آلودگی سے پاک ماحول ... قومی ذمہ داری 20-15 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 22, 2020

آلودگی سے پاک ماحول ... قومی ذمہ داری 20-15

ھفت روزہ اھل حدیث، آلودگی سے پاک ماحول، قومی ذمہ داری

آلودگی سے پاک ماحول ... قومی ذمہ داری

تحریر: جناب پروفیسر محمد یٰسین ظفر
اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات بہت خوبصورت اور پر کشش بنائی ہے۔ اس دنیا میں ہزاروں جگہیں ایسی ہیں جو آلودگی سے پاک اورجنت نظیر ہیں۔ بلند و بالا درختوں کے جھنڈ‘ ابلتے چشمے‘ بہتے دریا‘ سرسبز شاداب پہاڑ‘ رنگ برنگے پھول ‘ قدرتی جھیلیں اور آبشاریں کائنات کے حسن کو دوبالا کر دیتی ہیں۔ زرخیز زمین‘ اناج اور پھل اگاتی دھرتی‘ انواع اقسام کے پھلوں کے باغات اور سبزیوں کے کھیت باعث راحت ہیں جہاں آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے سبزہ وہاں حد نظر تک صحراء ریت کے ٹیلے گرمی کا احساس دلاتے ہیں۔ فضائی پاکیزگی کے لیے بارش ‘ہوا‘ برف باری کسی نعمت سے کم نہیں۔ اس کائنات میں بادلوں کے سائے اور آگ برساتا سورج‘ چاند کی ٹھندی میٹھی روشنی خالق کائنات کے حسن تدبیر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ معاش کے لیے روشن دن اور راحت و سکون کے لیے اندھیری رات اس کائنات کا حصہ ہے۔ یکسوئی کی اکتاہٹ کے خاتمے کے لیے گرم ‘ سرد اور معتدل مواسم ذوق سلیم کے لیے ہیں ۔ فضاؤں میں اڑتے پرندے‘ زمین پر رینگتے کیڑے‘ جنگلوں میں موجود چوپاؤں‘ دودھ اور گوشت مہیا کرتے جانور‘ درندوں کی شکل میں شیر اور لکڑ بگڑ اس کائنات کے رنگ ہی تو ہیں۔ اللہ کریم نے اس کو بہت سلیقے سے بنایا۔ ہر چیز اپنے مقام پر جچتی ہے۔ اس لیے سورۃ الملک میں فرمایا:
﴿اَلَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ طِبَاقًا مَّا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ  ثُمَّ ارْجعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبُ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّہُوَ حَسِیْرٌ﴾ (الملک )
حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو انسانی ضرورتوں کے مطابق بنایا۔ ہر چیز اس کی اعلیٰ صناعی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فرمایا:
﴿وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰہَا وَاَلْقَیْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ وَاَنْبَتْنَا فِیْہَا مِنْ کُلِّ شَیْئٍ مَّوْزُوْنٍ﴾ (الحجر)
اللہ تعالیٰ نے زمین بچھائی اور پہاڑ گاڑ دیئے اور ہر چیز مناسب مقدار میں اگائی … اب انسان زمین پر آلودگی اور فضا کو کثافت زدہ کر رہا اور اپنے لئے بربادی کا سامان کر رہا ہے۔ جبکہ ارشاد ربانی ہے۔ ﴿لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِہَا﴾ اس قدر خوبصورت موزوں ماحول کو اپنے ہاتھوںفنا نہ کرو۔ اس لیے کہ اس میں تم خود اور آنے والی نسلیں زندگی گذاریں گی۔ ﴿ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ مَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاس﴾ سب سے بڑا فساد یہی ہے کہ ہم زمین فضا پانی کو آلودہ اور زہر آلود کر دیں۔ انسان ہی نہیں بلکہ حیوانات بھی اس سے متاثر ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بعض انسان دوست کیڑے مکوڑے پیدا کئے۔ مگر ہم کیڑے مار ادویات کا سپرے کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ انسان دوست کیڑے بھی مر جاتے ہیں اور پہلے سے زیادہ تباہی ہمارا مقدر بنتی ہے۔
انسانی زندگی کے لیے جہاں خوراک اور پانی ناگزیر ہے۔ وہاں تازہ ہوا آکسیجن بھی انتہائی ضروری ہے۔ یہ نعمت درختوں کے ذریعے ہمیں میسر ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی ہے آج ہم بے دریغ درختوں کی کٹائی کرتے ہیں۔ سالوں پرانے درختوں کو کاٹ کر اپنی ضروریات فرنیچر وغیرہ بناتے ہیں یا بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں لیکن اس کی جگہ ایک درخت بھی نہیں لگاتے۔ زمین کی خرابی اور بربادی کے ساتھ سیلاب کا بڑا ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔
درخت پھل دار ہوں یا بغیر پھل کے ہر حال میں بڑی نعمت ہیں۔ پھل دار ہماری خوراک میں حصہ دار بنتے ہیں اور ہمیں لذیذ اور وٹامن سے بھرپور غذا فراہم کرتے ہیں‘ بغیر پھل کے سایہ اور فضا کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ اسلام کے عروج کے دور میں ہمارے بیدار مغز اور دانشمند حکمران اس بات کا خصوصیت کے ساتھ اہتمام کرتے اور اہم جگہوں پر درخت کاشت کرتے۔ مثلاً اندلس میں قرطبہ شہر کو باغوں سے سجا دیا اور اس شہر کے قریب سے گزرنے والے دریا وادی الکبیر کے دونوں کناروں پر پھل دار اور سایہ دار درخت لگائے۔ جس کی وجہ سے مسافر سینکڑوں میل سایہ میں سفر کرتے اور ضرورت کے مطابق پھل کھاتے ۔ حکمرانوں کے اس ذوق کو دیکھ کر عوام کا بھی یہی مزاج بنا۔ انہوں نے اپنی جاگیروں میں بڑے شوق سے باغات لگائے۔ بلکہ شہروں میں اس کا بخوبی اہتمام کیا‘ گلیوں بازاروں میں درخت اگائے۔ مسلمانوں کی ان روایات کو مغرب میں آج بھی بنظر تحسین دیکھا جاتا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ فضائی آلودگی اور حرارت کو کم کرنے کے لے باقاعدہ منصوبہ بندی سے فوارے اور تالاب بنائے جاتے جن سے ہوا ٹکرا کر نہ صرف صاف ہو جاتی بلکہ ٹھنڈی اور فرحت بخش بھی! یہی کیفیت بغداد اور خلافت عباسیہ کے تحت بڑے شہروں کی تھی۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد کے ساتھ ہی یہ سلسلہ شروع ہوا۔ ہر بڑے شہر میں باغات لگائے جاتے۔ شالیمار باغ لاہور اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ جو آج بھی ہرا بھرا نظر آتا ہے۔ مغل حکمرانوں نے بھی تمام بڑے شہروں میں عوام میں یہ ذوق پیدا کیا باقاعدہ جنگلات لگائے جاتے اور ان میں جنگلی جانور پرورش پاتے‘ انگریزوں کی عمل داری شروع ہوئی تو انہوں نے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا۔ پنجاب میں نہری نظام قائم کیا تو اس کے دونوں کناروں پر درخت اگائے اور حدنظر تک یہ خوبصورت منظر نظر آتا۔ لیکن بدقسمتی سے کچھ عرصہ سے ٹمبرمافیا نے سرکاری افسران سے مل کر چند ٹکوں کی خاطر رات کے اندھیرے میں ان درختوں کو چوری کاٹا۔ یوں نہروں کے کنارے درختوں سے ویران ہو گئے۔
اسلام نے جا بجا ہمیں ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی تلقین کی ہے۔ اور انسانوں کے گزر گاہوں میں تکلیف زدہ چیزوں اور رکاوٹ پیدا کرنے سے منع کیا۔
آپe کا ارشاد گرامی ہے کہ: ایمان کی ستر شاخیں ہیں ان میں افضل ترین لاالہ الا اللہ اور ادنی اماطہ الطریق یعنی ایمان کی افضل شاخ لاالہ الا اللہ ہے جبکہ ادنیٰ راستے سے تکلیف کو دور کرنا ہے۔ زمانہ قدیم میں سڑکیں کچی ہونے کے باوجود اس قدر خراب نہ تھیں اور نہ ہی اس میں زیادہ گرد و غبار ہوتی لیکن آج پختہ سڑکوں میں نہایت بڑے گڑھے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار  کہ ان پر چلنا مشکل اور گردوغبار بھی اس قدر زیادہ کہ سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے جس سے سانس کی کئی بیماریاں پھیلتی ہیں۔
درختوں کو بلا وجہ کاٹنا یقینا جرم ہے‘ ماحول کو صاف رکھنے میں درخت بنیادی کردار ادا کرتے ہیں‘ اس لیے درخت لگانا ان کی پرورش اور نگہداشت کرنا بلا مبالغہ کار ثواب ہے۔ اس ضمن میں صحیح بخاری کی روایت ہے ۔ آپe نے فرمایا:
سیدنا انسt آپe سے بیان فرماتے ہیں: جب کوئی مسلمان درخت لگاتا ہے پھر اس سے کوئی انسان یا جانور فائدہ اٹھاتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ جاریہ بنتا ہے۔
سیدنا ابو درداءt شام دمشق میں تھے تو چند طلبہ علم حاصل کرنے کی غرض سے حاضر ہوئے۔ آپ اس وقت درخت لگا رہے تھے۔ طلبہ نے تعجب کیا اور عرض کی کہ حضرت! آپ صحابی رسولe ہو کر دنیاوی کام کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے آپe سے سنا جس شخص نے درخت لگایا اس سے کوئی انسان یا پرندہ فائدہ اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اجر عطا فرماتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ درخت لگانا محض دنیاوی کام نہیں بلکہ یہ تو آخرت کی کھیتی ہے‘ جو یہ کام کرتا ہے اجر و ثواب کماتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے ۔ سیدنا انسt بیان کرتے ہیں:
سات چیزیں ایسی ہیں جن کا اجر انسان کو موت کے بعد بھی ملتا رہتا ہے حالانکہ وہ قبر میں ہوتا ہے: علم سکھانے کا‘ نہر کھدوانے کا‘ کنواں کھدوانے کا‘ درخت لگانے کا‘ مسجد بنانے کا‘ قرآن مجید وراثت میں چھوڑنے کا۔ ایسی اولاد چھوڑ جائے جو اس کے لیے موت کے بعد استغفار کرتی ہو۔ (رواہ معجم ابی یعلی عن انس بن مالک: ۷۲۸۹)
صفائی اور پاکیزگی کا ماحول سے گہرا تعلق ہے۔ آج ہم بحیثیت مسلمان اس خوبی کو فراموش کر چکے ہیں گھروں بازاروں گلیوں سڑکوں کی صفائی کا تصور ختم ہو کر رہ گیا۔ ہر طرف گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں‘ مسلمانوں کی آبادی ہو اور کوڑا کرکٹ کے ڈھیر ہوں ۔ ہر طرف بدبو اور تعفن ہو یہ دو متضاد چیزیں ہیں۔ [یحب التوابین و یحب المتطہرین]
نبی کریمe کا ارشاد گرامی ہے: [الطہور شطر الایمان] پاکیزگی نصف ایمان‘ مسلمان کی عظمت یہ ہے کہ وہ خود صاف ستھرا پاکیزہ اور باوضو رہتا ہے۔ تو وہ کیسے اپنے ماحول کو پراگندہ بنا کر رہے گا؟ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اپنے گھروں گلیوں بازاروں دکانوںکو صاف ستھرا رکھیں اور غیر ضروری چیزوں کو سلیقے سے ٹھکانے لگائیں۔ یہاں ہم حکومت سے گذارش کریں گے کہ وہ بھی اپنا کردار ادا کرے اور صفائی کے نظام کو مؤثر بنائیں ۔ خاص کر کوڑے کے قائم کردہ ڈپو سے گندگی باقاعدہ اٹھائیں۔
پانی زندگی ہے اس کے بغیر زندہ رہنا مشکل ہے۔ مگر یہی پانی آج ماحول کی تباہی کا باعث ہے۔ ہماری لاپرواہی سے پانی کا بے تحاشا ضیاع ہو رہا ہے‘ گھروں میں پمپ لگے ہوئے ہیں جس سے پانی بڑے پریشر سے آتا ہے اور ہاتھ منہ دھونا ہو تو بھی نہانے جتنا پانی استعمال ہوتا ہے اور یہ سارا پانی باہر نالیوں یا گٹروں میں جاتا ہے جہاں اوور فلو ہوتا ہے‘ تب ہماری گلیوں میں سیلاب کا منظر دیکھائی دیتا ہے۔ تعفن بدبو کے علاوہ مچھر کی بہتات ہوتی ہے۔ لوگ خود ذمہ داری کا احساس کریں تو یہ کام ٹھیک ہو سکتا ہے‘ اخراجات بھی کم ہو جاتے ہیں اور ماحول بھی صاف ہو سکتا ہے۔
آج ہر شخص نے اپنی سہولت کے لیے گاڑی یا کم از کم موٹر سائیکل رکھی ہے‘ آبادی کے تناسب سے اس وقت موٹر وہیکلز بہت زیادہ ہے۔ سڑکوں پر ذرا گنجائش نہیں‘ ہر طرف ٹریفک کا ازدحام ہے۔ ہارن بجانے کا شور اور گاڑیوں کے دھوئیں نے سانس لینا دوبھر کر دیا ہے۔ یہ سب سے بدترین آلودگی ہے۔ جس کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ ہم پیدل چلنا اور سائیکل استعمال کرنے کو توہین سمجھتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ پٹرول جلنے سے جو آلودگی پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بن رہی ہے وہ کتنی خطرناک ہے۔ اس لیے پورے معاشرے کے ذمہ داروں کی ذمہ داری ہے کہ آنے والی نسل اور معصوم پھول جیسے بچوں کو اس خطرناک آلودگی سے بچائیں اور کم از کم گاڑیاں استعمال کریں۔
یہ پڑھیں:    دم توڑتی امیدیں
آج دنیا کو سب سے زیادہ خطرہ اس مہلک اسلحہ سے ہے جس کے استعمال سے ایسی تابکاری پھیلتی ہے جو انسانیت کی بربادی کا سبب ہے۔ دنیا میں کسی نہ کسی جگہ یہ خطرناک ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں۔ افغانستان میں تقریبا چالیس سال لاکھوں ٹن بارود استعمال ہو چکا۔ افغانستان کا کوئی خطہ ایسا نہیں جو زہر آلود نہ ہوا ہو‘ تمام جدید اسلحہ وہاں آزمایا جا چکا ہے‘ اس کے خطرناک اثرات پڑوسی ممالک پر بھی پڑھتے ہیں۔ یہی حال عراق شام (سعودیہ) یمن  لیبیا اسرائیل فلسطین وغیرہ میں ہے اسلحے کے بے دریغ استعمال نے انسانوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق شام میں گذشتہ پانچ سالوں میں دس لاکھ لوگ ہلاک ہوئے اور اتنی ہی تعداد میں مفلوج ہوئے‘ یہی حال دیگر ممالک کا ہے۔ پھر اس اسلحہ کے استعمال سے صرف انسان ہی نہیں بلکہ اس علاقے میں پائے جانے والے حیوانات بھی متاثر ہوتے ہیں‘ ان کے چارے زہرآلود ہوتے ہیں جن کے کھانے سے ان کا دودھ اور گوشت نا قابل استعمال ہوتا ہے۔ سبزیاں پھل اور دیگر اناج انسانیت کے لیے ہلاکت خیز ہے۔ اسلحہ کے استعمال سے گرمی کی حدت میں بے پناہ اضافہ ہو ا ہے جس سے ماحول کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ اس لیے اگر دنیا یہ چاہتی ہے کہ ماحولیات کو بہتر اور انسان دوست بنایا جائے تو پھر اسلحہ ساز تمام فیکٹریوں کو بند کرنا ہو گا۔ جہاں کہیں جنگ کے امکانات ہیں انہیں اپنے اختلافات بات چیت سے حل کرنے چاہئیں تاکہ  اسلحہ کے استعمال سے جو خطرناک صورت حال پیدا ہوئی ہے وہ ختم ہو سکے۔
آخر میں ہم نہایت ادب سے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات و خواتین سے التماس کریں گے کہ وہ اپنا اپنا کردار ادا کریں اور ماحول کو انسان دوست بنانے کے لیے محنت کریں‘ سب سے بڑی ذمہ داری منبر و محراب پر آتی ہے۔ علماء کرام اور خطباء عظام سے بھی گذارش ہے کہ وہ ماحولیات کی اہمیت‘ اس کے لیے اسلامی تعلیمات کو اجاگر کریں اور بار بار لوگوں کو توجہ دلائیں کہ وہ اس کار خیر میں حصہ لیں  ۔ کثرت سے درخت لگائیں۔ صفائی کا خیال رکھیں‘ گھروں کی طرح اپنی گلیوں کو صاف رکھیں‘ پانی کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں گاڑیوں کا استعمال مجبوری میں کریں اور دنیا کو پر امن بنائیں۔ تاکہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہو اور دنیا اسلحہ سے پاک ہو جائے۔
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages