درس قرآن وحدیث 20-16 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 29, 2020

درس قرآن وحدیث 20-16

ھفت روزہ اھل حدیث، مصائب زندگی کی وجوہات،نوحہ

درسِ قرآن
مصائب زندگی کی وجوہات
ارشادِ باری ہے:
﴿وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾ (البقرة)
’’اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے‘دشمن کے ڈر سے ‘ بھوک پیاس سے ‘ مال و جان اور پھلوں کی کمی سے(جبکہ آپ ان حالات میں)صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔جنہیں جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ہی ملکیت ہیںاو ر ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔‘‘
زندگی حالات کے بدلنے کا نام ہے ۔اللہ تعالیٰ انسان کو آزمائش کے لیے اور کہیں اس کی تربیت اور امتحان کے لیے نعمتوں کے ساتھ ساتھ مصائب و آلام سے بھی دو چار کرتے ہیں۔انسان کو اپنی زندگی میں جن مصائب و مشاکل سے دو چار ہونا پڑتا ہے اس کی تین وجوہات قرآن نے بیان فرمائی ہیں:
Ý       امتحان کی غرض سے: آیت مذکورہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایمان والے جو صدق دل سے اور خلوص نیت سے اللہ کے ہو جاتے ہیں ان کے لیے مشاکل وتکالیف ذریعہ آزمائش ہیں اور پھر ان سخت حالات میں انسان کا صابر بن کر اللہ کے آگے جھکے رہنا ان پر رحمتوں کے نزول کا باعث بن جاتا ہے۔اور یہ ان کے لیے درجات کی بلندی کا ذریعہ ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے انعام کی ایک شکل ہے۔
Þ       جبکہ دوسری وجہ اللہ کے نظام کا نفاذ ہے ۔یعنی اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ فرمالیا ہوا ہے اس کا اصدار ہو کر رہنا ہے ۔اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی مخلوق کے حق میں بہتری کا ہی فیصلہ فرماتے ہیں:
﴿مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ﴾ (التغابن)
’’کوئی مصیبت اللہ کی اجازت(مشیئت )کے بغیر نہیں پہنچ سکتی۔جو اللہ پر ایمان لائے(استقامت دکھائے)اللہ تعالیٰ پھر اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔‘‘
ß       اعمال بد کا نتیجہ: جو انسان ان حالات میں واویلا کرنا شروع کردے توگویا وہ ایمان میں کمزور اوراللہ کے دین پر استقامت سے عاری ہوتا ہے۔ایسے شخص پر اللہ نے واضح کردیا ہے کہ اس پر یہ آفت اللہ کی طرف سے آزمائش نہیں بلکہ ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے:
﴿وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَ يَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ﴾(الشورٰى)
’’اور جو مصیبت بھی تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کیے ہوئے (گناہوں کی وجہ سے)پہنچتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ بہت سارے گناہوں سے تو درگذر ہی فرمالیتے ہیں۔‘‘

درسِ حدیث
نوحہ
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
[عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "أَخَذَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ ﷺ عِنْدَ البَيْعَةِ أَنْ لاَ نَنُوحَ".] (متفق عليه)
سیدہ ام عطیہr سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ’’رسول اللہe نے ہم سے عہد لیا کہ ہم (بین) نوحہ نہیں کریں گی۔‘‘ (بخاری مسلم)
اسلام سے قبل مرنے والے پر عورتیں نوحہ (بین) کرتی تھیں، اسلام نے نوحہ کو ناجائز قرار دیا لہٰذا جب عورتیں رسول اللہe پر ایمان لانے کا اعلان کرتیں اور آپؐ ان سے بیعت لیتے تو ان سے وعدہ لیتے کہ آج کے بعد بین نہیں کریں گی۔ عورتوں سے اس قسم کا عہد لینے کی ضرورت اس لئے محسوس کی گئی کہ دور جاہلیت میں رواج تھا کہ مرنے والے پر عورتیں اکٹھی ہو کر بین کرتی تھیں اور ایک دوسرے کے مرنے والوں پر اجتماعی بین کرتیں حتیٰ کہ نوحہ نہ کرنے والیوں کو طعن کیا جاتا کہ ہم اس کے عزیز کے لئے نوحہ کرنے گئی تھیں وہ جواباً ہمارے ہاں کیوں نہیں آئی۔ میت کے اوصاف بیان کر کے رونا اور زبان سے ایسے الفاظ بولنا جن سے اللہ ناراض ہوتا ہے نوحہ کہلاتا ہے، اسے رسول اللہe نے حرام قرار دیا ہے۔ اسی بنا پر خصوصاً عورتوں سے بیعت لیتے وقت ان سے عہد لیتے کہ بین نہیں کرو گی۔
جس طرح عورتوں کے لئے بین منع ہے اسی طرح مردوں کے لئے بھی منع ہے۔ عورتیں نرم دل اور نرم مزاج ہوتی ہیں لہٰذا چھوٹی سی پریشانی یا تکلیف پر رونے لگ جاتی ہیں اور زبان سے بے سوچے سمجھے غلط کلمات کہنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس لئے آپؐ عورتوں سے وعدہ لیتے تھے۔ حضورe نے فرمایا کہ میت پر رونے اور بین کرنے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتا ہے، یہ عذاب اس شخص کے لئے جو وصیت کر کے مرا ہو کہ میرے مرنے پر بین کرنا۔ اجتماعی یا انفرادی نوحہ جائز نہیں، غم کا اظہار اس انداز میں کرنا کہ اپنے بال نوچے جائیں، اپنی رخساروں کو پیٹا جائے، زبان سے جاہلیت کے الفاظ نکالے جائیں اور اپنا گریبان پھاڑا جائے درست نہیں، ایسا کرنے والوں کو رسول اللہe نے اپنی امت سے خارج قرار دیا ہے۔ غم کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں، دل پریشان ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن زبان سے ایسی باتیں کرنا جن سے اللہ ناراض ہوتا ہے، گناہ ہے۔ مرثیہ خوانی، نوحہ اور ماتمی جلوس اسلام کا حصہ نہیں بلکہ اللہ کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں۔
اللہ کی رضا پر راضی ہونا اور مشکل و پریشانی پر صبر کرنا اور زبان سے انا للہ وانا الیہ راجعون، پڑھنا عمدہ صفات ہیں، جنہیں اللہ پسند کرتا ہے۔ بلند آواز میں رونا، زبان سے اللہ کی نافرمانی کے الفاظ ادا کرنا اور غم کے اظہار کے لئے غیر شرعی انداز اختیار کرنا نوحہ کہلاتا ہے جو کہ حرام ہے۔
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages