بہترین نصیحت 20-16 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 29, 2020

بہترین نصیحت 20-16

ھفت روزہ اھل حدیث، بہترین نصیحت، خطبہ حرم

بہترین نصیحت

امام الحرم المکی الشیخ ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنی d
ترجمہ: جناب عاطف الیاس                             نظر ثانی: جناب محمد ہاشم یزمانی
حمد و ثناء کے بعد!
سب سے سچا کلام، اللہ کی کتاب ہے۔ بہترین طریقہ نبی اکرمe کا طریقہ ہے۔ خود ساختہ عبادتیں بد ترین کام ہیں۔ ہر ایجاد کردہ عبادت بدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔
اے مسلمانو! اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسولوں کو مبعوث فرمایا اور لوگوں کو توحید کی تکمیل اور شرک سے بچاؤ کی دعوت دینے کے لیے، اندھیروں سے اجالوں کی طرف لانے اور گمراہی سے ہدایت کی طرف لوٹانے کے لیے کتابیں بھی نازل فرمائیں۔  پھر اس کی رحمت کا تقاضا ہوا کہ اس آخری امت کی طرف خیر الانبیاء اور افضل المرسلین ہمارے رسول محمدe کو بھیجا جائے۔ اللہ نے آپe کو تمام  رسولوں میں سے منتخب کیا اور آپe کی امت کو تمام امتوں سے ممتاز کیا۔ سعادت حاصل کرنے کا فقط یہی طریقہ ہے کہ آپe کی باتوں کو حق تسلیم کیا جائے، آپe کی نافرمانی سے بچا جائے اور آپe کے بتائے ہوے طریقے کے مطابق اللہ کی عبادت کی جائے۔
اے مسلمانو! رسول اللہe بڑے رحم دل اور شفیق تھے، ہر ایک کے ساتھ مخلص تھے اور امت کی بھلائی چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ذی شان ہے:
’’دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے۔ اب اگر یہ لوگ تم سے منہ پھیرتے ہیں تو اے نبی! ان سے کہہ دو کہ میرے لیے تو اللہ ہی کافی ہے، کوئی معبود نہیں مگر وہ، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ (التوبہ: ۱۲۸-۱۲۹)
نبوی تعلیمات اور ہدایات میں وصیت کی ہدایت بھی شامل ہے۔ یعنی موت سے پہلے مال وغیرہ کے بارے میں وصیت کرنا۔ وصیت کا لفظ صلہ رحمی سے ملتا جلتا ہے۔ وصیت مال کی بھی ہو سکتی اور دیگر چیزوں کی بھی، البتہ مال اور جائیداد سے متعلقہ وصیت ایک شرعی حکم کی تعمیل ہے، اور اس کی بحث فقہ کی کتابوں میں پائی جاتی ہے۔ اس پر عمل پیرا ہونے سے صلہ رحمی کا مفہوم بھی پورا ہو جاتا ہے، کیونکہ وصیت کرنے والا وصیت کے ذریعے رشتہ اور تعلق نبھاتا ہے، اپنے مال کا کچھ حصہ دے کر صلہ رحمی کرتا ہے۔ مگر وہ وصیت جو مال وغیرہ سے متعلقہ نہیں ہوتی، وہ نصیحت اور رہنمائی کے معنیٰ میں ہوتی ہے۔ یعنی بھلائی حاصل کرنے یا برائی سے بچنے میں رہنمائی کرنا۔ مثال کے طور پر یہ کہنا کہ میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ جیسا کہ احادیث میں صحابہ کے یہ الفاظ آتے ہیں کہ رسول اللہe نے مجھے فلاں اور فلاں چیز کی وصیت فرمائی۔
اگر رسول اللہe کی ایسی وصیتوں اور نصیحتوں کو اکٹھا کیا جائے تو وہ ہمیں مختلف شکلوں اور مختلف موضوعات سے متعلقہ دکھائی دیتی ہیں۔ آپe کی نصیحتوں نے شعبہ ہائے زندگی کو اپنے اندر سمو لیا ہے، چاہے اس کا تعلق دنیاوی شعبے سے ہو یا آخرت سے  ہو۔ ہاں! البتہ آپe کی نصیحتوں میں آخرت کے حوالے سے رہنمائی زیادہ ملتی ہے۔ یہ نصیحتیں مختصر اور بڑی منفرد ہوتی ہیں۔ ایسی نصیحتیں کرنا کسی اور کے بس میں نہیں ہو سکتا۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! آپe کی ایک نصیحت کتاب اللہ کے بارے میں تھی۔ اس کی تلاوت کرنے اور اس پر عمل کرنے کی۔
سیدنا ابو ذرt بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا‘ اے اللہ کے رسول! مجھے وصیت کیجیے! آپe نے فرمایا: ’’قرآن کریم کی تلاوت ضرور کیا کرو، یہ کام زمین پر تمہارے لیے باعثِ نور اور آسمان میں تمہارے لیے ذکر خیر کا سبب ہے۔‘‘ (ابن حبان)
اس کتابِ عظیم نے لوگوں کی زندگی کو ہر جانب سے اور بہترین طریقے سے منظم کر دیا ہے۔
اس عظیم کتاب میں پروردگار کے ساتھ تعلق کے حوالے سے عقائد الٰہیہ اور ان سے متعلقہ غیبی اور چھپی چیزوں کے متعلق ایمان کے چھے ارکان کی صورت میں تفصیل موجود ہے۔ عبادات کی تفصیل بھی موجود ہے، معاملات کے اصول وضوابط بھی مذکور ہیں جن کے مطابق لوگ آپس میں لین دین اور معاملات کرتے ہیں ۔ اسی نے لوگوں کو اخوت اسلامی کا درس دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔‘‘ (الحجرات: ۱۰)
اسی نے خاندان کی بنیاد محبت، حقوق کی ادائیگی، رحمت اور باہمی فرائض کو پورا کرنے پر رکھی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں۔‘‘ (البقرۃ: ۲۲۸)
اسی نے زندگی کی شاہ رگ، یعنی کہ کمائی اور معیشت کے اصول وضابطے بنائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’چلو اُس (زمین) کی چھاتی پر اور کھاؤ خدا کا رزق، اُسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے۔‘‘ (الملک: ۱۵)
اسی نے زمین میں میزانِ عدل قائم کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں۔ یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہو جائے کہ کون اُس کو دیکھے بغیر اس کی اور اُس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے یقینا اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔‘‘ (الحدید: ۲۵)
اس آیت کریمہ میں تین بنیادی چیزوں کا تذکرہ ہے۔ ایک شریعت کا، دوسرا عدالت اور فیصلہ سازی کا اور  تیسرا عملی زندگی اور اس میں کام آنے والی چیز کا۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم چیزیں بیان کی گئی ہیں۔ سب ہی اعلیٰ درجے کی صفات، حکمت بھری تنبیہات اور بہترین راستے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا:
’’حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے جو لو گ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے۔‘‘ (الاسراء: ۹)
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ وہ بڑا انعام فرمانے والا ہے جس نے قرآن کے ذریعے ہماری تکریم فرمائی اور اسے اہلِ دانش و بصیرت کے دلوں کی بہار بنایا۔ بار بار پڑھنے یا مرورِ زمانہ سے وہ پرانا نہیں ہوتا۔ میں ہر نعمت پر اس کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں۔ اس کے مزید فضل کا سوال کرتا ہوں۔ درود وسلام بھیجتا ہوں اللہ کے چنیدہ خلیل پر کہ جن کے اخلاق قرآن کریم  کے مطابق تھے۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپe پر، اہل بیت پر اور صحابہ کرام] پر کہ جنہوں نے قرآن کریم کی تلاوت کی اور آپس میں ایک دوسرے کو قرآن پڑھ کے سنایا اور ایک دوسرے کو اس بارے میں نصیحت کی، یہاں تک کہ وہ پرہیزگاروں کے لیے نمونہ اور راست بازوں کے لیے چراغ بن گئے۔
توفیقِ الٰہی جنہیں نصیب ہوتی ہے، ان کے لیے تو قرآن باعثِ نور ہے۔ اس قرآن کے ذریعے اللہ کچھ لوگوں کو بلندی نصیب کرتا ہے اور اس کے سبب کچھ دوسرے لوگوں کو رسوا کرتا ہے۔ جو اس کا پابند ہو جاتا ہے، وہ اللہ کے ہاں خوش بختوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ جو اس سے بے رخی اختیار کرتا ہے یا منہ موڑتا ہے، وہ دنیا وآخرت میں ناکامی اور نقصان اٹھاتا ہے اور سب سے بڑا بد بخت بن جاتا ہے۔ امام ابن جوزیa فرماتے ہیں: دنیا کا جادو ہاروت وماروت کے جادو سے بھی سخت ہے، کیونکہ ہاروت وماروت تو میاں بیوی میں جدائی کی چالیں چلتے تھے، جبکہ دنیا غلام کو اپنے پروردگار اور آقا سے الگ کر دیتی ہے۔ اس لیے جب آزمائشیں زیادہ ہو جائیں اور انسان کے پاؤں ڈگمگانے لگیں، بالخصوص قربِ قیامت کے اس دور میں، تو یاد رکھنا کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو تمہیں حق پر ثابت قدم رکھ سکتی ہے۔ فرمان باری تعالی ہے:
’’ہاں، ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں۔‘‘ (الفرقان: ۳۲)
دل کا اطمینان، اسے حاصل ہونے والی خوشی سے کہیں بہتر ہے، کیونکہ خوشی تو وقتی ہوتی ہے، جبکہ اطمینان دائمی ہوتا ہے اور مصیبت کے وقت بھی برقرار رہتا ہے۔ دلی اطمینان کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ کا ذکر ہے:
’’خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے۔‘‘ (الرعد: ۲۸)
جو قرآن کی تلاوت میں مصروفیت کی وجہ سے ذکر اور دعا نہ کر سکے، اسے اللہ کی طرف سے ذکر ودعا کرنے والوں جتنی نعمتیں خود ہی مل جاتی ہیں۔ اللہ کا کلام لوگوں کے کلام سے اتنا افضل ہے جتنا اللہ اپنی مخلوق سے افضل ہے۔ عمر بن عبد العزیزa نے گورنروں کے نام خط لکھا: میرے کاموں میں صرف اہل قرآن سے کام لینا ۔ گورنروں نے جواب میں لکھا: ’’ہم نے اہل قرآن کو استعمال کیا تو وہ خائن نکلے۔‘‘ اس پر انہوں نے جواب دیا: ’’پھر بھی اہل قرآن ہی سے کام لو، کیونکہ اگر ان میں بھی خیر نہیں تو دوسروں میں کیسے ہو سکتی ہے۔‘‘
میری دعا ہے کہ اللہ مجھے اور آپ کو اہل قرآن میں شامل فرمائے، کیونکہ اہل قرآن ہی اللہ کے خاص اور قریبی لوگ ہیں۔ دعا ہے کہ ہم بھی اسے یاد کرنے والے اور اس کا حقِ تلاوت ادا کرنے والے بن جائیں، اس عمل کرنے والے اور اس کی راہ پر چلنے والے بن جائیں۔ اس کے بارے وصیت، کیا ہی بہترین وصیت ہے، اس کے بارے وصیت کرنے والا بھی خوب وصیت کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں۔‘‘ (صٰ: ۲۹)
یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمت ونعمتِ الٰہی بنا کر مبعوث کیے جانے والے حضرت محمد بن عبد اللہe پر دود وسلام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! دینِ اسلام کی حفاظت فرما! اے اللہ! اس ملک کو امن اور اطمیان نصیب فرما! اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! اے اللہ! خادم حرمین کی حفاظت فرما! اس کی عمر میں اور عمل میں برکت ڈال دے۔ قدم قدم پر اس کی رہنمائی فرما! اس کے ولی عہد کو کامیاب فرما! انہیں ہر طرح کے شر سے محفوظ فرما۔ ہمارے اور توحید کے دشمنوں کو ہم سے دور کر دے۔ اے اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو کتاب وسنت پر عمل کرنے اور شریعت نافذ کرنے کی توفیق عطا فرما! انہیں رعایا پر رحم کرنے والا بنا۔
اے اللہ! تو ہی اللہ ہے! تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں! تو بے نیاز ہے اور ہم فقیر اور محتاج ہیں۔ تو بے نیاز ہے اور ہم فقیر اور محتاج ہیں۔ ہم پر بارش نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ فرما! اے اللہ! ہم پر بارشیں نازل فرما! اے اللہ! ہم پر بارشیں نازل فرما! اے اللہ! ہم پر بارشیں نازل فرما! اے ہم پر بارشیں برسا! خوشگوار اور مزے دار بارش! مسلسل اور خوب برسنے والی، زمین پر چھا جانے اور اسے ڈھانپ دینے والی،  فائدہ بخش اور نقصان سے پاک بارش۔
اے اللہ! ہم نعمتوں کے زوال سے، عافیت کے خاتمے سے، اچانک آنے والی پکڑ سے اور تجھے ناراض کرنے والی ہر چیز سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔
’’اللہ کے بندو! اللہ عدل، احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ بدی، بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، تاکہ تم سبق لو۔‘‘ (النحل: ۹۰)
اللہ عظیم وجلیل کو یاد کرو، وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں مزید عطا فرمائے گا۔
’’اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو۔‘‘ (العنکبوت: ۴۵)
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages