خلافت راشدہ ... ایک زریں عہد اور اسلامی تقاضے 20-16 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 29, 2020

خلافت راشدہ ... ایک زریں عہد اور اسلامی تقاضے 20-16

ھفت روزہ اھل حدیث، خلافت راشدہ، زریں عہد، اسلامی تقاضے، خلافت راشدہ ... ایک زریں عہد اور اسلامی تقاضے

خلافت راشدہ ... ایک زریں عہد اور اسلامی تقاضے

تحریر: جناب پروفیسر عبدالجبار شاکر a
ارشاد الٰہی ہے:
’’تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کیے ہیں ،اللہ وعدہ فرما چکا ہے کہ اُنہیں ضرور ملک کا خلیفہ بنائے گا جیسے ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کر کے جما دے گا جسے ان کے لئے وہ پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف وخطر کوامن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے، اس کے بعد بھی جولوگ ناشکری اور کفر کریں وہ یقیناً فاسق ہیں۔‘‘
خلافتِ راشدہ کا موضوع سال کے محض کسی ایک مہینے کے ساتھ تعلق رکھنے والا ایک موضوع نہیں بلکہ یہ موضوع ملتِ اسلامیہ کی موت و حیات کا موضوع ہے۔ ملت اسلامیہ اگر ایک با وقار قوم کی حیثیت سے، دنیا میں اپنے عقیدے کے دفاع کے لئے، اپنی ثقافت، تہذیب اور تعلیمات کے دفاع کے لئے، اپنی دنیا اور آخرت کو بچانے کے لئے کسی طریقہ کو اختیار کر نا چاہتی ہے تو وہ طریقہ ’’خلافت علیٰ منہاج النبوۃ‘‘ کا طریقہ ہے۔
اس کائنات میں انسانیت اور نبوّت کا آغاز ایک ساتھ ہوا۔ایسا نہیں کہ انسانیت کا آغاز کسی ایک طریقہ پر ہوا ہو اور نبوت کسی اور نہج پر آئی ہو بلکہ اس دنیا میں آنے والا پہلا انسان ہی پہلا نبی بھی تھا ۔یوں نبوت اور انسانیت ایک دوسرے سے ہم آغوش ہو کر چلے، پھر انسانیت و نبوّت کی فلاح کے لئے جو پہلا نظام اُن کو دیا گیا ،وہ خلافت کے علاوہ کو ئی دوسرا پیغام نہیں تھا اور اس منصب کا تعین تخلیق آدم کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا۔ اس اعتبار سے آدم کی تخلیق کا حسن اگر برقرار رہ سکتا ہے، آدم اگر آدمیت کی خو میں رہ سکتا ہے، آدم اگر آدمیت کی اقدار و روایات کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے اور آدم اگر آدم گر کی مشیت کو پورا کر سکتا ہے تو اس کے لئے، اس کائنات کے اندر، ماضی اور اس سے پہلے سارے زمانوں میں انسانیت کو ایک ہی نظام اور پیغام دیا گیا جو کہ خلافت کے نظام سے موسوم ہے۔یہ وہ سلسلہ ہے جو سیدنا آدم سے چلا اور جناب محمد رسول اللہ؟ پر اس خلافت کی خوبیوں کا یہ کہہ کر اتمام و اکمال کر دیا گیا کہ
{اَلْیَومَ اَکمَلتُ لَکُم دِیْنَـکُم وَاَتمَمتُ عَلَیکُم نِعمَتی وَرَضیتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دینًا} (المائدۃ)
یہ نہیں ہو سکتا کہ خالق ِکائنات ایک دین کو پسند کر کے اس کے کمال و اتمام کا اعلان فرمائیں اور پھر وہ نظام اور کلمہ مغلوبیت کے درجہ میں رہے۔ چنانچہ سورہ نور کی یہ آیات ۵ سے ۶ ہجری کے درمیان کا معاملہ ہیں، غزوہ خندق ہو چکا تھا، صلح حدیبیہ کا منظر سامنے ہے، مسلمان ایک ایسے صلح نامے پر دستخط کر رہے ہیں جس:
{اِنّا فَتَحنا لَکَ فَتحًا مُبینًا} (الفتح)
قرار دیا گیا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اسی استخلاف فی الارض یعنی خلافت کے نظام کا ایک ایسا وعدہ اور تائید انسانیت کے سامنے پیش کر تے ہیں کہ ۱۳ سالہ مکی زندگی اور ۵ سالہ مدنی زندگی: کل ملا کر ۱۸ سال تک تم لوگوں نے اپنے عقیدے کے اعتبار سے ان قربانیوں کا نصاب پورا کر دیا اوراپنے اعمال کی ایک ایسی نشانی اور شہادت پیش کر دی کہ اب اللہ تعالیٰ اس کائنات کے اندر غلبۂ دین،تمکن فی الارض اور استخلاف فی الارض کے حوالے سے اس دنیا کی قیادت ، سیادت ، سیاست اور امامت تمہارے سپرد کرنے والا ہے: {وَعَدَ اللَّہُ الَّذینَ ء امَنوا مِنکُ} ’’اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے، یہ وعدہ کر لیا ہے۔‘‘ {وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ} اور ساتھ ہی جنہوں نے اعمالِ صالحہ کی شہادت بھی دے دی ، کس چیز کا وعدہ…؟ {لَیَستَخلِفَنَّہُم فِی الأَرضِ} کہ اب اس ایمان واعمالِ صالحہ کا انعام یہ ہے کہ دنیا کے اندر خلافت کا تاج تمہاری اُمت کے سر پر پہنا دیا جائے۔ {کَمَا استَخلَفَ الَّذینَ مِن قَبلِہِم} جیسا کہ تم سے پہلے بھی اُمتوں اور انبیا کو بھی استخلاف فی الارض کی یہ بشارتیں عطا کی گئی تھیں، لیکن پھر ان کی کاہلی،تجاہل، تغافل اور ناشکری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ منصب ان سے چھین لیااور قیامت تک کے لئے ذلّت و مسکنت ان کے ذمہ لگا دی۔
{کَمَا استَخلَفَ الَّذینَ مِن قَبلِہِم} میں آل ِیہود کی طرف اشارہ ہے کہ اب دنیا کے اندر استخلاف فی الارض کے معاملہ میں تمہارے یہی حریف ہو سکتے تھے کیونکہ یہودیوں سے یہ منصب چھین کر آپ مسلمانوں کو عطا کیا گیا ۔ اور جب یہ منصب ہمیں عطا ہوا تو اسی یہود نے اس خلافت کے منصب کو تارتار کرنے کے لئے، اس کو نقب لگانے کے لئے اور اس کو داغ دار بنانے کے لئے آج تک کوششیں جاری رکھیں ۔یہی وجہ ہے کہ آج ۱۴۴۱ سال گزرنے کے بعد بھی ایک ہی قوت دنیا کے اندر ایسی ہے جو خلافت کے اس نظام کو ناپسند کرتی ہے اور اس قوت کا نام یہود ہے ،یا پھر وہ یہود نواز طبقے ہیں جنہوں نے فکری اعتبارسے ایسے رویے اختیار کیے ہیں کہ جس کے نتیجے میں خلافت کا یہ عمل اُمتِ مسلمہ میں ایک زوال پذیر اور اضمحلال انگیز کیفیت پیدا کرتا چلا گیا۔
آپ ذرا اندازہ لگایئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نظام خلافت کو انسانیت کے وقار کا ذریعہ بنایا اور پھر یہ بات بتائی کہ اس کائنات کے اندر اگر خوف ،اضطراب اور انتشار،پریشانیوں اور تذبذب، لوٹ کھسوٹ اور استحصال جیسے دیگر جتنے بھی فتنے ہیں ان کے خاتمے کا صرف ایک حل ہے کہ لوگ اللہ کی عبادت کریں اور اجتماعی طورپر یہ نظام ِخلافت دنیا میں قائم ہو جائے۔ محمد رسول اللہe نے اللہ کی عبادت وبندگی کے لئے لوگوں کونبوت کی پوری زندگی تیار فرمایا، مکہ کے تیرہ سال مسلسل دعوت وتبلیغ کے بعد جب آپ کے موطن ومولد کی سرزمین آپ کے لئے تنگ ہوگئی اور وہاں کے باشندے آپe کو قتل کرنے کے مذموم ارادوں کو عملی جامہ پہنانے پر مُصر ہوگئے تو پھر اللہ کے حکم کے ساتھ آپ نے مکہ مکرمہ کو بادل نخواستہ چھوڑا۔ آپ کی مخلصانہ جدوجہد کاانعام اللہ نے وعدہ قرآنی کے مطابق یہ دیا کہ مدینہ میں آپ کو خلافت کے انعام سے بہرہ ور فرمایا۔سو آپe نے مدینہ میں آکر اس خلافت کے مزاج کے موافق ایک ریاست قائم کی، اور وہاں چار مربع کلو میٹر کا رقبہ جب آپ کو میسر آیاتو آپ نے باقاعدہ اسلامی ریاست اور معاشرے کا آغاز فرمایااور پھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ نبی کریمe نے کمال سیاسی حکمتِ بالغہ سے مدینہ کے یہودی باشندوں سے میثاقِ مدینہ کے نام سے معاہدے فرمائے۔
یہ پڑھیں:    امام مہدی کا ظہور
آپ نے اپنی بے مثال سیرت سے یہ مثال قائم کی کہ کسی ایک سرزمین میں اہل ایمان کس طریق پر زندگی بسر کریں اور غیر مسلم کس طریق پر زندگی بسر کریں گے، دونوں مل جل کر کن اُصولوں کے تحت رہ سکتے ہیں۔ یہ ریاست دنیا کے اندرپہلی ریاست بنی کہ جس میں دو مختلف النظریہ اقوام باہمی تعاہد وتحالف کی صورت میں پرامن معاشرے کا نمونہ پیش کرتی رہیں۔ پھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کائنات کے اندر یہ پہلی باقاعدہ اور منضبط خلافت کے مزاج اور نظام پر مبنی ایک ریاست وجود میں آتی اور تدریجاً تکمیل کی طرف بڑھتی ہے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے ۵ اور ۶ ہجری کے درمیان ایسے کوائف پیدا ہوتے ہیں‘ فتح مبین کی ایسی شکلیں پیدا ہوتی ہیں کہ فتح مکہ سامنے آتا ہے اور رسول اکرمe جب ۱۰ سال مدینہ میں گزار چکے اور اپنے اللہ سے ملنے اور اپنے رفیق اعلیٰ کے پاس جانے کے لئے تیار ہیں اس عالم میں کہ ۱۲ سے ۱۳ لاکھ مربع میل تک خلافت کا نظام قائم ہو چکا تھااور خلافت کی برکات پورے طور پر قائم و دائم تھیں۔اور صحابہ کرام جو اس خلافت کے نظام کے کل پرزے تھے،اس کی مضبوطی اور استحکام کے اجزا تھے،اور اس کے عناصر تھے اللہ تعالیٰ نے ان سے راضی ہونے کا اعلان آسمان سے کر دیا ۔اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے پھر قران مجید نے ہمیں یہ بتایا کہ اس کائنات کے اندر اگر تم صداقت کی کوئی نشانی دیکھنا چاہتے ہوتو {أُولـٰئِکَ ہُمُ الصّـٰدِقونَ} سچے لوگوں کی یہ علامتیں صحابہ کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں ،اور اگر تم رشدو ہدایت ، پاکیزگی اور حق کا کوئی منارہ نور دیکھنا چاہتے ہو تو {اُولـٰئِکَ ہُمُ الرّٰشِدونَ} یہ وہ پاکیزہ لوگ ہیں‘ یہ وہ ہدایت یافتہ لو گ ہیں جو تمہارے سامنے ہیں اور اگر تم کامیابی کا کوئی بڑا مینار دیکھنا چاہتے ہو تو {وَأُولـٰئِکَ ہُمُ المُفلِحونَ} یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کے اندرفلاح یافتہ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو محمد رسول اللہe کے ساتھ {رُحَمائُ بَینَہُم} یعنی ایک دوسرے کے ساتھ محبت کا تصور لئے ہوئے ہیں اور {اَشِدّآئُ عَلَی الکُفّارِ} کی تصویر کشی کر رہے ہیں۔
دنیا کے اندر دو ایسے ضوابط ہمارے سامنے پیش ہوتے ہیں کہ جس کے نتیجہ میں ہم محسوس کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہe کے ساتھ ایک ایسی حزب اللہ، ایک ایسی جماعت پرورش پاتی چلی جارہی ہے۔ارتقا اور استحکام کے مراحل طے کرتی جا رہی ہے۔ اس جماعت کے مقابلہ ارتقا میں اسلامی ریاست کے اندر کسی حزبِ مخالف کا کوئی وجود نہیں۔ جہاں ایک اُصول ِمشاورت دیا گیا ہو،اس اُصول کے تحت باقاعدہ مسلمانوں کی یہ پوری کی پوری ریاست قائم ہوتی دکھائی دیتی ہے، پھرجناب محمد رسول اللہe جس نظام پر پوری اُمت کو قائم کر گئے۔ آپ نے خود یہ فرمایا کہ
’’یہ خلافت کا نظام ایک وقت تک اسی شکل و صورت میں قائم رہے گا، پھر فرمایا کہ میرے بعد خلافت کا نظا م یہ شکل پیش کرے گا، پھر فر مایا کہ میرے بعد خلافت کے اس نظام میں یہ تغیرات پیدا ہونگے، یہ شکلیں پیدا ہوں گی۔ پھر فرمایا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا نظام قائم ہو گا اور دنیا کے اندر اس اسلام اور اسکے نظام یعنی خلافت کے علاوہ کوئی دوسرا تصور باقی نہیں رہے گا۔‘‘
خلافت: اطاعت الٰہی پر مشتمل ایک بابرکت وفلاحی سیاسی نظام
حاکمیت و اقتدار اور شرعِ خداوندی کی بالاتری کا جو تصور اسلام نے پیش کیا، وہ اس کے نظام خلافت کے ساتھ وابستہ ہے اور مسلمان حکمرانوں کو یہ بتا دیا گیا کہ یہ اقتدار اور یہ اختیارات تمہارے پاس ایک امانت ہے۔اس کی مسئولیت بھی ہے اور اس کا احتساب بھی اور اس کی باز پرس بھی ہو گی اور پھر ان خلفائے راشدین نے قران مجید کے اندر تمکن فی الارض کے جو شرائط اور لوازم تھے، اُنہیں اس شکل میں پورا کیا:
’’یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نماز قائم کریں،زکوٰۃ دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں، برے کاموں سے منع کریں۔‘‘
دنیا کے اندر نمازوں کے نظام کے ذریعے مسلمانوں کی معاشرت، ان کی سوسائٹی، ان کا سماج ترتیب پاتا چلا گیا۔ زکوٰۃ و صدقات کے ذریعے ان کی معیشت ایک ہموار کیفیت اختیار کرتی چلی گئی۔ دنیا سے لوٹ کھسوٹ کا نظام ختم ہو گیا اور اُمرا اور غربا کے درمیان ایک ایسی صحت مند گردشِ دولت کو قائم کیا گیا کہ جس کے نتیجے میں محتاجی ختم ہو گئی اور اللہ نے اپنے غنی ہونے کے ذریعے سے انسانیت کو معیشت کا ایک حسن بخش دیا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعہ سے معاشرے کے اندر وہ کیفیات پیدا ہوتی چلی گئیں کہ معاشرہ جہنم کی دلدل سے نکل کر جنت نظیر بنتا چلا گیا اور اس طریقہ سے امن کی یہ کیفیت تھی کہ خوف کو اس طریقہ سے ختم کیا گیا کہ بد امنی، لوٹ کھسوٹ، راہزنی قزاقی ، ڈاکے اور چوری ، الغرض بد امنی کی جتنی بھی شکلیں تھیں، وہ ساری ایک ایک کر کے ختم ہوتی چلی گئیں اور معاشرہ جو دنیا کے اندر رومیوں کے ظلم اور کسریٰ ایران کے ستم کے اندر سسک رہا تھا، وہ معاشرہ جو مصر ، چین اور ہندوستان کے اندر بت پرستی اور مختلف قسم کی اصنام پرستی کے مظاہر کے اندر گرفتار تھا، اسے ایک بار پھر اپنے مالک حقیقی کو پہچاننے کا موقع میسر آیا۔
یہ پڑھیں:    مسلم نوجوان
یہ قران مجید اورمحمد رسول اللہe کے طرزِ حکومت اور آپ کے اُسلوبِ خلافت کا اعجاز تھا کہ دنیا نے پہلی دفعہ ایک ایسا معاشرہ دیکھا۔ پہلی دفعہ ایک ایسی ریاست دیکھی ،پہلی دفعہ ایک ایسی سیاست دیکھی،پہلی دفعہ ایک ایسی معیشت دیکھی، پہلی دفعہ ایک ایسی معاشرت دیکھی، پہلی دفعہ ایک ایسی تہذیب دیکھی، پہلی دفعہ ایک ایسا تمدن دیکھا کہ جس کی مثال نہ اس سے پہلے دنیا کے اندر موجود تھی اور نہ آج ۱۴۴۱ سال گزرنے کے بعد اس کا نمونہ ہمارے سامنے آ سکا ۔مسلمان جو مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک تقریباًدنیا کے سوا ارب سے زیادہ تعداد میں ہیں، ان تمام مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن میں یہ نظامِ خلافت موجود ہے۔ مسلمان اپنی حیثیتِ اجتماعی کے اندر جن پریشانیوں میں مبتلا ہیں،آ ج کی ریاستوں، ان سیاستوں اور ان کی معیشتوں کو اس طاغوتی نظامِ کفر اور شرک نے اس انداز سے ڈسا ہوا ہے کہ مسلمان پھر اس نظامِ خلافت کی طرف پلٹ نہ سکیں۔
قران مجید کے اندر یہ بتا دیا گیا ہے کہ اس نظامِ خلافت کے مقابلہ میں وقت کی ساری طاقتیں اور قو تیں مجتمع ہوں گی اور نظام خلافت کے چراغ کو بجھانے کی کوششیں کریں گی اور یہ بات فرمائی گئی کہ
’’وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے گو کافر برا مانیں۔‘‘
دنیا کا تمام کفر بلکہ یہود و نصارٰی اور ان کی ذریت جس جس شکل میں موجود ہیں یہ سارے کے سارے چاہتے ہیں کہ اللہ کی وہ روشنی جو اس کے نظام یعنی نظام شریعت کی شکل میں انسانی فلاح کے لئے اسے دی گئی ہے، اپنے منہ کی پھونکوں سے اسے بجھا دیں۔ مولانا ظفر علی خان نے اسی بات کی طرف راہنمائی کی تھی کہ
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
اللہ نے اس بات کے لئے اُمتِ مسلمہ کو یہ مشن اورچارٹردے دیا اور یہ بتایا کہ
’’وہی ہے جس کے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اسے تمام مذاہب پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین ناخوش ہوں۔‘‘ (التوبۃ)
زمانے کے سارے مشرکین خواہ وہ امریکہ کی شکل میں ہوں یا روس کی شکل میں۔ اسرائیل یا ہندوستان کی شکل میں ہوں یا شرک اور کفر دنیا کی جتنی بھی اشکال اور اسالیب کے اندر موجود ہو، اللہ کے نور کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا کہ اس نے اپنے پیغمبر عظیمe کو قرانِ مجید جیسی نورانی شریعت کے ساتھ اس طرح سے بھیجا کہ دنیا کے اندر یہ دین باقی مذاہب ، نظاموں او ر معاشروں کے اوپر اور باقی دساتیرکے اوپر اس طرح غالب ہو جائے کہ دنیا میں اسلام کے علاوہ کوئی اور نقشہ دکھائی نہ دے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ پوری دنیا میں اللہ کا پیغا م صرف اور صرف مسلمانوں کے پاس محفوظ ہے، وہ پیغام لوحِ محفوظ سے جبریلِ امین کے ذریعے جس طریق پر محمد رسول اللہe کو عطا کیا گیا اسی طریق پر وہ پیغام آج ہمارے سامنے موجود ہے۔ صحابہ کرام اور خلافتِ راشدہ نے عہد ِصدیقی کے اندر اس پیغام اورنظام ِ خلافت کو علی منہاج النبوۃ پورے طور پر قائم کیا اور دنیا کے اندر ۲۲ لاکھ مربع میل پر خلافتِ فاروقی میں مسلمانوں کی جو فلاحی ریاست اور اس ریاستِ اسلامیہ میں ان کے رفاہی کارنامے سامنے آئے۔ دنیا کے اند ر پہلی دفعہ ایک ایسی ریاست جو ۲۲ لاکھ مربع میل پر دنیا کے کئی بر اعظموں کی مرکزیت کو چھوتی ہوئی اپنے پورے کمالات اورصفات کے ساتھ اپنی پوری قوت اور خصائص کے ساتھ، اپنے پورے امتیازات کے ساتھ دنیا کے اندر قائم ہوئی اور دنیا کے غیر مسلموں نے اعتراف کیاکہ اگر مسلمانوں کی تاریخ میں ایک عمر اور پیدا ہو جاتا تو تاریخِ عالم کا نقشہ تبدیل ہو جاتا۔
خلفائے راشدین کا متفقہ تعین:
تاریخ انسانی کے اندر یہ وہ صورتِ حال ہے جسے مسلمانوں نے قائم کیا اور پھر آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں اقتدار کے لئے رسّہ کشی ہوتی ہے، اختیارات کے حصول کے لئے قتل وغارت ہوتی ہے، لیکن یہ خلافت ایک ایسی قوت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ صحابہ کرام کے ذریعہ سے سیرت وتاریخ کی جو روایات ہم تک منتقل ہوئی ہیں، ان کی روشنی میں یہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور پورے اجماعِ اُمت کی دلیل بن کر ہمارے سامنے آئی ہے اور رسول اللہe کے بعد جناب صدیق کی ۲۷ مہینے کی خلافت،خلافۃ علی منہاج النبوۃ کا عظیم الشان مظہر تھی۔
تاریخ انسانی کے اندر صدیق ِاکبرؓ کو رسول اللہ e کے فوراً بعد جن مسائل،مشکلات ، مہمات اور سازشوں کا سامنا کرنا پڑا اور یہ خلافت کا گہرا شعور تھا کہ جس کے نتیجہ میں ۲۷ مہینہ کی مختصر مدت کے اندر خلافت کایہ نظام علیٰ منہاج النبوّہ محمد رسول اللہe کے کھینچے ہوئے نقشے کے عین مطابق قائم ہو گیا اور ان ۲۷ مہینوں کے اند ر ارتداد اور مانعینِ زکوٰۃ کے فتنے ختم ہو گئے۔ اسامہ بن زید کا لشکر جس سمت روانہ ہو رہا تھا، عراق و شام کی طرف فتوحات کے باب کھلنے لگے، جعلی نبوتوں کا استحصال ہونے لگا، اُمت کو قرآن جیسی نعمت،اور اجماع اُمت کی بے نظیر دلیل پر جمع کر دیا گیا ،عدل و انصاف کا ایک ایسا پرچم بلند کیا گیا کہ انسانیت نے پہلی دفعہ یہ بات دیکھی کہ اللہ کی حکمرانی اور خلافت کے نظام میں، آقا و مولا کے مابین،خلیفہ اور راعی کے بیچ ایک ایسا امتزاج اور حسن پیدا ہو گیا کہ یہ امتزاج یہ تعلق یہ ارتباط یہ محبت یہ موالات اور یہ یگانگت اس قدر پختہ تھی کہ تاریخ انسانی نے اس سے پہلے کبھی یہ منظر نہ دیکھا ہو گا۔
صاحبان ِگرامی! ۲۷ مہینوں کے بعد صدیق اکبرt اپنے اللہ کے پاس جاتے ہیں اور عمرِ فاروقt کا دور ہمارے سامنے آتا ہے۔ جناب محمد رسولe کے بعد صدیق اکبر کی خلافت مسلمانوں کے اہل حل وعقد کے ذریعے منعقد ہوئی تھی جس پر بعد ازاں تمام مسلمانوں نے بھی اتفاق کیا تھا۔گویا آپ کی خلافت پر اجماع اُمت تھا، آج کی سیاستوں کی طرح آپ کی خلافت محض کسی ایک اکثریت کے غلبہ کا نتیجہ نہ تھی۔ اس معاشرے کے اندر قریش ، اوس اور خزرج تھے۔ مہاجرین اور انصار تھے، اس معاشرے کے اندر ایک سے بڑھ کر ایک صحابہ موجود تھے، بدری صحابہ بھی موجود تھے، دیگر جلیل المرتبت صحابہ بھی موجود تھے۔ اس معاشرہ میں ابھی قبائلیت کا عنصر باقی تھا ، عصبیت کی بحثیں باقی تھیں مگریہ اسی خلافت کی برکت تھی کہ جناب صدیق اکبر جن کی نامزدگی عمرِ فاروق نے کی اور اُمت نے پورے اجماعی طور پر پورے شعور کے ساتھ اور شورائیت کے ذریعہ سے نظامِ بیعت کو اس طرح قائم کیاکہ ۲۷ مہینوں کے اندر پوری ۱۳ لاکھ مربع میل کی ریاست کے اندر کوئی ایک فرد ایسا نہیں تھا جس کا اختلاف صدیق اکبرt کی خلافت پر ہو۔
صدیق اکبرt کے بعد عمر فاروقt کا عہد آتا ہے، شوری کی صورت حال ہمارے سامنے آتی ہے‘ قرآن میں ایک مستقل نظام مشاورت کو {وَ اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ} {وَ شَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ} اس نظام کا حصہ بنایا۔ اسی طریقہ سے شورائیت کی روح صاحب الرائے لوگوں کو گردانا گیا ہے۔ یہ صحابہ کی عظمت تھی کہ ان عظیم ہستیوں نے شورائیت کے حسن کو برقرار رکھا اور شورائیت کا حسن اتنا اس قدرتھا کہ مسلمانوں کے نظام خلافت کے اندر جس چیز نے سب سے زیادہ خوبصورتی پیدا کی وہ شورائیت ہے اور دوسری چیز مسئولیت اور احتساب کا نظام ہے۔ ان دو قوتوں نے اسلامی خلافت کو اتنا مستحکم کر دیا کہ جناب محمد رسول اللہe (باوجود اس کے کہ نبوت اس بات کی محتاج نہیں ہو تی کہ وہ انسانوں سے مشورہ کرے) نے اپنے صحابہ کے ساتھ ایک مرتبہ نہیں بیسیوں مرتبہ مشاورت کی اور یہ مشاورت کئی شکلوں میں موجود رہی۔ بدر و اُحد اور خندق میں اس مشاورت کی شکلیں ہمیں ملتی ہیں ۔جب ضرورت ہوئی، مشاورت کی گئی اور جب یہ سمجھاگیا کہ مشاورت کی ضرورت نہیں تومشورہ نہیں لیا گیا۔ انتظامی اور تدبیری اُمور کے اندر مشاورت ہوتی رہی۔ مشاورت کا ایک ایسا نظام جناب محمد رسول اللہe نے قائم کیا کہ اس مشاورت کے ذریعہ سے مشورہ طلب امور کے اندر یہ معاملات بڑھتے گئے اور اس مشاورت کے لئے بڑی اسمبلیوں کی ضرورت نہیں تھی، ملک کا سارا خزانہ ان اسمبلیوں کے ذریعے سدھارنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی، مسلمانوں کی شوریٰ اتنی محدود تھی کہ بعض اوقات ایک یا دو صحابہ کے ساتھ اور بعض اوقات سیدنا عمر کی شہادت کے موقع پر صرف ۶ افراد کے اندر مشاورت کمیٹی تشکیل دی گئی۔۲۲ لاکھ مربع میل کے نئے حکمران کے انتخاب کے لئے ۶ لوگوں میں وہ بصیرت اورایثار موجود تھا کہ پہلے ہی مرحلہ پر ایک دوسرے کے مقابلے پر‘ تیسرا چوتھے کے مقابلے میں‘ پانچواں چھٹے کے مقابلے میں اپنے آپ کو سبک دوش کرتا ہے۔ تا ریخ نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا تھا کہ خود اپنی رضا مندی کے ساتھ سیدنا طلحہ کہے کہ میں فلاں کے حق میں دستبردار ہوتا ہوں، سیدنا زبیر کہے کہ میں فلاں کے حق میں دستبردار ہوتا ہوں، اور سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف کہے کہ میں فلاں کے حق میں دستبردار ہوتا ہوں اور جب تین باقی رہ گئے تو اُن میں سے ایک کہے کہ اے عثمان اور علی! میں آپ دونوں کے مقابلے میں دستبردار ہوتا ہوں ۔ مجھے اجازت دیجئے کہ میں کم سے کم فرصت کے اندر مختصر مشاورت کے ذریعے کسی فیصلہ تک پہنچوں اور وہ ساراوقت مشاورت میں صرف کرتے ہیں اور نتیجتاً خلافتِ عثمانی کا آغاز ہوتا ہے۔ خلافتِ عثمانی بھی ۱۳ سال تک اُمت کے اندر ایک اجتماع کے حسن اور وقار کی علامت بنتی ہے۔ اسی اعتبار سے بعض مؤرخین نے (اور ہمیں معلوم ہے کہ مؤرخین کی عصبیتیں کہاں کہاں چھپی رہیں، اُنہوں نے ملوکیت کے زمانہ میں تاریخ کے ذخیرہ کو کیسے نظر انداز کرنے کی کو شش کی) لیکن یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سیدنا عثمان کی بصیرت اور آپ کی خلافت کا کمال یہ تھا کہ صرف اٹھارہ، انیس سو بلوائی مدینہ کے اندر محاصرہ کرتے ہیں، سات سوکے قریب محافظ اور گارڈ موجود ہیں وہ اجازت طلب کرتے ہیں کہ اجازت دیجئے ہم گھنٹوں میں بلوائیوں کے اس فتنہ کو ختم کرتے ہیں، لیکن فرماتے ہیں کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ اُمت کے اندر میری ذات کے دفاع کے لئے اورمحض میری ذات کو بچانے کیلئے خون کا بازار گرم کیا جائے۔ اُنہوں نے شہادت پیش کر دی، لیکن اُمت کے اندر کشت و خون کا بازار گر م ہونے نہیں دیا۔ یہ ان لوگوں کے کمالات تھے۔
خلفاے راشدین کے معاشی حالات:
یاد رکھئے کہ محمد رسول اللہe اللہ کے پیغمبر ہیں اور صدیق اکبر رسول اللہe کے خلیفہ ہیں، نبیe نے اللہ سے ملنے والا نظام خلافت اپنی امت میں یوں جاری وساری کردیا کہ قرآن نے اس پر گو اہی دی کہ
’’یقینا تمہارے لیے رسول اللہe میں عمدہ نمونہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ کو یاد کرتا ہے۔‘‘
یہ ماڈل اور اُسوۂ حسنہ ہے کہ تمہارا معاشرہ تمہاری معیشت اور عقائد، تمہارا تمدن اورسیاستیں، تمہاری ریاستیں ، تجارتیں اور زراعتیں ، داخلی اور خارجی، بین الاقوامی قوانین کس طریقہ سے سلجھ سکتے ہیں۔ محمد رسول اللہe نے سارا منظر اُن کے سامنے پیش کیا تھا پھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسی تناظر میں یہ نظامِ خلافت آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس درجہ بڑھتا ہے کہ محمد رسول اللہe نے اپنی حیاتِ مبارکہ کا جو آخری دن مدینہ میں بسر کیا، اس رات آپe کے گھر میں جو چراغ روشن ہوا اس چراغ کا تیل کسی گھر سے اُدھار آیا ہوا تھا۔یہ نظام ِخلافت اور اس کی عظمتیں ہیں اور جب خلافت سنبھالنے کے بعد سیدنا ابوبکر دوسرے دن اپنے کپڑے کا کارو بار کرنے کے لئے نکلتے ہیں تو عمر فاروق پوچھتے ہیں کہ میاں! یہ کہاں چل دئیے؟ فرمایا کہ بال بچوں کا پیٹ کہاں سے پالوں گا توعمر فاروق نے فرمایا کہ اب اُمت کی نگہبانی آپ کے سپر دکی جارہی ہے لہذا اُمّت کا بیت المال آپ کی کفالت کرے گا ،اورپھر وہ کفالت کس درجہ میں موجود تھی۔ تاریخ کے اندر ایسی مثال کہیں موجود نہیں۔ اتنا سیر چشم تاجر جس کی تجارت کے ذریعہ سے مکہ کے غلاموں کو رہائی ملتی ہے اورجس کے ذریعہ سے غزوات کے اندر نصرت اور قوت کے سامان فراہم ہوتے تھے، وہ جب دنیا سے جاتا ہے تو کوئی بہت بڑا ساز و سامان موجود نہیں ۔عمر فاروق جب دنیا سے تشریف لے جاتے ہیں تو مال و دولت نام کی کوئی چیزآپ کے گھر میں موجود نہیں تھی بلکہ محدثین نے لکھا ہے کہ کچھ قرضہ آپ کے ذمہ تھا جسے ادا کرنے کے لئے مکہ میں بنو عدی کے وراثتی خاندانی مکانا ت کے حصوں سے جو حصہ اُن کے پاس آتا تھا اس کو فروخت کرنے کے بعد ۲۲ لاکھ مربع میل کے حکمران شہادت اور نزع کے عالم میں اپنا قرضہ ادا کرنے کے لیے اپنا مکان اس کودے جانا پڑتا ہے۔ عثمان غنی شہید ہوتے ہیں جس نے دس ہزاراو نٹ غزوہ تبوک کے موقعہ پر پیش کیے اور اس موقع پر ایک تہائی فوج کے خرچ اُٹھائے ،جس نے اپنے گھر کے ساز وسامان کو دفاعی کاموں کے لئے وقف کیا۔
یہ پڑھیں:    اسلامی اقتصادی نظام
کنویں خریدے جارہے ہیں، زرہیں خریدی جا رہی ہیں۔ مساکین اور یتامیٰ کے لئے رفاہی کام ہو رہے ہیں۔ لیکن خود اپنی حالت یہ ہے کہ چالیس دن تک کو ئی چیز ایسی نہیں جو اُن کے گھر تک پہنچنے دی جار ہی ہو، اور وہ اسی عالم میں دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔سیدنا علی جب اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو ۷۰۰ درہم کا اثاثہ اُن کے گھر کے اندر دکھائی دیتا ہے اور یہ اثاثہ کئی سالوں تک سینچ سینچ کر اُنہوں نے جمع کیا کہ اس کے ذریعے سے کوئی ایک غلام وہ اپنے لئے رکھ سکیں۔ اس اعتبار سے یہ چاروں خلیفہ دنیا سے اسی حالت میں نکلے تھے۔
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages