علماء کی وجہ سے دین کی حرارت برقرار 20-16 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 29, 2020

علماء کی وجہ سے دین کی حرارت برقرار 20-16

ھفت روزہ اھل حدیث، علماء اھل حدیث، دین کی حرارت، علماء کی وجہ سے دین کی حرارت برقرار

علماء کی وجہ سے دین کی حرارت برقرار

تحریر: حافظ عبدالاعلیٰ درانی (بریڈ فورڈ)
پھالیہ ضلع گجرات میں مدرسہ فاروقیہ کے امام صاحب کو انتظامیہ کی جانب سے فراہم کیا گیا خستہ حال گھر گزشتہ روز تیز بارشوں کی وجہ سے زمیں بوس ہوگیا جس سے امام صاحب کا پورا چمن اجڑ گیا۔ یہ واقعہ اس قدر دلدوز ہے کہ ہر حساس انسان بہت رویا ہوگا ۔ کیونکہ ایک تو آئمہ کرام کی تنخواہیں عموماً اس قدر کم ہیں کہ وہ اپنا گزارہ بھی نہیں کرسکتے، دوسری جانب ان کی رہائش کے لیے معقول بندوبست بہت کم ہے۔
یہ صرف پاکستان و بھارت میں ہی نہیں انگلینڈ میں بھی تقریباً ایسا ہی ہے، مساجد و مدارس کی انتظامیہ کو اس پہلو پر ضرور توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ یوں بھی دین کا علم رکھنے والوں اور اس پر عمل کرنیوالوں کو سطحی طبقے کے لوگ بڑے الٹ الٹ نام دیتے ہیں ۔ حالانکہ دین کا پورا سسٹم اسی علماء کے طبقے کی وجہ سے باقی ہے جو ہر حالت میں بغیر مادی خوشحالی کے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں:
’’اس ضمن میں مرحوم قدرت اللہ شہاب نے قیام پاکستان کی ضرورت و اہمیت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی بتائی کہ اسلام پر عمل کرنا بہت مشکل تھا۔ ملاحظہ فرمائیے: ’’تحریک پاکستان اور مولوی و مُلاّ ‘‘
(ہندوستان میں) مسلمانوں کی حکومت کے زوال کے بعد صرف شہروں اور قصبوں کے نام ہی نہیں بگڑے تھے بلکہ برہام پور کے کچھ دورافتادہ علاقوں میں مسلمانوں کی اپنی حالت بھی عبرتناک حدتک ناگفتہ بہ تھی۔ سنگلاخ پہاڑیوں اور خاردار جنگل میں گھرا ہوا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جس میں مسلمانوں کے بیس پچیس گھر آباد تھے۔ ان کی معاشرت ہندوانہ اثرات میں اس درجہ ڈوبی ہوئی تھی کہ رومیش علی، صفدر پانڈے، محمود مہنتی، کلثوم دیوی اور بھادئی جیسے نام رکھنے کا رواج عام تھا۔ گاؤں میں ایک نہایت مختصر کچی مسجد تھی، جس کے دروازے پر اکثر تالا پڑا رہتا تھا۔ جمعرات کی شام کو دروازے کے باہر ایک مٹی کا دیا جلایا جاتا تھا۔ کچھ لوگ نہادھوکر آتے تھے اور مسجد کے تالے کو عقیدت سے چوم کر ہفتہ بھر کے لیے اپنے دینی فرائض سے سبکدوش ہوجاتے تھے۔ ہر دوسرے تیسرے مہینے ایک مولوی صاحب اس گاؤں میں آکر ایک دو روز کے لیے مسجد کو آباد کر جاتے تھے۔ اس دوران میں اگر کوئی شخص وفات پاگیا ہوتا تو مولوی صاحب اس کی قبر پر جاکر فاتحہ پڑھتے تھے۔ نوزائیدہ بچوں کے کان میں اذان دیتے تھے۔ کوئی شادی طے ہوگئی ہوتی تو نکاح پڑھوا دیتے تھے۔ بیماروں کو تعویذ لکھ دیتے تھے اور اپنے اگلے دورے تک جانور ذبح کرنے کے لیے چند چھریوں پر تکبیر پڑھ جاتے تھے۔ اس طرح مولوی صاحب کی برکت سے گاؤں والوں کا دین اسلام کے ساتھ ایک کچا سا رشتہ بڑے مضبوط دھاگے کے ساتھ بندھا رہتا تھا۔
برہام پور گنجم کے اس گاؤں کو دیکھ کر زندگی میں پہلی بار میرے دل میں مسجد کے ملا کی عظمت کا کچھ احساس پیدا ہوا۔ ایک زمانے میں ملا اور مولوی کے القاب علم و فضل کی علامت ہوا کرتے تھے۔ لیکن سرکار انگلشیہ کی عملداری میں جیسے جیسے ہماری تعلیم اور ثقافت پر مغربی اقدار کا رنگ و روغن چڑھتا گیا، اسی رفتار سے ملا اور مولوی کا تقدس بھی پامال ہوتا گیا۔
رفتہ رفتہ نوبت بایں جارسید کہ یہ دونوں تعظیمی اور تکریمی الفاظ تضحیک و تحقیر کی ترکش کے تیربن گئے۔ داڑھیوں والے ٹوٹھ اور ناخواندہ لوگوں کو مذاق ہی مذاق میں ملا کا لقب ملنے لگا۔ کالجوں، یونیورسٹیوں اور دفتروں میں کوٹ پتلون پہنے بغیر دینی رجحان رکھنے والوں کو طنز و تشنیع کے طورپر مولوی کہا جاتا تھا۔ مسجدوں کے پیش اماموں پر جمعراتی، شبراتی، عیدی، بقرعیدی اور فاتحہ درود پڑھ کر روٹیاں توڑنے والے ملاؤں کی پھبتیاں کسی جانے لگیں۔
لُوسے جھلسی ہوئی گرم دوپہروں میں خس کی ٹٹیاں لگا کر پنکھوں کے نیچے بیٹھنے والے یہ بھول گئے کہ محلے کی مسجد میں ظہر کی اذان ہر روز عین وقت پر اپنے آپ کس طرح ہوتی رہتی ہے؟ کڑکڑاتے ہوئے جاڑوں میں نرم و گرم لحافوں میں لپٹے ہوئے اجسام کو اس بات پر کبھی حیرت نہ ہوئی کہ اتنی صبح منہ اندھیرے اٹھ کر فجر کی اذان اس قدر پابندی سے کون دے جاتا ہے؟ دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، امن ہو یا فساد، دور ہو یا نزدیک، ہر زمانے میں شہر شہر، گلی گلی، قریہ قریہ، چھوٹی بڑی ، کچی پکی مسجدیں اسی ایک ملا کے دم سے آباد تھیں جو خیرات کے ٹکڑوں پر مدرسوں میں پڑھا تھا اور دربدر کی ٹھوکریں کھا کر گھر بار سے دور کہیں اللہ کے کسی گھر میں سرچھپا کر بیٹھ رہا تھا۔
اس کی پشت پر نہ کوئی تنظیم تھی، نہ کوئی فنڈ تھا، نہ کوئی تحریک تھی۔ اپنوں کی بے اعتنائی، بیگانوں کی مخاصمت، ماحول کی بے حسی اور معاشرے کی کج ادائی کے باوجود اس نے نہ تو اپنی وضع و قطع کو بدلا اور نہ اپنے لباس کو ترک کیا ۔ اپنی استعداد اور دوسروں کی توفیق کے مطابق اس نے کہیں دین کی شمع، کہیں دین کا شعلہ، کہیں دین کی چنگاری روشن رکھی۔ برہام پور گنجم کے گاوں کی طرح جہاں دین کی چنگاری بھی گل ہو چکی تھی، ملا نے اس کی راکھ ہی کو سمیٹ سمیٹ کر باد مخالف کے جھونکوں میں اڑ جانے سے محفوظ رکھا۔
یہ ملا ہی کا فیض تھا کہ کہیں کام کے مسلمان، کہیں نام کے مسلمان، کہیں محض نصف نام کے مسلمان ثابت و سالم وبرقرار رہے اور جب سیاسی میدان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی درمیان آبادی کے اعداد و شمار کی جنگ ہوئی تو ان سب کا اندراج مردم شماری کے صحیح کالم میں موجود تھا۔ برصغیر کے مسلمان عموما اور پاکستان کے مسلمان خصوصا ملا کے اس احسان عظیم سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہوسکتے۔ جس نے کسی نہ کسی طرح‘ کسی نہ کسی حدتک ان کے تشخص کی بنیاد کو ہر دور اورہر زمانے میں قائم رکھا۔
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages