درس قرآن وحدیث 20-15 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 22, 2020

درس قرآن وحدیث 20-15

ھفت روزہ اھل حدیث، درس قرآن وحدیث، خوف کے ذریعے امتحان

درسِ قرآن
خوف کے ذریعے امتحان
ارشادِ باری ہے:
﴿وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَۙ﴾ ( البقرة)
’’اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے‘ کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔‘‘
اہل اللہ پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور ہمیں اس کی طرف ہی پلٹ کر جانا ہے ۔مالی اور جانی نقصان ہوتا ہے تو فرمایا: کہا کرو: ﴿اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾ کیونکہ اس نقصان کے بدلے رحمت اور صلوات کا وعدہ فرمایا ہے تاکہ انسان ہر مادی نقصان اور خسارے کے لئے آمادہ رہے۔ یہ احساس رہے کہ یہ مادی نقصان اور خسارہ نہیں بلکہ رحمت اور صلوات کا ذریعہ ہے۔ جب انسان میں یہ شعور بیدار ہوجائے تو اس میں قوت تحمل پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ قوت عظیم قوت ہے جو اخلاق حسنہ کو جنم دیتی ہے جس سے ہر انسان آنے والی مصائب و پریشانی کو فراخ دلی سے قبول کرتا ہے۔ آج ہم جس آزمائش میں مبتلا ہیں جسے  ’’کورونا وائرس‘‘ کہا جاتا ہے اور جس کی وجہ سے ایک خوف کی سی فضا چہار سو چھائی ہوئی ہے۔ اگر انسان چاہے کہ سرخرو  ہو کر اس آزمائش سے نکلے تو ہمیں شرعی تعلیمات کو اپنانا ہوگا۔عالمی آفات، وبائی امراض، مختلف مصائب اور خطرات سے متعلق درج ذیل اصولی نوعیت کے شرعی احکام  وہدایات پر عمل ہی ایک مسلمان کی شایان شان ہے:
1       مستقبل کے حالات اور احوال کے بارے میں توکّل(اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسا کرنا) ایمانی کمال کی علامت اور جنّت میں بلاحساب پہلے پہل داخلے کی بشارت ہے۔اگر اللہ تعالیٰ پر توکّل اور بھروسے کے باوجود کوئی بلا ، وبا یا مصیبت لاحق ہوجائے، تو اُس پر صبر کیا جائے۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی معیّت اور عظیم اجر کا وعدہ ہے۔
2       تقدیرِ الٰہی پر بندۂ مومن کی راسخ الاعتقادی وہ مفید عقیدہ ہے، جو بڑی سے بڑی مصیبت کو خدائی فیصلہ قرار دے کر ذہنی طور پر قبول کرنے، سہہ جانے اور بے جا اشک ہائے حسرت ویاس بہانے سے محفوظ رکھتا ہے۔
3       اگر واقعی کسی کو کوئی بیماری لاحق ہوجائے، تو مریض کو مایوس نہیں بلکہ امید دلائی جائے اور اس کی ڈھارس بندھائی جائے‘ یہاں تک کہ اگر وہ مرضِ وفات میں ہو، تب بھی اُس سے اُمید افزا باتیں کرنے کا حکم ہے۔
درج بالا تعلیمات و ہدایات کی روشنی میں  ان ایام میں ہمیں اپنے طرز زندگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

درسِ حدیث
خوشخبری اور تحذیر
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
[عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللهِﷺ أَنَّهُ قَالَ: "إِذَا فُتِحَتْ عَلَيْكُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ، أَيُّ قَوْمٍ أَنْتُمْ؟" قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ عَوْفٍ: نَقُولُ كَمَا أَمَرَنَا اللهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ: "أَوْ غَيْرَ ذٰلِكَ، تَتَنَافَسُونَ، ثُمَّ تَتَحَاسَدُونَ، ثُمَّ تَتَدَابَرُونَ، ثُمَّ تَتَبَاغَضُونَ، أَوْ نَحْوَ ذٰلِكَ، ثُمَّ تَنْطَلِقُونَ فِي مَسَاكِينِ الْمُهَاجِرِينَ، فَتَجْعَلُونَ بَعْضَهُمْ عَلىٰ رِقَابِ بَعْضٍ".] (مسلم)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصw رسول اللہe سے روایت کرتے ہیں کہ آپe نے فرمایا: ’’جب فارس اور روم فتح ہو جائیں گے تو تم کیا کہو گے؟‘‘ سیدنا عبدالرحمن بن عوفt نے کہا کہ ہم وہی کہیں گے جو اللہ نے ہمیں حکم کیا (یعنی اس کا شکر ادا کریں گے)۔ رسول اللہe نے فرمایا: ’’اور کچھ نہیں کہتے ہو، رشک کرو گے، پھر حسد کرو گے ،پھر دوستوں سے بگاڑو گے، پھر دشمنی کرو گے یا ایسا ہی کچھ فرمایا۔ پھر مسکین مہاجرین کے پاس جاؤ گے اور ایک کو دوسروں کا حاکم بناؤ گے۔‘‘
روم اور فارس کی فتح نے مسلمانوں کے لیے فتوحات کے دروازے کھول دیے تھے اور چہار عالم مسلمانوں کی شان وشوکت کا ڈنکا بجنے لگا تھا۔یہ فتح ایک طرف تو خوش خبری تھی کہ مسلمان مشرق میں چین اور مغرب میں اندلس تک پہنچ گئے اسی طرح شمال میں یورپ اور جنوب میں انڈو نیشیا او ر ہندوستان کی سرحدیں بھی عبور کر ڈالیں ، لیکن دوسری طرف تنبیہ ہے کہ اس فتح کی بدولت تمہارے اندر دنیا کی محبت سرایت کرے گی ،  اور تمہا را  اللہ سے تعلق کمزور ہونے لگے گا ، اس ایمان کی کمزوری اور دنیا کی محبت کی وجہ سے تمہارا اتحادبھی پارہ پارہ ہونے لگے گا، اور بالآخر تم ایک دوسرے سے حسد ، بغض اور لڑائی جھگڑے شروع کردوگے۔
حدیث مبارکہ میں بشارت ہے کہ اگر تم اللہ سے جڑے رہوگے  تو غالب رہو گے ، اور تنبیہاً یہ بھی بتا دیا کہ فتح سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کی وجہ سے فتنہ میں مبتلا ہو جاؤ گے ، اور جیسے ہی تمہار تعلق باللہ کمزور ہوگا ، ذلت و رسوائی  اور دنیا کے اندر تمہاری حیثیت بھی کم ہونے لگے گی ۔ اس رسوائی اور شکست کے اسباب بھی بتادیے گئے ہیں ۔ اگر مسلمان اپناکھویا ہوا مقام او مرتبہ دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی اصل کی طرف لوٹنا ہو گا ، اللہ سے انفرادی تعلق کو مضبوط کرتے ہوئے اور اجتماعی الٰہی نظام کے نفاذ کے ذر یعے غیروں سے سامنے سینہ سپر ہونا پڑے گا۔
شہوات کا فتنہ اکثر و بیشتر انسان کو اندھاکر دیتا ہے اور شہوات اور دنیا پرستی میں ڈوبا ہوا انسان اللہ سے دور ہو تا چلا جاتاہے ، اسی لیے رسول اللہe مسلمانوں میں فقر سے زیادہ دنیا کی نعمتوں کی فراوانی سے ڈرتے تھے کہ یہ خوش حالی اور فراوانی کا ملنا تمہارے لیے باعث فتنہ بن سکتا ہے ۔ آج رسول اللہ e کی پیشین گوئی کے عین مطابق مسلمان بحیثیت مجموعی دنیا کی بے ثباتی کے باوجود اسی کے حصول کی تگ و دو میں ہیں اور مغلوب ہیں ۔ اگر غلبہ ، خوش حالی اور وقار چاہیے تو مسلمانوں کو تعلق باللہ مضبوط کرنا ہوگا۔ 
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages