ہجری تقویم ... اسلامی کیلنڈر کی خصوصیات F20-15 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 22, 2020

ہجری تقویم ... اسلامی کیلنڈر کی خصوصیات F20-15

ھفت روزہ اھل حدیث، ہجری تقویم، اسلامی کیلنڈر، خصوصیات

ہجری تقویم ... اسلامی کیلنڈر کی خصوصیات

تحریر: جناب مولانا عبدالرحمن کیلانیa
سن ہجری قمری ماہ و سال سے تعلق رکھتا ہے اور حضور اکرمe کی ہجرت کے سال سے شروع ہونے کی وجہ سے مسلمانوں سے خاص نسبت رکھتا ہے۔ قمری مہینہ کے ایام میں تبدیلی ناممکن ہے۔ یہ مہینہ یا تو ۲۹ دن کا ہوتا ہے یا ۳۰ دن کا، گویا مہینہ کے ایام میں کم سے کم تفاوت ہے۔ ۲۹ دن کے مہینہ کو بھی وضعی یا اختراعی طریقہ سے ۳۰ دن کا نہیں بنایا جا سکتا، نہ ۳۰ دن والے مہینہ ہی کو ۲۹ دن کے مہینہ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ رؤیت ہلال کا فرق تو محض مقامی فرق ہوتا ہے جس کا عموماً دوسرے ہی دن پتہ چل جاتا ہے، ورنہ اگلے ماہ قمری تقویم خود بخود درست ہو جائے گی۔
قمری سال بارہ ماہ کا ہوتا ہے اور یہ ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک ۱۲ ہی ماہ کا چلا آرہا ہے۔ بقول باری تعالیٰ:
’’بلاشبہ ابتدائے آفرینش سے لے کر قوانین قدرت کے مطابق اللہ کے ہاں (سال میں) مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔‘‘ (التوبۃ: ۳۶)
یہ مضمون پڑھیں:    اہل حدیث کا وجود کب سے ہے؟!
یہ سال نہ تو گیارہ یا دس ماہ کا ہو سکتا ہے اور نہ تیرہ یا چودہ ماہ کا‘ جن لوگوں نے دوسرے ممالک کی دیکھا دیکھی قمری سال کے مہینوں میں پیوند کاری کی کوشش بھی کی تو ان کی یہ کوشش عام قبولیت حاصل نہ کر سکی۔
قمری سال، شمسی سال سے دس دن اکیس گھنٹے چھوٹا ہوتا ہے، لہٰذا اگر شمسی سال کی رعایت ملحوظ رکھی بھی جائے تو عقل عامہ کی مناسبت سے قمری سال کے بارہ ہی ماہ ہونے چاہئیں جبکہ شمسی سال مہینوں کی مقررہ تعداد سے آزاد ہو سکتا ہے۔
اہل عرب نے بھی دنیا کی دیکھا دیکھی قمری سال کی دنیوی اغراض و مقاصد کے لئے شمسی سال سے مطابق کرنے کی کوشش کرنا شروع کر دی تھی اور اس مقصد کی تکمیل کے لئے اضافی دنوں یا مہینوں کی پیوندکاری کبیسہ، لوند یا لیپ کا طریقہ اپنا لیا تھا، اسی طرح اللہ کے شعائر خصوصاً حج کے ایام میں گڑ بڑ پیدا کر دی گئی، دو سال تو حج فی الواقع ماہ ذی الحجہ میں ادا کیا جا سکتا ہے، پھر تین سال ماہ محرم میں، پھر دو سال صفر میں پھر تین سال ربیع الاول میں، علی ھذا القیاس تیس سال کا عرصہ گزرنے کے بعد پھر حج ماہ ذی الحجہ میں واقع ہو جاتا ہے۔ اس طرح ایک سال کا عرصہ کم کر دیا جاتا تھا یا تیس قمری سالوں میں ۲۹ بار حج ادا کیا جاتا اور یہ ترکیب محض اس لئے اختیار کی گئی کہ حج کا وقت ایک ہی موسم میں آیا کرے۔
پھر یہ گڑ بڑ صرف حج تک ہی محدود نہ رہی، حضور اکرمe کی بعثت سے پہلے حرمت کے چار مہینے قرار دئیے گئے تھے، ان مہینوں کے متعلق اہل عرب کو یہ ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ان مہینوں میں نہ تو آپس میں جدال و قتال کریں گے، نہ کسی تاجر یا راہ گیر کو لوٹ کھسوٹ سے پریشان کریں گے۔ یہ چار مہینے، رجب، ذی القعدہ، ذی الحجہ اور محرم الحرام تھے، ان میں تین اکٹھے مہینے حج کے پرُاطمینان سفر کے لئے تجویز کئے گئے تھے۔ چنانچہ یہ ایک پسندیدہ دستور تھا، لہٰذا اسلام نے اسے بحال رکھا، کبیسہ کے طریق کی وجہ سے ان حرمت والے مہینوں میں بھی تقدیم و تاخیر اور گڑبڑ پیدا ہو جاتی تھی اور قلامسہ کے فرائض میں یہ بات بھی شامل تھی کہ وہ اعلان حج کے ساتھ ان مہینوں کا بھی اعلان کیا کرے کہ آئندہ سال کون کون سے مہینے حرمت والے ہوں گے، اس تقدیم و تاخیر کو اہل عرب نسی ٔ کہتے تھے، اسلام نے اس مذموم فعل کو زمانہ کفر کی زیادتی قرار دے کر اس سے منع فرما دیا۔
یہ مضمون پڑھیں:    الحاد کا تاریخی پس منظر
ارشاد باری ہے:
’’امن کے مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر لینا کفر میں اضافہ کرتا ہے، اس سے کافر لوگ گمراہی میں پڑے رہتے ہیں، ایک سال تو انہیں حلال کر لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام تا کہ ادب کے مہینوں کی، جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں اور جو خدا نے منع کیا ہے ان کو جائز کر لیں، ان کے برے اعمال انہیں بھلے دکھائی دیتے ہیں۔‘‘(توبۃ: ۳۷)
اتفاق کی بات کہ حجۃ الوداع (۱۰/ہجری) فی الواقع ذی الحجہ کے مہینہ میں واقع ہوا، اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس کے بعد کبیسہ اور نسئی کا طریقہ کار حرام قرار پایا اور اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ترک کر دیا گیا اور قمری تقویم سے دوغلی پالیسی ختم کر کے اسے صحیح فطری خطوط پر مرتب کر دیا گیا۔
سن ہجری کی ابتداء
سن ہجری کی ابتداء کیسے ہوئی؟ اس کے متعلق علامہ شبلی نعمانیؒ ’’الفاروق‘‘ میں یوں رقم طراز ہیں: ’’۲۱ ہجری میں حضرت عمرؓ کے سامنے ایک تحریر پیش ہوئی جس پر صرف شعبان کا لفظ تھا، حضرت عمرؓ نے کہا کہ یہ کیوں کر معلوم ہو کہ گزشتہ شعبان کا مہینہ مراد ہے یا موجودہ؟ اسی وقت مجلس الشوریٰ طلب کی گئی اور ہجری تقویم کے مختلف پہلو زیربحث آئے جن میں سے ایک بنیادی پہلو یہ بھی تھا کہ کون سے واقعہ سے سال کا آغاز ہو؟ حضرت علیt نے ہجرت نبوی کی رائے دی اور اس پر سب کا اتفاق ہو گیا۔ حضور اکرمe نے ۸ ربیع الاول کو ہجرت فرمائی تھی چونکہ عرب میں سال محرم سے شروع ہوتا ہے لہٰذا دو مہینے آٹھ دن پیچھے ہٹ کر شروع سال سے سنہ قائم کیا گیا۔
سن ہجری کی ابتداء کے متعلق قاضی سلیمان منصورپوریؒ، علامہ شبلی نعمانی ؒسے کچھ اختلاف رکھتے ہیں چنانچہ ’’رحمۃ للعالمین‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اسلام میں سن ہجری کا استعمال حضرت عمر فاروقt کی خلافت میں جاری ہوا، جمعرات ۳۰/ جمادی الثانی ۱۷/ ہجری مطابق ۹/۱۲ جولائی ۶۳۸ء حضرت علیt کے مشورہ سے محرم کو حسب دستور پہلا مہینہ قرار دیا گیا۔ مزید تحقیق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ ہجرت سے سنین کے شمار کی ابتداء اس سے بھی پہلے ہو چکی تھی، (تاریخ ابن عساکر جلد ۱ رسالہ التاریخ للسیوطی بحوالہ تقویم تاریخی) اور یہی بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کیونکہ عرب میں قمری کیلنڈر کا رواج تو پہلے سے ہی موجود تھا اور حضور اکرمe کی زندگی میں ہجرت کا واقعہ سب سے اہم تھا۔ لہٰذا اس واقعہ سے سنین کے شمار کا دستور چل نکلا ، البتہ عہد فاروقی تک سرکاری مراسلات میں صحیح اور مکمل تاریخ کا اندراج لازمی نہ سمجھا جاتا تھا جسے ایک طرح کی دفتری خامی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اور اس خامی کا علاج حضرت عمرؓ نے مجلس شوریٰ بلا کر کر دیا تھا۔
یہ مضمون پڑھیں:    ریاست مدینہ میں نظام کفالت
خصوصیات
اگر ہم سن ہجری کا دوسرے مروجہ سنین سے تقابل کر کے دیکھیں تو یہ سن بہت سی باتوں میں ممتاز نظر آتا ہے، مثلاً:
ترمیمات سے مبرا:
سن ہجری کی بنیاد قمری تقویم پر ہے اور قمری تقویم انسانی اختراعات سے بے نیاز اور بلند ہے۔ قمری تقویم میں اگر کبھی پیوندکاری کی گئی تو بھی اسے عام مقبولیت حاصل نہ ہو سکی۔ سن ہجری کے آغاز سے لے کر آج تک اس میں نہ کوئی ترمیم ہوئی اور نہ آئندہ ہی ہونے کا امکان ہے، کیونکہ اسلام نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذا اس سن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ شروع سے آج تک اپنی مجوزہ صورت میں چلا آرہا ہے اور کسی دور میں بھی اس میں ترمیم کی ضرورت پیش نہیں آئی، دنیا کے مروجہ سنین میں سے غالباً کسی میں بھی یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی۔
قدامت بلحاظ صحت و استعمال:
اگرچہ بعض دوسرے سنین سن ہجری سے بہت پہلے کے معلوم ہوتے ہیں لیکن سب کی باقاعدہ تدوین سن ہجری کے بہت بعد ہوئی ہے۔
1 یکم محرم سن ۱/ہجری کو جولین کیلنڈر ۱۶ جولائی ۳۳۴ء تھا، مگر حقیقت میں یہ سن اپنے موجودہ طریق پر سن ہجری سے ۹۸۹ سال بعد واضح ہوا ہے۔ یہی سن آخر میں سن عیسوی میں تبدیل ہوا جس میں ۱۵۸۲ء تک متعدد بار ترامیم ہوتی رہی ہیں، اس آخری ترمیم کے بعد کا حال بھی ملاحظہ فرمائیے۔
 انگلستان میں ۲/ستمبر ۱۷۵۳ء بروز بدھ (بمطابق ۲/ ذی القعدۃ ۱۱۶۵ھ) کو ترمیم کے ذریعہ یعنی ۴/ذی القعدہ ۱۱۶۵ھ کو ۱۴/ستمبر ۱۷۵۲ء بنا دیا گیا۔ (ص ۳۵۲ رحمۃ للعالمین جلد نمبر۲)
2 بکرمی سمت یکم محرم الحرام سن ۱ ہجری کو ۲۶ ساون سمت ۶۷۹ تھا جو بظاہر سن ہجری سے ۶۷۸ سال پہلے کا معلوم ہوتا ہے مگر ہندو اور یورپین مؤرخین کی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ سب سے پہلے سمت ۸۹۸ بکرمی میں یہ سنہ بکرمی کے نام سے مشہور ہوا، اس طرح بلحاظ تدوین یہ سن سنہ ہجری سے ۲۲۵ سال بعد مدون ہوا۔
3 سن سکندری سنہ ہجری سے ۹۳۲ سال پہلے کا ہے مگر اپنی موجودہ ہیئت میں نوزائیدہ ہے کیونکہ یہ شروع میں کئی صدیوں تک قمری مہینوں کے حساب سے جاری رہا  اور اب اسے شمسی مہینوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
4 ابتداء سے دنیا بھر میں سنین کا حساب قمری تقویم کے حساب سے شروع ہوا تھا جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
یہ مضمون پڑھیں:    ماہ محرم ... چند اہم واقعات
مساوات اور ہمہ گیری:  
اسلام دین فطرت ہے‘ لہٰذا مصالح عامہ پر مبنی ہے، اسلام کی اعلیٰ خصوصیات میں سے ایک خصوصیت مساوات اور ہمہ گیری بھی ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے یہی پسند فرمایا کہ اسلامی مہینے ادلتے بدلتے موسم میں آیا کریں۔ اگر اسلام کبیسہ کے طریقہ کو قبول کر لیتا تو رمضان کا مہینہ (ماہ صیام) کسی ایک مقام پر ہمیشہ ایک ہی موسم میں آیا کرتا، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ نصف دنیا کے مسلمان جہاں موسم گرم اور دن بڑے ہوتے ہیں، ہمیشہ تنگی اور سختی میں پڑ جاتے اور باقی نصف دنیا کے مسلمان، جہاں موسم سرد اور دن چھوٹے ہوتے ہیں، ہمیشہ کے لئے آسانی میں رہتے۔ روزہ کے علاوہ سفر حج کا بھی تقریباً یہی حال ہے پس مساوات و جہانگیری کا اقتضا ہی یہ تھا کہ اسلامی سال قمری حساب پر ہی ہو اور اسے کبیسہ جیسی انسانی اختراعات سے بھی پاک رکھا جائے۔
دنیوی اغراض کے بجائے روحانی بنیادیں: 
ہجری سے آغاز: دنیا بھر کے مروجہ سنین کی ابتداء پر نظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ کوئی سن کسی بڑے آدمی کی یا بادشاہ کی پیدائش، وفات یا تاجپوشی سے شروع ہوتا ہے، یا پھر کسی اراضی یا سماوی حادثہ مثلاً زلزلہ، سیلاب یا طوفان کی تاریخ سے۔ سن ہجری کو ہی یہ اعزاز و شرف حاصل ہے کہ اس کا آغاز دین اسلام کی سربلندی کی خاطر اپنے وطن عزیز کو چھوڑ کر چلے جانے سے ہوا ہے۔ اپنے وطن کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہنا ایک بڑی قربانی ہے اور ایسے اوقات میں ہر شخص کا دل بھر آتا ہے۔ حضور اکرمe نے بھی ہجرت کے وقت مکہ کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا: ’’اے مکہ! تو کتنا پاکیزہ اور مجھے پیارا لگتا ہے، اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کہیں نہ رہتا۔‘‘ ظاہر ہے کہ ترک وطن پر انسان صرف اسی صورت میں آمادہ ہو سکتا ہے جب وہ انتہائی مجبور ہو یا کوئی عظیم مقصد اس کے پیش نظر ہو۔ مسلمانوں کے لئے یہ مقصد دین اسلام کی سربلندی تھا اور ہجرت کے واقعہ کو سنہ ہجری کی بنیاد قرار دینے کا مقصد ہی یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہر نئے سال کے آغاز پر یہ پیغام یاد رہے کہ انہیں اسلام کی سربلندی کے لئے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہ کرنا چاہیے۔
رسم و رواج کی حوصلہ شکنی:   کسی ملک یا علاقہ کے رسم و رواج عموماً موسم سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، میلے ٹھیلے، تفریحی سفر، گرمیوں کی چھٹیاں، موسم بہار کی تقریبات، مختلف قسم کے محاصل اور نذرانوں کی وصولیوں کے اوقات وغیرہ سب امور موسم سے وابستہ ہیں اور موسموں کا تعلق شمسی سال سے ہے۔ لہٰذا جوں جوں مذہب سے لگائو کم ہوتا اور بیگانگی بڑھتی جاتی ہے، شمسی سال کے ساتھ لگائو بڑھ جاتا ہے، اسی بنا پر بیشتر لوگوں نے شمسی سال کو اپنایا، یا قمری سال میں پیوند کاری کر کے اسے شمسی سال کے مطابق ڈھال لیا۔ انتہا یہ ہے کہ آج کل مزاروں کے مجاور اور منتظمین نے بھی زمانہ جاہلیت کے پروہتوں کی طرح عرسوں کی تاریخیں بھی شمسی سال (خواہ بکرمی ہو یا عیسوی) کے مطابق کر رکھی ہیں، عرسوں کا جواز یا عدم جواز بجائے خود ایک الگ مسئلہ ہے، سردست ہم یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ ایسی تقریبات جو خالص دینی اور مقدس سمجھی جاتی ہیں‘ میں سے بھی ہجری تقویم کو خارج کر دیا گیا ہے، حالانکہ یہ بات اسلامی اقدار کے منافی ہے۔ اسلام رسم و رواج کو بشرطیکہ وہ جائز بھی ہوں، ثانوی حیثیت دیتا ہے۔ اس کا اولین مقصد احکامات و عبادت الٰہی اور شعائر اللہ کی صحیح طور پر اور معین وقت پر تعمیل ہے۔ اسی بنا پر اسلام نے قمری تقویم کو اختیار کیا جو اس کی روح کے عین مطابق ہے۔
یہ مضمون پڑھیں:    معرکۂ بدر الکبریٰ
ہفتہ کا آغاز جمعہ کے مبارک دن سے ہے: اسلامی تقویم میں ہفتے کا پہلا دن جمعہ قرار دیا گیا ہے۔ یکم محرم الحرام سنہ ۱/ہجری کو بھی جمعہ تھا، جمعہ کو اجتماعی طور پر اللہ کی عبادت اور ذکر کرنے کا دن قرار دیا گیا ہے، گو اس دن باقاعدہ تعطیل منانے کی پابندی نہیں، تاہم جمعہ کے دن نہانے ، کپڑے بدلنے اور جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لئے تیاری کے خاص اہتمام پر زور دیا گیا ہے۔ نماز جمعہ کے بعد کاروبار کرنے کی اجازت ہے۔ بالفاظ دیگر اس تقویم میں ہفتہ کی ابتداء اللہ کی یاد سے ہوتی ہے جبکہ عیسوی تقویم میں اتوار کا دن جو ان لوگوں کی طہارت کا دن ہے، ہفتہ کا آخری دن ہے، یعنی چھ دن کام کرنے کے بعد جب انسان تھکا ماندہ ہو تو اللہ کی عبادت کی طرف بھی دھیان کر لے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ مجوزہ عالمی کیلنڈر میں ہر سال اور اس کی ہر سہ ماہی اتوار سے شروع کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ہفتہ کے دنوں کے نام اور نجوم پرستی: اسلامی تقویم میں ہفتہ کے ایام کے ناموں میں شرک، نجوم پرستی یا بت پرستی کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔ ان ناموں کو نہ تو کسی مخصوص سیارے سے منسوب کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی دیوی دیوتا سے‘ جبکہ عیسوی اور بکرمی تقویم میں ہفتہ کے دنوں کے نام دیوتائوں اور سیاروں کی فرمانروائی کی یاد تازہ کرتے رہتے ہیں جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اسلامی تقویم میں ہفتہ کے دنوں کے نام یہ ہیں:
یوم الجمعہ (جمعہ)    یوم السبت (ہفتہ)
یوم الاحد (پہلا دن)   یوم الاثنین (دوسرا دن)
یوم الثلثاء (تیسرا دن)  یوم الاربعاء (چوتھا دن)
یوم الخمیس (پانچواں دن)
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages