حج وعمرہ کے برابر ثواب والے اعمال 20-16 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 29, 2020

حج وعمرہ کے برابر ثواب والے اعمال 20-16

ھفت روزہ اھل حدیث، حج وعمرہ، ثواب والے اعمال، حج وعمرہ کے برابر ثواب والے اعمال

حج وعمرہ کے برابر ثواب والے اعمال

تحریر: مولانا نعیم الغفور
دین اسلام میں حج بنیادی ارکان میں شامل ہے جس کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے ۔اسلام میں حج ہر صاحب استطاعت پر فرض ہے‘ عدم ادائیگی پر گناہ کبیرہ کا مرتکب قرار پائے گا۔ لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو حج پر جانے کی استطاعت نہیں رکھتے لیکن حج پر جانا چاہتے ہیں اور حج کا ثواب اپنے نامہ اعمال میں درج کروانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ نبی کریم e نے حج کی بڑی فضیلت بیان کی ہے ارشاد گرامی ہے ـ۔
’’ جس  نے اللہ کی رضا کے لیے حج کیا اور اس دوران کوئی بیہودہ بات یا گناہ نہ کیا وہ حج کر کے اس دن کی طرح (گناہوں سے پاک) لوٹے گا جس طرح اس کی ماں نے اسے ( گناہوں سے پاک) جنا تھا۔‘‘ (صحیح البخاری)
یہ پڑھیں:    سوالات کے آداب
یہ فضیلت سن کر ہر مسلمان کا دل چاہے گا کہ اللہ تعالیٰ اسے استطاعت دے اور وہ بیت اللہ کا حج کر ے لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی کثیر تعداد اس سعادت سے محروم رہتی ہے اور اسی خواہش کے ساتھ مٹی میں دفن ہو جاتے ہیں ۔
ایسے لوگوں کے لئے اللہ کے نبی e نے کچھ ایسے اعمال بتائے ہیں جو مال خرچ کئے بغیر اور مشقت اٹھائے بغیر ہی انجام دینے سے ان کو حج اور عمر ہ کے برابر ثواب مل جاتا ہے ۔ لیکن جو لوگ صاحب استطاعت ہیں اور بیت اللہ جا کر حج کر سکتے ہیں ان پر وہاں جا کر حج ادا کرنا فرض ہے ،حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے  اس لئے وہ یہ اعمال کر کے اپنا فریضہ انجام نہیں دے سکتا۔ہاں البتہ اس کا اجر و ثواب ضرور حاصل کر سکتا ہے لیکن اصل فریضے کی ادائیگی نہیں شمار ہو گی۔ واللہ اعلم !
ذیل میں ایسے اعمال کر ذکر کرتے ہیں جواللہ رب العزت نے اپنے محبوب پیغمبر جناب محمد رسول اللہ e کے فرامین کے ذریعے ہمیں خبر دی جو کرنے کے اعتبار سے معمولی ہیں لیکن اجر وثواب میں حج اور عمرہ کے برابر ہیں ۔
 نماز کے لئے گھر سے وضو کر کے مسجد جانا:
ہم عموما ًنماز کے لئے وضو مسجد جا کر کرتے ہیں کیونکہ مساجد میں وضو کے لئے بہترین انتظام موجود ہوتا ہے‘ اگر وضو مسجد میں کرنے کی بجائے گھر سے کر کے جائیں تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کے ثواب کے برابر ہے ۔
حدیث مبارکہ میں ہے‘ سیدنا ابو امامہt سے روایت ہے رسول اللہ e نے فرمایا: ’’ جو اپنے گھر سے وضو کر کے فرض نماز کے لئے نکلے تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کے ثواب کی طرح ہے۔‘‘ (ابو داؤد:۵۵۹)
 نماز فجر کے بعد طلو ع شمس تک رکنا اور دو رکعت پڑھنا:
جو شخص صبح فجر کی نماز پڑھے اور پھر مسجد میں ہی سورج کے طلوع ہونے تک رکے اور ذکر و اذکار میں مشغول رہے اور اس کے بعد دو رکعت نماز (اشراق) ادا کرے اس کو رسول اللہe کے فرمان کے مطابق مکمل حج اور عمرہ کے برابر ثواب ملے گا ۔
سنن ترمذی میں فرمان نبوی e ہے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ e نے فرمایا’’جس نے باجماعت فجر کی نماز  ادا کی پھر اللہ کے ذکر میں مشغول رہا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا پھر دو رکعت نماز پڑھی تو اس کے لئے مکمل حج اور عمرے کے برابر ثواب ہے‘‘( سنن ترمذی ۵۸۶)
با جماعت نمازکے لئے مسجد جانا:
’’ جو آدمی با جماعت فرض نماز کیلئے ( مسجد کی طرف) نکلتا ہے تو اس کا ثواب حج کی طرح ہے اور نفلی نماز کے لئے نکلتا ہے تو اسے مکمل عمرے کا ثواب ملتا ہے۔‘‘ (صحیح الجامع الصغیر للالبانی:۶۵۵۰)
مسجد میں حصول علم یا تعلیم کیلئے جانا:
جو شخص مسجد میں اس غرض سے جائے کہ وہاں جا کر وہ علم سیکھے گا یا جا کے سکھائے گا تو اس کواس فعل کا اجر مکمل حج کے برابر ملے گا۔رسول اللہ e نے فرمایا :’’جو مسجد کی طرف علم حاصل کرنے یا علم سکھانے کے لئے نکلتا ہے تو اسے مکمل حج کے برابر ثواب ملتا ہے ۔‘‘ ( المعجم الکبیر للطبرانی: ۷۴۷۳)
نماز کے بعد ذکر و اذکار کرنا:
سیدنا ابوہریرہt بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ نبی کریم e کے پاس آئے اور بولے کہ مال والے تو بلند مقام اور جنت لے گئے ، وہ ہماری طرح ہی نماز پڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں اور ان کے لئے مال کی وجہ سے فضیلت ہے ، مال سے حج کرتے ہیں ،عمرہ کرتے ہیں اور صدقہ دیتے ہیں ۔ تو آپ e نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤ ں جس کی وجہ سے تم پہلے والوں کے درجہ کو پا سکواور کوئی تمہارے بعد نہ پا سکے اور تم اپنے بیچ سب سے اچھے بن جاؤ سوائے ان کے جو ایسا عمل کرے اور وہ یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد تم تینتیس (۳۳)بار سبحان اللہ ، تینتیس (۳۳)بارالحمد اللہ اور تینتیس (۳۳) بار اللہ اکبرکہو۔‘‘(صحیح البخاری :۸۴۳)
مسجد قباء میں نماز ادا کرنے پر عمرے کا ثواب:
مسجد قبا ء تاریخ اسلام کی پہلی مسجد جو مدینہ منورہ سے ۳کلومیڑ کے فاصلے پر بستی قباء میں واقع ہے اس مسجد میں نماز ادا کرنے پر عمرہ کے برابر ثواب ملتا ہے۔ نبی کریمe ہر ہفتے مسجد قباء کی زیارت کیا کرتے اور اس میں دو رکعت نماز ادا کیا کرتے تھے اور آپ e نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے پھر مسجد قباء آئے اور اس میں نماز ادا کرے ،تو اس کو عمرہ کے برابر ثواب ملتا ہے۔‘‘(سنن ابن ماجہ:۱۴۱۲)
ضروری وضاحت:
یہ بات یاد رہے کہ دوسرے ممالک سے صرف مسجد قباء کی زیار ت کے لئے آنے کا حکم نہیں بلکہ یہ ان کے لئے جو مدینہ طیبہ میں رہتے ہیں یا مملکت سعودیہ میں یا وہ لوگ جو دیگر ممالک سے حج و عمرہ کی غرض سے مسجد نبوی کی زیارت کو آئیں ان کے لئے مسنون ہے کہ وہ مسجد قباء بھی جائیں اور نماز ادا کریں ۔
رمضان المبارک میں عمرہ کرنا حج کے برابر ثواب:
 رمضان المبارک میں عمرہ کرنا حج کے برابر ثواب ہے۔ رسول اللہ e نے ایک انصاریہ عورت سے فرمایا تھا:
’’ جب رمضان آئے تم عمرہ کر لینا کیونکہ اس ( ماہ رمضان) میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔‘‘(صحیح البخاری :۱۸۶۳)
والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص رسول اللہ e کے پاس آیا اور کہنے لگا میں جہاد کی خواہش رکھتا ہوں مگر اس کی طاقت نہیں تو آپ e نے دریافت فرمایا: کیا تمہارے والدین ( ماں باپ ) میں سے کوئی زندہ ہے ؟تو اس نے کہا جی ہاں ۔ میری ماں تو آپ e نے فرمایا جاؤ اس کی خدمت کرو تم حاجی ، معتمر(عمرہ کرنے والا) اور مجاہد کہلاؤ گے۔‘‘(طبرانی: ۳۰۲۵،مسند ابو یعلٰی:۲۶۹۷)
حاجی کا سامان تیار کرنا یا اس کے گھر والوں کی خبر گیری کرنا:
نبی کریم e نے فرمایا: ’’جس نے مجاہد کا سامان سفر تیار کیا یا حاجی کا سامان سفر تیار کیا یا ان کے گھر والو ں کی خبر گیری کی یا کسی روزے دارکو افطار کروایاتو اس کے لئے انہی کے برابر اجرہے اور ان کے یعنی غازی یا حاجی یا روزے دار کے اجر و ثواب میں زرہ برابر کمی نہیں کی جائے گی ۔‘‘ ( صحیح الترغیب: ۱۰۷۸)
مذکورہ بالا اعمال صحیح احادیث سے ثابت ہیں جن کا اجر و ثواب فرمان نبویe کی روشنی میں حج یا عمرہ کے برابر ہے۔یہ ایسے اعمال ہیں جن کی ادائیگی پر نہ مال کی ضرورت ہے نہ سفر کی مشکلات کا سامنا لیکن ثواب حج اور عمرہ کے برابر۔ مذکورہ اعمال جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں ان پر عمل کر کے ہم اللہ تعالیٰ سے حج اور عمرہ کے برابر ثواب کی امید کر سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو حج اور عمرہ کرنے کی بھی تو فیق بخشے۔(آمین)
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages