شیخ القراء قاری محمد یحییٰ رسول نگری 20-15 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 22, 2020

شیخ القراء قاری محمد یحییٰ رسول نگری 20-15

ھفت روزہ اھل حدیث، قاری محمد یحییٰ رسولنگری

شیخ القراء قاری محمد یحییٰ رسول نگری a

تحریر: جناب قاری محمد حسن سلفی
ولادت اور خاندانی پس منظر:
قاری محمدیحییٰ رسول نگریؒ ۱۹۴۵ء کو اپنے ننھیال کے ہاں ضلع فیروز پور کے قصبہ کوٹ کپورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی شیخ الحدیث مولانا نور اللہ رحمہ اللہ ۱۵ ون آر، رسول نگر ضلع اوکاڑہ کے رہنے والے اپنے وقت کے جید عالم دین تھے۔ دارالحدیث رحمانیہ دہلی کے فارغ التحصیل تھے۔ یہ گاؤں اوکاڑہ سے ۲۰ کلو میٹر شمالی جانب واقع ہے۔ مولانا نور اللہ ؒ میاں محمدباقرؒ کے مدرسہ جھوک دادو سے فراغت کے بعددوبارہ بخاری پڑھنے کیلئے امام عبدالستار دھلوی ؒ کے ہاں دہلی چلے گئے۔ انہی دنوں مولانا محمداسحاق کوٹ کپوری ؒ جو امام صاحب کے کلاس فیلو تھے ان کے ہاں آئے اور مولانا نور اللہ ؒ کے لئے اپنی دختر نیک اختر کے رشتے کی بات کی جو امام صاحب کے کہنے پر انہوں نے قبول کرلی۔ یوں مولانا نوراللہ ؒ کا نکاح مولانا محمداسحق کوٹ کپوری ؒ کی صاحب زادی سے ہونا قرار پایا۔ قاری محمدیحییٰ رسول نگریؒ کی ولادت اپنے ننھیال کے ہاں کوٹ کپورہ میں ہوئی‘ حضرت قاری صاحبؒ سب بہن بھائیوں میں بڑے تھے۔ مولانا نور اللہ ؒ کے ہاں پیدا ہونے والے اس طفل سعید نے دنیا ئے قرأت میں خوب نام پایا اور فن قرأت کی وہ خدمت کردی جس پرا ٓج پوری جماعت رشک کناں ہے ۔
ابتدائی تعلیم:
قاری محمدیحییٰ رسول نگری ؒ نے ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گائوں ۱۵ون آر ، رسول نگر سے کیا۔ پرائمری تک سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے گائوں کے قریب ستگھرہ کے ہائی سکول میں داخلہ لیا۔ یہاں یونیفارم میں نیکر اور شرٹ رائج تھی‘ حضرت بچپن سے ہی دینی ماحول میں پلے بڑھے تھے‘ یہ یونیفارم انہیں پسند نہ آیاکہ اس سے ستر مکمل طورپر ڈھانپا نہیں جاتا۔ پی ،ٹی کے اصرار کے باوجود انہوں نے یہ لباس کبھی نہ پہنا بالآخر سکول کو خیر باد کہہ دیا ۔
حفظ القرآن:
قرآن کریم کی تعلیم لینے کیلئے قریب ہی جامعہ اسلامیہ ڈھلیانہ میں چلے گئے جو آج بھی درس ڈھلیانہ کے نام سے معروف ہے۔ یہاں حافظ عبدالرزاق رحمہ اللہ سے قرآن پاک حفظ کرنا شروع کردیا۔ حافظ صاحب سخت استاد تھے‘ ان کی سختی کی وجہ سے ۸ پارے حفظ کرنے کے بعد یہاں سے چھوڑ دیا‘ بعد ازاں چک ۱۶ جی ڈی مدوکے میں حضرت پیر جماعت علی شاہ ؒکے ہاں چلے گئے‘ وہاں بھی سختی بہت زیادہ تھی‘ یہاں سزا دینے کیلئے باقاعدہ ایک آدمی مقرر تھا‘ یہاں بھی ٹھہرنا نصیب نہ ہوا پھر جامعہ عثمانیہ مرکزی جامع مسجد گول چوک اوکاڑہ میں حضرت قاری محمدفاروق ؒ سے قرآن کریم کی تکمیل کی۔ قرآن پاک مکمل حفظ کرنے والے اس طالب علم کے بارے میں کاتب تقدیر کے سوا کون جانتا تھا کہ یہ حافظ صاحب اب ہزاروں سینوں میں قرآن کریم محفوظ کریں گے اور خدمت قرآن کیلئے زندگی وقف کردیں گے ۔
تجوید وقرأت کی تعلیم:
چینیانوالی مسجد لاہور جو ہمارے اسلاف کی عظیم یاد گارہے اس مسجد میںعلم قرأت کے بہت بڑے استاد شیخ القراء قاری الشیخ اظہاراحمد تھانوی ؒ مسند تدریس پر فروکش تھے۔ ہمارے ممدوح حضرت قاری محمدیحییٰ رسول نگری ؒکے چچا لاہور پولیس میں ملازمت کرتے تھے‘ وہ آپ کو تجوید وقرأت کی تعلیم دلوانے کیلئے حضرت کی خدمت میں چینیانوالی مسجد لاہور لے گئے۔ یہاں مکمل تین سال ۱۹۶۱ء سے ۱۹۶۳تک تجوید وقرأت کی تعلیم مکمل کرکے سند فراغت حاصل کی ۔
درس نظامی کی تعلیم:
عام طور پر لوگ یہی جانتے ہیں کہ حضرت قاری محمدیحییٰ رسول نگری ؒ ایک قاری تھے یا تجوید وقرأت کے ماہر تھے حالانکہ وہ ایک جید عالم دین بھی تھے۔ وقت کے اساطین علم وفضل کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کئے۔ علوم اسلامیہ کی تعلیم کیلئے آپ نے روپڑی خاندان کی معروف دینی درس گاہ جامعہ اہل حدیث چوک دالگراں لاہور کا انتخاب کیا۔ یہاں مولانا عبدالرحمن مدنی مدظلہ ٗ جوکہ صرف ونحو کے بڑے قابل استاذ تھے اور حجیت حدیث میں اپنے فن کے امام مانے جاتے ہیں ان سے صرف ونحو کی تعلیم لی۔ مولانا عبدالحق او ر مو لا نا محمد حسین سے دیگر بنیادی کتب پڑھیں۔ جامعہ اہل حدیث چوک دالگراں میں ایک سال تعلیم حاصل کی پھر عازم گوجرانوالہ ہوئے۔ یہاں جامعہ اسلامیہ میں داخل ہوئے جس کے مؤسس اعلیٰ حافظ محمدگوندلویؒ اور مہتمم مولانا ابو البرکات احمدؒ تھے۔ یہاں تین سال تک زیر تعلیم رہے اور مشکوۃشریف تک کتابیں پڑھیں‘ یہاں آپ کے اساتذہ کرام میں حافظ محمدیحییٰ بھوجیانیؒ جو حضرت حافظ محمدیحییٰ عزیز میر محمدی ؒ کے قریبی عزیز تھے ان سے صرف میر اور نحو میر پڑھی۔ دوسرے استاذ مولانا نذیراحمد امرتسری ؒ تھے ان سے کافیہ اور اس قسم کی دیگر کتب پڑھیں۔ مولانا فاروق احمدراشدی ؒ یہاں نائب شیخ الحدیث کی مسند پر متمکن تھے ان سے مشکوۃ شریف اور دیگر کتب کی تعلیم حاصل کی ۔ 
کراچی میں تعلیم:
جامعہ اسلامیہ میں تین سال درس نظامی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حضر ت قاری صاحبؒ اپنے مخلص دوست مولانا حفیظ الرحمن لکھوی کے ہمراہ عازم کراچی ہوئے۔ کراچی جانے کی وجہ یہ تھی کہ انہیں پتہ چلا کہ جامعہ اسلامیہ بنوریہ کراچی میں مصر کے ایک بڑے قاری وعالم الشیخ عطارزق آئے ہیں سوچاکہ ان سے قرأت کی تعلیم لیں گے اور ساتھ ساتھ درس نظامی بھی ہوتارہے گا۔ جب کراچی پہنچے تو پتہ چلا کہ شیخ عطا رزق تو مصر واپس چلے گئے ہیں پھر واپس آنے کی بجائے جامعہ بحرالعلوم سعودیہ میں داخلہ لے لیا‘ مدرسہ بحرالعلوم کے مؤسس اعلیٰ ایک بہت بڑے عالم علامہ یوسف کلکتہ والے تھے‘ مدرسہ بحر العلوم کراچی میں ۱۹۶۵ء سے ۱۹۷۰ء تک پانچ سال تک زیر تعلیم رہے۔ یہاں آپ کے اساتذہ میں جامعہ رحمانیہ دہلی کے فاضل بے شمار کتب کے مترجم اور مشہور زمانہ کتاب الفضل الکبیر کے مصنف مولانا محمدداوٗد راغب رحمانی ،مولانا نسیم الدین ولی اللہ فاضل دیوبند، علامہ محمدیوسف کلکتہ والے تھے اور آپ کے ہم مکتب ساتھی یہاں مولانا عبدالعزیز کشمیر ی، مولانا فضل الرحمن ہزاروی، مولانا عبدالعزیز علوی اور مولانا ضیاء اللہ تھے۔ علامہ عبدالعزیز حنیف جو مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلیٰ بھی رہے وہ بھی یہاں آ پ کے رفقاء میں سے تھے۔ کراچی میں حضرت قاری صاحب صبح سے ظہر تک بحر العلوم میں علوم اسلامیہ کی تعلیم لیتے اور ظہرسے عشاء تک مدرسہ تجویدالقرآن میں قاری حبیب اللہ افغانی سے قرأ ت کی تعلیم حاصل کرتے۔ قاری حبیب اللہ افغانی سے دو سال میں شاطبیہ،لعقلیہ فی عدی الآیۃ وغیرہ کتب پڑھیں اور قرأت عشرہ مکمل کیں ۔
مسند تدریس پر:
آپ نے تدریس کا آغاز بحر العلوم سعودیہ کراچی سے ہی کردیا تھا‘ اس کے بعد آپ جامع مسجد لسوڑے والی بنگلہ ایوب شاہ شیرانوالہ گیٹ لاہور میں بطور مدرس آگئے۔ یہاں عرصہ ۸ سال تک آپ مسند تدریس پر فائز رہے۔ یہاں سے فارغ ہونے والے آپ کے تلامذہ میں قاری صدیق الحسنؒ، استاذالقراء قاری محمدابراہیم میر محمدی، استاذ القراء قاری محمود الحسن بڈھیمالوی، ڈاکٹر قاری عبدالقادر گوندل، ڈاکٹر قاری عبدالغفار سعودیہ، قاری روح الامین بنگلہ دیشی،قاری محمدجعفر ،قاری عبدالودود انگلینڈ، قاری منیر احمد امریکہ،قاری حفیظ الرحمن ماموں کانجن، قاری محمد حنیف بھٹی اور قاری خلیل الرحمن قابل ذکر ہیں۔ یہاں قاری محمد عزیز، قاری نذیر احمد اور شیخ القراء قاری محمدادریس العاصم بھی آپ کے ساتھ پڑھاتے تھے۔ مسجد لسوڑے والی لاہور میں سازگار حالات کی عدم دستیابی کے بعد مولانا عبدالرحمن مدنی آپ کو جامعہ رحمانیہ ماڈل ٹائون لے گئے وہاںکچھ عرصہ تدریس کی۔
لاہور سے ساہیوال:
پھر قاری عزیر احمدd کے مشورے سے آپ ساہیوال مرکزی مسجد میں آگئے‘ جب آپ یہاں تشریف لائے تو رمضان المبارک کا مہینہ تھا‘ تین کنال پر محیط یہ بہت بڑی مسجد تھی‘ ساتھ مدرسہ کیلئے چند کمرے بھی بنے ہوئے تھے۔ ساہیوال میں حضرت نے ایسا ڈیرہ لگایا کہ تا دم آخریں یہیں کے ہوکر رہ گئے اور جنازہ بھی اسی جگہ سے اٹھا۔
جامعہ عزیزیہ کا قیام:
حضر ت قاری صاحب نے احباب کے مشورے سے مسجد سے ملحقہ مدرسہ کو باقاعدہ عملی شکل دی اور اس کانام جامعہ عزیزیہ رکھا جس کی دو وجوہات وہ بیان فرمایا کرتے تھے: ایک تو اللہ جل شانہ ٗ کے اسم عزیز کی طرف نسبت ہے اور دوسرا اس وقت جماعت کے صالح ترین بزرگ اور رہنما مولانا محمدیحییٰ عزیز میر محمدیa کی تجویز پر اس کا نام جامعہ عریزیہ رکھا، پھر یہاں سے فیض پانے والے اپنے نام کے ساتھ عزیزی کا لاحقہ ملاتے گئے‘ اب تو چہار دانگ عالم میں عزیزی قاریوں کی پوری ایک جماعت موجود ہے جو ان کاصدقہ جاریہ ہیں۔
شادیاں:
حضرت قاری صاحب ؒ ماشاء اللہ کثیر العیال تھے‘ انہوں نے دو نکاح فرمائے‘ پہلا نکاح ان کے چچا جان عبدالرزاق کی دختر نیک اختر سے ہوا‘ حضرت کے سسر عبدالرزاق حافظ محمدبھٹویؒکے شاگردوں میں سے تھے۔ دوسرا نکاح ایک سال کے بعد ہی کر لیا‘ نکاح کرنے کی غرض وغائت اس نیک بخت خاتون کاصاحب علم وفضل ہونا تھاصاحب ولائت الحافظ محمدیحییٰ عزیز میر محمدی ؒ سے مشورہ کرکے دعوت وتبلیغ اور تعلیم وتربیت میں ممدومعاون بنانے کیلئے دوسرا نکاح کیا۔ پہلی بیوی سے اللہ کریم نے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی دی سب سے بڑے قاری اظہار احمدہیں جو مرکزی جمعیت اہل حدیث ضلع ساہیوال کے  ناظم ہیں جامعہ عزیزیہ ساہیوال کے ناظم اور مدرس ہیں حضرت باباجی اپنی زندگی میں ہی انہیں جامعہ کا ناظم بنا گئے تھے۔
سبھی اولاد ماشاء اللہ دینی علوم سے فیض یافتہ ہیں اپنے والد گرامی کیلئے صدقہ جاریہ ہیں‘ تین بیٹیاں بھی اپنے اپنے گھروں میں خوش وخر م ہیں۔حضرت باباجی فخر سے فرما یا کرتے تھے کہ میں نے اپنی ساری اولاد کو عالم بنایا ہے دین کی تعلیم دی ہے اور دنیا کے لالچ میں نہیں پڑا۔
درویشی وفقیری:
حضرت قاری صاحب ؒکی طبیعت میں بہت سادگی تھی‘ ہزاروں قاریوں کے استاذ ہونے کے باوجود وہ جب لوگوں میں علماء میں یا طلبہ میں بیٹھتے تو گفتگو میں کوئی تصنع نہ ہوتا‘ وہ حق بات بغیر کسی خو ف وخطرکے کہہ دیتے تھے‘ ہنسی مزاح ان کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھر اہوا تھا۔ انہوں نے کبھی اپنا سٹیٹس نہیں بنایا کہ فلاں مجھ سے مل سکتاہے یا فلاں وقت ملاقات ہوسکتی ہے جہاں بھی بیٹھتے محفل کو کشت زعفران بنا دیتے‘ ظرافت ولطافت اور طلبہ سے گفتگو ایسے فرماتے کہ استاد کا رعب ودبدبہ کم اور شفقت ومحبت زیادہ محسوس ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ اپنے دل کی ہر بات باباجی سے کر لیتے جو بات دوسرے اساتذہ نہ مانتے وہ باباجی پر چھوڑ دی جاتی کہ باباجی آئیں گے تو ان سے عرض کریں گے۔ انہوں نے اپنے دفتر کے باہر ایک بورڈ آویزاں کیا ہوا تھاجس پر لکھا تھا:
کسی دن ادھر سے گذر کر بھی دیکھو
بڑی رونقیں ہیں فقیروں کے ڈیرے
وہ استاد ہی نہیں بلکہ استاد گربھی تھے‘ ان کی زندگی میں ہی  ان کے شاگردوں کی چوتھی نسل پڑھانا شروع ہوگئی تھی لیکن وہ اقبال کی زبان میں ہمیشہ یہی تربیت دیتے رہے    ؎
مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
لکھوی خاندان سے نیاز مندی :
لکھوی خاندان سے حضرت قاری صاحب ؒ کی اپنے بزرگوں سے ہی نیاز مندی تھی‘ وہ ہمیشہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ساتھ رہے اور مولانا معین الدین لکھوی مرحوم کی قیادت میں جماعتی وتنظیمی اجلاسوںمیں شریک ہوتے رہے‘ اس تعلق اور محبت میں انہوں نے کبھی کمی نہیں آنے دی‘ ہمیشہ ان کا ذکر کرتے ہوئے رشک کرتے اور لکھوی بزرگوں کی کرامتیں اور ان کے بزرگوں کی باتیں فخر سے سنا یا کرتے۔ جماعتوں اور تنظیموں میں کئی نشیب وفراز آتے ہیں لیکن حضرت قاری صاحب ؒ نے کبھی اپنے اس روحانی تعلق کو سطحی اور وقتی اختلافات کی نظر نہیں کیا وہ تعلق بنا نا ور نبھانا خوب جانتے تھے‘ اسلاف کا ذکرخیر نہائت ادب سے کرتے اور خوب کرتے‘ جب کبھی کسی بزرگ کی بات چھڑ جاتی تو ان کی زندگی کے کئی چھپے گو شے کھول کر ایسے بیان کرتے ایسے محسوس ہوتا کہ وہ شخصیت آنکھوں کے سامنے کھڑی ہے ۔
تصنیف وتالیف:
حضرت قاری صاحبؒ صرف مسند تدریس کے شاہسوار ہی نہیں بلکہ انہوںنے اپنے گوہر بار قلم سے فن تجو ید کی خدمت بھی کی۔ رحمانی قاعدہ کے نام سے ایک ابتدائی قاعدہ لکھا جو مبتدیوں کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ اسی طرح اسہل التجوید کے نام سے ایک تجو ید کی بنیادی کتاب لکھی جس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں‘ اس میں فن تجویدکے اصول وقواعد کو بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح ایک ضخیم کتاب تحفۃ القراء کے نام سے لکھی جس میں فن تجوید وقرأت کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ان کے لائق فرزند قاری عبدالمحسن بتارہے تھے کہ ان کا کافی سارا کام فن تجویدوقرأت پر غیر مطبوعہ ہے جسے ہم ان شاء اللہ جلد زیور طباعت سے آراستہ کریں گے۔اللہ کریم توفیق وصلاحیت عطا فرمائے۔
سفر آخرت:
جو بھی اس فانی دنیا میں آیاہے اس نے اپنی حیات مستعار گذار کرایک نہ ایک دن یہاں سے چلے جانا ہے‘ جب انبیاء ومرسلین نہ رہے تو ہماری کیا حیثیت ہے؟ اس جہان رنگ وبو میں کسی کو موت سے مفر واستثناء نہیں‘ لوگ اپنے گھروں اور معاشرے میں بزرگوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور ان کی خدمت سے جی چراتے ہیں لیکن اللہ کے دین کی برکت ایسی ہے کہ جو بھی عالم دین اور استاد جب ضعف پیری سے ہمکنار ہوتاہے تو اس کی حقیقی وروحانی اولاد کی محبت وعقیدت اتنی ہی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ موت اٹل حقیقت ہونے کے باوجود ان کی جدائی اور موت کا لفظ منہ پر لانا تو دور تصور میں لانے سے بھی ڈرتے ہیں۔ لیکن اللہ کی تقدیرکے سامنے ہم سب بے بس ہیں‘ ساہیوال میں شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید راشد ہزاروی ؒ کی اچانک وفات کا صدمہ ابھی تازہ ہی تھاکہ صرف ایک دن بعد حضرت قاری صاحب ؒ بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔
قاری عبدالحمید صدیقی مدظلہٗ بابا جی رسول نگری کے پرانے ساتھیوں میں سے ہیں انہوں نے قاری اظہار احمدمدظلہٗ سے بابا جی کی طبیعت کے بارے میں پوچھا تو قاری اظہار صاحب فرمانے لگے کہ ابو جی کی طبیعت ایک دودن سے ناساز ہے‘ مجھے تو اس وقت پتہ چلا کہ حضرت باباجی صاحب فراش ہیں‘ پروفیسر عبدالرحمن شارق ،مولانا تنویر احمد طاہر ، قاری عبدالحمید صدیقی اور مولانا عمرفاروق بھٹی قاری اظہار صاحب کے ساتھ ان کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے‘ بابا جی کی طبیعت کچھ بہتر تھی۔ قاری اظہار احمد نے عرض کی اباجی! آپ کا گلہ خراب ہے آپ آہستہ بولیں تو فرمانے لگے کہ میرا تو ساری زندگی گلہ خراب نہیں ہوا اب کیسے ہوگا؟ میں ٹھیک ہوں‘ انہیں بخار تھا دل کا عارضہ تو پہلے سے ہی تھا۔
۳۰ مئی بروز ہفتہ کو حضرت ہزاروی صاحب ؒ کی نماز جنازہ بعد نماز عصر پڑھی گئی انہیں پتہ چلا تو خوب روئے کہ میں اپنے محترم بھائی جن کی رفاقت میں انہوں نے ایک ہی شہر میں زندگی کی تقریباًچالیس بہاریں اکٹھے گذاریں تھیں ان کی نماز جنازہ میں نہیں جاسکا ، اگلے دن ۳۱ مئی بروز اتوار طبیعت مزید نڈھال ہوگئی۔ مقامی ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا‘ اس نے کہا آپ سول ہسپتال لے جائیں‘ ابھی سول ہسپتال میں ڈاکٹر ز نے ابتدائی طبی امداد کا سلسلہ شروع ہی کیا تھاکہ قرآن کے اس عاشق کو موبائل کے ذریعے قرآن کی تلاوت سنائی گئی‘ قرآن سنتے ہوئے حضرت بابا جی ۷۵ سال کی حیات مستعار گذار کر ۳۱ مئی بوقت ۳۰:۳ بجے اللہ کی جنتوں کے مہمان بن گئے‘ انا للہ وانا لیہ راجعون۔ ان کی وفات کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور قرآن پڑھنے پڑھانے والوں کیلئے بجلی بن کر گری‘ جامعہ عزیزیہ میں سوگواران جمع ہونا شروع ہوگئے‘ ان کی وفات کی خبر برقی میڈیا اور اخبارات نے جلی حروف میں شائع کی‘ نماز جنازہ اگلے دن یکم جون ۲۰۲۰ء بروز سوموار نہر لوئر باری دوآب کے کنارے واقع کنعان پارک میں ۱۰ بجے صبح ا ن کے دیرینہ رفیق قاری محمدعزیر مدظلہٗ کی امامت میں ادا کی گئی۔ ان کی وصیت تو یہ تھی کہ میرا جنازہ قاری محمدابراہیم میر محمدی پڑھائیں اگر وہ نہ ہوں تو جو مرضی پڑھادے‘ جب قاری ابراہیم میر محمدی سے کہاگیا تو انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ میں اپنے استاذ گرامی قدر کی نمازجنازہ پڑھانے کی ہمت نہیں پاسکوں گا کسی اور سے کہہ دیا جائے۔ نماز جنازہ سے قبل ڈاکٹر محمدحماد لکھوی ،مولانا عبدالرشید حجازی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب ،مولانا حفیظ اللہ بلوچ اور قاری صہیب احمد میرمحمدی نے ان کی دینی ، قرآنی اور تعلیمی خدمات پر خراج عقید ت پیش کیا ۔نماز جنازہ میں ملک بھر سے علماء کرام، قراء کرام، دینی مدارس کے اساتذہ وطلبہ اور زندگی کے ہرشعبہ سے تعلق رکھنے والے حضرات نے شرکت کی۔ جو لوگ نماز جنازہ سے رہ گئے‘ دو بارہ نماز جنازہ مولانا احمد یار صدیقی خطیب جامع مسجد ثنائیہ ساہیوال کی امامت میں ادا کی گئی‘ پھر ان کا جسد خاکی ان کے آبائی گاؤں ۱۵ون آر ، رسول نگر لیجایا گیا یہاں بھی عشاقان رسول نگری ہزاروں کی تعداد میں موجو دتھے۔ نماز جنازہ علامہ حافظ ابتسام الٰہی ظہیرکی امامت میں اد اکی گئی۔ نما زجنازہ سے پہلے علامہ صاحب نے انہیں زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ نماز جنازہ سے قبل ان کے شاگر د رشید شاعر اسلام مولاناقاری بشیر احمدعزیزی نے مرحوم باباجی کو خراج عقید ت پیش کرتے ہوئے منظوم کلا م سناکر مجمع پر سناٹا طاری کر دیا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور آج اپنے استاد ومربی کو الوداع کرنے کیلئے آئے تھے۔ لحد میں ان کے لاڈلے اور قابل فخر شاگرد استاذالقراء حضر ت قاری محمدابراہیم میر محمدی اترے اور اپنے مبارک ہاتھوں سے آسمان قرأت کے اس تابندہ ستارے کو سپر د خاک کیا۔ تلامذہ ومحبین نے بوجھل ہاتھوں اور افسردہ دل کے ساتھ ان کی قبر پر مٹی ڈالنے کی سعادت حاصل کی۔ قبر پر بعدا زتدفین ان کے لائق فائق صاحبزادے مولانا فہد اللہ مراد نے دعا کروائی۔ عصر کے بعد عجب منظر تھا کہ سورج بھی غروب کی طرف بڑھ رہاتھا اور تجوید وقراءت کے اس روشن ماہتاب کو بھی اسی وقت اللہ کی رحمتوں کے حوالے کیا گیا ۔
میری تدفین کے وقت کوئی نہ بولا
ان پر مٹی نہ ڈالو یہ نہائے ہوئے ہیں
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages