علوم شریعت میں مصالح 20-16 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 29, 2020

علوم شریعت میں مصالح 20-16

ھفت روزہ اھل حدیث، علوم شریعت، مصالح، علوم شریعت میں مصالح

علوم شریعت میں مصالح

(پہلی قسط)                       تحریر: جناب رانا محمد شفیق خاں پسروری
مصالح کا معنی و مفہوم:
لغوی معنی:
مصلحت کالغوی معنی خوبی، بھلائی، حکمت، نیک صلاح، اچھا مشورہ وغیرہ ، مصلحت کا معنی محتاط ہونا بھی ہے، احتیاط لامرہ، دور اندیشی سے کام لینا، مصلحت باب صلح یصلح سے ہے۔مصالح مصلحت کی جمع ہے یعنی وہ چیز جو خیر لائے اور ضررکو دور کرے۔
اصطلاحی معنی:
مصلحت کا معنی ہے شریعت کے مقصود کی حفاظت کرنا۔
مصلحت اصطلاح فقہ اسلامی میں اس اہم چیز جو دین، جان، مال، عقل، نسب کی حفاظت کا ضامن ہو، جس میں خرابی کم اور بھلائی زیادہ ہو۔ اس کی ضد فساد ہے۔ الخوارزمی نے مصلحت کی تعریف یوں کی ہے کہ مصلحت سے مراد شرعی مقاصد کا تحفظ ہے، یعنی انسانیت سے مفاسد کو دفع کرنا۔
مصلحت سے مراد کسی کار آمد اور نفع بخش چیز کی تعریف کرنا یا کسی ضرر رساں چیز کو دفع کرنا ہے۔ منفعت کی تلاش اور مضرت کا دفعیہ ایسے مقاصد ہیں کہ خلقت کے لحاظ سے ان کا مقصد نیکی کا حصو ل ہے اور یہ بھلائی ہے، جس میں پانچ چیزیں شامل ہوتی ہیں: دین کا تحفظ، زندگی کی حفاظت، عقل و دانش کا تحفظ، اخلاق و مال کا تحفظ۔ جو کچھ ان پانچ اصولوں کے تحفظ کا یقین دلائے وہی مصلحت ہے اور جو ان کے تحفظ میں ناکام رہے وہ مفسد ہے اور اس کو دفع کرنا مصلحت ہے۔
اسلامی شریعت بندوں کے مصالح کو پورا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ مصالح، مصلحت کی جمع ہے اور جس کے دو پہلو ہیں۔ ایک مثبت لحاظ سے پہلو اور دوسرا منفی لحاظ سے پہلو۔ کسی منفعت کا حصول اس کا مثبت لحاظ سے پہلو ہے، جبکہ دفع مضرت، یعنی کسی خرابی یا نقصان کو دور کرنا اس کا منفی لحاظ سے پہلو ہے۔
مصالح کی تفہیم کے ذرائع:
ڈاکٹر جمال الدین عطیہ اپنی کتاب مقاصد شریعت میں لکھتے ہیں کہ
مقاصد شریعت کی تفہیم کے لیے درج ذیل ذرائع پر زور دیا گیا ہے
Ý       کتاب و سنت میں علت پر نص صریح
Þ       شارع کے تصرفات کا استقراء جس کی دو قسمیں ہیں:
1       ان احکام کا استقرا جن کی علتیں مسالک علت کے ذریعہ معلوم ہوں، ان کے بارے میں کوئی صریح نص نہ ملے۔
2       مقصد اور سبب میں مشترک احکام کے دلائل کا استقرا
ß       کتاب و سنت کے احکام کو سمجھنے میں صحابہ کرام] کے نقوش قدم کی پیروی۔
یہ پڑھیں:    معراج النبی ﷺ
امام محمد طاہر بن عاشور فطرت انسانی، فطرت قوت، فطرت ذہن، تقاضا فطرت اور فطرت کے صدق و کذب سے متعلق ابن سینا کی وہ رائے نقل کرتے ہیں جو ان کی کتاب النجاۃ میں ذ کرکی گئی ہے۔
ابن سینا کے نزدیک فطرت یہ نہیں کہ ایک انسان کوئی رائے سن لے۔ کسی نقطہ نظر اور مکتب خیال کا اعتقاد رکھ لے، کچھ لوگوں کیساتھ رہ سہ لے، کسی پالیسی پروگرام سے واقفیت حاصل کر لے بلک فطرت یہ ہے کہ وہ عاقل ہونے کی حالت میں دنیا میں دفعتا واقع ہو چکی کسی چیز کا خیال کرے اور محسوسات کا مشاہدہ کرکے ان سے نتائج اخذ کرے۔ اگر بعد میں کسی چیز کے پیش آ جانے سے محسوس و مشاہد چیز پر شک غالب آجائے تو فطرت اس کی شہادت نہیں دیتی اور اگر شک اس پر حاوی نہ ہو سکے تو یہی فطرت کا تقاضا ہے۔لیکن فطرت کا ہر تقاضا سچا ہی ہو یہ بھی ضروری نہیں، بلکہ جس قو ت کا نام عقل ہے اس کی فطرت سچی ہوتی ہے اور جسے ذہن کہا جاتا ہے اس کی فطرت جھوٹی ہو سکتی ہے۔ کذب ان امور میں واقع ہوتا ہے جو بذات خود محسوسات نہیں ہوتے بلکہ محسوسات کے مبادی ہوتے ہیں۔
امام جوینی کے بقول: استدلال وہ معنی ہے جو ان امور میں جن کا تقاضا فکر عقلی کرے، حکم پر دلالت کرنے والا اور اس کے مناسب حال ہو البتہ اس کی کوئی متفق اصل نہ پائی جائے اور متعین کردہ علت اس میں جاری ہو۔
امام الحرمین کے قول کے مطابق استدلال کے حجیت کے بارے میں تین مسالک ہیں؛
1       اس کا اعتبار نہیں کیا جائے اور صرف اس معنی کی پیروی کی جائے گی جس کی کوئی اصل ہو۔
2       استصلاح اور استصواب کی ان مختلف وجوہ کی پیروی جائز ہے جو نص سے قریب یا دور ہوں بشرطیکہ کتاب و سنت اور اجماع کی طرف سے اس کی ممانعت نہ پائی جائے۔
3       معنی کو اختیار کیا جائے گا اگرچہ اس کی کوئی اصل نہ ہو ہو بشرطیکہ وہ ثابت شدہ اصولوں کے معانی سے قریب ہوں۔ یہی امام شافعی کا مسلک ہے۔
امام عز بن عبدالسلام کے نزدیک جس طرح دنیا کے مصالح اور مفاسد کا علم شرائع کے ذریعہ ہوتا ہے اسی طرح عقل کے ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر خون، شرمگاہ، مال اور عزت کے حرام ہونے پر جس طرح شریعتیں متفق ہیں اسی طرح دنیا کے تمام حکما بھی ان کی حرمت پر متفق ہیں۔
آپ دوسری جگہ فرماتے ہیں:
’’آخرت کے مصالح و مفاسد اور ان کے اسباب تو صرف شرع ہی سے معلوم ہو سکتے ہیں۔ اگر ان کا کوئی گوشہ مخفی رہ جائے تو وہ شریعت کے دلائل یعنی کتاب وسنت، اجماع، معتبر قیاس اور صحیح استدلال کے ذریعہ دریافت کر لیا جائے گا۔ جہاں تک دنیا کے مصالح ومفاسد اور ان کے اسباب کا تعلق ہے تو ان کی معرفت ضروریات، تجربات، عرف و عادات اور معتبر خیالات سے حاصل ہو سکتی ہے۔ اگر ان کا کوئی پہلو مخفی رہ جائے تو وہ بھی ادلہ شرع سے کیا جا سکتا ہے۔ جو شخص مناسب امور، مصالح اور مفاسد نیز ان میں سے راجح اور مرجوح کی معرفت چاہتا ہو وہ ان کو یہ سمجھ کر اپنی عقل کے آگے پیش کرے کہ ان کے بارے میں شرع کی طرف سے کوئی ہدایت نہیں ملی پھر جب وہ اس پر احکام کی بنا رکھے گا تو مشکل ہی سے کوئی حکم خلاف شرع نکلے گا۔ اس طرح وہ افعال کے حسن و قبح سے بخوبی واقف ہو جائے گا۔ صرف وہی احکام اس سے مستثنیٰ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے بطور تعبد اپنے بندوں کو دیئے ہیں یا جن کی مصلحت اور جن کے مفسدہ سے اس نے اپنے بندوں کو واقف نہیں کرایا۔ آپ اسے شریعت کا منہاج بھی قرار دیتے ہیں۔ ‘‘
اگر کتاب و سنت میں مذکور مقاصد کا تتبع کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چھوٹے بڑے خیر کا حکم دیا ہے اور ہر چھوٹے بڑے شر سے روکا ہے۔ ان کے بقول خیر کی تعبیر مصالح کی دریافت اور مفاسد کے ازالہ سے کی جاتی ہے اور شر کی تعبیر مفاسد کے حصول اور مصالح کے ازالہ سے کی جاتی ہے۔ ان کا استدلال قرآن کی اس آیت سے ہے:
’’جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔‘‘
خالص خیر اور خالص شر میں تو مصالح کے حصول اور مفاسد کے ازالہ کی حقیقت کا ادراک آسان ہے مگر مشکل اس صورت میں پیش آتی ہے جب دو خیر میں سے زیادہ بہتر اور دو شر میں سے زیادہ برے کو جاننے کی کوشش کی جاتی ہے یا مصلحت کو مفسدہ پر، اس طرح مفسدہ کو مصلحت پر ترجیح دینے کی ضرورت پڑے یا جب مصالح اور مفاسد دونوں سے ناواقف ہوں۔ ہر قسم کے مصالح کی  ترغیب دینے والی اور ہر قسم کے مفاسد پر تنبیہ کرنے والی قرآن کی سب سے جامع آیت یہ ہے:
’’یقینا اللہ عدل، احسان اور قرابت دار کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘
امام عز بن عبدالسلام ایک اور کتاب کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’آخرت کے مصالح او راس کے مفاسد صر ف شریعت ہی کے ذریعے جانے جا سکتے ہیں اور دنیا کے مصالح و مفاسد تجربات اور عادات کے ذریعہ جانے جاتے ہیں۔‘‘
امام ابن تیمیہؒ فرماتے:
’’اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو اس فطرت پر پیدا کیا ہے جس میں حق کی معرفت اور اس کی تصدیق نیز باطل کی پہچان اور اس کی تکذیب کی صلاحیت  ہے۔ اسی طرح اس فطرت میں حق کے لیے نفع بخش، مناسب اور پسندیدہ چیز کی شناخت کی اہلیت بھی موجود ہے جیسا کہ وہ حق کے لیے مضر، اس کے منافی اور اس کی نظر میں ناپسندیدہ امور کے ادارک کی صفت سے بھی متصف ہے۔ لہذا جو چیز حق اور موجود ہو گی فطرت اس کی تصدیق کرے گی اور جو چیز حق اور نفع بخش ہو گی فطرت اس کا ادراک کر لے گی، اسے پسند کرے اور اس پر اطمینان کا اظہار کرے گی۔ اس کو معروف کہتے ہیں اور جو چیز باطل ہو گی، معدوم ہوگی، فطرت اسے جھٹلا دے گی، اسے ناپسند کرے گی اور اس سے اجنبیت کا اظہار کریگی یہی منکر ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’جو انہیں نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے ۔‘‘
امام ابن القیمؒ فرماتے ہیں:
’’شریعت کی بنیاد و اساس بندوں کی دنیوی و اخروی حکمتوں اور مصالح پر ہے۔ شریعت سراپا عدل ہے۔ سراپا رحمت ہے۔ سراپا مصالح ہے۔ سراپا حکمت ہے۔ لہذا ہر وہ بات جو انصاف کے دائرہ سے نکل کر ظلم کے دائرہ میں آجائے رحمت سے اس کی سند کی طرف منتقل ہو جائے، مصلحت سے مفسدہ میں تبدیل ہو جائے اور حکمت میں لغویت میں بدل جائے وہ شریعت سے خارج ہے اگرچہ تاویل کر کے اسے شریعت میں داخل کر دیا گیا ہو۔‘‘
 مصالح کی اقسام:
مصالح میں بعض وہ ہیں کہ جن کا شارع نے اعتبار کیا ہے۔ اعتبار سے مراد یہ ہے کہ شارع نے ایسے احکام دیے ہیں جن کے ذریعے ان مصالح تک رسائی ہو سکتی ہے۔ مثلا جان کی حفاظت کے لیے شریعت نے قصاص کا حکم دیا، دین کی حفاظت کے لیے جہاد کا حکم دیا، عقل کی حفاظت کے لیے شراب نوشی پر حد مقرر کی اور مال کی حفاظت کے لیے چوری کی حد مقرر کی۔
یہ تمام مصالح، مصالح معتبرہ کہلاتی ہیں۔ ان کی ضرورت یہ ہے کہ کوئی ایسا واقعہ، جس کے بارے میں شارع کی طرف سے کوئی منصوص حکم موجود نہ ہو، لیکن علت میں یہ کسی ایسے دوسرے واقعہ سے مساوی ہو کہ جس کے بارے میں شارع کا منصوص حکم موجود ہو، تو اس اول الذکر غیر منصوص واقعہ پر، ثانی الذکر منصوص واقعہ کے حکم کا اطلاق ہو گا۔
مصالح معتبرہ کے مقابلے میں بعض ایسی مصالح بھی ہیں جو محض باطل خیال یا وہم پر مبنی ہوتی ہیں اور سرے سے ان کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہوتی۔ چنانچہ شریعت نے نہ تو انہیں درخورِ اعتناء جانا اور نہ ہی انہیں معتبر سمجھا، بلکہ انہیں لغو قرار دیا۔ یہ مصالح، مصالح ملغاء کہلاتی ہیں۔ مثلا میراث میں قرآن مجید کے حکم سے ماخوذ یہ قاعدہ مقرر ہے کہ مرد کو عورت سے دوگنا حصہ ملے گا۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مصلحت تو یہ ہے کہ مرد و عورت دونوں کو برابر حصہ ملنا چاہئے، تو یہ ایسی مصلحت ہے کہ جسے شریعت نے لغو قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے (یعنی تقسیم ترکہ کا) کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔‘‘
اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ سود خور، اپنے مال کے اضافہ کے لیے سود کا سہارا لیتا ہے۔ لیکن شریعت نے سود کو حرام قرار دے کر اس مصلحت کو بھی لغو قرار دیا ہے۔
یہ پڑھیں:    سجدۂ سہو کا بیان
اسی طرح اگر کچھ لوگ اپنی بزدلی یا جان بچانے کی خاطر جہاد سے بیٹھ رہیں، تو ان احکام کے پیشِ نظر، جو شریعت نے جہاد کے سلسلہ میں دیے ہیں، یہ مصلحت لغو قرار پائے گی۔۔۔چنانچہ ایسی مصالح پر احکام کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔
مصالح معتبرہ (جن کا شریعت نے اعتبار کیا ہے) اور مصالح ملغاء (جنہیں شریعت نے لغو قرار دیا ہے) کے پہلو بہ پہلو کچھ ایسی مصالح بھی ہیں کہ جنہیں نہ تو شارع نے لغو قرار دیا اور نہ ہی ان کے معتبر ہونے کے بارے میں کوئی وضاحت فرمائی۔ بلکہ یہ ایسے واقعات سے متعلق ہوں کہ جن کے بارے میں شریعت نے سکوت اختیار کیا ہو، یا کسی منصوص حکم سے ان کی نظیر نہ ملتی ہو، تاہم ان میں کوئی ایسا وصف موجود ہوتا ہے کہ جو کسی معین حکم کے استنباط کے لیے مناسب ہوتا ہے۔ اور نتیجۃ حصولِ منفعت یا ازالہ نقصان کا سبب بنتا ہے۔۔۔تو ایسی مصالح، مصالح مرسلہ کہلاتی ہیں۔۔مصلحتِ مرسلہ کی ایک آسان سی تعریف فقہاء نے یوں کی ہے کہ جس کام کے بغیر واجب یا فرض کی تکمیل نہ ہوتی ہو، وہ بھی واجب یا فرض ہوتا ہے۔ مثلا نماز و طواف کے لیے طہارت فرض ہے جبکہ پاکی پانی کے بغیر ممکن نہیں۔اب پاک پانی کا حصول بذاتِ خود فرض یا واجب نہیں، لیکن چونکہ فرضیت طہارت اس پر موقوف ہے، لہذا پاک پانی کا حصول بھی فرض ہے۔ یہ وہ قاعدہ ہے جو مصالح مرسلہ میں استعمال ہوتا ہے۔ جو دین کے سلسلہ میں لوگوں کے لیے مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔۔۔مصالح مرسلہ کی مزید مثالیں بیان کی جاتی ہیں:
Ý       ایک امانت دار کے پاس لوگوں کے سامان کا ہونا، اس کے تلف اور ضائع ہونے کی صورت میں وہ اس کا ضامن ہوتا ہے اور اس کی ادائیگی کا پابند ۔ لیکن اس ضمانت کے متعلق شریعت میں کوئی ذکر نہیں۔ شریعت نے نہ اس کا اعتبار کیا ہے اور نہ اسے لغو قرار دیا ہے۔ البتہ خلفائے راشدین] نے یہ فیصلہ فرمایا کہ کاریگر کے پاس سے اگر لوگوں کا مال ضائع ہو جائے تو وہ اسے ادا کر لے گا۔ چنانچہ سیدنا علیt فرماتے ہیں: ’’اس کے بغیر لوگوں کے امور درست نہیں رہ سکتے۔‘‘
کیونکہ صانع کے پاس لوگوں کے جانے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور وہ اپنا سامان صانع کو دے کر چلے جاتے ہیں۔ اگر صانع کو اس سامان کا ضامن نہ بنایا جائے تو وہ اُس سامان کی حفاظت و نگہداشت نہیں کرے گا، اس کا نتیجہ صرف یہی نہیں ہو گا کہ لوگوں کا نقصان ہو گا، بلکہ لوگ اپنا سامان صانع کے پاس نہ چھوڑیں گے تو صنعت گری کا کاروبار ہی ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔۔۔ظاہر ہے لباس سلوانے کے لیے ایک درزی کو دیا جانے والا کپڑا ہی درزی غائب کر دے تو دوبارہ اس کے پاس لباس سلوانے کے لیے کون جائے گا؟ حضرت علیt کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے کہ ’’اس کے بغیر لوگوں کے امور درست نہیں رہ سکتے۔‘‘
یہ پڑھیں:    کتابیں اپنے آباء کی
اس استدلال کی ضرورت یوں پیش آئی ہے کہ صانع کی ذمہ داری کے متعلق شریعت نے کوئی ذکر نہیں کیا، اس کو واجب قرار دیا نہ ضروری اور نہ اسے لغو قرار دیا۔ لیکن صانع کا ذمہ دار ہونا چونکہ مصلحتِ عامہ پر مبنی تھا، جو اُن کی خاص مصلحت سے اہم تھا، لہذا شریعت کے تصرفات میں یہ ضمانت اور ذمہ داری مناسب ہے، جس میں مصلحتِ عامہ کو مصلحتِ خاصہ پر مقدم رکھا گیا اور مصلحتِ عامہ کی مصلحتِ خاصہ پر ترجیح رسول اللہe کے اس فرمان سے واضح ہے کہ
’’کوئی شہری باشندہ، کسی دیہاتی سے شہر میں پہنچنے سے پہلے کوئی چیز نہ خریدے۔‘‘
اس کی دوسری مثال قرآن مجید کا جمع کرنا اور اسے کتابی صورت دینا ہے۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیقt کے زمانہ میں قرآن مجید کو جمع کیا گیا اور کتابی صورت میں اسے تحریر کیا گیا، صحابہ کرام] کا اس پر اجماع اور یہ کام کر دیا گیا۔۔۔جبکہ اس سے قبل قرآن مجید الگ الگ سورتوں میں اور صحابہ کرام] کے پاس متفرق حصوں میں موجود تھا۔۔۔یہ بھی مصالح مرسلہ کی ایک قسم ہے۔ کیونکہ شارع علیہ السلام نے نہ تو اس کے جمع کرنے کا حکم دیا اور نہ ممانعت فرمائی۔ ہاں امت کی مصلحت اور دین کا یہ تقاضا تھا کہ قرآن پاک کی کتابت ہو کر اسے کتابی صورت دے دی جائے تاکہ یہ تلف ہونے سے محفوظ ہو جائے اور کوئی اس کا انکار نہ کر سکے۔۔۔حفاظ کی وفات یا نسیان سے قرآن مجید ضائع نہ ہو جائے۔
مصالح مرسلہ کی ایک مثال سیدنا عمرt کا یہ اقدام بھی ہے کہ آپt نے تقسیمِ وظائف اور مسلمانوں کو جہاد میں بھیجنے کے لیے رجسٹر بنانے کا حکم دیا۔
کسی تہمت لگانے والے کو مارنا، چنانچہ امام مالکa وغیرہ اسے ضروری قرار دیتے ہیں۔
ایسے جرائم پر مالی سزا دینا جن میں حد نہیں اور نہ ہی حضور اکرمe نے ان کے تاوان اور جرمانہ کے متعلق کچھ وضاحت فرمائی۔
اگر کوئی جماعت کسی ایک آدمی کو قتل کر دے تو اس کے قصاص میں پوری جماعت کا قتل کیا جانا۔
قریب المرگ میں جو خاوند اپنی بیوی کو محض اپنے ورثہ سے محروم کرنے کے لیے طلاق دے۔ طلاق کے بعد بھی اس کو خاوند کے ورثہ میں سے حصہ دلوانا۔
ایسے امام کی بیعت کرنا جو علومِ شرعیہ کی روشنی میں فتویٰ دینے سے قاصر ہو، جبکہ ایسا آدمی میسر نہ ہو جس میں امامت کی تمام شرائط موجود ہوں۔
اسی طرح منصبِ قضاء سب سے افضل ترین شخص کا حق ہے، لیکن اگر اس کی کامل اہلیت رکھنے والا شخص موجود نہ ہو تو کسی دوسرے کمتر شخص کو اس منصب پر مقرر کرنا۔۔۔کیونکہ امت کو شتر بے مہار کی طرح امیر کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا، ورنہ برائی کثرت سے پھیلے گی اور شر و فساد و فتنہ عام ہو جائے گا۔
مقاصدِ شریعت کی بات کو دیگر بعض اہلِ علم نے یوں بھی بیان کیا ہے کہ ’’شریعت کے مقاصد بنیادی طور پر دو ہی ہیں۔‘‘
1       دینی اور دنیوی نقصانات اور فسادات کا دفعیہ
2       دینی اور دنیوی منافع اور مصالح کا حصول ۔
اب تک کی بحث سے ہم نے اس علم کی تعریف جان لی اور ساتھ ہی اس کی غرض و غایت بھی جان لی یعنی کہ ’’اللہ تعالیٰ کی بندگی کا ثبوت اور انسان کی دینی و دنیوی سعادت مندی۔‘‘
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages