’’تحفظ نظریہ پاکستان ریلی‘‘ گوجرانوالہ ... ایک نظر 20-16 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 29, 2020

’’تحفظ نظریہ پاکستان ریلی‘‘ گوجرانوالہ ... ایک نظر 20-16

ھفت روزہ اھل حدیث، تحفظ نظریہ پاکستان ریلی، ’’تحفظ نظریہ پاکستان ریلی‘‘ گوجرانوالہ ... ایک نظر

’’تحفظ نظریہ پاکستان ریلی‘‘ گوجرانوالہ ... ایک نظر

رپورٹ: حافظ محمد عباس راشد
مرکزی جمعیت اہلحدیث پنجاب کی اپیل پر مورخہ 14 اگست یوم آزادی پاکستان کے موقع پر دیگر شہروں کی طرح گوجرانوالہ میں بھی مرکزیہ سٹی کے زیراہتمام ایک عظیم الشان "تحفظ نظریہ پاکستان ریلی" کا انعقاد ہوا۔ ریلی گوندلانوالہ چوک سے شروع ہو کر سیالکوٹی دروازے تک پہنچی۔ ریلی کے شرکاء نے رنگارنگ کتبے اٹھا رکھے تھے جن پرشہداء تحریک پاکستان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے۔ پاکستان کا مطلب کیا ؟؟؟ لاالہ الا اللہ۔ کشمیر بنے گا پاکستان۔ نظریہ پاکستان کے لیے جان بھی قربان ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان زندہ باد۔ چاروں صوبوں کی زنجیر ساجد میر ساجدمیر جیسے نعرے درج تھے۔  شرکاء ریلی نے وطن عزیز پاکستان اور مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سینکڑوں پرچموں سے ریلی کوسجا رکھا تھا۔
’’تحفظ نظریہ پاکستان ریلی‘‘ کے شرکاء چاندگاڑیوں، موٹر سائیکلوں پرسوار تھے جبکہ عوام کا ایک جم غفیر پیدل بھی ریلی میں شریک تھا۔
ریلی کی فرنٹ پرایک بڑا بینر لوگوں نے اٹھارکھاتھاجس پرتحفظ نظریہ پاکستان ریلی مرکزی جمعیت اہل حدیث سٹی گوجرانوالہ لکھاھواتھا۔
قائدین مرکزیہ سٹی ریلی کی قیادت فرنٹ لائن میں کر رہے تھے جبکہ تمام شرکاء انتہاء نظم وضبط کیساتھ نعرے لگاتے قائدین کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے ریلی جب سیالکوٹی دروازہ پر پہنچی تووہاں پرقائدین نے خطابات فرمائے۔ جلسہ عام میں بچے ، بوڑھے اور جوان شدید گرمی میں علماء کیارشادات عالیہ سے مستفیدھوتیرھے اور فضانعروں سے گونجتی ری ۔
ریلی کی قیادت مرکزیہ پاکستان کے مرکزی سینئر نائب ناظم اعلیٰ شیر اہلحدیث مولانا محمد نعیم بٹ، امیر شہر علامہ پروفیسر سعید کلیروی، سرپرست سٹی علامہ محمد صادق عتیق، ناظم شہر مولانا محمد ابرار ظہیر اور دیگر علماء وعہدے داران حلقہ جات نے کی۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد نعیم بٹ نے کہا کہ پاکستان محض ایک خطہ زمین نہیں بلکہ ایک سوچ اور نظریہ حیات کا نام ہے۔ ہمیں ہندو مذہب کی طرح ہندو کلچر سے بھی نفرت ہے۔ مسلمانوں کی اپنی ایک تہذیب اور کلچر ہے جس کی بقاء اور تحفظ کیلئے پاکستان جیسا ملک قائم کیا گیا۔ اس کی بنیاد میں قربانیاں ہیں۔ اخلاص سے بھر پور قربانیاں جو کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ بالعموم اور اہلحدیث کا ہر فرزند بالخصوص پاکستان کی سلامتی اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کی خاطر اپنی جان تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ مولانا محمد صادق عتیق نے شرکائے ریلی سے خطاب میں فرمایا کہ اب جشن آزادی کی بجائے مشن آزادی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مشن آزادی برصغیر میں اعلائے کلمۃ اللہ تھا۔ یہاں سے شرک وبدعات کا خاتمہ اور توحید وسنت کی تعلیمات کا احیاء تھا۔ہم نے 73 برس گزار دئیے اب ہمیں مقاصد آزادی کی طرف لوٹنا ہوگا۔
امیر شہر علامہ پروفیسر سعید کلیروی حفظہ اللہ نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ مسلمانان برصغیر نے قربانیاں تو اس لئے دی تھیں کہ عبادتِ ربّ آسان ہو گی مگر یہاں کے صاحبان اقتدار نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ اب یہاں عبادتیں مشکل ہیں بلکہ عبادتگاہوں کو رقص گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ غیر مسلموں کو سرکاری خزانے سے ان کی حیثیت سے بڑھ کر نوازا جا رہاہے۔ مندر گوردوارے اور چرچ بنائے جارہے ہیں‘ مساجد ومدارس کیلئے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بیداری شعور کی تحریک بپا کر رہے ہیں۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے کارکن کسی کو پاکستان کی نظریاتی ساخت اور شناخت ختم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ناظم سٹی مولانا محمد ابرارظہیر نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اکابرین اہلحدیث کی امانت ہے۔ اس امانت کی حفاظت خود بھی کریں گے اور نوجوان نسل کو بھی یہ سبق یاد کروائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ مرکزی جمعیت اہلحدیث کا قلعہ ہے۔ آج کی یہ عظیم الشان ریلی  اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کی ساڑھے تین سو مساجد وبیسیوں مدارس مرکزِ جماعت 106 راوی روڈ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
ریلی سے مرکزی جمعیت اہلحدیث سٹی کے حلقہ جات کے ذمہ داران مولانا ڈاکٹر عبدالرحمان پن۔ مولانا عبدالغفار ثاقب۔ مولانا سلیمان یزدانی۔ مولانا حجاج اللہ صمدانی۔ مولانا امتیاز محمدی۔ جمعیت اساتذہ کے ضلعی صدر پروفیسر حافظ سیف الرحمان بٹ ۔ مولانا سید حبیب الرحمان ترمذی۔ جناب عبدالرحمان بٹ۔ مولانا حافظ عبدالشکور شیخوپوری۔ مولانا قاضی سعید احمد اور دیگر علماء نے بھی خطاب کیا۔
ریلی اپنے حجم کے اعتبار سے بلامبالغہ ایک تاریخی ریلی تھی۔ جس کو کامیاب بنانے میں جماعت کے چاروں حلقوں کے ذمہ داران مولانا عطاء الرحمان عابد امیر حلقہ الشیخ محدث گوندلویؒ ان کے ساتھ ناظم حلقہ مولانا عبدآلغفار ثاقب۔ حلقہ الشیخ ابوالبرکات احمدؒ کے امیر مولانا قاری محمد شفیق بٹ اور ان کے ناظم حلقہ مولانا سلیمان یزدانی۔ حلقہ الشیخ محمد عبداللہؒ کے امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرحمان پن اور ناظم مولانا قاری ابوبکر سبحانی۔ حلقہ شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کے امیر مولانا حافظ محمد عثمان اسحاق اور ان کے ناظم حلقہ مولانا حافظ عظیم انجم حفظہم اللہ نے اپنے رفقاء بالخصوص اپنے ناظمین مالیات مولانا طیب افضل۔ مولانا یحیٰ گرجاکھی۔ جناب محمد یاسین طاہر اور جناب مہر محمدبشیر صاحبان کے ہمراہ انتہائی مؤثر شاندار اور جاندار کردار ادا کیا۔ اللہ پاک سب قائدین کی جہود طیبہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین!
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages