خطبۂ حج برائے سال 2020/1441 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 15, 2020

خطبۂ حج برائے سال 2020/1441

ھفت روزہ اھل حدیث، خطبات حج، سال 2020ء، سال 1441ء

خطبۂ حج برائے سال 2020/1441

امام الحرم معالی الشیخ عبداللہ بن سلیمان المنیع d
ترجمہ: جناب عاطف الیاس                             نظر ثانی: جناب محمد ہاشم یزمانی
حمد و ثناء کے بعد!
اے مسلمانو! ہم آپ کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتے ہیں، اللہ تعالی نے پہلو ں اور بعد والوں کو یہی وصیت فرمائی ہے:
’’تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو لیکن اگر تم نہیں مانتے تو نہ مانو، آسمان و زمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بے نیاز اور ہر تعریف کا مستحق ہے۔‘‘ (النساء: ۱۳۱)
پرہیزگاری بھلائیوں کا سبب اور مصیبتوں اور ناپسندیدہ چیزوں سے بچاؤ کا ذریعہ بنتی ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
’’جو شخص اللہ سے ڈرے اُس کے معاملہ میں وہ سہولت پیدا کر دیتا ہے۔‘‘ (الطلاق: ۴)
پرہیزگاری یہ ہے کہ نافرمانی اور برائی سے اجتناب کیا جائے۔ پرہیزگاری کا بلند ترین حصہ اللہ کی توحید اور صرف اسی کی عبادت ہے۔ یعنی صرف اسی کے لیے نماز پڑھی جائے، صرف اسی سے دعا مانگی جائے، اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے، نہ کسی اور کے لیے قربانی ہو، نہ منت ہو اور نہ عبادت کی کوئی اور شکل کسی اور کے لیے ہو۔
فرمانِ الٰہی ہے:
’’اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور انہیں جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ۔‘‘ (البقرہ: ۲۱)
اسی طرح فرمایا:
’’اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔‘‘ (النساء: ۳۶)
ایک اور جگہ فرمایا:
’’یہی (اﷲ) تمہارا پروردگار ہے، اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، (وہی) ہر چیز کا خالق ہے پس تم اسی کی عبادت کیا کرو اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘ (الانعام)
ایک اور مقام پر فرمایا:
’’فرما دیجئے! اے جاہلو! کیا تم مجھے غیر اللہ کی پرستش کرنے کا کہتے ہو، اور فی الحقیقت آپ کی طرف (یہ) وحی کی گئی ہے اور اُن (پیغمبروں) کی طرف (بھی) جو آپ سے پہلے (مبعوث ہوئے) تھے کہ (اے انسان!) اگر تُو نے شرک کیا تو یقیناً تیرا عمل برباد ہو جائے گا اور تُو ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا، بلکہ تُو اللہ کی عبادت کر اور شکر گزاروں میں سے ہو جا۔‘‘ (الزمر: ۶۴-۶۵)
کلمۂ توحید، لا الٰہ الا اللہ اور، کلمۂ رسالت، محمد رسول اللہ کا یہی تقاضا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے:
’’محمد (e) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلہ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔‘‘ (الاحزاب: ۴۰)
اس لیے آپe کے حکم کی تعمیل ضروری ہے، آپ کی بتائی ہوئی خبروں کو سچ ماننا لازمی ہے اور اللہ کی عبادت آپe کے بتائے ہوئے انداز میں ہونا نا گزیر ہے۔ آپe کی تعلیمات میں کسی اضافے کی کوئی گنجائش نہیں، اس اضافے کو بدعت کہا جاتا ہے، جسے روکنے میں مسلمانوں کا نمایاں کردار نظر آنا چاہیے۔ عرفات کے دن اسی جگہ پر رسول اللہe پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تھی:
’’آج میں تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر چکا اور میں نے تم پر اپنا احسان پورا کر دیا اور میں نے تمہارے واسطے اسلام ہی کو دین پسند کیا ہے۔‘‘ (المائدہ)
رسول اللہe نے واضح طور پر ارشاد فرمایا تھا:
’’اسلام کے پانچ ستون ہیں، یعنی عمارتِ اسلام ان پانچ چیزوں پر کھڑی ہے: توحید ورسالت کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، یعنی اپنے مال میں سے کچھ حصہ مستحقین کو دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرنا۔‘‘ (بخاری)
اسی طرح آپe نے ایمان کے ارکان بھی بیان فرمائے۔ فرمایا:
’’ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے ملائکہ پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، روزِ آخرت پر، اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لائے ۔‘‘ (مسلم)
فرمانِ الٰہی ہے:
’’اسی طرح ہم نے تمہارے اندر تمہیں میں سے (اپنا) رسول بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں (نفسًا و قلبًا) پاک صاف کرتا ہے اور تمہیں کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور حکمت ودانائی سکھاتا ہے اور تمہیں وہ (اَسرارِ معرفت وحقیقت) سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے، سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو، اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقیناً اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہے۔‘‘ (البقرہ: )
اسی طرح رسول اللہe نے شکر، ذکر اور مصیبتوں پر صبر کی تلقین فرمائی۔ اہل تقویٰ کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ کی تکلیف دہ تقدیروں پر صبر کرتے ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔‘‘ (البقرۃ: ۱۷۷)
اے لوگو! دنیا کی زندگی مصیبتوں سے پاک نہیں ہو سکتی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں صبر کرنے کا حکم دیا۔ فرمایا:
’’اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں، جن پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو کہتے ہیں: بیشک ہم بھی اﷲ ہی کا (مال) ہیں اور ہم بھی اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے پے در پے نوازشیں ہیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ (البقرۃ: ۱۵۵-۱۵۷)
اسی طرح فرمایا:
’’اور ہم ان لوگوں کو جنہوں نے صبر کیا ضرور ان کا اجر عطا فرمائیں گے ان کے اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے رہے تھے۔‘‘ (النحل: ۹۶)
آخر بندۂ مومن صبر کیوں نہ کرے، جب کہ وہ تقدیر پر بھی ایمان رکھتا ہے اور خوب جانتا ہے کہ جو مصیبت اس پر آگئی ہے، وہ اس سے بچ نہیں سکتا تھا اور جو اس پر نہیں آئی وہ اس پر آ بھی نہیں سکتی تھی، وہ یہ بھی جانتا ہے کہ پوری مخلوق مل کر بھی اسے اللہ کی کسی تقدیر سے بچا نہیں سکتی۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’کوئی بھی مصیبت نہ تو زمین میں پہنچتی ہے اور نہ تمہاری زندگیوں میں مگر وہ ایک کتاب میں (یعنی لوحِ محفوظ میں جو اللہ کے علمِ قدیم کا مرتبہ ہے) اس سے قبل کہ ہم اسے پیدا کریں (موجود) ہوتی ہے، بیشک یہ (علمِ محیط و کامل) اللہ پر بہت ہی آسان ہے۔‘‘ (الحدید: ۲۲)
مصیبتوں کو دیکھ کر انسان کو اللہ کی عظیم اور لا تعداد نعمتیں یاد آتی ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے:
’’اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو انہیں پورا شمار نہ کر سکو گے، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ (النحل: ۱۸)
اسی طرح فرمایا:
’’(لوگو!) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اﷲ نے تمہارے لئے ان تمام چیزوں کو مسخّر فرما دیا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اور اس نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر پوری کر دی ہیں۔‘‘ (لقمان: ۲۰)
ان مصیبتوں کو دیکھ کر انسان کو اللہ کی قدرت کا اندازہ ہو جاتا ہے اور پھر وہ اللہ کی طرف لوٹ آتا ہے، گریہ زاری کرتا ہے اور اس کی مغفرت اور معافی کا طلبگار ہوتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’اور ہم نے ان کی آزمائش انعامات اور مشکلات (دونوں طریقوں) سے کی تاکہ وہ (اللہ کی طرف) رجوع کریں۔‘‘ (الاعراف: ۱۶۸)
اسی طرح فرمایا:
’’اور ہم ان کو یقینا (آخرت کے) بڑے عذاب سے پہلے قریب تر (دنیوی) عذاب (کا مزہ) چکھائیں گے تاکہ وہ (کفر سے) باز آجائیں۔‘‘ (السجدہ: ۲۱)
ایک اور مقام پر فرمایا:
’’اور بیشک ہم نے آپ سے پہلے بہت سی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے، پھر ہم نے ان کو (نافرمانی کے باعث) تنگ دستی اور تکلیف کے ذریعے پکڑ لیا تاکہ وہ (عجز و نیاز کے ساتھ) گِڑگڑائیں۔‘‘ (الانعام: ۴۲)
ایک دوسری جگہ پر فرمایا:
’’اے لوگو! تم سب اﷲ کے محتاج ہو اور اﷲ ہی بے نیاز، سزاوارِ حمد و ثنا ہے۔‘‘ (فاطر: ۱۵)
یہ مصیبتیں لوگوں کو آخرت کی یاد دلاتی ہیں اور حصولِ جنت کی تیاری پر ابھارتی ہیں کہ جس میں کوئی مصیبت یا پریشانی نہیں ہو گی۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’سو کسی کو معلوم نہیں جو آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ رکھی گئی ہے، یہ ان (اَعمالِ صالحہ) کا بدلہ ہوگا جو وہ کرتے رہے تھے۔‘‘ (السجدہ: ۱۷)
اسی طرح فرمایا:
’’اور وہاں وہ سب چیزیں (موجود) ہوں گی جن کو دل چاہیں گے اور (جن سے) آنکھیں راحت پائیں گی اور تم وہاں ہمیشہ رہو گے۔‘‘ (الزخرف: ۷۱)
ان مصیبتوں سے لوگوں کی آزمائش بھی ہوتی ہے۔ صبر والے اور واویلا مچانے والے پہچانے بھی جاتے ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے:
’’اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی میں آزمائش کے لئے مبتلا کرتے ہیں، اور تم ہماری ہی طرف پلٹائے جاؤ گے۔‘‘ (الانبیاء: ۳۵)
سختیاں چاہے بہت بڑی ہی کیوں نہ ہوں، بہر حال وہ گزر ہی جاتی ہیں، اللہ رحمت بہت زیادہ وسیع ہے، اس کی آسانی قریب تر ہے۔ اس نے مصیبتوں کے خاتمے اور آسانی کی آمد کا وعدہ بھی کیا ہے۔ فرمایا:
’’سو بیشک ہر دشواری کے ساتھ آسانی (آتی) ہے، یقینا (اس) دشواری کے ساتھ آسانی (بھی) ہے۔‘‘ (الشرح)
اسی طرح فرمایا:
’’اﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا۔‘‘ (البقرہ)
ان مصیبتوں سے فرماں برداری کے دروازے کھلتے ہیں، انہیں دیکھ کر لوگ گریہ زاری کرتے ہیں کہ اللہ ان کے نازل ہونے سے پہلے ہی انہیں روک دے، یا ان کے آنے کے بعد انہیں ختم کرنے کے اسباب پر عمل کی توفیق عطا فرما دے۔
اسلام کی بابرکت شریعت نے چند تدابیر تجویز کی ہیں جو آفتوں کے خاتمے کی ضامن ہیں۔ مالی اور اقتصادی مسائل سے نمٹنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو تدابیر تجویز کی ہیں وہ انسانیت کی بہترین زندگی اور فلاح کی ضامن ہیں۔ مثال کے طور پر شریعت نے کمانے کے لیے محنت کرنے، نت نئی ایجادات کرنے اور مختلف پیشہ جات اپنانے کی ترغیب دلائی ہے، اسی طرح تجارت کی طرف توجہ دلائی ہے، دھوکہ دہی اور فریب کاری سے روکا ہے۔ پبلک پراپرٹی اور لوگوں کی ذاتی املاک کا احترام کرنے کا حکم دیا ہے۔ وعدے پورے کرنے اور معاہدوں کی پاسداری کرنے کی تاکید ہے، تجارتی معاملات میں باہمی تعاون اور لین دین کے اصول وضوابط وضع کیے ہیں، قرضے ادا کرنے اور حقوق کو تحریری شکل میں لانے کا حکم دیا ہے۔ اسراف اور فضول خرچی سے روکا ہے۔ صدقہ اور زکوٰۃ کے ذریعے فقیروں اور مسکینوں کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے، اسی طرح قدرتی آفتوں اور مشکل اوقات میں فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’ایمان والو اپنے عہد و پیمان اور معاملات کی پابندی کرو۔‘‘ (المائدہ)
یہ خطبہ پڑھیں:   موت کی تیاری
اسی طرح فرمایا:
’’اور (یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بے جا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان کا خرچ کرنا (زیادتی اور کمی کی) ان دو حدوں کے درمیان اعتدال پر (مبنی) ہوتا ہے۔‘‘ (الفرقان: ۶۷)
ایک اور جگہ پر فرمایا: ’’اﷲ نے تجارت کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔‘‘ (البقرہ: ۲۷۵)
ایک اور مقام پر فرمایا:
’’اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو۔‘‘ (النساء)
اسی طرح فرمان باری تعالیٰ ہے:
’’اور جب بھی آپس میں خرید و فروخت کرو تو گواہ بنا لیا کرو۔‘‘ (البقرہ: ۲۸۲)
ایک اور جگہ فرمایا:
’’اور ناپ، تول کو انصاف سے پورا کرو۔‘‘ (الانعام)
جنت کے بارے فرمایا:
’’وہ (جنت) ان پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے جو خوشی اور تکلیف میں خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (آل عمران: ۱۳۳-۱۳۴)
معاشرے کو سماجی اور نفسیاتی مسائل سے بچانے کے لیے شریعت نے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی کا حکم دیا اور بچوں کی اچھی تربیت کی تلقین فرمائی۔ باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے، نرم رویہ اپنانے اور ایک دوسرے کو تعاون فراہم کرنے کی ترغیب دلائی۔ میاں بیوی کے مناسب حقوق مقرر کیے۔ ہر چھوٹے، بڑے، تندرست اور معذور کے حقوق کا تحفظ کیا۔ بلکہ دوسروں کی نفسیات کا خیال رکھنے کا بھی حکم دیا۔ سختی اور مصیبتوں کے دنوں میں دوسروں کی مدد کرنے کا کہا ہے۔ اچھے اخلاق اپنانے، عمدہ گفتگو کرنے، محبت اور الفت پیدا کرنے اور باہمی تعاون کی تلقین کی۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’اور تیرا رب فیصلہ کر چکا ہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے ادب سے بات کرو اوران کے سامنے شفقت سے عاجزی کے ساتھ جھکے رہو اور کہو اے میرے رب! جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔‘‘ (الاسراء)
یہ خطبہ پڑھیں:   احسان کا مقام ومرتبہ
اسی طرح فرمایا:
’’اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہیں جو بہتر ہو۔‘‘ (الاسراء: ۵۳)
اسی طرح فرمایا:
’’اور عورتوں کے ساتھ اچھی طرح سے زندگی بسر کرو اگر وہ تمہیں نا پسند ہوں تو ممکن ہے کہ تمہیں ایک چیز پسند نہ آئے مگر اللہ نے اس میں بہت بھلائی رکھی ہو۔‘‘ (النساء: ۱۹)
ایک اور مقام پر فرمایا:
’’بے شک اللہ انصاف کرنے کا اوربھلائی کرنے کا اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم کرتا ہے اوربے حیائی اوربری بات اور ظلم سے منع کرتا ہے تمہیں سمجھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔‘‘ (النحل: ۹۰)
ایک اور مقام پر فرمایا:
’’اور رشتہ دار اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دے دو اور مال کو بے جا خرچ نہ کرو۔‘‘ (الاسراء: ۲۶)
رسول اللہe نے میدان عرفات میں رشتہ داروں سے حسن سلوک کی ترتیب بتاتے ہوے ارشاد فرمایا:
’’اپنی ماں کا خیال رکھنا، اپنے باپ کا خیال رکھنا، اپنی بہن کا خیال رکھنا، اپنے بھائی کا خیال رکھنا، پھر اس کے بعد جو قریب تر ہو اس کا خیال رکھنا۔‘‘ (مستدرک الحاکم: ۷۲۴۵)
اسی طرح سیاست اور امن کے میدان میں بھی شریعت اسلامیہ نے ایسے احکام نازل فرمائے ہیں جو ملک وقوم کی امن وسلامتی کے ضامن ہیں اور جن کی بدولت وہ آسانی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا سکتے اور اپنے کام کر سکتے ہیں۔
اسی طرح شریعت اسلامیہ نے ایک دوسرے کے حقوق، جان، مال اور املاک کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے۔ دوسروں پر حملہ کرنے یا انہیں اذیت دینے سے روکا ہے۔ جھگڑوں کو بڑھاوا دینے، دہشتگردی کو ہوا دینے اور زمین میں فساد پھیلانے سے روکا ہے، فتنوں کے اسباب سے درو رہنے کا حکم دیا ہے، گھات میں بیٹھے دشمنوں سے خبردار بھی کیا ہے۔ قوانین کی پاسداری اور حکمرانوں کی فرماں برداری کا بھی حکم دیا ہے، عدل وانصاف کرنے، معاشرے کے لیے مفید چیزوں کے حصول اور بری چیزوں کے خاتمہ اور صلح صفائی کرانے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘ (آل عمران: ۱۰۳)
اسی طرح فرمایا:
’’جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں شرک نہیں ملایا امن انہیں کے لیے ہے اور وہی راہ راست پر ہیں۔‘‘ (الانعام: ۸۲)
ایک اور مقام پر فرمایا:
’’اللہ عدل واحسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے‘ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق حاصل کرو۔‘‘ (النحل)
ایک اور جگہ فرمایا:
’’بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو، بیشک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے، اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لئے) اللہ اور رسول (e) کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔‘‘ (النساء)
قرآن کریم میں ہے:
’’لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے، اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو اور (زندگی کے) ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہو جاؤ‘ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں بہت کر دیا، اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے۔‘‘ (الاعراف)
دوسرے مقام پر ہے:
’’اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔‘‘ (الحجرات: ۹)
ایک اور مقام پر ہے:
’’(اﷲ سے) ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ (الانعام: ۱۵۵)
رسول اللہe نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا:
’’یاد رکھو، تمہاری جانیں، تمہارے مال، تمہاری عزتیں اور آبرو ایک دوسرے کے لیے یوں محترم ہیں جیسے اس مہینے اور اس شہر میں یہ دن محترم ہے۔ میرے بعد پھر سے کافر بن کر ایک دوسرے کو قتل نہ کرنے لگ جانا۔‘‘ (بخاری: ۱۷۴۱)
پھر نیکی کے کاموں میں حکمرانوں کی اطاعت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
’’لوگو! اللہ نے سب کے حقوق ادا کر دیے ہیں، تو اس کی عبادت کرو، اپنی پانچوں نمازیں ادا کرو، اپنے مہینے کے روزے رکھو۔ جب حکم دیا جائے تو فرماں برداری کرو۔ ایسا کرو گے تو اپنے پروردگار کی جنت میں پہنچ جاؤ گے۔‘‘
جہاں تک میدانِ طب کی بات ہے تو اسلامی شریعت نے ایسے احکام تجویز کیے ہیں جو صحتمندی اور جسمانی تندرستی کے ضامن ہیں۔ مثال کے طور پر پاکیزگی اور صفائی کا حکم دیا، ماحول کو صاف ستھرا اور پاک رکھنے کا حکم دیا، پاکیزہ چیزیں کھانے کا حکم دیا اور نقصان دہ چیزیں کھانے سے منع فرمایا۔ معاشروں کو بیماریوں اور وباؤں سے بچانے کے لیے بہترین طریقہ تجویز کیا۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’اے ایمان والو! جب (تمہارا) نماز کیلئے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو (وضو کے لئے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں سمیت (دھو لو)۔‘‘ (المائدہ: ۶)
اسی طرح فرمایا:
’’اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔‘‘ (الشعراء: ۸۰)
اسی طرح نبی کریمe کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’اور ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور ان پر پلید چیزوں کو حرام کرتے ہیں۔‘‘ (الاعراف: ۱۵۷)
رسول اللہe نے فرمایا:
’’اے اللہ کے بندو! علاج معالجہ کیا کرو، کیونکہ ہر بیماری کا کوئی نہ کوئی علاج ضرور ہے۔‘‘ (سنن ابوداؤد: ۳۸۵۵)
اسی طرح فرمایا:
’’کوڑھ کے مرض میں مبتلا شخص سے یوں بھاگو جیسے تم شیر سے بھاگتے ہو۔‘‘ (مسند احمد: ۱۹۲۰)
ایک اور جگہ فرمایا:
’’کسی متعدی بیماری والے کو کسی صحت مند کے پاس نہ لایا جائے۔‘‘ (بخاری: ۵۷۷۱)
اسی طرح آپe نے طاعون کے بارے فرمایا فرمایا:
’’جب کسی علاقے میں طاعون پھیلنے کے بارے میں سنو، تو وہاں مت جاؤ اور اگر تم پہلے سے کسی علاقے میں ہو اور وہاں طاعون پھیل جائے تو وہاں سے نہ نکلو۔‘‘ (مسند احمد: ۱۶۸۲)
اس حدیث میں تیزی سے پھیلنے والی اور سخت وباؤں کے دور میں نقل وحرکت سے ممانعت آئی ہے۔ اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے، سعودی عرب کی حکومت نے اس سال حج کا فریضہ سعودی عرب کے اندر رہنے والے مختلف قومیت کے لوگوں پر اکتفا کرتے ہوئے محدود تعداد کے ساتھ ادا کرنے کا حکیمانہ فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ یہ فریضہ صحت وتندرستی کے اچھے ماحول میں ادا ہو سکے، احتیاط بھی برقرار رہے، سماجی فاصلہ بھی رہے اور وبا سے لوگوں کی سلامتی وحفاظت کا خیال بھی رہے۔ ان شاء اللہ، یہ جان کی حفاظت کے شرعی اصولوں سے ہم آہنگ بھی ہے۔
اس منبر سے ان تمام مسلمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے حکومتی تدابیر کے حوالے سے مثبت رویہ اپنایا ہے۔ یہ تدابیر انہیں وبا کے خطرے سے بچانے کے لیے کی گئی ہیں۔ حکومتی تدابیر اس لیے اپنائی گئیں تاکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو وبا سے محفوظ رکھا جا سکے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ خادم حرمین شاہ سلمان بن عبد العزیز، ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ساری کابینہ کو جزائے خیر عطا فرمائے کیونکہ انہوں نے جذبۂ خدمت سے سرشار ہو کر حفاظتِ حرمین اور اس راہ میں بے فکری سے دریا کی طرح مال خرچ کیا ہے۔ اے اللہ! ان کی کاوشوں میں برکت ڈال دے! انہیں بہترین جزا عطا فرما، انہیں ہر بدخواہ کے شر سے محفوظ فرما۔
جس طرح مسلم حکمرانوں کے لیے دعا کرنا باعثِ نیکی ہے، اسی طرح مسلمان کی اپنے لیے، رشتہ داروں کے لیے، ملک کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے دعا کرنا بھی بہت بڑی نیکی ہے۔ جو اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کے لیے دعا کرتا ہے اللہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیج دیتا ہے تاکہ وہ اس کی دعا پر آمین کہے اور ساتھ یہ کہے کہ اللہ تعالی تجھے بھی وہی کچھ عطا کرے جو تو اپنے بھائی کے لیے مانگ رہا ہے۔ خاص طور پر اس بابرکت موقع پر، میدان عرفات میں ہمیں خوب دعائیں کرنی چاہئیں۔
اے اللہ! وبا کا خاتمہ فرما دے! بیماروں کو شفا عطا فرما دے۔ طب کے میدان میں ریسرچ کرنے والوں کو دوائیں ایجاد کرنے اور ویکسینز تیار کرنے میں کامیاب فرما!


No comments:

Post a Comment

Pages