ماہِ محرم ... نیا سال ... اسلامی تعلیمات 20-15 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 22, 2020

ماہِ محرم ... نیا سال ... اسلامی تعلیمات 20-15

ھفت روزہ اھل حدیث، ماہ محرم، نیا سال، اسلامی تعلیمات، خطبہ حرم نبوی، عبداللہ البعیجان

ماہِ محرم ... نیا سال ... اسلامی تعلیمات

امام الحرم المدنی الشیخ ڈاکٹر عبداللہ البعیجان d
ترجمہ: جناب عبدالقیوم                                 نظر ثانی: جناب محمد ہاشم یزمانی
حمد و ثناء کے بعد!
بندگانِ خدا! میں تمہیں اور اپنے آپ کو ہر سرگوشی اور تنہائی میں خوف خدا کی نصیحت کرتا ہوں ، کیونکہ شروع سے آخر تک تمام لوگوں کیلئے یہ اللہ کی طرف سے بھی نصیحت ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
’’آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے، تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو۔‘‘
اللہ تمہیں اپنی رحمتوں سے نوازے۔ تم یہ بھی جان لو! وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور ایک سال ختم ہوا جو گزر گیا وہ پھر کبھی نہیں آئے گا۔
اے بندہ خدا! گزرنے والا ہر لمحہ تجھے روز قیامت کے قریب کر رہا ہے۔ تجھے دنیا کی جدائی اور قبر کے قریب لے جا رہا ہے۔ وقت کو غنیمت جانو، اللہ کی طرف سے محاسبہ کئے جانے سے پہلے تم خود اپنا محاسبہ کر لو۔ اللہ کے سامنے تم نے پیش ہونا ہے‘ اس بہت بڑی پیشی کیلئے اپنے آپ کو تیار کرو۔ جس نے دنیا میں اپنا محاسبہ کر لیا، قیامت کے دن اس کا حساب آسان ہو گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے، وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے۔‘‘
اے اہل اسلام! تم نئے سال میں داخل ہو چکے ہو۔ سال کا پہلا مہینہ حرمت والا ہے اور آخری مہینہ بھی حرمت والا ہے۔ اس سال کے آغاز پر اور پھر سارا سال اللہ تعالیٰ تمہیں خوشیوں سے نوازے۔ اس کے سارے لمحے اور تمام وقت تمہارے لیے بابرکت بنائے۔
محرم کا مہینہ حرمت والے مہینوں میں سے ہے، حرمت والے مہینوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کی تحریر میں بارہ ہی ہے، اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں یہی ٹھیک ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔‘‘
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی اطاعت اور اس کے احکامات کو تسلیم کر کے نئے سال کا استقبال کرے۔ اللہ رب العزت سے ہونیوالی ملاقات کی تیاری کر کے اور حرمت والے مہینوں کی حرمت اور فضیلت کو سمجھ کر نئے سال کا آغاز کرے۔
حسن بصری h نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سال کا آغاز بھی حرمت والے مہینے سے کیا ہے اور اختتام بھی حرمت والے مہینے سے۔ رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ فضیلت ماہِ محرم کی ہے۔
بندگانِ الٰہی! رسول اللہ eنے ماہِ محرم میں نفلی روزوں کی تلقین فرمائی ہے، اس فضیلت کو حاصل کرنے کیلئے تمہیں بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہtکی روایت ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:
’’رمضان المبارک کے بعد افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد بہترین نماز رات کے وقت پڑھی جانے والی نماز ہے۔ ‘‘
اے اہل اسلام! اکثر علماء کرام کہتے ہیں کہ حرمت والے چار مہینوں میں ماہ محرم زیادہ فضیلت والا ہے۔ اس مہینےکی عظمت اور صحابہ کرام کے دلوں میں ا سکے احترام کی وجہ سے ہجری سال کی ابتداء اسی سے کی گئی ہے۔ امیر المومنین سیدنا عمر بن خطابt نے اپنے دور خلافت میں لوگوں کو جمع کر کے ان سےمشورہ کیا کہ ہم تاریخ کی ابتداء کہاں سے کریں؟
کسی نے رائے دی کہ رسول اللہ e کی ولادت والے دن سے کریں، کسی نے کہا کہ جس دن آپ eکو رسول بنایا گیا اس دن سے کریں، کسی نے آپ e کے ہجرت والے دن کا کہا تو کسی نے مشورہ دیا کہ جس دن آپe نے وفات پائی اس دن سے تاریخ کا آغاز کریں۔
یہ تمام باتیں سننے کے بعد سیدنا فاروق اعظمt کو بہتر لگا کہ ہم رسول اللہ eکی ہجرت سے اپنی تاریخ کی ابتداء کریں۔ کیونکہ ہجرت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کو جدا جدا کیا اور اسی ہجرت سے مسلمانوں کی مستقل حیثیت کو تسلیم کیا گیا۔
اس کے بعد سیدنا فاروق اعظم tنے صحابہ کرام سے یہ مشورہ کیا کہ کون سے مہینے سے وہ سال کی ابتداء کریں۔ تو کسی نے رائے دی کہ ربیع الاول سے کریں، کیونکہ اسی مہینے میں رسول اللہ eنے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ کسی نے رمضان المبارک سے سال شروع کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن سیدنا عمر فاروقt، سيدنا عثمان بن عفان اور سیدنا علی] نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ سال کی ابتداء محرم کے مہینے سے ہونی چاہیے۔ کیونکہ یہ حرمت والا مہینہ ہے اور اس سے پہلے ذوالحجہ بھی حرمت والا مہینہ ہے اور تمام لوگوں نے ان کے فیصلے کو تسلیم کیا۔
اللہ تعالیٰ سیدنا عمر اور تمام صحابہ کرام ] سے راضی ہو۔
اس نئے سال میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو عزت اور غلبہ عطا فرمائے۔ انہیں اپنی نصرت اور مدد سے نوازے، ان کے دلوں میں ایک دوسرے کیلئے الفت پیدا فرما دے۔ انہیں کلمہ حق پر جمع کر دے اور ان کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما دے۔ اے بندہ خدا! تجھے لہو و لعب اور کھیل کود کیلئے نہیں پیدا کیا گیا اور نہ ہی صرف سونے، کھانے اور غفلت برتنے کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔ تو جلدی جلدی اپنے آپ کو ان بیماریوں سے دور کرے۔ وقت کے گزر جانے سے پہلے پہلے اس سے بھرپور فائدہ اٹھا لے اور اس آدمی کی طرح نہ ہو جا جسے ان شعروں میں مخاطب کیا گیا ہے۔  (ترجمہ)
سال کے تمام مہینے تو نے کھیل کود اور غفلت میں گزار دئیے، جب محرم آیا تو تو نے اس کا احترام بھی نہیں کیا، نہ ہی تو نے رجب کا پورا حق ادا کیا ، نہ ہی تو نے روزوں والے مہینے کے پورے روزے رکھے۔ نہ تو نے عشرہ ذوالحجہ کی راتوں کی پروا کی۔ نہ تو نے ان میں قیام کیا اور نہ ہی احرام باندھا۔ (یعنی حج بھی نہیں کیا)۔ کیا اب تیرے لیے ممکن ہے کہ تو عبرت حاصل کرے اور اپنے گناہوں کو مٹانے کی کوشش کرے، شرمندگی اور حسرت کا اظہار کرتے ہوئے تو روئے اور آنسو بہائے۔ تو نئے سال کا آغاز توبہ سے کرے۔ شاید یہ توبہ تیرے پچھلے گناہوں کو مٹا دے۔ ارشاد ربانی ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔ جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے اور اُس وقت وہ کہے کہ اے میرے رب! کیوں نہ تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہو جاتا۔ حالانکہ جب کسی کی مہلت عمل پوری ہونے کا وقت آ جاتا ہے تو اللہ اُس کو ہرگز مزید مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے۔‘‘
دوسرا خطبہ
عاشوراء کا دن دس محرم کا دن ہے، یہ عظمت اور فضیلت والا دن ہے۔ یہ تاریخی اور دینی خصوصیات کا حامل دن ہے، ان خصوصیات میں سے ایک اس دن کا روزہ ہے۔
سیدنا موسیٰ uاس دن کا روزہ رکھتے تھے، قریش مکہ بھی اس دن روزہ رکھتے تھے۔ جب نبی e مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔ یہ دیکھ کر آپeنے اس سے اگلے برس اس دن کا روزہ رکھا اور یہ روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا۔
جب رمضان کے روزے فرض کیے گئے تو عاشوراء کے روزے کی فرضیت منسوخ کر دی گئی۔ البتہ اس کے روزے کا مستحب ہونا باقی رہا۔
بخاری و مسلم میں سیدنا عبداللہ بن عباس tکی روایت ہے کہ رسول اللہeجب مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔ جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو انہوں نےجواب دیا کہ اسی دن اللہ نے موسیٰ uاور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا کیا تھا۔ اسی لئے ہم اس دن کو عظیم سمجھتے ہوئے روزہ رکھتے ہیں۔ رسول اللہ e نے فرمایا: ’’ہم ان یہودیوں کی نسبت موسیٰ کے زیادہ قریب ہیں۔ سو تم بھی اس دن کا روزہ رکھو۔
صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس t کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ eکو کسی دن کا روزہ تلاش کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے یوم عاشوراء کے۔
صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ رسول اللہ e نے فرمايا: ’’مجھے امید ہے کہ عرفہ کے دن روزے رکھنے سے اللہ تعالیٰ پہلے اور بعد کے ایک ایک سال کے گناہ معاف کر دے گا اور عاشوراء کا روزہ رکھنے سے پچھلے ایک سال کے گناہ اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا۔‘‘
نبی e کو آخری عمر میں پتہ چلا کہ یہودی عاشوراء کے دن کو عید سمجھتے ہیں تو آپ e نے ارادہ فرمایا کہ آئندہ برس 10 محرم کے ساتھ 9 کا روزہ بھی رکھیں گے مگر اگلے سال کو پانے میں موت رکاوٹ بن گئی۔
سیدنا عبداللہ بن عباس t کی صحیح مسلم میں روایت ہے کہ جب رسول اللہ eنے دسویں محرم کا روزہ رکھا اور یہ روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا تو صحابہ کرام نے کہا، یا رسول اللہe! اس دن کی تعظیم تو یہودی اور عیسائی کرتے ہیں تو آپ eنے فرمایا: ’’ان شاء اللہ! آئندہ سال ہم نویں محرم کو بھی اس کے ساتھ ملا لیں گے مگر آئندہ سال کے آنے سے پہلے رسول اللہ e وفات پا گئے۔‘‘
بندگانِ خدا! افضل عمل یہ ہے کہ یہودیوں کی مخالفت کرتے ہوئے دسویں محرم سے ایک دن پہلے بھی روزہ رکھنا چاہیے۔ جو آدمی نو محرم کا روزہ نہ رکھ سکے اسے دسویں کا روزہ ضرور رکھنا چاہیے۔
عاشوراء کے دن کی خصوصیات میں سے ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u اور ان کے ساتھیوں کو فرعون سے نجات دی تھی۔ فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کیا، اسی لئے سیدنا موسیٰ اور بنی اسرائیل نے شکر ادا کرنےکیلئے روزہ رکھا اور نبیe نے بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کیلئے روزہ رکھا۔
اللہ رب العزت سے ہماری یہ دعا ہے کہ یہ روزہ رکھنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ سرحدوں پر ہمارے فوجی جوانوں کی اسی طرح مدد فرمائے جس طرح موسیٰu کی فرعون پر مدد کی۔
یہ پڑھیں:    موت کی تیاری
اے مسلم اقوام! اس دن کی خصوصیات یہی ہیں مگر جھوٹ گھڑنے والوں نے اس دن کے متعلق بہت سے جھوٹ گھڑ لیے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ تو وہ نبی e سے ثابت ہیں اور نہ ہی سلف صالحین سے۔ لوگوں نے دس محرم کے حوالے سے بہت سی عبادات گھڑ لیں۔ بہت زیادہ گمراہ کن اعمال کو عبادت بنا دیا ہے جن میں کوئی خیر اور بھلائی نہیں۔
بندگانِ الٰہی! اپنی جانوں اور اپنے دین کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈ رجائو، بدعتوں سے بچ جائو۔ اللہ کی شریعت کو تبدیل کرنے سے بھی بچ جائو گے تو تم پر امن رہو گے۔ تم سب سے بہترین امت ہو، تم معتدل امت ہو۔ رسول اللہ e نے ہمیں روشن شریعت پر چھوڑا ہے جس میں دن اور رات برابر ہیں۔ جس نے کوئی ایسا کام ایجاد کر لیا جو شریعت کا حصہ نہیں تو وہ مسترد ہو گا۔
اللہ تعالیٰ کی اسی طرح عبادت کی جائے جس طرح رسول اللہ e کی زبان مبارک نے طریقہ بتلا دیا ہے۔ اس میں اضافہ اور کمی دونوں ناپسندیدہ ہیں۔ ہمیں تو اللہ کایہ فرمان کافی ہے:
’’آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہو چکی ہے لہٰذا تم اُن سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو‘ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔‘‘
سیدنا حذیفہ t کہتے ہیں کہ ہر ایسی عبادت سے دور رہو جسے صحابہ کرام نے عبادت نہیں سمجھا۔ کیونکہ سلف صالحین نے اس معاملے میں بعد میں آنیوالوں کیلئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ اللہ سے ڈرو اور سلف صالحین کی راہِ اختیار کرو، اگر تم نے ان کی راہ اختیار کر لی تو سبقت لے جائو گے اور اگر اس راہ کو چھوڑ دیا تو گمراہ ہو جائو گے۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سنت پر قائم رہنے کی توفیق دے۔ بدعتوں سے ہمیں بچا لے۔ ہمیں معتدل راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages