عظمت وسادگی کا حسین پیکر ... پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی 20-15 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 22, 2020

عظمت وسادگی کا حسین پیکر ... پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی 20-15


ھفت روزہ اھل حدیث، عظمت وسادگی کا حسین پیکر، پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی

عظمت وسادگی کا حسین پیکر ... پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی a

تحریر: جناب حافظ حسان سعید بھٹی
۳ جون ۲۰۲۰ بروز بدھ صبح گیارہ بجے کے قریب موبائل فون پر رانا محمد شفیق خاں پسروری (ممبر اسلامی نظریاتی کونسل،اسلام آباد)کی کال آئی‘ خیریت پوچھنے کے بعد فرمانے لگے کہ سوشل میڈیا پر پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی صاحب کے انتقال کی خبرگردش کررہی ہے کیا یہ خبر ٹھیک ہے؟میں نے عرض کیا کہ ہم نے ابھی پچھلے ہفتے ہی تو ہمیشہ کی طرح ان کی اقتدا میں ہی عید الفطر کی نماز جامعہ مسجد رحمانیہ ،راج گڑھ میں ادا کی ہے۔ رانا صاحب نے مجھے اس خبر کی تصدیق کا حکم دیا۔ابھی فون رکھا ہی تھا کہ چچا جان طارق محمود بھٹی نے بھی اسی خبر کی تصدیق کے لیے فون کیا تو میں نے انہیں بھی یہی عرض کیا۔
پروفیسرعبدالرحمن لدھیانوی صاحب کی مسجد اور رہائش ہمارے گھر سے تقریبا ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ میں نے ان کے علاقے میں اپنے ایک دوست کو کال کی تو اس نے اس بارے لاعلمی کا اظہار کیا۔ کچھ لمحوں کے بعد جب میرے دوست نے اس خبر کی تصدیق کی تو ایسے لگا جیسے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہو۔
جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آبِ بقائے دوام لے ساقی
راقم نے ۲۰۰۲ سے ۲۰۰۳ تک انہی کے قائم کردہ مدرسہ تحفیظ القرآن، راج گڑھ سے حفظ کیا۔ وفات کی خبر کی تصدیق کے ساتھ ہی کئی خوش گوار یادیں ذہن میں گھومنا شروع ہو گئیں۔
مولانا محمد اسحاق بھٹیؒ نے پروفیسر عبدالرحمن لدھیانویؒ کے حالات زندگی اوران کی دینی و علمی خدمات کا ذکر دو کتابوں ’’چمنستان حدیث‘‘ (ص ۶۱۳ تا ۶۱۹) اور ’’برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن‘‘ (ص ۲۶۸ تا ۲۶۹) میں کیا ہے۔ اس مضمون کی تیاری میں بنیادی طور پر انہی دو کتابوں سے استفادہ کیا ہے۔
 تعارف و حلیہ:
مولانا بھٹیؒ نے ’’چمنستان حدیث‘‘ میں لدھیانوی صاحب کا تعارف اور حلیہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’میانہ قد،گندم گوں،خوش مزاج،خوش گفتار،خندہ رو، میل جول میں فراخ حوصلہ،صالحیت کی نعمت سے متمتع، عمدہ کردار، نیک اطوار، سادگی پسند، سر پر قراقلی ٹوپی، شلوار قمیص میں ملبوس، اہل علم کے قدردان، حلیم الطبع، نرم خوب یہ ہیں پروفیسر عبد الرحمن لدھیانوی (a)۔‘‘
 پیدائش:
مولانا پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی ۳۰ مارچ ۱۹۴۵ء کو ہندوستانی پنجاب کے ضلع لدھیانہ کی تحصیل سمرالا کے قصبہ پواوت میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ملک کے وقت ان کی عمر دو سال ساڑھے چارماہ کی تھی۔ ان کا تعلق جاٹ گریوال برادری سے ہے۔ اگست ۱۹۴۷ء میں ان کے خاندان نے ترک وطن کر کے ضلع وہاڑی میں بورے والا کے قریب چک ۱۶۶، ای بی میں سکونت اختیار کی۔ اس گاؤں میں ان کے بعض رشتے دار پہلے سے آباد تھے۔
 ابتدائی تعلیم:
پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی صاحب نے گاؤں میں سکول نہ ہونے کی وجہ سے دو میل کے فاصلے پرقریبی گاؤں چک نمبر ۱۶۰، ای بی کے سکول سے پرائمری پاس کی۔اس کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول بورے والاسے میٹرک پاس کیا۔
 دینی تعلیم کی طرف رجحان:
۱۹۶۱ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج بورے والا میں داخل ہوئے۔کالج میں داخلے پر تھوڑا عرصہ گزرا تھا کہ ان کے والد محترم (چوہدری عبدالکریم مرحوم)نے کالج کی تعلیم ترک کرکے بیٹے کو دینی تعلیم دلانے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں وہ بورے والا میں مولانا عبداللہ گورداسپوری ؒسے ملے اور ان سے کسی مدرسے میں داخل کرانے کی درخواست کی۔ مولانا گورداسپوریؒ انہیں جامعہ سلفیہ،فیصل آباد میں داخل کرانے کے لیے لے گئے۔میٹرک پاس ہونے کی وجہ سے انہیں جامعہ کے نصاب تعلیم کے مطابق دوسری جماعت میں داخل کیا گیا۔ چوں کہ لدھیانوی صاحب نے صرف و نحو کی ابتدائی کتب نہیں پڑھی تھیں۔ اس لیے جامعہ کے مدرسین نے باہمی مشاورت سے انہیں حافظ عطاء اللہ لکھویؒ کے جاری کردہ مدرسہ، مدرسہ محمدیہ اوکاڑہ بھیج دیا۔لدھیانوی صاحب نے دوسال لکھوی علمائے کرام سے استفادہ کیا اورصرف و نحو میں خوب مہارت حاصل کی۔
 دارلعلوم تقویۃ الاسلام میں قیام:
صرف ونحو میں مہارت حاصل کرنے کے بعد حافظ عزیزالرحمن لکھویؒ کے مشورے سے کتب حدیث کی تعلیم کے لیے دارالعلوم تقویۃ الاسلام (لاہور) میںداخلہ لیا اور ۱۹۶۷ء تک یہیں تعلیم حاصل کی اور درس نظامت سے بھی یہیں فراغت پائی۔ دارلعلوم تقویۃ الاسلام میں قیام کے دوران ہی آپ نے ایف۔ اے اور فاضل عربی کے امتحانات پاس کیے۔پھر گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ عربی میں داخلہ لیااور بی۔اے کے امتحان میں امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔اسی دوران دارلعلوم تقویۃ الاسلام کے مہتمم سید ابو بکر غزنوی ؒ نے انہیں دارالعلوم میں ہی مدرس مقرر کر دیا‘ آپ نے دوسال یہاں خدمت تدریس سر انجام دی۔ سید ابو بکر غزنوی ؒ کے مشورے سے اورینٹیئل کالج، پنجاب یونیورسٹی میں ایم۔ اے عربی کے لیے داخلہ لیااور اعلیٰ نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔
اساتذہ:
چمنستان حدیث میں مولانا بھٹیؒ نے آپ کے اساتذہ میں درج ذیل علماء کے نام لکھے ہیں:
حضرت حافظ عبداللہ محدث روپڑیؒ،مولانا حافظ محمد اسحاق حسینویؒ، مولانا حافظ عبد اللہ بڈھیمالویؒ، مولانا محمد صادق خلیلؒ، مولانا بنیامین طورؒ، مولانا علی محمد نومسلمؒ، مولانا کرم الدینؒ، مولانا حبیب الرحمن لکھویؒ، حافظ شفیق الرحمن لکھویؒ، حافظ عزیزالرحمن لکھویؒ، حافظ عبدالرشید گوہڑویؒ، سید ابوبکر غزنویؒ اور مولانا عبدالرشید مجاہد آبادیd۔
 سرکاری ملازمت:
اورینٹیئل کالج، پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے ایم۔اے عربی کرنے کے بعد آپ کی بطور لیکچرر تعیناتی ہوئی۔ جن اداروں میں آپ نے تدریسی خدمات سر انجام دیں وہ بالترتیب یہ ہیں: گورنمنٹ کالج لاہور، گورنمنٹ ایف۔سی کالج، گورنمنٹ کالج پھالیہ ضلع گجرات، گورنمنٹ کالج بھائی پھیرو ضلع قصور اور گورنمنٹ کالج شیخوپورہ ۔
دسمبر ۱۹۹۱ء میں محکمہ تعلیم کے صوبائی دفتر ڈی۔پی۔آئی آفس لاہور میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر (لائبریریز) تقرری ہوئی۔ پھر محکمانہ ترقی کے نتیجے میں اسی دفتر میں ڈائریکٹر جنرل بنا دیے گئے۔ ڈائریکٹر(ایڈمن) کے ریٹائر ہونے پر انہیں ڈائریکٹر (ایڈمن) کالجز کا قلم دان سونپ دیا گیا۔ اس دوران ڈائریکٹر پلاننگ اور ایڈیشنل ڈی۔پی۔آئی کا اضافی چارج بھی ان کے پاس تھا۔ ۲۹ مارچ ۲۰۰۵ء کو اس سرکاری عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
 جماعتی ذمہ داریاں:
مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے تنظیمی سلسلے میں انہوں نے بھرپور خدمات سر انجام دیں۔پہلے لاہور شہر کی جمعیت کے امیر بنائے گئے۔ پھر صوبہ پنجاب کی جمعیت کے منصب امارت پر فائز رہے۔ مرکزی جمعیت کے نائب امیر اور شعبہ خدمت خلق کے ناظم بھی رہے۔ وفات کے وقت وفاق المدارس السلفیہ پاکستان کے کنٹرولر امتحانات کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ترجمان مجلہ ’’اہل حدیث‘‘ کے عرصہ دراز سے مجلس ادارت کے رکن بھی تھے۔
بھٹی صاحبؒؒکی لدھیانوی صاحبؒ سے بے مثل محبت:
مولانا محمداسحاق بھٹیؒ کا لدھیانوی صاحب سے تعارف تو دارلعلوم تقویۃ الاسلام میں قیام کے دوران ہی ہو گیا تھا۔ ۱۹۶۷ء میں حاجی محمد چراغ ؒ نے راج گڑھ میں جامعہ رحمانیہ کے نام سے ایک مسجد قائم کی۔کچھ عرصے کے بعد پروفیسر عبدالرحمن لدھیانویؒ کواس مسجد میں مکمل ذمہ داری سونپ دی گئی جو انہوں نے زندگی کی آخری سانس تک بھرپور طریقے سے نبھائی۔جن دنوں راقم مدرسہ تحفیظ القرآن میں حفظ کرتا تھا تو بھٹی صاحب اس مسجد کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ابتداء میں اس مسجد میں محض ۳ یا ۴ افراد جمعہ کی نماز پڑھتے تھے اور ان ۴ افراد میں میں بھی شامل ہوتا تھا۔ مولانا بھٹیؒ جمعہ کی نماز ہمیشہ پروفیسر لدھیانوی مرحوم کی اقتداء میں ادا کرتے۔ لدھیانوی مرحوم صاحب کا انداز گفتگو بھٹی صاحب کو بہت پسند تھا اس لیے کہ وہ دھیمے لہجے میں کھری اور سچی بات کرتے تھے۔ اسی طرح لدھیانوی صاحب بھی ان کا بہت احترام کرتے اورجماعتی معاملات میں ان کے مشوروں کو اہمیت دیتے ۔
 ایک ناقابل فراموش واقعہ:
لدھیانوی صاحب مرحوم کی خواہش ہوتی تھی کہ جن طلبہ نے ان کے مدرسے سے حفظ کیا وہ مزید تعلیم کے لیے کسی اچھے ادارے میں داخلہ لیں۔ راقم کاگرمیوں کی چھٹیوں میں قرآن مجید کاحفظ مکمل ہوا تھا۔والدگرامی سعید احمد بھٹیؒ لاہور کے معروف اور قدیمی سکول گورنمنٹ سنٹرل ماڈل میں مجھے داخل کروانا چاہتے تھے۔ لیکن اس سکول میں داخلے بند ہو چکے تھے۔کوشش کے باوجود داخلے کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ اسی اثنا میں والد مرحوم نے لدھیانوی صاحب مرحوم سے اس کا ذکر کیا تو اگلے ہی دن لدھیانوی صاحب مرحوم خود ہمارے ساتھ سکول کے ہیڈ ماسٹر سے ملے۔ ان دنوں لدھیانوی صاحب اعلیٰ سرکاری عہدے پر تعینات تھے اور ہیڈ ماسٹر انہیں اپنے دفتر میں دیکھ کر ہکا بکا ہو گئے اور لدھیانوی صاحب کی موجودگی میں ہی مجھے سکول میں داخلہ دے دیا گیا۔
 آخری ملاقات:
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ اس سال بھی  ہمیشہ کی طرح عیدالفطر کی نماز ان کی اقتداء میں ہی ادا کی تھی۔ عام طور پر دعا کے بعد لازما انہیں عید ملتے لیکن اس بار دعا کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ کرونا کی وجہ سے حکومتی ہدایات کے مطابق ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے گریزکریں جس کی وجہ سے ہم انہیں ملے بغیر ہی گھر چلے گئے۔
پروفیسر صاحب مرحوم سے آخری باقاعدہ ملاقات فروری ۲۰۲۰ء کے آخری ہفتے فلیٹیز ہوٹل میںغزنوی خاندان کی علمی و عملی خدمات کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار میں ہوئی تھی۔ اس سیمینار میں مختلف مسالک کے جید علمائے کرام نے شرکت کی اور غزنوی خاندان کی دینی، علمی اور ملی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ ہماری خوش قسمتی کہ اس سیمینار میں لدھیانوی صاحب مرحوم راقم اور بڑے بھائی محمد لقمان سعید کے درمیان والی کرسی میں تشریف رکھے ہوئے تھے۔ اس دوران جماعت کے لیے غزنوی خاندان کی خدمات کے ساتھ ساتھ بہت سے دیگر امور پربھی ان سے آراء جاننے کابھرپور موقع ملا۔ کھانا بھی ہم نے اکٹھے کھایا۔ اس کے بعد جمعہ اور عید کی نماز تو ان کی اقتداء میں ادا کی لیکن باقاعدہ ملاقات نہ ہو سکی۔
 وفات ، نماز جنازہ اور تدفین:
۳ جون ۲۰۲۰ء کو پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی مختصر علالت کے بعد تقریبا ۷۵ سال کی بھرپور زندگی گزار کر ہمیشہ کے لیے اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ
جامع مسجد رحمانیہ، راج گڑھ، لاہور میں پہلی نماز جنازہ پروفیسر ڈاکٹر محمد حماد لکھوی (ڈین فیکلٹی آف علوم اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی) نے پڑھائی جس میں امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث محترم پروفیسر ساجد میرd سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس کے بعد ان کی میت کو ان کے آبائی علاقے چک ۱۶۶، ای بی وہاڑی میں لے جایا گیا۔ جہاں رات گئے دوسرا جنازہ ہوا اس جنازے میں بھی ہزاروں افراد موجود تھے۔ بعد ازاں انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
سوگواران:
پروفیسر عبدالرحمان لدھیانوی مرحوم نے سوگواران میں ایک بیٹا حافظ عبدالمنان اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ لدھیانوی صاحب مرحوم کے انتقال کے بعد حافظ عبدالمنان بھائی مسجد و دیگر جماعتی امور میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی انہیں پروفیسر صاحب کاصحیح جانشین بنائے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پروفیسر عبدالرحمان لدھیانویؒ کو اعلیٰ علیین میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین!
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages