حقوق العباد کی اہمیت 20-16 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 29, 2020

حقوق العباد کی اہمیت 20-16

ھفت روزہ اھل حدیث، حقوق العباد، حقوق العباد کی اھمیت

حقوق العباد کی اہمیت

تحریر: جناب سینیٹر پروفیسر ساجد میر ﷾
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی اور قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اوربے حیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اورظلم وزیادتی سے روکتا ہے، وہ خود تمھیں نصیحتیں کررہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘
اسلام، قرآن اور انصاف پر مبنی معاشرہ بنانا چاہتا ہے، بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں خلیفہ بنا کر کچھ اختیار دئیے ہیں، اب انسان تو بہت سے ہیں، یہ تمام انسان ایک لحاظ سے خلیفے ہیں، یہ آپس میں لڑنا، اختلاف اور فساد شروع کر دیں تو دنیا کا نظام کیسے چلے گا؟
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنا کر خلیفہ کا درجہ دینے کے ساتھ ساتھ اسے انبیاء کرام کی معرفت ایک دستور بھی دیا، کہ دنیا میں اگر امن کی اچھی زندگی چاہتے ہو تو اس کو کسی قاعدے کے مطابق چلانے کے لئے انبیاء کرام oکی لائی ہوئی ہدایت کی پیروی کرو۔
{فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ } [سورۃ البقرۃ : ۱/۳۸]
جو انبیاء کی لائی ہو ئی ہدایت کی پیروری کرے گا، اس کو خوف، حزن،ڈرسے نجات ملے گی۔انبیاء کرام کی لائی ہوئی ہدایت اس دنیا کے لئے اور آخرت کی کامیابی کے لئے بھی ضروری ہے۔ اسی سے فساد مٹتا ہے، فساد جس کو اللہ تعالیٰ بہت نا پسند فرماتے ہیں۔
 زمین میں فساد نہ کرو :  
اللہ تعالیٰ کا فرمان عالی شان ہے :
{وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ} [البقرۃ:۲۰۵]
اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا، یہ فساد اور بگاڑ انبیاء کرام oکی لائی ہو ئی ہدایت پر عمل نہ کرناہے۔ ان شریعتوں میں جو انبیاء oلے کر آئے، ایک طرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اوراس کے حق ادا کرنے کی طرف زور دیا گیا ہے اور دوسری طرف بندوں کے آپس کے معاملات کو درست طریقے پر چلانے کا ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے کہ بندے اللہ تعالیٰ کا حق اللہ کو دیں اور بندوں کا حق بندوں کو دیں، اس سے فساد اور بگاڑ ختم ہو تا ہے اور آپس کے تعلقات بہتر ہوتے ہیں۔
اسلام چونکہ سب ادیان سے زیادہ مکمل، جامع، اعلیٰ اور افضل ہے۔ اس لئے ہمارے دین اسلام نے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ حقوق العباد (بندوں کے حقوق) پر بھی بڑا زور دیا ہے کہ وہ بھی ادا کرو، اللہ تعالیٰ فساد اور ظلم کو پسند نہیںکرتا، اس لئے فساد اور ظلم کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بندوں کے حق ان کو دیے جائیں۔ ظلم کے بارے میں ارشادہوا کہ :
[اِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ] (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ،باب تحریم الظلم)
قیامت کے خوفناک اندھیرے کس طرح بنیں گے، ان کو کون سی چیز پیدا کرے گی۔ یہ دنیا میں جو تم ظلم کرتے ہو، یہی کل کے اندھیرے اور مشکلات ہیں، جو تمہارے سامنے آئیں گی۔ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے جو قیامت کے میدان میں اندھیروں اور مشکلات کی شکل اختیار کرے گی۔
  ادائیگی حقوق کا مقام :   
ادائیگی حقوق کا بڑا مقام ہے اور شریعت میں بندوں کے حقوق کی ایک جامع اور لمبی فہرست ہے، والدین کے حقوق مقرر ہیں … اولاد کے حقوق مقرر ہیں … میاں بیوی کے آپس کے کیا حقوق ہیں؟… حاکم کا اپنی رعایا پر کیا حق ہے؟… اور رعایا کا اپنے حاکم پر کیا حق ہے؟… قرابت دار …رشتہ دار … عزیز … اور ہمسایوں کے حقوق بھی مقررہیں … مہمان کا میزبان پر کیا حق ہے؟… میزبان کے مہمان پر کیا حقوق ہیں؟… پھر یتامیٰ … فقیر … بیواؤں … اور ضرورت مندوں کے جو ہم پر حقوق ہیں … آقا کے غلام پر کیا حق ہیں؟… خادم … نوکر …غلام کے اپنے مالک پر کیا حقوق ہیں… آجر اور اجیر کے کیا حقوق ہیں؟
یہ ساری چیزیں متعین اور لکھی پڑھی ہیں، پھر اس سے بھی آگے عام انسان جو کافرہوں یا مسلمان، مسلمانوں کے آپس میں حقوق، اور پھر عام انسان جو مسلمان اور مومن بھی نہیں، ان کے بھی ہم پر کچھ حقوق بنتے ہیں، یہ ساری چیزیں حقوق العباد کے ضمن میں آتی ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق کے درمیان توازن اور اعتدال نہایت ضروری چیزہے۔ یہ نہ ہوکہ پلڑا ایک طرف زیادہ جھک جائے یا دوسری طرف زیادہ جھک جائے، اس سلسلے میں یہاں تک احتیاط بتائی گئی ہے کہ یہ نہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ کے حق کی عبادت کرتے کرتے تم یہ فراموش کردو کہ کسی اور کے بھی تم پر حقوق ہیں۔
حقوق کی پاسداری میں اعتدال ضروری ہے:
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص tایک جلیل القدر صحابیٔ رسول اور ایک جلیل القدر صحابی باپ کے بیٹے ہیں، ان کے بارے میں رسول اکرمe کو معلوم ہوا کہ یہ بڑانیک آدمی ہے، اس کی کیا نیکی ہے؟ کہ یہ کثرت سے نفلی روزے رکھتا ہے، اور کثیر نوافل ادا کرتا ہے، فرض تو ادا کرتا ہی ہے لیکن نفل نمازیں اور روزے بھی بہت رکھتا ہے، بہت عبادت گزار اور بہت اچھا آدمی ہے۔
آپ نے اس کو بلایا اور فرمایا، مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اپنا بہت زیادہ وقت نماز، روزے، عبادت میں گزارتے ہو، عرض کیا یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہے۔
آپﷺ نے فرمایا: اچھی بات ہے لیکن یاد رکھنا !
[اِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَاِنَّ لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقًّا  وَاِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقًّا]
یاد رکھو! تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، اس کو بھی آرام دیا کرو، عباد ت کا یہ مطلب نہیںکہ اپنے جسم کے حق کو فراموش کردو، تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے اس کو جائز آرام پہنچاؤ۔ تمہاری بیوی، تمہارے بچوں کا بھی تم پر حق ہے، ان کو بھی وقت دو،  ان کی طرف بھی دیکھو۔ یہ نہ ہو کہ تم چوبیس گھنٹے مسجد میں رہو اور پتہ ہی نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں؟ ان کے لئے کوئی بازار سے کچھ لا کر دینے والا، یا ان کی حاجات اور ضروریات کو پورا کرنے والا بھی ہے یا نہیں؟
تیرے پاس آنے جانے والے، تیرے دوست و احباب یا رشتہ داروں کا بھی تجھ پر حق ہے، اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ بیوی بچے یا دوسرے لوگ مسجد میں جانے یا ضروری کاموں سے روک دیں، بلکہ ہر طرف اعتدال رکھنا ہے۔ یہ بھی نہیں کہ ان کے حالات اور ضروریات کو فراموش کر دینا ہے، یہ حقوق جن کو مقرر کیا گیا ہے ان کے بارے میں باقاعدہ جواب طلبی ہوگی۔
آج ہی اپنے بھائی سے معافی مانگ:   
بخاری شریف کی ایک حدیث ہے، نبی اکرمe کا فرمان گرامی ہے کہ حقوق کی ادائیگی کے بارہ میں بہت محتاط ہو کر رہو، اگر کہیں دانستہ یا نادانستہ کمی کوتاہی ہو گئی ہے تو وہ حق والے سے آج ہی معاف کر الو، ورنہ کل تمہیں بڑی مشکل پیش آئے گی۔ آپeنے ارشاد فرمایا:
[مَنْ کَانَتْ لَہٗ مَظْلِمَۃً لِأَخِیْہِ مِنْ عِرْضِہٖ اَوْ شَیْئٍ]
اگر تم نے اپنے بھائی پر کوئی ظلم کیا ہے اس کی بے عزتی، تو ہین یا کسی اور حوالے سے اس پر زیادتی کی ہے تو اس کو معاف کرالو۔
[قَبْلَ اَنْ لَایَکُوْنَ  دِرْھَمٌ وَلاَ دِیْنَارٌ] (صحیح بخاری، کتاب المظالم، باب من کانت لہ مظلمۃ لاخیہ)
وہ دن آنے سے پہلے تلافی کرالو جب درھم و دینار، پیسہ او ر روپیہ کام نہیں آئے گا۔ آج معافی مانگ کر، معذرت کر کے،کچھ دے دلا کر یا حسن سلوک کر کے معافی ہو سکتی ہے کرالو، یہ نہ ہو کہ کل لینے کے دینے پڑ جائیں اور دے بھی نہ سکیں۔
اس دن کے بارے میں تو اللہ کے نبیe نے فرمایا: اس حد تک عدل ہو گا انسان تو انسان، جانوروں کے درمیان بھی عدل ہو گا۔
حدیث پاک کے الفاظ ہیں:
[لَتَؤَّدُنَّ الْحُقُوْقَ إِلـٰی أَہْلِھَا  یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُقَادَ لِلشَّاۃِ الْجَلْحَآئِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَآئِ] (صحیح مسلم، کاتب البر والصلۃ، بتحریم الظلم: ۴/۱۹۹۷، رقم الحدیث: ۲۵۸۶)
حتی کہ اگر سینگوں والی بکری نے بغیر سینگوں والی بکری کو مارا ہے تو ان کو بھی زندہ کر کے پیش کیا جائے گا اور جس کے دنیا میں سینگ نہیں تھے اس کو سینگ دئیے جائیں گے اور وہ اسے مار کر اپنا بدلہ لے گی، وہ اس طرح کا دن ہے۔
یہ بات آج اس لئے بتلائی تاکہ پتہ چلے کہ جب جانوروں کے درمیان عدل ہو گا جو مکلف نہیں ہیں، جن پر شریعت اپنے احکامات لاگو نہیں کرتی جب ان کے درمیان اللہ تعالیٰ ظلم پسند نہیں کرتا، اس کا بدلہ لیتا ہے تو پھر اگر انسان ظلم کریں گے تو ان کا کیا بنے گا…؟
{ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ } [الفاتحۃ:۳]
انصاف کا دن ہے، یوم الدین سے ڈر جاؤ، عدل کا دن ہو گا، بے انصافی، ظلم، زیادتی، اور حق تلفی کرنے والو ! اللہ کے اس عدل و انصاف کے دن سے ڈر جا ؤ، جب بدلے دلائے جائیں گے۔
آپe نے فرمایا کہ بدلہ دلانے کے لئے اب او ر تو کچھ اس کے پاس موجود نہیں۔ دو ہی صورتیں ہیں: اس کو سزا دی جائے یا وہ بدلہ ادا کرے، جس پر ظلم کیا ہے اب بدلہ کہاں سے دے، دنیا میں تو بدلہ دے سکتا ہے، سونے … چاندی … درھم … دینار …دنیا کا مال و متاع کچھ دے دیا کچھ معافی تلافی ہو گئی، اب یہاں دنیا سے نہ کچھ لے کر آیا ہے اور نہ اس کے پاس کچھ موجود ہے اور نہ دینے کی کوئی اور شکل باقی نظر آتی ہے۔ اس لئے آپe نے فرمایا کہ مظلوموں کی تلافی کے لئے ظالم کی نیکیاں مظلوموں میں تقسیم کر دی جائیں گی، اگر پھر بھی حساب پورا نہ ہوا، پھر بھی اس کے مظالم باقی رہے تو پھر ان کے گناہ ان کے نامہ اعمال سے اٹھا کر اس کے نامہ اعمال میں ڈالے جائیں گے اور پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
 غاصب کی سزا :   
آپ اخبارات میں روز مرہ زندگی میں واقعات پڑھتے رہتے ہیں، دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں، جھگڑے کس بات پر، زر، زمین پر، کسی نے کسی کی زمین دبا لی … کسی نے کسی کا مال دبا لیا… ناجائز قبضہ کر لیا۔
نبی کریمe نے فرمایا:
[مَنْ ظَلَمَ قَیْدَ شِبْرٍ مِنَ الْاَرْضِ]
اگر کسی نے کسی کی ایک گز زمین بھی دبا لی تو اس کی سزا کیا ہوگی؟
[طُوِّقَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ سَبْعِ اَرْضِیْنَ] (صحیح بخاری، کتاب المظالم، باب اثم من ظلم شیئا من الارض: ۲/۸۶۶، رقم الحدیث: ۲۳۲۱)
قیامت کے دن سات زمینوں تک اتنی زمین کا بوجھ اس پر لادا جائے گا، ابھی جہنم کی سزا بعد میں ہے، ابتدائی سزا یہ ہے کہ جو چیز دبائی ہے اس کا بوجھ اس پر لادا جائے گا۔
[لَقِیَ اللّٰہَ یَحْمِلُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ]
قیامت کے میدان میں اس کی ملاقات اللہ تعالیٰ سے اس طرح ہو گی کہ فرشتوں نے اس چھینی ہوئی اور ظلماً حاصل کی ہوئی چیز کو اس پر لادا ہو ا ہو گا کہ یہ ہے تمہارا بوجھ جس کو تو نے دنیا میں آسان سمجھ کر اٹھا لیا تھا۔
اسی لئے آپe کی یہ تلقین ہوتی تھی کہ خالی نماز، رو زہ، انسان کے کام نہیں آئے گا۔ نماز روزے کی اپنی اہمیت ہے کیونکہ فرض ہے لیکن اگر ظلم کرتے رہو گے اور حقوق میں کمی کرتے رہو گے تو یہ کام نہیں آئیں گے۔
آپ e فرماتے ہیں :
[لاَ أُلْفِیَنَّ اَحَدَکُمْ یَجِیْئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَعَلـٰی رَقَبَتِہٖ بَعِیْرٌ أَوْ فَرَسٌ، اَوْ شَاۃٌ اَوْ ثَوْرٌ]
میرے امتیو ! اور میرے صحابہ ! میدان قیامت میں میری تمہارے ساتھ ملاقات اس حال میں نہ ہو کہ تمہاری گردنوں پر بوجھ ہو، تمہاری گردنوں پر کوئی گھوڑا، اونٹ، کپڑا یا اور کوئی چیز لادی ہوئی ہو، وہ چیز جو تم نے ظلماً دبائی تھی، حاصل کی تھی یا کسی سے ناجائز چھینی تھی۔ اگر اونٹ تھا تو وہی بلبلاتا ہوا اونٹ اس کی گردن پر سوا ر ہے۔ اگر بکری تھی تو وہی ممیاتی ہوئی بکری اس کی گردن پر سوار ہے۔ پھر وہ اس مصیبت سے بچنے کے لئے میرے پیچھے دوڑے گا:
[اَغِثْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ]
میری فریاد سنو ! میری فریاد رسی کرو !میری خلاصی کراؤ ! امتی کہے گا میں آپ کا امتی ہوں۔ اللہ کے نبی مجھے اس مصیبت سے بچائیں۔حساب اور بعد کی سزائیں ابھی شروع نہیں ہوئیں لیکن اس مصیبت سے کہ گردن پرایک جانور سوار ہے۔
آپe فرماتے ہیں کہ : میں کہوں گامیں نے اپنا پیغام تم تک پہنچا دیا تھا، میں نے بات دنیا میں واضح کر دی تھی( براہ راست تم تک پہنچی یا مبلغین اور علماء کے ذریعے پہنچی ) کہ یہ واقعہ ہونا ہے، تمہیں دنیا میں یہ پیغام مل گیا تھا اگر تم نہیں بچے تو آج میں تمہارے کام نہیں آسکتا۔
حقوق العباد کے سلسلہ کی اہم کڑی :
حقوق العبادکی اہمیت کے سلسلے میں پھر فرمایا گیا :
[لَیْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِیْ یَشْبَعُ وَ جَارُہٗ جَائِعٌ إِلـٰی جَنْبِہٖ] (شعب الإیمان :۷/۷۶، رقم الحدیث: ۹۵۳۶)
مومن وہ نہیں، جو نماز یں پڑھ رہا ہو… حج کئے ہوئے ہوں … زکوۃ، خیرات اور صدقات کرنے والا ہو… بہت نیک نظر آئے … نیکی تو دور کی بات ہے … اس نمازی … اس حاجی … اس زکوۃ اور خیرات دینے والے … مخیر کا مومنوں میں شمار بھی نہیں ہوگا۔
ہم میں سے کتنے ہیں جوآج یہ بات یاد رکھتے ہیں کہ
[وَجَارُہٗ جَائِعٌ إِلـٰی جَنْبِہٖ]
وہ پیٹ بھر کر کھاتا ہے اور اسے معلوم ہے، وہ جانتا ہے کہ اس کا ہمسایہ بھوکا ہے۔ یہ حقوق العباد کی اہمیت ہے۔
اگر آپ گلیوں میں سے گزر یں تو آپ دیکھیں گے کہ بعض لوگ اپنے گھر کی گندگی اٹھا کر ہمسائیوں کے گھر کے سامنے گلی اور گزر گاہ میں پھینک دیتے ہیں۔ حالانکہ اسلام نے گزر گاہوں کا حق بھی مقرر کیا ہے، لیکن یہاں ہمسائیوں کا حق کسی کو یاد نہیں، گزر گاہیں تو بے چاری پھر بھی بے جان چیزیں ہیں، ان کا حق کون یاد رکھے گا؟
مجھے بتلائیں ! راستے سے ایذاء اور تکلیف دینے والی چیز کو ہٹانے کا حکم ہے، یا ڈالنے کا حکم ہے۔ یہ نہیں کہ ضرور ا س سے کسی کے پاؤں کو ٹھوکر لگے یا کسی کو کوئی جسمانی تکلیف پہنچے۔ ایذا ء ایک جسمانی ہے اور ایک نفسیاتی اور روحانی ہے کہ جس چیز (گندگی) کو دیکھ کر تکلیف ہو، راستہ سے گزرنا مشکل ہو، آدمی ناک منہ لپیٹ کر وہاں سے گزرے، یہ ایذاء نہیں تو او ر کیا ہے؟
صحابہ کرامؓ اور حقوق العباد:  
صحابہ کرام yکو معلوم تھا کہ گھر میں آرام سے کھڑے ہو کر تہجد کی نماز ادا کرنے کا کیا ثواب ہے، اور دو چار نفل بھی ضرور پڑھتے ہوں گے، لیکن اس کے علاوہ انہیں یہ بھی پتہ تھا کہ صرف یہ نوافل اور فرائض ہی کام نہیں آئیں گے بلکہ بندوں نے جو حق مجھ پر رکھا ہے، اپنا خلیفہ اور حاکم بنا کر جو ذمہ داریاں مجھے دی ہیں، ان کی ادائیگی کے بارہ میں بھی مجھ سے سوال ہو گا۔ اس لئے نوافل کا ثواب چھوڑ کر حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے نکل کر گشت کرتے تھے اور لوگوں کے حالات معلوم کرتے تھے۔
حقوق العباد کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے معاملات کو صاف رکھنے کی بڑی اہمیت ہے، خیبر کی لڑائی کے بعد صحابہ کرام yآپس میں با ت کر رہے تھے کہ فلاں شہید ہو گیا ہے اور اسے شہادت کا درجہ ملا ہے۔ صحابہ کرام tیہ گفتگو کر رہے تھے اور آپe سن رہے تھے، کسی نے مختلف لوگوں کے نام لیتے ہوئے ایک آدمی کا نام لیا کہ فلاں قبیلے کا فلاں آدمی بھی شہید ہو گیا ہے تو آپeنے فرمایا :
[کَلَّا اِنِّیْ رَاَیْتُہٗ فِی النَّارِ]
تم کہہ رہے ہو کہ وہ شہید ہو گیا ہے جبکہ میں اسے جہنم میں جلتا ہو ادیکھ رہا رہوں، وجہ کیا ہے؟
[فِیْ بُرْدَۃٍ غَلَّھَا]
اس نے مال غنیمت میں سے ایک چادر چرائی تھی، جس کی قیمت شاید دو درھم بھی نہ ہو۔ دوسری طرف دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑتا ہوا شہید ہو ا ہے، لیکن آپe فرماتے ہیں کہ اس چادر کا حساب ا س سے ضرور لیا جائے گا، میں اس وقت بھی اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ مطلب یہ تھا کہ شہید ہونے کے باوجود بھی وہ یقینی جہنمی ہے، کیونکہ اس نے حقوق العباد میں کمی اور ظلم و زیادتی کی ہے۔
اسی طرح ایک جنگ کے بعد بار بار آپe نے حضرت بلال tسے اعلان کروایا کہ جس کے پا س کافروں کے مال غنیمت سے کوئی چیز ہے وہ لے کر آئے۔ طریقہ یہ ہوتا تھا کہ ساری چیزیں اکٹھی ہوتی تھیں پھر امام اس وقت نبی اکرمe خود تھے اور آپ تقسیم فرماتے تھے، یہی طریقہ بعد میں چلا، حکومت کی طرف سے باقاعدہ تقسیم ہوتی تھی، یہ نہیں کہ جو جس کے ہاتھ میں آئے وہ لے کر چلا جائے، کسی چیز پر بد نظمی اور بے ترتیبی نہیں تھی، لوگ اپنے آپ بہت سی چیزیں لے کر آئے، پھر اعلان ہوا۔ کئی دفعہ اعلان ہوا کہ جس کے پاس کوئی چیز ہے وہ لے کر آئے۔ اس اعلان کے کچھ دیر بعد ایک صاحب آئے ان کے پاس گھوڑے کی ایک لگام تھی جو بے قیمت تھی۔ گھوڑے یا کسی اور چیز کے مقابلے میں اس کی کیا قیمت ہے؟ وہ صاحب لگام لے کر آئے، اس نے رکھی نہیں لیکن کچھ دیر کے بعد آئے۔ نبی اکرمe جہاں رحمۃ للعالمین تھے وہاں آپ کی ڈیوٹی لوگوں کی تربیت بھی تھی اور تربیت کے لئے کبھی کبھی سخت انداز بھی اختیار کرنا پڑتا ہے، یہ تربیت کا لازمی جزو ہے، تربیت بڑوں کی ہو یا چھوٹوں کی۔ یہ صرف اور صرف نرمی سے نہیں ہوتی، ٹھیک ہے عام طور پر نرمی ہو،لیکن کبھی کبھی دوسرا طریقہ بھی اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس کو اس کے ساتھیوں کو سبق سکھانے کے لئے آپe نے بڑے سخت الفاظ استعمال کئے، آپe نے فرمایا :
[کُنْ اَنْتَ تَجِیْئُ بِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ] [حسن](سنن أبی داود، کتاب الجہاد، باب فی الغلول، رقم الحدیث: ۲۷۱۲)
میں اب یہ لگام نہیں لوں گا، تم نے بار باراعلان سنا، تمہاری نیت اچھی نہیں تھی کہ چلو یہ لگام ہے، یہ بغیر تقسیم کے رکھ لیتے ہیں، پتہ نہیں وہاںجا کر میں ڈھیر پررکھوں تو میرے ہاتھ آئے یا نہ آئے یا کسی اور کومل جائے یہ تمہیں پسند آگئی، اچھی لگی تو تم نے اس کو دبا لیا۔ اب میں اسے نہیں لوں گا اب اسے قیامت کے میدان میں لے کر آنا وہاں تم سے وصول ہو گی، اب یہاں پر وصول نہیں ہوگی۔ یہ حقوق العباد کی ادائیگی کی اہمیت ہے۔
نبی اکرم ﷺمقروض کی نماز جنازہ نہ پڑھتے تھے:
اللہ کے نبیe مقروض کاجنازہ پڑھنے سے منع نہیں کرتے تھے لیکن خود نہیں پڑھتے تھے۔ اس لئے آج جنازوں پر اعلان ہوتا ہے کہ اگر کسی کا کوئی لینا دینا ہے تو وہ بتائے، وارث تیار ہیں، اس لئے کہ اس کے بغیر بخشش نہیں۔ لوگ آپe کے پاس آتے اور جنازے کی درخواست کرتے تو آپ پہلے پوچھتے کہ اس پر کوئی قرضہ تو نہیں؟ اگر کہا جاتا نہیں تو آپ جنازہ پڑھانے چلے جاتے اگر کہا جاتا کہ قرضہ ہے تو آپ فرماتے :
[صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ] (صحیح بخاری: ۴/۷۰، رقم الحدیث : ۲۱۲۷)
جاؤ تم نماز جنازہ پڑھو،میں نہیں پڑھوں گا۔ یہ کتنی محرومی کی بات ہے کہ نبی اکرمe کے ہوتے ہوئے آپ جنازے میں شریک ہو کر دعا نہ کریں۔
دو چار واقعات کے بعد صحابہ کرام yکو پتہ چل گیا کہ قرض کی ادائیگی تو بڑی ضرور ی ہے، اس کے بغیر تو چارہ ہی نہیں۔ کیونکہ ان کی خواہش ہوتی تھی کہ آپ جنازے میں شریک ہوں، آپ کی دعاان کو ملے، حقوق کی ادائیگی کے سلسلے میں کتنی باتیں ہیں، معاملات کی صفائی اور حقوق کی ادائیگی کا بہت بڑا حصہ اس میں آتا ہے۔ اپنا لین دین صاف رکھو، ظلم و زیادتی سے کسی کی چیز کو دبانے کی بجائے اپنے حق ادا کرنا، چھیننا نہیں۔
مسلم شریف میں ایک حدیث آتی ہے، میدان جنگ میں ایک شخص نے تسلی اور اپنے یقین کے لئے آپeسے پوچھا کہ جی! میں بڑا خطا کار اور گناہ گار انسان ہوں، اگر میںاللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتا ہوا شہید ہو جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف ہو جائیں گے؟
تو آپe نے فرمایا کہ ہاں اگر تم ثابت قدمی سے لڑو تو معاف ہو جائیں گے مگر قرضہ معاف نہیں ہو گا، سب کچھ معاف ہو جائے گا مگر کسی کا دینا معاف نہیں ہوگا۔ حقوق العباد معاف نہیں ہوں گے۔
جھوٹی قسم والے پر جنت حرام:
آپe نے فرمایا کہ جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کا حق مارتا ہے اور حق مارنے کے لئے جھوٹی قسم اٹھاتا ہے، کوئی زمین، جائیداد، اور مال وغیرہ کا جھگڑا ہے۔ اللہ کے نبیe نے ایسے لوگوں کے لئے فرمایا جو جھوٹی قسم کھا کر لوگوں کا حق مارتے ہیں :
[فَقَدْ اَوْجَبَ اللّٰہُ لَہُ النَّارَ،وَ حَرَّمَ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ]
اس پر جہنم واجب اور ضروری ہو جاتی ہے اورجنت اس پر حرام ہوجاتی ہے۔
چار قسم کے دوزخی:
اللہ کے نبی e نے ارشاد فرمایا کہ چار قسم کے دوزخی ایسے ہیں جن کو اتنی شدید سزا ہو گی کہ دوسرے آدمیوں کو ان کی سزا سے تکلیف اور ایذاء ملے گی، دوسرے آدمی ان کو دیکھ کر پریشان ہو ں گے، کیا وجہ ہے ان کے کیا جرائم ہیں؟
1       یہ حقوق کو مارنے، خیانت کرنے اور ظلم سے لوگوں کا مال لینے والے کی سزا ہے۔
2       دوسرے جہنم میں انسانی گوشت کھا رہے ہوں گے، یہ چغل خور اور غیبت کرنے والے ہیں۔
3       تیسرے جو پیپ پی رہے ہیں اور جن کے منہ سے پیپ نکل رہی ہے، یہ لوگوں کی برائی کر کے لذت حاصل کرنے والے ہیں۔
4       چوتھا جہنم میں اپنی انتڑیوں کو ( جو جسم سے باہر آگئی ہیں) گھسیٹتا پھر رہا ہے، یہ ناپاکی مثلاً پیشاب کی چھینٹوں وغیرہ سے نہ بچنے والا ہے۔
ادائے حقوق میں نبی کائنات کا کردار:  
رسول اللہe نے حقو ق العباد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اپنا ایک عملی نمونہ قائم کیا ہے۔ آپe نے اپنی وفات کے آخری دنوں میں شاید وفات سے ایک دن پہلے یا دو دن پہلے منبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپe نے ارشاد فرمایا:
کہ اگر میں نے کسی کو کچھ دینے کا وعدہ کیا تھا اور میں اس کو پورا نہیں کر سکا تو مجھے یاد دلا کر آج پورا کر لو، اگر میں نے کسی کو مارا پیٹا ہو تو وہ مجھ سے بدلہ لے لے کیونکہ میں صاف ہو کر جانا چاہتا ہوں۔ آپe فرماتے رہے، لوگ روتے رہے اور سمجھ گئے کہ یہ آخری وقت ہے۔
ایک صحابی اٹھا اور کہنے لگا جی میں نے بدلہ لینا ہے، فرمایا کس چیز کا بدلہ ہے؟ وہ عرض کرنے لگا جی! میدان جنگ میں صفیں سیدھی کرتے ہوئے آپ ویسے بھی مجھ سے کہہ سکتے تھے کہ صف میں سیدھے ہو جاؤ، لیکن آپ کے ہاتھ میں نیزہ تھا اور آپ نے وہ مجھے ہلکا سا چبھو یا تھا میں بھی بدلہ لینا چاہتا ہوں۔
آپe نے فرمایا: آگے آؤ اور بدلہ لو تو اس صحابی رسول نے کہا : اس طرح تو نہیں، میرے پاس تو قمیض بھی نہیں تھی ( صحابہ کرام y) کا اندازہ لگائیں کہ میدان جنگ میں ہے مگر قمیض نہیں ) آپ نے پیٹ پر چبھویا تھا تو آپe نے اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھایا اور فرمایا جس طرح تم چاہتے ہو بدلہ لے لو۔
آپ حقوق کی اہمیت کا اندازہ کریں!
یہ پڑھیں:    نیک بیوی کی صفات
وہ صحابی آپe کے جسم کے ساتھ چمٹ گیا کہنے لگا جی! کس نے بدلہ لینا ہے؟ یہ تو میں نے آپ سے چمٹ کر اپنے دل کو ٹھنڈا کرنے کا ایک بہانا بنایا تھا، لیکن آپe بدلہ دینے کے لئے تیار تھے۔
معلوم ہوا کہ معاملات کی صفائی اور حقوق کی ادائیگی نبی کے لئے بھی ضروری ہے، نبی بھی اس سے مبرأ نہیں۔ آج ہم اس حقیقت کو فراموش کر کے، ایک دوسرے پر ظلم زیادتی کر کے حقوق دباتے ہیں،زیادتی کرنے والو ںاور حقوق دبانے والوں کو نبیe کے نمونے اور ارشادات کو یاد رکھنا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے حق بھی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ظلم و زیادتی سے ہمیں بچا کر رکھے۔ آمین!
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages