سفرِ آخرت کے راہی 20-16 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 29, 2020

سفرِ آخرت کے راہی 20-16

ھفت روزہ اھل حدیث، سفر آخرت، آخرت کے راہی، سفرِ آخرت کے راہی

سفرِ آخرت کے راہی

انتخاب: میاں عبداللہ
الشیخ ابونبہان قاضی محمد عیاض وفات پا گئے:
آپ کا تعلق عارف والا ضلع پاکپتن سے تھا۔ آپ کے والد محترم مولانا علی محمد جامعہ امینیہ دہلی سے فارغ التحصیل اور مولانا احمد علی لاہوری اور مولانا عبیداللہ سندھی سے فیض یافتہ تھے۔
قاضی صاحب نے دسمبر ۱۹۵۴ء میں ولادت پائی‘ آپ شروع سے ہی سادہ مزاج اور مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک تھے۔ عاجزی وانکساری آپ کی طبیعت کا لازمہ تھی۔ آپ نے عصری تعلیم میٹرک‘ ایف اے‘ بی اے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی کیا۔ پھر آپ دینی تعلیم کی طرف راغب ہوئے اور مدرسہ عربیہ چنیوٹ میں داخلہ لیا اور فارغ التحصیل ہوئے۔ بعد ازاں آپ کا داخلہ مدینہ یونیورسٹی میں ہو گیا‘ وہاں سے فراغت کے بعد کراچی کو اپنا مسکن بنایا اور مختلف دینی مدارس جامعۃ الرشید کراچی‘ جامعۃ فاروقیہ ڈرگ روڈ اور جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔
آپ علوم وفنون کے ماہر اور طلبہ کے بڑے ہمدرد اور خیر خواہ تھے۔ طلبہ بھی آپ سے بہت مانوس تھے۔ آپ طلبہ کو اکثر یہ کہا کرتے کہ
’’میں اس لیے تم پر زیادہ توجہ کرتا ہوں اور تمہیں رغبت دلاتا ہوں کہ علم کو سمجھ کر محنت سے حاصل کریں تا کہ جو ٹھوکریں میں نے زندگی میں کھائی ہیں آپ ان سے بچ جائیں۔‘‘
یاد رہے کہ آپ خاندانی طور پر حنفی المسلک تھے اور آپ کی ساری تعلیم بھی سوائے مدینہ یونیورسٹی کے دیوبندی مدارس میں ہوئی لیکن آپ اپنی تحقیق سے عامل بالسنہ ہوئے اور قرآن وحدیث کو ہی عملی زندگی کے لیے رہنما بنا لیا اور اس کے مطابق زندگی گذارنے کی جستجو کرنے لگے۔ آپ نے ’’مدنی قاعدہ مع بکھرے موتی‘‘ کے نام سے ایک کتاب بھی تحریر کی جس میں نحو وصرف کے قواعد کو عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
آپ جامعہ ابی بکر کراچی میں اپنے کمرہ میں موجود تھے کہ اچانک ہارٹ اٹیک کی وجہ سے اپنی زندگی کی تقریبا ۶۶ بہاریں دیکھ کر ۳ مئی ۲۰۲۰ء کو وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
پوری جماعت کے لیے عموما اور جامعہ ابی بکر کی انتظامیہ‘ اساتذہ وطلبہ کے لیے خصوصا یہ ایک سانحہ تھا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی بخشش فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق دے۔
اللہم اغفر لہ وراحمہ وعافہ واعف عنہ۔
………………bnb………………

شیخ الحدیث مولانا رحمت اللہ ربانی بھی چل بسے:
اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ جماعت کو پے در پے جید علماء کرام کی جدائی کے صدمات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں مزید کسی پریشانی سے محفوظ رکھے۔ آمین!
وفیات الاعیان کی انہی خبروں میں شیخ الحدیث مولانا رحمت اللہ ربانی کی وفات کی خبر بھی آگئی جس نے اہل علم کو رنجیدہ کر دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! آپ سنجیدہ فکر خطیب‘ بالغ نظر مدرس اور کہنہ مشق مشفق استاد ومربی ہونے کے ساتھ ساتھ حاضر دماغ مناظر اور محقق ومصنف بھی تھے۔
آپ ۱۹۳۷ء میں انبالہ شہر میں پیدا ہوئے۔ تقسیم وطن کے بعد اپنے والدین کے ہمراہ ضلع لیہ میں سکونت اختیار کی۔ جب ہوش سنبھالا تو صرف سات سال کی عمر میں جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ میں حصول تعلیم میں مگن ہوئے۔ حصول علم سے فراغت کے بعد قلعہ دیدار سنگھ‘ گوندلانوالہ‘ گکھڑ وغیرہ میں مختلف اوقات میں امامت وخطابت کی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ بعد ازاں آپ لاہور تشریف لائے تو سمن آباد اور پونچھ روڈ پر تبلیغ دین کے لیے کوشاں رہے۔
پھر آپ نے چند احباب کے ساتھ مل کر دھرم پورہ میں دار العلوم محمدیہ کی بنیاد رکھی اور صرف ۱۵ طلبہ کے ساتھ تعلیم کا آغاز کر دیا۔ آپ دار العلوم میں تدریس کے ساتھ منصب شیخ الحدیث پر بھی فائز تھے اور مسجد میں خطیب بھی۔
تا آنکہ طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر مدرسہ کو لوکو ورکشاپ مغل پورہ منتقل کر دیا گیاتو آپ اس کی ادارتی ذمہ داریوں کے ساتھ صحیح بخاری شریف کا درس بھی دیتے رہے۔ اس دوران آپ نے الفیصل ٹاؤن کینٹ لاہور میں جامع مسجد بلال اہل حدیث کے نام سے مسجد تعمیر کر کے خطبہ دینا شروع کیا اور یہ سلسلہ وفات تک جاری رہا۔
آپ نے کچھ عرصہ مرکزی جامع مسجد اہل حدیث باغوالی سانگلہ ہل ضلع شیخوپورہ میں بھی خطابت کے جوہر دکھائے۔
آپ نے باطل فرقوں سے کئی ایک مناظرے بھی کیے اور دین حق کی ترویج واشاعت کے لیے تقریبا چھوٹی بڑی ۱۵ کتب تصنیف کیں۔ جن میں عقیدہ توحید اور مسلک اہل حدیث کے امتیازی مسائل کو مرکز التفات ٹھہرایا‘ آپ کو شعر وشاعری کا بھی عمدہ ذوق تھا۔ آپ دینی دنیاوی لحاظ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور آپ نے مختلف علوم وفنون میں ۱۹ ڈگریاں حاصل کر رکھی تھیں۔ دار العلوم محمدیہ لوکو ورکشاپ‘ کئی ایک مساجد اور سینکڑوں طلبہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہیں۔ ان شاء اللہ!
آپ اپنی زندگی کی ۸۳ بہاریں گذار کر ۴ جون ۲۰۲۰ء کو لاہور میں وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
آپ کی نماز جنازہ دوسرے روز ۵ جون ۲۰۲۰ء بروز جمعہ صبح ۱۰ بجے آپ کے داماد مولانا امیر حمزہd کی امامت میں ادا کر کے آپ کو لاہور کینٹ کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ آپ زندگی کے آخری دو دن یہ دعا کثرت سے پڑھتے رہے۔ اللہم الحقنی بالصالحین!
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے بندے پر رحمت کرتے ہوئے ان کی دعا کو شرف قبولیت سے نوازے۔ اور انہیں انبیاء‘ صدیقین‘ شہداء اور صالحین کی رفاقت نصیب فرمائے۔ آمین!
اللہم اغفر لہ وراحمہ وعافہ واعف عنہ۔
………………bnb………………

مولانا ابویحییٰ محمد زکریا زاہد کا سانحہ ارتحال:
جماعتی حلقوں میں اس خبر نے احباب جماعت کو مزید پریشان کر دیا کہ معروف مترجم ومصنف حضرت مولانا ابویحییٰ محمد زکریا زاہدa وفات پا گئے ہیں۔ آپ کے والد محترم کا نام محمد ابراہیم ہے اور ضلع قصور کے معروف گاؤں بازید پور میں دسمبر ۱۹۵۳ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کے باپ دادا نے خوشحالی کے بعد عسرت وتنگی کے دن بھی دیکھے اور آپ کے خاندان نے بڑی کسمپرسی کی حالت میں زندکی گذاری۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان حالات میں بھی علم وفضل سے نوازا اور آپ سے دینی خدمت کا کام لیا جو ہمارے لیے باعث نصیحت ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور وہ قادر مطلق جو چاہے وہ کرے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور اپنی محنت ولگن سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ آپ جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے فیض یافتگان میں سے تھے۔ آپ نے جنوری ۱۹۸۶ء میں سعودی وزارت مذہبی امور کے ادارے ’’مکتب الدعوہ والارشاد لاہور‘‘ میں ملازمت اختیار کی اور ساتھ ہی ساتھ دینی وعصری علوم کی تحصیل وتکمیل میں کوشاں رہے۔ تا آنکہ ۱۹۸۷ء میں آپ کی سعودی وزارت عدل میں بحیثیت مترجم تقرری ہو گئی اور آپ سعودی عرب تشریف لے گئے اور دسمبر ۱۹۹۴ء تک ’’عر عر‘‘ ہائی کورٹ میں خدمات انجام دیتے رہے۔ وطن واپسی کے بعد بھی آپ فروغ علم کے لیے کوشاں رہے۔
پھر اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ نے کئی ایک کتب تصنیف فرمائیں اور کئی ایک چھوٹی‘ بڑی کتابوں کا ترجمہ کیا جن کی تفصیل ذہبی دوراں مولانا محمد اسحاق بھٹیa نے اپنی کتاب ’’بوستان حدیث‘‘ کے صفحہ نمبر ۵۷۲-۵۷۱ پر دی ہے۔ آپ مختصر علالت کے بعد ۷ جون ۲۰۲۰ء بروز اتوار لاہور میں وفات پا گئے۔ اسی روز آپ کی نماز جنازہ جناب محترم مولانا سیف اللہ خالدd کی امامت میں ادا کی گئی اور آپ کی تدفین عمل میں لائی گئی۔
یہ پڑھیں:    
اللہ تعالیٰ آپ کی حسنات کو قبول فرما کر بشری خطاؤں سے درگذر کرتے ہوئے جنۃ الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے۔ آمین!
خدا رحمت کند ایں عاشقاں پاک طینت را
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages