علومِ اسلامیہ کا سائباں جو اُٹھ گیا ... پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر 20-15 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 22, 2020

علومِ اسلامیہ کا سائباں جو اُٹھ گیا ... پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر 20-15

ھفت روزہ اھل حدیث، علوم اسلامیہ کا سائباں، پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر

علومِ اسلامیہ کا سائباں جو اُٹھ گیا ... پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف ظفرa

تحریر: جناب ڈاکٹر محمد منیر اظہر
انسان کو اللہ تعالی نے کمزور پیدا فرمایا ہے، اسی لیے دنیا میں اس کے آنکھ کھولتے ہی اس کے سامنے والدین اور دیگر عزیز واقارب کی صورت میں ایک حصار موجود ہوتا ہے، جو اس کی حفاظت ،پرورش اور تعلیم وتہذیب کے فرائض سرانجام دیتا ہے، ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے عقیدہ وفکر کی آبیاری ، پرورش اور نفوذ کے لیے انبیاء کرام کا سلسلہ قائم فرمایااور پھر ان کے بعد ان کے جانشین علماء و صلحاء یہ فریضہ سرانجام دیتے رہے ہیں جو دعوتِ حق کے لیے مثل سائبان ہوتے ہیں اور حق کی حفاظت اور نشرواشاعت ان کی زندگی کا ہدف ہوتا ہے۔
ایسی ہی شخصیات میں ہمارے محسن ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر کا شمار ہوتا ہے جو ۱۴ فروری ۲۰۲۰ء کی شام داغ مفارقت دے گئے۔موصوف ایک بہترین معلم ، مربی اور استاد ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت مہربان سرپرست اور خیر خواہ بھی تھے، ہر مقام پر انہوں نے علوم اسلامیہ کی ترویج اورترقی کے لیے انتھک محنت کی اور ہر پلیٹ فارم پر علوم اسلامیہ کے طلبہ اور اساتذہ کے پُشتی بان رہے۔ جس کسی نے اپنے جائز کام کے لیے ان سے رابطہ کیا، انہوں نے ہر ایک کی سفارش کی اور ممکنہ حد تک تعاون ضرور کیا ۔
ڈاکٹر صاحب نے ۱۹۵۱ء میں ضلع بہاول نگر کے ایک گاؤں پنج کوسی میں آنکھ کھولی، ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں اور نواحی گاؤں سے حاصل کی، میٹرک اور ایف اے چشتیاں سے اور درس نظامی مدرسہ ضیاء القرآن چشتیاں سے کیا۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور سے ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی امتیازی پوزیشن کے ساتھ پاس کیے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری گلاسکو یونیورسٹی سے حاصل کی۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے تدریسی کیریئر کا آغاز ۱۹۶۹ء میں کیا اور مختلف عہدوں پر بطور اسلامیات کے استاد عرصہ ۵۰ سال سے زائد تعلیمی وتحقیقی خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر عبدالرؤف مرحوم سے پہلے پہل شناسائی اس وقت ہوئی جب ہم مرکز التربیہ الاسلامیہ فیصل آباد میں زیرِ تعلیم تھے۔ مجھے یہ شرف حاصل ہے کہ مرکز میں درجہ تخصص میں شمولیت کرنے والے اوائل طلبہ میں شامل ہوا اور آج تک یہ سلسلہ تعلیم وتعلم برقرار ہے۔ڈاکٹر صاحب کبھی کبھار بہاولپور سے یہاں تشریف لایا کرتے تھے اور ہمیں ان کی خدمت کا موقع مل جاتا تھا۔
مرکز التربیہ کے مشائخ ثلاثہ جناب حافظ مسعود عالم، جناب مولانا ارشاد الحق اثری اورجناب حافظ محمد شریفj کے ساتھ ان کے خصوصی مراسم تھے اور مرکز التربیہ میں ان کی آمد پر جو مجالس منعقد ہوتی تھیں وہ ایک خاصے کی چیز تھی۔اکثروبیشتر ان کے یارِ غار جناب ڈاکٹر خالد ظفر اللہ بھی ہمراہ ہوتے تھے۔استاد محترم جناب حافظ محمد شریف ان کی آمد کی اطلاع پاتے تو دونوں شیخین کو بھی مرکز بلا لیتے ، رات عشائیہ کے ساتھ یہ علمی مجلس جمتی اور رات گئے تک جاری رہتی۔ حدیث نبوی اور سیر ت کے حوالے سے تحقیق و تصنیف کے متعلق تفصیل سے بات ہوتی اور ملک کے طول وعرض میں خدمت حدیث اور دفاع حدیث کے سلسلے میں جو خدمات انجام دی جارہی ہوتیں ، ان پر بحث ہوتی۔ تشنہ پہلوؤں کی نشان دہی ہوتی اور ڈاکٹر صاحب علماء کرام کی ایسے موضوعات کی طرف توجہ مبذول کرواتے جن کی ضرورت ہوتی۔ وہ اس سلسلے میں ایک نہایت شائق اور حریص طالب علم کی طرح علماء سے استفادہ بھی کرتے اور ان کی کوشش ہوتی کہ زیادہ سے زیادہ وقت ان کے ساتھ گزاریں اوروہ خود بھی  جدید موضوعات اور تحدیات (Challenges) کے حوالے سے معلومات میں اضافہ کرتے۔
غالبا ۲۰۰۴ء کی بات ہے کہ ایک ایسی خاص مجلس کا اہتمام ہوا ، جس کے لیے ان مشائخ کے علاوہ خصوصی طور پر راجووال سے ڈاکٹر عبدالرحمن یوسف صاحب کو بھی دعوت دی گئی،وہ بروقت تشریف لائے۔حافظ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ سے بھی درخواست کی گئی لیکن وہ تشریف نہ لاسکے،اس مجلس میں خصوصی طور پر حافظ عبدالکریم صاحب (ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث) جو بعد میں  ڈاکٹر ہوگئے، ان کا موضوعِ تحقیق زیر بحث تھا، ہم طلبہ نے بھی اس مجلس سے خوب استفادہ کیا اور حدیث کے بارے میں ہمارے شوق کو جِلا ملی۔
حافظ محمد شریف صاحب مدیر مرکز التربیہ سے تاثرات کے بار ے میں پوچھا تو فرمانے لگے:
ڈاکٹر صاحب بڑے دبنگ قسم کے آدمی تھے، حدیث کی محبت اور خدمت کاجذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ہر ہفتے عشرے میں ان کا فون آتا رہتا، کسی مسئلہ کے بارے میں دریافت کرنے یا گفتگو کرنے میں کسی اپنے سے چھوٹی عمر والے سے پوچھنے میں عار محسوس نہ کرتے تھے۔ہمیشہ طالب علم کے بہت زیادہ خیر خواہ ہوتے ، ساتھیوں اور دوستوں کو بہت زیادہ احترام دیتے ، کتابوں کے بہت شوقین تھے۔ مرکز التربیہ الاسلامیہ، فیصل آباد میں تشریف لاتے تھے تو فیصل آباد میں کتابوں کے خُوگر اور شائق ارشد علی صاحب یا فرقان صاحب بھی ساتھ ہوتے ، رات قیام فرماتے تو ہم پوچھتے کہ رات کو کسی چیز کی ضرورت ہوتو بتائیں توفرماتے: لائبریری کا دروازہ کھلا رکھیں اور رات دیر تک کتابوں کے دیکھنے اور مطالعہ میں مصروف رہتے، اللہ تعالی کوئی ان کی جگہ لینے والا پیدا فرما دے۔
ملک کے معروف محقق اور مصنف کتب کثیرہ مولانا ارشاد الحق اثریd بھی ان کے جنازے میں پنج کوسی تشریف لے گئے تھے ، ان سے ڈکٹر صاحب کے بارے میں سوال کیا تو فرمانے لگے:
 ڈاکٹر عبدالرؤف صاحب سے میری پہلی ملاقات ۱۹۸۷ء میں حرم مکی میں ہوئی جب میں نے سفر حج کیا تھا، ڈاکٹر صاحب ان دنوں اپنی ڈاکٹریٹ کے سلسلے میں برطانیہ میں مقیم تھے اور حج کے لیے تشریف لائے تھے۔ بعد ازاں یہ تعلق مستقل حیثیت اختیار کرگیا، جب بھی فیصل آباد تشریف لاتے تو ڈاکٹر خالد ظفر اللہ کے ہمرکاب تشریف لاتے،ادارہ علوم اثریہ کی نئی مطبوعات ضرور لے کر جاتے، گاہے بگاہے ٹیلی فون پر بھی باوجود اپنے علم وفضل کے میری رائے لیتے۔ ان کے ساتھ تعلق کی ایک اور نسبت یہ بھی تھی کہ وہ مولانا عبدالقادر حصارویa کے نواسے تھے جن کے تحقیقی مزاج اور مقالات سے میں زمانہ طالب علمی میں مستفید ہوتا رہا ،ڈاکٹر صاحب میں بھی اس تحقیقی مزاج کی ایک جھلک نمایاں تھی۔ عام طور پر سرکاری اداروں میں ایسے مناصب پر برائے نام ہی کام ہوتا ہے لیکن انہوں نے سیرت چیئر قائم کرکے صحیح معنوں میں علوم سیرت پر تحقیق وتصنیف اور ترویج کا حق ادا کردیا، وہ ایک متحرک اور انتھک شخصیت کے مالک تھے اور دوست واحباب سے بھی اپنے مناصب کے تقاضے پورے کرنے کے متمنی ہوتے تھے۔
اثری صاحب سے ڈاکٹر صاحب کے علمی ورثہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا:
یہ ان کی اولاد بیٹے ،بیٹیوں اور دیگر احباب کی ذمہ داری ہے کہ ان کے علمی ورثہ کی حفاظت فرمائیں ، جو تدیّن اور علمی پختگی ڈاکٹر صاحب اور ان کے نانا مرحوم کا امتیاز تھا اسے اپنانے میں تکاسل نہ برتیں، جو تالیفات ابھی تک چھپ نہیں سکیں ان کو منصہ شہود پر لائیں اور ضروری ترتیب اور تنقیح کے بعد زیورِ طبع سے آراستہ کریں‘ ڈاکٹر صاحب کے قابل شاگرد اور ساتھی بھی اس سلسلے میں تعاون کرسکتے ہیں۔
مفسر قرآن، معروف عالم دین اور واعظ حافظ مسعود عالم صاحبd کو ہفتہ کی صبح پروفیسر صاحب کے انتقال کی خبر دی تو بہت افسوس کا اظہار فرمایا،دیر تک إنا للہ وإنا إلیہ راجعون پڑھتے رہے اور ان کی وفات کو بہت بڑا خلا قراردیا۔ اپنے تاثرات کا اظہار انہوں نے کچھ اس طرح فرمایا:
ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر بہت قابل قدر ، علم دوست ، تحقیق کے خُوگراور محنت وہمت کا پیکر تھے۔انہوں نے کتاب وسنت کی دعوت کوبڑی جرأت کے ساتھ اور علمی انداز میں ہر مقام پر پیش کیا، ان کے اندر وسعت ِ قلبی ، دینی حمیت ،تحمس اور جذبہ خیر خواہی کی صفات بہت نمایاں تھیں، جب بھی فیصل آباد آتے ان سے ملاقات ، علمی مجلس اور تبادلہ خیال ہوتا، مجھے انہوں نے انٹر نیشنل سیرت کانفرنس میں دعوت دی اور بڑے اکرام ومحبت سے میزبانی کا حق ادا کیا، ایک دفعہ اصرار کرکے اسلامیہ یونیورسٹی میں واقع اپنے گھر لے گئے اور خوب تواضع کی،بلاشبہ وہ ایک عظیم محسن اور کریم انسان تھے جو طلبہ علوم اسلامیہ کے لیے بالعموم اور فکر ِمحدثین کے حامل شائقینِ علم کے لیے ہمہ وقت پیہم جستجو کرتے اور ان کے کام نکلواتے، اللہ تعالی حدیث وسیرت کے حوالے سے ان کی خدمات کو شرف قبولیت عطافرمائے اور انہیں صاحب سیرت کی شفاعت کا مستحق ٹھرائے۔
اسلامیہ یونی ورسٹی سے ریٹائرمنٹ کے بعد ڈاکٹر صاحب سرگودھا یونی ورسٹی تشریف لے آئے جو کہ فیصل آباد سے قریب ہے۔ دریں اثنا ڈاکٹر صاحب کا گاہے بگاہے فیصل آباد کی طرف سفر جاری رہتا، کبھی وہ یونی ورسٹی کے مناقشہ جات کے لیے تشریف لاتے تو ہوٹل میں قیام کی بجائے مرکز التربیہ کے مہمان خانے کو ہی اعزاز بخشتے اور بعض دفعہ یہ قیام دو تین دن تک جاری رہتا۔ کچھ بیماری کے سبب سے دوائیوں کا باکس بھی ساتھ ہوتا ، دن میں اپنے کام کے لیے کالج کی طرف چلے جاتے اور شام پھر واپس مرکز تشریف لاتے، ان کے لیے ہلکی پُھلکی غذا اور خوردونوش کا مرکز میں ہی اہتمام ہوتا، صبح سیر کے لیے بھی نکلتے، ایک روز میں ساتھ تھا تو فرمانے لگے یار! آہستہ چلو، آپ تیز چل رہے ہیں۔
ایک دفعہ سرگودھا سے تشریف لائے تو ایسی مجلس کا اہتمام الائیڈ ہسپتال کے پاس خیام ہوٹل میں ہوا،ڈاکٹر عمر حیات صاحب کی معیت میں تشریف لائے ، مشائخ ثلاثہ بھی تشریف فرما ہوئے،میں نے دیکھا کہ ان کی کوشش تھی کہ تھوڑے وقت میں مشائخ خصوصا مولانا ارشاد الحق اثریd سے کچھ علمی حوالوں سے استفسار کر لیں حتی کہ مجھے سختی سے ٹوک دیا کہ آپ بعد میں سوال کرتے رہنا کیونکہ آپ تو ادھر ہی رہتے ہیں۔
۲۰۰۸ء سے تقریبا ۲۰۱۲ء تک اپنے پی ایچ ڈی کے رسالے کی تیاری میں مصروفیت رہی جو کہ ایک عربی مخطوط کے دراسہ و تحقیق پر مشتمل تھا، اس سلسلے میں بھی بعض دفعہ ان سے استفادہ کیا،پی ایچ ڈی مکمل ہونے پر میں نے جی سی یونی ورسٹی فیصل آباد میں تدریس شروع کی تو خصوصی رہنمائی فرماتے رہے اورتحقیقی کام کے حوالے سے بہت زور دیا کہ تحقیقی کام (Research Project) ضرور لیں اور مکمل کریں تاکہ مستقبل میں آپ کو فائدہ ہو۔
۲۰۱۶ء کے ابتدائی دن تھے جب میری تقرری بطور اسسٹنٹ پروفیسر جامعہ اسلامیہ بہاول نگر کیمپس میں ہوئی اور انہی دنوں میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کی طرف سے کالج میں بھی تقرری ہوگئی، میں لاہور گیا تو مشورے کے لیے ان سے وقت لیا، آئی کون ویلج میں ان کے گھر پہنچے، عزیزم منشاء طیب صاحب جو بعد ازاں ڈاکٹر بھی ہوگئے ساتھ تھے۔ آپ باہر صحن میں تشریف فرما تھے، پاس کاغذوں کا پلندہ تھا جو غالبا کوئی تحقیقی مقالہ تھا، اس پر کام کررہے تھے، پہلو میں پوتا یا نواسا تھا جسے کچھ کھلا رہے تھے، بڑے تپاک سے ملے اور مفید مشوروں سے نوازا۔
اسلامیہ یونی ورسٹی میں آنے کے بعد ان کے ساتھ یہ تعلق مزید گہرا ہوا، اکثر وبیشتر ہمارے محبوب ادارے شعبہ علو م اسلامیہ، بغداد الجدید میں ان سے ملاقات ہوتی رہتی تھی اور وہ ہمیشہ مختلف کاموں میں ہمارے رہبر اور وکیل ہوتے تھے۔
شعبہ علوم اسلامیہ کی مجلس علمی (Board of Studies) کا جب بھی اجلاس منعقد ہوتا تواکثر و بیشتر کسی انٹرویو (Viva voice) کی مناسبت سے حافظ افتخار احمد صاحب ان کو بہاول پور بلا چکے ہوتے ، اور بورڈ اجلاس کے بعد یہ انٹرویوز وغیرہ منعقد ہوتے، وہ صبح سویرے شعبہ علوم اسلامیہ تشریف لے آتے، سبھی کے استاد ہونے کے ناطے سے بورڈ کے اجلاس کی صدارت بھی ان کے سپرد ہوتی۔ وہ ایک صاحب بصیرت ، زیرک ، دور اندیش رہنما کے طور پر اسے چلاتے، ان کی موجوگی میں گرم سرد ماحول بھی خوش گواری اور ظرافت طبع کا آئینہ دار ہوتا، سب کو ہمیشہ احترام دیتے، ان کے کاموں اور خدمات کے بارے میں جان کر انہیں سراہتے اور مفید مشوروں سے نوازتے۔ اجلاس کے دوران کوئی تحقیقی مجلہ یامقالہ ان کی بغل میں یا میز پر موجود ہوتا، سب مشارکین کو اس بارے میں آگاہ فرماتے اور ان میں جستجو تحقیق پیدا کرنے کے لیے مہمیز لگاتے ، نوجوان اساتذہ اورمحققین ورطہ حیرت میں ہوتے کہ ان جیسے تیز شاہ سواروں کے ساتھ کیسے ملا جاسکتا ہے۔
ان کی زندگی میں فیصلہ سازی کا وصف بھی بہت نمایاں تھا، وہ فیصلوں اور امور کو لٹکانے کے سخت مخالف تھے، مشاورت کے بعد فیصلہ ہوجاتا تو پھر کام میں جُت جاتے، ان کی زندگی میں کہیں توقف (Stop) نہ تھا ، ان کی شخصیت ؛حیات جہد مسلسل ہے آدمی کے لیے ، کی ترجمان تھی۔شعبہ علوم اسلامیہ کے اجلاسوں میں جب کئی اساتذہ پس و پیش میں سرگرداں ہوتے ، وہ اپنا بہترین فیصلہ صادر کرچکے ہوتے، ان فیصلوں میں ہمیشہ طلبہ و طالبات کی خیر خواہی ،ادارہ جات کی بہتری اور ترقی نمایاں وصف ہوتے تھے۔ دوران ِاجلاس مشارکین کی خاطر تواضع اور مہمان نوازی پر بہت توجہ دیتے ، ان کے بلز وغیرہ کے بارے میں فکر مند ہوتے تھے۔بقول اقبال
جہاں میں اہل ایمان صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
دنیا میں جابجا عہدہ و منصب کی نعمت بہت سے افراد کو ملتی ہے، اس عہدے کا صحیح استعمال شاید کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ یہ وصف ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر کی شخصیت میں حد درجہ نمایاں تھا۔ بہاول پور ہوتے ہوئے پورا جنوبی پنجاب ان کا شاگرد ہوا اور بعد ازاں دیگر شہروں میں بھی انہوں نے بڑے منصب پر خدمات انجام دیں، سب شاگردوں اور ماتحتوں سے یہی بات سننے کو ملی کہ عبدالرؤف صاحب نے یہ کا م کروایا، یہ کام اس طرح نکلوایا۔سرگودھا یونی ورسٹی نے ایک وقت میں بہت سے اداروں کو الحاق (Affiliation) دیا بعد میں بہت سے ایم فل سکالرز پریشان نظر آئے، ڈاکٹر صاحب نے ان کے مقالہ جات اور مناقشات میں بڑی محنت و جان فشانی سے تعاون کیا، میں نے ایک دوست مقصود احمد کے لیے جنہوں نے حافظ عبدالسلام بھٹوی کے ترجمہ قرآن پر مقالہ لکھا تھا رابطہ کیا تو انہوں نے اس کے مناقشہ کے لیے بہت تعاون فرمایا، مرحوم کی وفات کے تیسرے روز حافظ عارف صاحب فاضل جامعہ سلفیہ ملنے کے لیے تشریف لائے تو فرمانے لگے کہ ان کی وفات کے روز جمعہ سے پہلے ان سے ملا تھا تو انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ چند روز میں آپ کا مناقشہ کروا دیتے ہیں لیکن اسی شام وہ خود راہی آخرت ہو گئے اور بہت سے تعاون کے خواہاں سکالرز کو تنہا چھوڑ گئے۔ ان کے عملی کردار سے ہمیں پُل اور دیوار کا حقیقی فرق سمجھ آسکا کہ اینٹیں، مٹیریل اور خرچ دونوں پر ایک جیسا اٹھتا ہے ، دیوار بن جائیں تو سب کے آگے رکاوٹ بن کر کھڑی ہوجاتی ہے، لیکن اگر پُل بنا لیں تو سبھی لوگوں کو سہولت دیتا ہے اور سہولت کاری کے فرائض کی ادائیگی سے انسان خالق کائنات کی رضا پالیتا ہے۔ یقینا وہ لوگ بہت خوش بخت ہوتے ہیں جنہیں مالک خیر اور بھلائی کی چابی بنا دے اور شر اور منکر کا تالا بننے کی توفیق عطا فرما دے۔اللہ تعالی ان کے اس طرز عمل کو اپنانے کی توفیق عطا فرما ئے۔
ڈاکٹر صاحب مرحوم بہت زیادہ ملنسار اور خوش طبع شخصیت کے مالک تھے ، یہی وجہ تھی کہ یونی ورسٹی اساتذہ کے علاوہ تمام ملازمین بھی ان کو بہت احترام دیتے تھے، وہ دوستوں سے ملاقات کو ضروری خیال کرتے اور اس کے لیے ضرور وقت نکالتے تھے۔ تقریبا دوسال پہلے کی بات ہے کہ ہم سب جمعہ کے روز شعبہ علوم اسلامیہ کے بورڈ کے اجلاس میں جمع تھے، تقریبا بارہ بجے کے قریب فارغ ہوئے تو مجھے اپنے ساتھ لے کر چل دئیے، شعبہ عربی، تاریخ اور ایک ایک شعبہ میں جاتے، جو اساتذہ موجود ہوتے ان سے ملتے ،عملے کے دیگر افراد سے علیک سلیک کے بعد آگے چل دیتے، اساتذہ کو بہاول نگر کیمپس کے حوالے سے میرا تعارف بھی خود کرواتے ۔ایک دو کے سامنے جب انہوں نے تعارف کے بعد یہ جملہ فرمایا: یہ عالم آدمی ہیں۔ تو میرا سرجُھک گیا اور میں نے ایک بڑے آدمی کی طرف سے اسے حوصلہ افزائی اور اعزاز سمجھا۔ چلتے چلتے ایک چیئرمین صاحب کے دفتر میں رُکے، وضو کیا اور جاکر جامع مسجد میں جُمعہ میں شریک ہوئے ،نماز جمعہ سے فراغت کے بعد لوگوں سے ملنے کا ایک لمبا دور چلا، بہت سے لوگوں سے مسجد میں ملے، کچھ سے باہر نکلتے ہوئے اور کچھ سے واپسی پر شعبہ کی طرف آتے ہوئے، ہرایک سے تبادلہ احوال فرماتے ،ان کے اہل خانہ اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے بات چیت بھی کرتے رہے۔
۶ جنوری ۲۰۱۹ء بروز اتوار لاہورسے فیصل آباد، رفاہ یونیورسٹی تشریف لائے، یہاں سے سرگودھاکیمپس یونیورسٹی آف لاہورتک ان کی معیت میں سفر کیاجہاں پر ایم فل کے مناقشات تھے،راستہ میں حال واحوال کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان اور عزیزوں کے متعلق بھی بتاتے رہے،میں نے دیکھا کہ وہ طلبہ وطالبات سے ایک شفیق باپ جیسا سلوک کرتے تھے، انعام اللہ وٹو صاحب نے بہت سے شاگردوں کو جمع کر رکھا تھا، مناقشات کے علاوہ ان سے آپ نے بڑا فکر انگیز خطاب بھی فرمایا۔
بہاول نگر کیمپس میں ہم نے کئی بار ورکشاپ اور سیمینار وغیرہ کا اہتمام کیا ، کئی بار ان سے وقت لینے کی کوشش کی تاکہ اس علاقے میں طلبہ وطالبات اور ان سے فیض یافتہ اساتذہ کرام دوبارہ مستفید ہوسکیں۔ کئی بار ان کی مصروفیات کی وجہ سے پروگرام طے نہ ہوسکا۔ نومبر ۲۰۱۹ء میں موصوف کے برادر اصغر ڈاکٹر ابو بکر صاحب کے تعاون سے یہ سعادت نصیب ہوئی کہ شعبہ علوم اسلامیہ ، بہاول نگر کیمپس نے ’’سماجی اقدار اور حقوق انسانی کا تحفظ سیرت طیبہ کی روشنی میں‘‘ کے عنوان پر سیرت سیمینار کا انعقاد کروایا جس میں خصوصی مقررین میں وہ خود شامل تھے، حافظ محمد اشرف صاحب ڈائریکٹر سیرت چیئر، ایجوکیشن یونی ورسٹی کو بھی انہوں نے آمادہ کیا، حافظ آباد سے پروفیسر ایوب طاہر صاحب تشریف لائے اور اس طرح علم و عمل اور سیرت وکردار کی یہ کہکشاں چار دسمبر ۲۰۱۹ء کی شام سرزمین ِبہاول نگر میں جلوہ افروز ہوئی۔ پروفیسر شفیق احمد صاحب نے بہترین عشائیہ کا اہتمام کیا اور رینجرز ہاسٹل میں یہ رات کا کھانا ایک بڑی علمی مجلس کی صورت اختیار کر گیا،پُرانی یادوں کے دَر وا ہوئے اور پُرانے دوستوں اور شاگردوں کا تذکرہ بڑی تفصیل سے ہوتا رہا۔
حافظ اشرف صاحب کی معیت میں ڈاکٹر صاحب نے اپنے زمانہ طالب علمی کے بہت سے واقعات کا ذکر کیا، اسلامیہ یونی ورسٹی میں ابتدائی ایام کے اوراق پلٹے گئے، تعلیمی و تربیتی پالیسی پر سیر حاصل گفتگو ہوئی، ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر اپنی قیمتی آراء سے نوازتے رہے، شعر وشاعری کا ذکر چھڑ گیا تو کئی اشعار بھی سنائے۔ انہوں نے یہ لطیفہ بھی سنایاکہ گوجرانوالہ کے معروف شاعر عبدالحمید عدم کو کسی نے معروف اردو شاعرجوش سے ملایا اور تعارف کروایا کہ آپ عدم ہیں۔عدم کافی تن و توش کے آدمی تھے،جوش نے ان کے ڈیل ڈول کو ایک نظر دیکھا اور کہنے لگے عدم یہ ہے تو وجود کیا ہوگا۔
پانچ دسمبر ۲۰۱۹ء کو نیو کیمپس کے وسیع میدان میں سیرت سیمینار منعقد ہوا جس میں علاقہ بھر کی علمی شخصیات، اساتذہ کرام اور طلبہ و طالبات نے بھر پور شرکت کی، وہ تشریف لائے، استقبال ہوا،دوستوں کے ساتھ بیٹھے اور پھر زینت محفل بنے۔ اس اہم سیمینار میں ضروری کاروائی کے بعد انہوں نے ’’تربیت نوجواناں سیرت طیبہ کی روشنی میں‘‘ کے عنوان پر ایک وقیع اور تحقیقی مقالہ پیش فرمایا، لکھی ہوئی تحریر کے پڑھنے پر بعض دفعہ سامعین اُکتاہٹ کا شکار ہوجاتے ہیں لیکن ان کی شخصیت کا امتیاز کہ وہ لمحہ بہ لمحہ اس میں نہایت موزوں اور دل چسپ اشعار کا ذکر فرماتے  تو مجلس کو کشت ِ زعفران بنا دیتے۔وہ بولے تو خُوب، یونی ورسٹی اور کالج کے ماحول میں بڑھتی ہوئی اخلاقی خرابیوں پر خوب برسے، نوجوانوں کی تربیت کے بارے میں سیرت طیبہ کی روشنی میں ایک رہنما خطاب فرمایااور حل کے لیے بہترین تجاویز پیش کیں، بلاشبہ یہ سیمینار بہاول نگر کی تاریخ میں ایک حسین یاد گار قرار پایا۔
سیمینار کے بعد انہوں نے کچھ وقت مہمانوں کے ساتھ چائے نوشی میں گزارا ، اولڈ کیمپس کا دورہ کیا ، کیا خوش نصیبی کہ ان کی والدہ محترمہ بھی اس وقت بقیدحیات تھیں، ان کی خدمت میں دوپہر سے شام تک کا وقت گزارا، اسی دوران ایک شادی میں بھی شرکت کی، عشاء کے وقت کھانے پر شعبہ علوم اسلامیہ کے اساتذہ نے ان کے ساتھ کچھ وقت گزارا اور ان سے رہنمائی حاصل کرتے رہے۔ رات انہوں نے ہاسٹل میں آرام فرمایا اور صبح سویرے اپنے دوست ڈاکٹر عبدالرحمن یوسف سے ملنے راجووال کے لیے رخصت ہوئے اور وہاں سے لاہور تشریف لے گئے۔
پُرنم آنکھوں اور غمگین دل کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کے خصوصی احباب اور اہل خاندان سے التماس کرنا چاہتا ہوں:
1       محترم ڈاکٹر صاحب ایک راسخ العقیدہ ، پختہ فکر ، پیکر حُسن عمل اور حُسن تعامل تھے‘ ان کی سیرت کا سبق یہ ہے کہ ہم سب اس فکر ، عمل اور کردار کے لیے مخلص ہوں اور اپنی آئندہ نسلوں میں اس کی حفاظت کی ذمہ داری احسن انداز سے پوری کریں، نہ صرف یہ کہ ڈاکٹر صاحب کے لیے صدقہ جاریہ ہوگا بلکہ خود ہمارے اور ہماری آل و اولاد کے لیے فلاح دارین کا سبب ہوگا۔ان شاء اللہ!
2       ڈاکٹر صاحب کے خلف الرشید بیٹوں اور بھائیوں سے درخواست کروں گا کہ وہ سب مل کر ڈاکٹر صاحب کے علمی ورثہ کی حفاظت، ترویج اور اسے دائمی صدقہ جاریہ بنانے کے لیے ظفر فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھیں جو ڈاکٹر صاحب کی لائبریری، ان کے مقالات علمیہ اورکتب کی ترتیب و اشاعت کی ذمہ داری اٹھائے، ان کے نام سے تعلیمی اور رفاہی منصوبے شروع کریں جن سے ملک پاکستان بالعموم اور ضلع بہاول نگر اور بہاول پور خصوصی طور پر مستفید ہوں اور یہ پلیٹ فارم اس خاندان کے تعارف ، رابطے ، باہمی تعاون اور نیک نامی کے لیے مرکز کا کام دے سکے۔اللہ تعالی اس کی توفیق عنایت فرمائے اور موصوف ڈاکٹر صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ آمین!
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages