صحابہ کرام کے بارے اہل سنہ کا موقف 20-16 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 29, 2020

صحابہ کرام کے بارے اہل سنہ کا موقف 20-16

اھل حدیث، صحابہ کرام، اھل سنت کا موقف

صحابہ کرام ] کے بارے اہل سنہ کا موقف

تحریر: مولانا عبدالوہاب سلیم
امت محمدیہ کے سب سے افضل اور ارفع شخصیات صحابہ کرام] تھے۔ قرآن و سنت میں اہل ایمان کے جتنے خصائص بیان ہوئے ہیں وہ بدرجہ اتم صحابہ کرام] میں موجود تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں وحی کے ذریعے بار بار براہ راست مخاطب کیا گیا اور بہت سوں کو نام لے کر مختلف اوقات میں جنت کی بشارت دی گئی۔ ان سب سے اللہ عزوجل نے ’’الحسنیٰ‘‘ کا وعدہ کیا اور مفسرین نے یہاں حسنی سے مراد جنت لیا ہے۔ آپe نے اپنے زمانے اور پھر اسکے بعد کے زمانے کو بہترین قرار دیا کیونکہ اس میں وہ لوگ موجود تھے جنھوں نے براہ راست رسول اللہe کو دیکھا۔ صحابہ کرام] پہ ایمان کو علماء کرام نے بالاجماع عقیدے کے مسائل میں شمار کیا ہے اور یہ اس وقت ہوا جب خوارج اور روافض نے صحابہ کرام] کو سب وشتم کا نشانہ بنایا اور انکی شان میں تنقیص کی کوشش کی اور صحابہ کرام] کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کئے۔ کیونکہ قرآن اور رسول اللہp کے بارے شک پیدا کرنا مشکل تھا لہذا اصحاب رسول ایسے  شریر لوگوں کے لئے چور رستہ تھا جس سے انہوں نے کبھی انہیں منافق کہا‘ کبھی مرتد کہا اور کبھی کہا کہ وہ جاہل اور غیر فقیہ تھے جو قرآن وسنت کو صحیح سمجھ نہ سکے۔ ان سب کے مقابلے میں اہل السنّۃ اعتدال کے مذہب پہ ہیں اور اس چور راستے کو بند کرنے کے لئے اصحاب رسول] کے متعلق امور کو عقیدے میں شمارکرتے ہیں اور درج ذیل امور کو لازم جانتے ہیں:
یہ پڑھیں:    سوالات کے آداب
1       اہل السنہ یہ موقف رکھتے ہیں کہ صحابہ کرام] سب کے سب عادل تھے اور ان میں سے ہر ایک پاکیزہ دل اور حب ایمان سے بھرپور تھا۔ انھوں نے من وعن کتاب وسنت میں جو حکم ان کے لئے آیا اسے قبول کیا‘ وہ نفاق اور ارتداد دونوں سے بری تھے۔ وہ رسول اللہe اور ان کے اہل وعیال سے شدید محبت رکھتے تھے۔
2       اہل السنّۃ ان صحابہ کو افضل مانتے ہیں جو صلح حدیبیہ سے پہلے مسلمان ہوئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں اور مال دونوں پیش کئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں یعنی صلح حدیبیہ سے قبل اور بعد اسلام لانے والے دونوں سے اچھائی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بہتر کس کا وعدہ ہو سکتا ہے۔
3       اہل السنّۃ قرآن و سنت کی نصوص کی روشنی میں مہاجرین صحابہ کو انصار مدینہ سے افضل مانتے ہیں۔
4       اہل السنّۃ اہل بدر اور بیعت رضوان میں حصہ لینے والوں کو سب سے افضل مانتے ہیں؛ کیونکہ اہل بدر کے بارے میں فرمایا گیا:
[اعملوا ما شئتم؛ فقد غفرتُ لکم۔] (مسلم: ۲۱۹۵)
’’جو مرضی کرو میں نے تمھیں معاف کر دیا ہے۔‘‘
اسی طرح صلح حدیبیہ میں بیعت رضوان میں حصے لینے والوں کے بارے یہ یقین رکھتے ہیں کہ درخت کے نیچے چودہ سوسے زائد جنہوں نے رسول اللہe کے ہاتھ پہ بیعت کی ان پہ جہنم کی آگ حرام کر دی گئی۔ جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت موجود ہے:
[لا یدخل النارَ إن شاء اللہ من اصحاب الشجرۃ احدُ الذین بایعوا تحتہا۔] (مسلم: ۲۴۹۶)
یہ پڑھیں:    امام مہدیt کا ظہور
5       اہل السنّۃ ان سب کی جنت کی گواہی دیتے ہیں جن کا نام لے کر نبی کریمe نے ان کے جنتی ہونے کی گواہی دی اور ان میں سب سے پہلے وہ دس صحابہ کرام] شامل ہیں جنہیں ایک ہی مجلس میں جنت کی بشارت دی گئی اور وہ یہ ہیں: ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف، ابو عبیدہ بن الجراح،سعد اور سعید]۔ اسی طرح وہ صحابہ کرام] جنہیں وقتاً فوقتاً زبان رسالت سے جنت کی بشارت دی گئی۔
6       اہل السنّۃ اس چیز پہ ایمان لاتے ہیں کہ نبی کریمe کے بعد بہترین امتی سیدنا ابو بکر صدیقt ہیں‘ اس کے بعد سیدنا عمر بن الخطاب پھر سیدناعثمان بن عفان اور پھر سیدناعلی بن ابو طالب] ہیں۔
7       اہل السنّۃ کا ایمان ہے کہ صحابہ کرام] کے درمیان جناب عثمانt کی مظلومانہ شہادت کے بعد جو تنازعات اور فتنے برپا ہوئے ان کے بارے خاموشی اختیار کی جائے اور ان معاملات میں اپنی زبانوں کو آلودہ نہ کیا جائے۔ اہل السنّۃ کا ایمان ہے کہ جنگ جمل کا فتنہ جناب علی‘ جناب طلحہ بن عبیداللہ‘ زبیر بن عوام اور سیدہ عائشہ] کسی کے اختیار میں نہیں رہا تھا‘ یہ سب مسلمانوں کے درمیان اصلاح کے لئے نکلے تھے اور یہ سب وہ ہیں جنھیں زبان رسالت سے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔
8       اہل السنّۃ تمام اصحاب رسول سے محبت کرتے ہیں اور کسی ایک فضائل بیان کرتے ہوئے‘ کسی دوسرے کی تنقیص نہیں کرتے‘ سب وشتم کا اظہار نہیں کرتے اور کسی صحابی سے برات کا اظہار نہیں کرتے اور جو صحابہ کرام] سے بغض رکھے ان سے بغض رکھتے ہیں۔
9       اہل السنّۃ کا یہ موقف ہے کہ سیدنا علی اور سیدنا معاویہ بن سفیانw کے درمیان جو بھی ہوا اس پہ توقف اختیار کیا جائے اور اس کے ساتھ یہ موقف رکھا جائے کہ ان دونوں کے درمیان جو کچھ تنازعہ ہوا اس میں جناب علیt حق پہ تھے اور جناب معاویہ کا اجتہاد سیدنا علیt سے لڑنے میں درست نہیں تھا۔
0       اہل السنّۃ یہ موقف رکھتے ہیں کہ اہل بیت سے محبت ایمان کا تقاضا ہے اور یہ کہ اہل بیت میں رسول اللہe کی تمام بیویاں شامل ہیں اور اس کے علاوہ آپ کی تمام بیٹیاں (زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ)سیدنا علی، حسن وحسین اور زینب بنت علی] یہ سب اہل بیت میں شامل ہیں۔ یہ کہ رسول اللہe کی تمام بیویاں صحابیات میں سے سب سے افضل ہیں اور مومنوں کی مائیں ہیں‘ ان کے بارے جو زبان درازی کرے وہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے اور جو ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہr کے بارے زبان درازی کرے وہ کافر ہے۔ جیسا کہ سورہ النور میں اللہ عزوجل نے وضاحت کر دی اور سیدہ فاطمہr جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور حسنین کریمین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔
!       اہل السنّۃ کا یہ موقف ہے کہ سبط رسول سیدنا حسنt نے سیدنا امیر معاویہt سے صلح کر کے اور خلافت سے دستبردار ہو کر نبی کریمe کی اس پیشگوئی کو پورا کیا کہ میرا یہ بیٹا امت کے دو گروہوں کے درمیان صلح کروائے گا۔ سیدنا حسینt کی کربلا میں شہادت مظلومانہ تھی اور ان کے قاتل ظالم اور فاسق تھے۔
@       اہل السنّۃ کا یہ موقف ہے کہ صحابہ کرام] انبیاءo کی طرح معصوم عن الخطاء نہیں بلکہ ان سے صغیرہ اور کبیرہ گناہ سرزد ہو سکتے تھے لیکن وہ ایمان میں سبقت لے جانے والے تھے۔ ان کے ایسے فضائل ہیں کہ ان سے جو غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اس پہ انکی مغفرت یقینی ہے۔ یہ فضل انکے علاوہ کسی امتی کو بالیقین حاصل نہیں بلکہ انکے لئے یہ فضل بھی تھا کہ انکے قبل ایمان کی خطاوں کو نیکیوں میں بدل دیا گیااور انکو یہ اعزاز بخشا گیا کہ انکی اللہ کی راہ میں خرچ ایک مدّ بعد میں آنے والوں کے احد پہاڑ کے برابر نفاق فی سبیل اللہ سے افضل ہے۔ انکی ہجرت حق العین تھی‘ انکا جہاد اور قتال سب سے افضل تھا۔
#       اہل السنّۃ یہ موقف رکھتے ہیں کہ قرآن اور فرمودات رسولp کی جو تشریحات صحابہ کرام[ نے بیان کی ہیں وہی اصح اور درست ترین ہیں اور جس چیز پہ صحابہ کرام] نے اتفاق کیا وہ درست ترین اجماع ہے‘ جیسے صحابہ کرام] کا مانعین زکوٰۃ سے جہاد اور قرآن کو جمع کرنا۔
اللہ عزوجل ہمیں اہل بیت ازواج مطہرات اور صحابہ کرام] سے دلی محبت عطا فرمائے کہ یہی حب اللہ اور حب رسول کا راستہ اور تقاضا ہے اور ہمیں انکی روشن سیرت پہ عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین!
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages