نے آپ کے بیٹوں عمیر یونس اور عمار یونس کے ذریعے عیادت کی اجازت چاہی تو شفقت فرماتے ہوئے اجازت مرحمت فرمائی۔ چنانچہ بعد نماز مغرب حضرت شیخ الحدیث حافظ عبدالعزیز علویd کی معیت میں حاضر خدمت ہوا تو بڑے مطمئن تھے اور صحت درست ہونے پر خوش بھی۔ ماشاء اللہ خود اندر سے معمول کے مطابق تیز تیز چل کر تشریف لائے اور شرف بازیابی بخشا۔ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد میں نے خود ہی اجازت طلب کی تو اپنے لیے دعا کا کہتے ہوئے خود بھی دعائیں دیتے ہوئے رخصت کیا۔ مگر اچانک ۴ جون جمعرات کو تشویشناک خبریں آنے لگ گئیں لیکن رات تک طبیعت سنبھل گئی اور ہر طرف سے اطمینان کا اظہار ہونے لگا۔ صبح فجر کے بعد عمیر بھائی کو فون کیا تو ملے جلے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ پہلے سے طبیعت بہتر ہے بس دعاؤں کی ضرورت ہے۔
ہوا یوں کہ شیخ تقریباً پونے سات بجے ہشاش بشاش ہو گئے سب کا حال احوال پوچھا حتی کہ ہسپتال کے بل کے متعلق بھی استفسار کیا کہ ادا کر دیا گیا ہے یا نہیں؟ اور اپنے لیے ناشتہ لانے کا کہا کہ بھوک لگ رہی ہے کچھ کھلائیں پلائیں‘ سب راضی خوشی حکم کی تعمیل میں لگ گئے تو تقریباً سات بج کر ۱۲ منٹ پر جلدی سے اپنے اللہ کے حضور پیش ہو گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون!
آپ سے تعلق رکھنے والا ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ آپ میرے ساتھ خصوصی محبت فرماتے تھے یقینا میرا بھی یہی معاملہ ہے کہ بہت سے معاملات میں میری توقع سے بڑھ کر اعتماد کر کے اپنے بڑے پن کا ثبوت دیتے ہوئے حوصلہ بڑھاتے تھے۔ یوں میرے لیے یہ سعادت کی بات ہے کہ آپ کے آخری لمحات میں بھی اللہ وحدہ لا شریک نے مجھے حضرت شیخ محترم کو غسل اور کفن دینے کا موقعہ نصیب فرما دیا۔ اللہ پاک انہیں اسی طرح آخرت میں بھی پاک و صاف کر کے ان کی خطاؤں اور غلطیوں کو اپنی رحمت سے دھو کر صاف کر دے۔ (آمین ثم آمین)
جنازہ وتدفین:
باوجود وقت کی تنگی کے علماء اور طلبہ کا ایک جم غفیر تھا کہ جو جامعہ کی طرف رواں دواں تھا۔ تقریباً ۱۲ بجے تک مسجد کا تہہ خانہ‘ پہلی اور دوسری منزل لوگوں سے بھر چکی تھیں۔ نماز جمعہ سے فارغ ہوئے تو مسجد کے ساتھ ساتھ جامعہ کے تمام پلاٹ اور برآمدے حتیٰ کہ راہداریاں بھی عوامی ہجوم کے سامنے اپنی تنگی داماں پہ شکوہ کناں تھیں۔
نماز جنازہ آپ کے دیرینہ ساتھی اور جماعت کی ہر دلعزیز شخصیت شیخ الحدیث والتفسیر‘ بقیۃ السلف حضرت مولانا حافظ مسعود عالمd نے  بڑی رقت سے پڑھائی اور اپنے مخلص ساتھی کو ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ کریم حضرت بٹ صاحب مرحوم کے لیے کی گئی تمام دعاؤں کو اپنی بارگاہ عالی میں شرف قبولیت سے نوازے ۔ تمام فوت شدگان علماء کرام و دیگر اہل توحید کی بخشش فرمائے اور جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے۔ جو حضرات زندہ ہیں اللہ تعالیٰ انہیں صحت و ایمان سے مزین لمبی زندگی عطا فرمائے۔ (آمین!)
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages