پاک سعودی تعلقات ... حقائق نامہ 20-15 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 22, 2020

پاک سعودی تعلقات ... حقائق نامہ 20-15

ھفت روزہ اھل حدیث، پاک سعودی تعلقات اور حقائق نامہ، حافظ شفیق کاشف

پاک سعودی تعلقات ... حقائق نامہ

تحریر: جناب حافظ شفیق کاشف
سعودی عرب اور پاکستان میں ہر سطح پر باہمی اعتماد، خیرسگالی، محبت اور غیر معمولی برادرانہ تعلقات استوار رہے ہیں۔ امت مسلمہ کے مفادات کی نگہبانی اوراتحاد ان مضبوط برادرانہ تعلقات کی اہم بنیاد رہی ہے۔ حجاز مقدس کی خصوصی کشش دونوں برادر ممالک کے عوام کو شیر وشکر کرنے میں ایک روحانی وجہ ہے۔ عوام کے اتحاد اور محبت سے پھوٹنے والے اس رشتے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کی قیادت کی سطح پر پختہ مفاہمت اور مشترکہ مفادات کے لئے باہمی حمایت موجود ہے۔
سعودی عرب ہمیشہ سے پاکستان کا بڑا حامی وپشتیبان رہا ہے۔ تاریخ کے مختلف نازک مراحل پر سعودی عرب نے بڑے بھائی کی طرح پاکستان کو کثیر معاشی تعاون اور ترقیاتی امداد فراہم کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ موجودہ وزیر اعظم عمران خان اقتدار میں آئے تو بھی یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے مدد کی پکار پر فورا لبیک کہا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی ایسی مشکل صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جہاںخسارے کی شرح مالی سال ۲۰۱۷ء-۲۰۱۸ کے لئے جی ڈی پی کے ۶۔۶ فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
اس مضمون کو پڑھیں:    سعودی حکمت عملی
سعودی عرب نے پاکستان کو درپیش سنگین اورفوری مالی امداد کا ادراک واحساس کیا اور فوری طور پر ۶ ارب ڈالرمالیت کے پیکیج کا اعلان کیاگیا۔ اس رقم میں سے نصف غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کو بڑھانے کے لئے تھی تاکہ پاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کیاجائے۔ معاشی تجزیہ نگاروں کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی۔ایم۔ایف) کی بھی شرط تھی کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو اس سطح پر لایاجائے جہاں پاکستان پر واجب الادا قرض ادائیگیوں کے توازن کو محفوظ بنایاجائے تاکہ مزید معاشی تعاون کی راہ ہموار ہوسکے اور دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹالا جاسکے۔
فروری ۲۰۱۹ء میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ اسلام آباد کے موقع پرسعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں مختلف شعبہ جات میں ۲۰ ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیاگیا۔ یہ واضح اور معلوم حقیقت ہے کہ جب کوئی ملک آپ کو مالی تعاون فراہم کرتا ہے، یا غیرملکی ذخائر کے توازن کے لئے نقد رقوم دیتا ہے تو مروجہ طریقہ کار کے تحت یہ اقدام عمل میں آتا ہے۔ ایک خاص مدت تک یہ پیشکش متعین ہوتی ہے۔ قرض اور ترقیاتی امداد کی مد میں جمع رقوم متعلقہ شرائط کے مطابق واپس کی جاتی ہیں۔
حال ہی میں سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات پر میڈیا میں طوفان اٹھایاجارہا ہے۔ دلچسپ مضامین اور بیانات کا جائزہ پیش کیاجارہا ہے۔ بعض نے موقع غنیمت جانا اور الزامات کی گرد آلودآندھیاں چلا کر دو برادر ممالک کے مضبوط تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ یہ ظاہر کرنے کی حماقت کی گئی کہ ہندوستان کے ساتھ تنازعہ جموں و کشمیرکے معاملے پر سعودی عرب پاکستان کی حمایت نہیں کرتا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ تجزیے، تبصرے اور بازی لیجانے کی ابلاغی ہوس نے لکھاریوں کو یہ بھی عقل نہ دی کہ قلمی گولہ باری کا نشانہ آپ کا قومی مفاد ہے۔ دوسری جانب سعودی بھائیوں کے نزدیک بھی یہ تاثر حقیقت پر مبنی نہیں۔ اس قسم کے نظریات اور خیالات غلط اور بے بنیاد ہیں۔ گزشتہ دو برس کے دوران بالخصوص تنازعہ جموں وکشمیر کے حوالے سے سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی موقف کی حمایت کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ سچائی کیا ہے؟ اور افسانہ طرازی کتنی ہے؟
اس مضمون کو پڑھیں:    تاریخ ساز امن معاہدہ
۲۰۱۹ء میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھنے اورجموں وکشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت کی افواج میں جھڑپوں کے آغاز کے ساتھ ہی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود نے اپنے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کو اسلام آباد بھجوا کر پاکستان کی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
اس حقیقت کا اعتراف خود پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات اور موجودہ حکومت کے ترجمان فواد چوہدری نے ۴ مارچ ۲۰۱۹ء کواپنے بیان کے ذریعے کیاکہ سعودی عرب نے پاکستان اور بھارت کے مابین فوجی کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فواد چوہدری نے ٹیلیویژن پر نشر ہونے والے بیانات میں کہا کہ سعودی عرب نے دیگر ممالک، جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور امریکہ کو متحرک کیا کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ تناو  بڑھانے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
۵ اگست ۲۰۱۹ء کو بھارت نے غیرقانونی طورپر اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے یک طرفہ اور غیرقانونی اقدامات کئے۔ بھارت نے اپنے آئین کی شق ۳۷۰ اور ۳۵ اے ختم کی تو اس پر ایک نیا طوفان برپاہوا۔ اس صورتحال پر وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو فون کیا۔ سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کی اطلاع کے مطابق اس رابطے میں خطے میں ہونے والی پیشرفت اور کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے خطے میں کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے تنازعہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی فیصلے پر بیان جاری کیا جس میں خطے کی صورتحال میں ہونے والی اس پیشرفت پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے کے عوام کے مفادات کو مدنظر رکھنے پر زور دیاگیا۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان تناؤ کی ایک نئی لہر ابھرنے کے بعد اسی سال ستمبر میںسعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر اور متحدہ عرب امارات (یو۔اے۔ای)کے وزیر خارجہ اسلام آباد آئے تاکہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین تنازعہ پر قابو پایاجاسکے۔ ایک روزہ دورے کے دوران دونوں وزراء خارجہ نے وزیر اعظم عمران خان، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے علاوہ دیگر اہم حکومتی عہدیداران سے ملاقات کی۔
اس سے قبل وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اپنے آفیشل اکاو نٹ پر ٹویٹ کرچکے تھے کہ الجبیر اور عبداللہ بن زاید اسلام آباد پہنچ رہے ہیں تاکہ کشمیر کی خطرناک صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔ وزیراعظم پاکستان کے آفس نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں وزراء خارجہ نے ملاقات کے دوران پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کی اہمیت پر زور دیا اور یہ کہ ان کا یہ دورہ دونوں ممالک کی قیادتوں کی رہنمائی میں ہوا ہے۔ دونوں وزراء خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے اور برقرار رکھنے میں پاکستان کے کردار اور کوششوں پر بھی توجہ مبذول کروائی۔ انہوں نے موجودہ چیلینجز کا مقابلہ کرنے ، تناؤ کم کرنے، اور ایسے ماحول کو فروغ دینے کے عزم میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حمایت کا اعادہ کیا جس سے امن و سلامتی کو یقینی بنایاجاسکے۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیر قانونی اور جارحانہ اقدامات روکنے اور انہیں تبدیل کرانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالے۔
اس مضمون کو پڑھیں:    تحریک آزادی اور علماء اہل حدیث
یہ خبر بھی میڈیا کے بعض حصوں میں نمایاں ہوئی کہ سعودی عرب نے تنازعہ جموں و کشمیر کے معاملے پر اضافی اقدامات اٹھائے ہیں اور رواں سال کے آغاز میں سعودی عرب نے تنازعہ جموں وکشمیر پر بات کرنے کے لئے شوری کونسل کے اسپیکر کے ذریعے اسلامی ممالک کی پارلیمان (Parliaments) کے سربراہان کی کانفرنس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ مسلم اقوام کی نمائندہ پارلیمان کے ذریعے اس مسئلہ پر پیش رفت کے پس پردہ خاصی سوچ بچار کارفرما تھی۔ اس سے عوامی اور سرکاری سطح پر قبولیت عام ملتی، یہ مسئلہ پوری شدت سے دنیا میں اجاگر ہوتا جس کے نتیجے میں بالخصوص اسلامی ممالک کی سطح پر نئے امکانات اور اقدامات کی راہیں ہموار ہوتیں۔ لیکن پاکستان کی جانب سے یہ تجویز مسترد کردی گئی جس پر سعودی عرب انگشت بدنداں رہ گیا۔
رواں سال اگست میں وزیراعظم عمران خان نے الجزیرہ ٹی وی چینل کو انٹرویو میں پاکستان کی مدد کرنے میں سعودی عرب کے کردار کو تسلیم کیا اور کہا کہ سعودی عرب نے نہ صرف یہ کہ انتہائی مشکل معاشی بحران میں ہماری مدد کی بلکہ ماضی میں بھی جب کبھی پاکستان کو مشکل صورتحال کا سامنا ہوا، سعودی عرب ہماری مدد کرتا رہا ہے۔ ان کا مزید فرماناتھا کہ سعودی عرب ہمارے ان مشکل دنوں کا دوست ہے جن کا ہم نے سامنا کیا اور سعودی عرب میں تقریبا تیس لاکھ پاکستانی کام کر رہے ہیں۔
اسلامی تعاون تنظیم (او۔آئی۔سی) کے سعودی عرب کی گرفت میں ہونے کے تبصرے بھی سامنے آئے۔ یہ حقیقت پیش نظر رکھے بغیر الزامات کی یک طرفہ ژالہ باری کی گئی کہ یہ ایک خود مختار اسلامی بین الاقوامی تنظیم ہے جس کی سربراہی وقتا فوقتا مختلف اسلامی ممالک کی نامور شخصیات کرتی ہیں۔ یہ ادارہ سعودی عرب کے شہر جدہ میں واقع ہے۔ اس ادارے نے کشمیری عوام کی حمایت میں اپنا کردار ادا کیا۔ ۱۹۹۴ء میں جدہ میں تنازعہ جموں و کشمیر پر رابطہ کمیٹی قائم کی گئی۔ یہ کمیٹی متواتر اجلاس منعقد کرتی ہے۔ آخری مرتبہ اس کا اجلاس ۲۲ جون ۲۰۲۰ء کو منعقد ہوا تھا۔ جموں وکشمیر سے متعلق او۔آئی۔سی رابطہ کمیٹی نے وزرائے خارجہ کی سطح پر اجلاس منعقد کیا جس میں سعودی عرب، پاکستان، آذربائیجان، ترکی اور نائجر کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے اورتنازعہ جموں وکشمیر کے منصفانہ حل کے لئے آواز بلند کی۔
پانچ اگست ۲۰۱۹ء کے نئے تنازعہ کے آغاز سے او۔آئی۔سی رابطہ کمیٹی نے مسئلہ کشمیر پر مجموعی طور پر تین اجلاس منعقد کیے۔ ان میں سے دو وزرائے خارجہ کی سطح پر تھے جن میں کشمیریوں کے جائز حقوق کی حمایت میں بھارت کے خلاف سخت بیانات جاری کیے گئے۔
شہدائے کشمیر سے متعلق ایک اور کمیٹی بھی قائم ہے جس کا اجلاس وقتا فوقتا جدہ میں منعقد ہوتا ہے۔ اس کمیٹی کا آخری مرتبہ اجلاس ۱۳ جولائی ۲۰۲۰ء کو ہوا تھا جس میں قونصل جنرل خالد مجید اور اسلامی تعاون تنظیم (او۔آئی۔سی) کے مستقل مندوب جناب رضوان شیخ نے مہمانان خصوصی کے طور پر شرکت کی تھی۔ کشمیر کمیٹی کے ارکان بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قونصل جنرل خالد مجید نے کہا کہ جدہ میں کشمیر کمیٹی ایک مؤثر جہت ہے اور مسئلہ کشمیر کی آواز اٹھانے میں فعال کردار ادا کرتی ہے۔
اب ذرا اس امر کا جائزہ لینا چاہئے کہ تنازعہ جموں وکشمیر کے حوالے سے پاکستان کیا مطالبہ کر رہا ہے؟ اور اس کے مطالبے کی دیگر اسلامی دنیا کو کیا سمجھ آرہی ہے؟ پاکستان تنازعہ جموں وکشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت کے اپنے موقف پر زور دیتا ہے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقوق، امنگوں اور حق خودارادیت کی حمایت کرتا ہے۔ اس کا یہ موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی منصفانہ حل تلاش کیے بغیر جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن وسلامتی کا قیام ممکن نہیں، ایسا حل جو تنازعہ کے فریقین کے لئے قابل قبول ہو۔
پاکستان اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ بات چیت کے ذریعہ پر امن طریقے سے مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے اور امید رکھتا ہے کہ بھارت بھی مثبت جواب دے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تصفیہ طلب مسائل کو پر امن طریقے سے حل کیا جاسکے جن میں سرفہرست مسئلہ کشمیر ہے۔
اب غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کیا سعودی اور پاکستان کے موقف میں کوئی فرق ہے؟ در حقیقت سعودی عرب اور پاکستان کے خیالات، مطالبات اور تمام بیانات میں مکمل اتفاق رائے ہے۔ تنازعہ جموں وکشمیر پر پاکستان کے موقف، سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل سمیت مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کے مطالبات کی سعودی عرب حمایت کرتا ہے۔
تجزیہ کرنے سے البتہ ایک بات ضرور واضح ہوتی ہے کہ سعودی عرب کی پالیسی ایک لحاظ سے مختلف ہے۔ جذبات اور سستی شہرت کی خاطر تیر اندازی نہیں کی جاتی۔ بھارت کے ساتھ لداخ میں کیا ہوا لیکن ان کی حکومت کے الفاظ اور بیانات کا ہم پاکستانیوں کو ضرور تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ دوستوں میں اضافے کے بجائے انہیں اپنے ہی الفاظ کی آگ سے جھلس دیاجائے اور پھر شکوہ الزام بھی ان پر ہی دھر دیا جائے۔ کیا اسے دانائی پر مبنی سفارت کاری کہا جاسکتا ہے؟؟ سفارت کاری تو جوڑنے کا نام ہے۔ جہاں گنجائش نہ بھی دکھائی دے رہی ہو، وہاں نئے امکانات کے در کھولے جاتے ہیں، روٹھے منائے جاتے ہیں، ابہام اور غلط فہمیاں دور کی جاتی ہیں۔ سفارت کاری زبان وبیان اور موقف پر اتفاق کی راہیں کھوجنے کا مشکل راستہ ہے۔ اس کے لئے غیرجذباتی پن، دانائی اور دور اندیشی درکار ہے۔ وگرنہ نقصان ہمارا اپنا ہوتا ہے۔
اس مضمون کو پڑھیں:    مسلم نوجوان
ہر ملک اپنے مفاد اور نکتہ نظر سے مسائل اور امور دیکھتا ہے۔ یہی عالمی سفارت کاری کا مروجہ اصول ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ سعودی عرب کے اپنی خارجہ پالیسی اور ان کی قیادت کے عالمی وعلاقائی امور پر فہم ونظر کے بنیادی نکات کیا ہیں؟ سعودی قیادت تنگ نظر انفرادی مفادات یا کسی مخصوص نظریہ (Ideology) کی خاطر اسلامی اور عالمی امور کا استحصال کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔ ان کے نزدیک وطن، اپنے بھائیوں اور دوستوں کے مفادات کو اولین ترجیح حاصل ہے۔ سابقہ عشروں میں سعودی عرب کی یہی پالیسی رہی ہے جہاں الفاظ اور عمل میں مطابقت پائی جاتی ہے۔
اب اس پہلو پر بھی کچھ غور کرتے ہیں جو پاکستان کے او۔آئی۔سی سے الگ ہونے یا متوازی نسبتا چھوٹی تنظیم کی تشکیل کے کسی امکان کے بارے میں ہے۔ اس سے وقتی جذبات کی تسکین تو غالبا ہوجائے گی لیکن دانائی، دوراندیشی اور امت مسلمہ کے اجتماعی مفاد واتحاد کے بارے میں کئی سنگین مضمرات واثرات برآمد ہوں گے۔
سب سے پہلا تاثراسلامی ممالک کے اتحاد میں واضح دراڑ کی صورت میں ہمیں ایک بڑے نقصان کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب اسلامی دنیا کی ایک ایسے مسئلے پر تقسیم ہے جس پر دراصل سفارتی وسیاسی لحاظ سے موقف ایک ہے۔ خود وزیراعظم عمران خان نے کشمیر پر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں یہ بات کہی تھی کہ بھارت کے ساتھ جنگ کوئی آپشن نہیں۔کیا کوئی نیا اتحاد کشمیر کے معاملے پر بھارت کے ساتھ جنگ سے یہ مسئلہ سلجھائے گا؟ کیا یہ دانشمندی ہوگی کہ تنازعہ جموں وکشمیر پر اسلامی ممالک کی حمایت کو دانستہ اور بذات خود تقسیم کا تاثر دے کر نقصان پہنچایاجائے؟ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوگا کہ کشمیر پر حمایت میں اضافے کے بجائے موجودہ حکومت نے نیا تنازعہ اور تقسیم کو جنم دے دیا ہے۔کیا اس کے نتیجے میں پاکستان اور ہمارے کشمیری بھائی سب سے زیادہ متاثر نہیں ہوں گے؟ کیا اس کا سب سے زیادہ فائدہ بھارت کو نہیں ہوگا؟
دانش مند سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ شخصی وفروعی یا ممالک کے داخلی یا اندرونی سیاسی مفادات پر مبنی پاپولزم کے عکاس بیانات پر انحصار یقینا بڑی غلطی ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے انداز پر یہ سمجھنا مزید حماقت ہے کہ ضرورت کے وقت ان پر بھروسہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں ایک مثال یہ دی جارہی ہے کہ کچھ علاقائی ممالک اسرائیل کے خلاف سخت جذباتی بیانات دیتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ فلسطینیوںکی حمایت میں ایسا کرتے ہیں جو بظاہر دکھائی بھی دیتا ہے۔ لیکن حقیقت کی گہرائی میں اترا جائے تو یہ راز نہیں کہ ان ممالک کے صہیونی ریاست کے ساتھ مضبوط مراسم، سفارتی، تجارتی اور فوجی تعلقات بھی استوارہیں۔ کیا ہم توقع کر سکتے ہیں کہ ایسے ممالک فلسطین آزاد کرائیں گے؟
کچھ یہی انداز مسئلہ کشمیر کے معاملے میں بھی اپنایا جارہا ہے۔ حقیقت کیا ہے؟ کیا بیانات مقبوضہ خطوں کو آزاد کراسکتے ہیں؟ عملا ایسا نہیں۔ ارطغرل ڈرامہ چلانے سے کشمیر آزاد نہیں ہوگا؟ نہ ہی مخالفین کو کوئی نقصان پہنچایاجاسکتا ہے۔ یہ عوام کو حقائق اور دانائی سے بھٹکانے والی بات ہے۔ یہ انداز اپنی غلطی کے ادراک اور کسی بحران کے نتیجے میں اپنی اصلاح کے مثبت امکان اور اثر سے عوام کو دور کر دیتا ہے۔اسی کیفیت کے لئے یہ طعنہ بھی دیاجاتا ہے کہ فتوحات کی ہوس میں مبتلا اقوام بغیر کسی نتیجے کے بیانات کے سراب کے پیچھے چل پڑتی ہیں۔
پاکستان کے لئے سعودی حمایت نیا معاملہ نہیں۔ ہر پاکستانی دوسروں سے کہیں بہتر جانتاہے کہ دونوں ممالک میں یہ تعاون محض معیشت، تجارت اور سرمایہ کاری پہلو تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر دفاع اور سٹرٹیجک شراکت داری کے اہم ترین پہلوؤں تک وسیع ہے۔ دونوں برادر ممالک کے عوام کے مابین مضبوط اور قریبی تعلقات استوارہیں۔ نہیں بھولنا چاہئے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی سب سے بڑی تعداد میں میزبانی سعودی عرب کرتا ہے۔ ان محنت کش پاکستانی بھائیوں کے ذریعے پاکستانی معیشت کو سالانہ ساڑھے چار ارب کی ترسیلات زر کی اعانت ملتی ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے سعودی عرب کو ایک ایسا پر اعتماد دوست سمجھتا ہے جس پر ہر ضرورت اور آزمائش کے وقت وہ انحصار اور اعتماد کرسکتا ہے، اس کا سہارا لے سکتا ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے بعض مواقع پر ایسا فوری جواب بھی مل جاتا ہے جو بعض اوقات توقعات سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے۔دانائی کی راہ اپنائی جائے۔ سفارت کاری بچوں کا کھیل نہیں، دانائی اور دانشمندی کی راہ ہے۔
وما علینا الا البلاغ!
http://www.noorequraan.live/


1 comment:

Pages