خلیفۂ اوّل سیدنا صدیق اکبر 20-17 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, September 12, 2020

خلیفۂ اوّل سیدنا صدیق اکبر 20-17

ھفت روزہ اھل حدیث، سیدنا ابوبکر صدیق، ابوبکر صدیق، صدیق اکبر، خلیفۂ اوّل سیدنا صدیق اکبر

خلیفۂ اوّل سیدنا صدیق اکبر﷜

تحریر: جناب مولانا محمد بلال ربانی (سیالکوٹی)
پیارے آقاe کی حیات مستعار کے آخری ایام تھے‘ آپe اپنی منزل ملااعلی منتخب فرما چکے تھے‘ اک خطبہ ارشاد فرمایا‘ اپنی مقدس زندگی کے بیتے لمحات کو یاد فرمایا‘ بعد از نبوت کفار مکہ ، منافقین مدینہ اور دیگر مخالف اقوام کی چیرہ دستیاں بھی نگاہوں کے سامنے آئیں‘ اک تاریخ تھی جسے رقم کرنے والے آپu خود تھے۔ نبوت کے تئیس یہ وہ سال تھے کہ جب دنیا میں ایسا انقلاب برپا ہوا کہ اس دور کے اونچے اونچے درباروں میں اس عظیم تحریک کے تذکرے چھڑے اور ہر کوئی اپنے اپنے تخت و تاج کے تاراج ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ سالار اعظم قائد اعظمe کو زندگی میں گزرا ہر روز یاد تھا‘ کوہ صفا پر اعلان نبوت سے لے کے مکے میں اپنے دوبارہ ورود تک تمام تر حالات واقعات نگاہوں سے گزرتے جارہے تھے۔ ان حالات میں مخالفت اور موافقت کرنے والے سبھی سے آپ آگاہ تھے۔
ناطق وحی کی نطق صادق حرکت میں آئی قافلے میں ہمرکاب ہمراہیوں کی محبتوں پر تشکر کے کلمات جاری فرمائے تو سب سے پہلے کائنات میں اپنے سب سے بڑے محب عشاق مصطفیe کے لیے عشق ومستی کی اعلیٰ مثال جس کی رفاقت بے نظیر و بے مثال تھی‘ اس رفیق کے متعلق اپنے جانثاروں کی بھری مجلس میں بارگاہ خاتم النبیینe سے الفاظ کی صورت میں مجسم قانون چشم فلک کے سامنے ظہور پذیر ہوتا ہے جس کی منظر کشی الجامع الصحیح البخاری میں امیر المومنین فی الحدیث امام محمد بن اسماعیلa نے یوں نقل فرمائی ہے:
سیدنا ابو سعید خدریt نے بیان کیا کہ رسول اللہe نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا میں اور جو کچھ اللہ کے پاس آخرت میں ہے ان دونوں میں سے کسی ایک کا اختیار دیا تو اس بندے نے وہ اختیار کرلیا جو اللہ کے پاس تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر ابوبکرt رونے لگے۔ سیدنا ابوسعیدt کہتے ہیں کہ ہم کو ان کے رونے پر حیرت ہوئی کہ نبی کریمe تو کسی بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اختیار دیا گیا تھا، لیکن بات یہ تھی کہ خود آپe ہی وہ بندے تھے جنہیں اختیار دیا گیا تھا اور (واقعتا) ابوبکرt ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ نبی کریمe نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر ابوبکر کا سب سے زیادہ احسان ہے اور اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو جانی دوست بنا سکتا تو ابوبکر کو بناتا۔ لیکن اسلام کا بھائی چارہ اور اسلام کی محبت ان سے کافی ہے۔ دیکھو مسجد کی طرف تمام دروازے (جو صحابہ کے گھروں کی طرف کھلتے تھے) سب بند کردیئے جائیں۔ صرف ابوبکر کا دروازہ رہنے دو۔ (صحیح بخاری کتاب: انبیاء علیہم السلام کا بیان، حدیث: ۳۶۵۴)
محبت کی لازوال داستانیں اگر کوئی رقم کرنے بیٹھے تو محبوب پر تن ، من ، دھن سب کچھ نچھاور کرنے والوں میں ابوبکر صدیق سرفہرست ملیں گے مہر ووفا کی ایسی لازوال داستان رقم ہوئی کہ خود سرور کائناتe نے ابوبکر صدیقt کو صدق و صفا کے اعلی مراتب پر فائز فرماتے ہوئے اس روز اعلان فرمایا جب آپ جبل احد پر براجمان تھے اور آپ کے ہمراہ ابوبکر،عمر اور ذوالنورین بھی تھے‘ ساتھیوں کے جلو میں پیارے آقاe کی جبل احد پر موجودگی اس کے لیے وجہ راحت و تسکین جاں تھی لہٰذا وہ خوشی سے لہرایا۔
سیدنا انس بن مالکt نے بیان کیا کہ نبی کریمe احد پہاڑ پر چڑھے تو آپe کے ساتھ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان] بھی تھے، پہاڑ لرزنے لگا تو نبی کریمe نے اپنے پاؤں سے اسے مارا اور فرمایا   ’’احد! ٹھہرا رہ کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید بھی تو ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری کتاب: انبیاءo کا بیان، حدیث: ۳۶۸۶)
صدق و صفا اور وفا ایسی لاریب تھی کہ مجسم رحمتe ہر محاذ پر سیدنا ابوبکر صدیقt پر انتہا درجہ اعتماد فرمایا۔ بارگاہ صدیقی کو اپنی رحلت کے بعد امت کے لیے جائے امان قرار دیا اور اس کے واضح اشارے فرمائے۔ شفیع المذنبین کے اعتماد کا عالم کچھ ایسا تھا کہ ایک خاتون آپ کی بارگاہ اقدس میں آپe نے اس کے مسائل سنے حل تجویز فرمائے‘ اس سائلہ کا ذکر خیر امام بخاریa نے اپنی صحیح میں کچھ اس انداز میں فرمایا ہے:
’’ایک عورت نبی کریمe کی خدمت میں آئی تو آپe نے ان سے فرمایا کہ پھر آنا۔ اس نے کہا: اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو؟ گویا وہ وفات کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔ آپe نے فرمایا کہ اگر تم مجھے نہ پا سکو تو ابوبکر کے پاس چلی آنا۔‘‘ (صحیح بخاری کتاب: انبیاء علیہم السلام کا بیان، حدیث: ۳۶۵۹)
رحمت کائناتe سے صدیقی وفا اس انتہا کی تھی کہ بارگاہ نبوت میں لعل وجواہر چننے والی ہر ہستی اپنے محبوب کریمe کے بعد اگر مراتب قائم کرتے تو سیدنا ابوبکر صدیقt کو خصوصی مقام دیتے جس کی گواہی جناب سیدنا عبد اللہ بن عمرt نے ان الفاظ میں دی ہے:
’’نبی کریمe کے زمانہ ہی میں جب ہمیں صحابہ کے درمیان انتخاب کے لیے کہا جاتا تو سب میں افضل اور بہتر ہم سیدنا ابوبکرt کو قرار دیتے، پھر سیدنا عمر بن خطابt کو پھر سیدنا عثمان بن عفانt کو۔‘‘ (صحیح بخاری کتاب: انبیاء علیہم السلام کا بیان، حدیث: ۳۶۵۵)
صرف سیدنا عبداللہ بن عمرt ہی سیدنا صدیق اکبرt کے مرتبے پر شاہد نہیں اس کی گواہی تو سیدنا علیt نے بھی دی کہ جب آپ سے آپ کے فرزندِ ارجمند محمد بن حنفیہa نے اصحاب النبیe کے مراتب کے متعلق سوال کرتے ہوئے پوچھا تھا:
[اَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّہِﷺ؟ قَالَ اَبُو بَکْرٍ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ، قَالَ: ثُمَّ عُمَرُ وَخَشِیتُ اَنْ یَقُولَ: عُثْمَانُ، قُلْتُ: ثُمَّ اَنْتَ، قَالَ: مَا اَنَا اِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔]
’’رسول اللہe کے بعد سب سے افضل صحابی کون ہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ سیدنا ابوبکرt۔ میں نے پوچھا پھر کون ہیں؟ انہوں نے بتلایا، اس کے بعد سیدنا عمرt ہیں۔ مجھے اس کا اندیشہ ہوا کہ اب (پھر میں نے پوچھا کہ اس کے بعد؟) کہہ دیں گے کہ سیدنا عثمانt اس لیے میں نے خود کہا، اس کے بعد آپ ہیں؟ یہ سن کر وہ بولے کہ میں تو صرف عام مسلمانوں کی جماعت کا ایک شخص ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری کتاب: انبیاء علیہم السلام کا بیان، حدیث: ۳۶۷۱)
یہ مرتبہ تو خود خاتمی مرتبتe نے اس وقت عنایت فرمایا تھا جب سیدنا عمرو بن العاصt نے آپ سے اس بابت سوال کیا جس کا ذکر صحیح البخاری میں بایں الفاظ موجود ہے:
[عن عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ+، اَنّ النَّبِیَّ ﷺ بَعَثَہُ عَلَی جَیْشِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ فَاَتَیْتُہُ، فَقُلْتُ: اَیُّ النَّاسِ اَحَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ: عَائِشَۃُ، فَقُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ، فَقَالَ: اَبُوہَا، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ، قَالَ: ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَعَدَّ رِجَالًا۔]
’’سیدنا عمرو بن العاصt نے بیان کیا کہ نبی کریمe نے انہیں غزوہ ذات السلاسل کے لیے بھیجا (عمروt نے بیان کیا کہ) پھر میں آپe کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے پوچھا کہ سب سے زیادہ محبت آپ کو کس سے ہے؟ آپe نے فرمایا کہ عائشہ سے میں نے پوچھا، اور مردوں میں؟ فرمایا کہ اس کے باپ سے۔ میں نے پوچھا، اس کے بعد؟ فرمایا کہ عمر بن خطاب سے۔ اس طرح آپe نے کئی آدمیوں کے نام لیے۔‘‘ (بخاری، حدیث: ۳۶۶۲)
یہ پڑھیں:      امام مہدی  کا ظہور
نبی کریمe کی ابوبکر صدیقt سے حددرجہ محبت کا یہ عالم تھا کہ ناطق وحیe نے جب ازار بند لٹکانے پر میدان محشر میں رحمت خداوندی سے دوری سزا ارشاد فرمائی تو صدیق اکبرt بارگاہ رسالت مآبe میں عرض گزار ہوئے جس کی شہادت عبداللہ بن عمرt نے دی جس کے الفاظ امام بخاریa نے اپنی صحیح میں نقل فرمائے ہیں رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے:
[مَنْ جَرَّ ثَوْبَہُ خُیَلَائَ لَمْ یَنْظُرِ اللَّہُ إِلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَقَالَ اَبُو بَکْرٍ: إِنَّ اَحَدَ شِقَّیْ ثَوْبِی یَسْتَرْخِی إِلَّا اَنْ اَتَعَاہَدَ ذٰلِکَ مِنْہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِﷺ: إِنَّکَ لَسْتَ تَصْنَعُ ذٰلِکَ خُیَلَائَ، قَالَ مُوسَی: فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: اَذَکَرَ عَبْدُ اللَّہِ مَنْ جَرَّ إِزَارَہُ، قَالَ: لَمْ اَسْمَعْہُ ذَکَرَ إِلَّا ثَوْبَہُ۔]
’’جو شخص اپنا کپڑا (پاجامہ یا تہبند وغیرہ) تکبر اور غرور کی وجہ سے زمین پر گھسیٹتا چلے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا بھی نہیں، اس پر ابوبکر صدیقt نے عرض کیا کہ میرے کپڑے کا ایک حصہ لٹک جایا کرتا ہے۔ البتہ اگر میں پوری طرح خیال رکھوں تو وہ نہیں لٹک سکے گا۔ نبی کریمe نے فرمایا کہ آپ تو ایسا تکبر کے خیال سے نہیں کرتے۔ (اس لیے آپ اس حکم میں داخل نہیں ہیں۔)‘‘ (صحیح بخاری کتاب، انبیاءo کا بیان، حدیث: ۳۶۶۵)
بین السطور رحمت عالمe کے گزرے رشحات محبت سے ہر صاحب فکر انسان اندازہ کر سکتا ہے کہ پیارے آقاu کو صدیق اکبرt سے کس درجہ کی محبت تھی کہ آپ خود ابو بکر صدیقt کے گواہ بنے اور ارشاد فرمایا کہ ابوبکر تو تکبر کی خامی سے مبرّا ہے۔
یہ تو سبھی کو معلوم ہے جس بہشت کو جنت نام سے خالق حقیقی نے اہل ایمان کے لیے مزین فرمایا ہے اس کے آٹھ دروازے ہیں جو مختلف اعمال کے حساب سے عاملین کے لیے وا کیے جائیں گے کئی خوش نصیب ایسے ہوں گے جنہیں ان آٹھوں دروازوں سے پکارا جائے گا مجسم رحمتe یہ امید رکھتے ہیں کہ ابو بکر صدیق کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے بلایا جائے گا۔ لہٰذا جناب سیدنا ابوہریرہt کا کہنا ہے :
[سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِﷺ، یَقُولُ: مَنْ اَنْفَقَ زَوْجَیْنِ مِنْ شَیْئٍ مِنَ الْاَشْیَائِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ دُعِیَ مِنْ اَبْوَابِ یَعْنِی الْجَنَّۃَ یَا عَبْدَ اللَّہِ ہٰذَا خَیْرٌ، فَمَنْ کَانَ مِنْ اَہْلِ الصَّلَاۃِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الصَّلَاۃِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ اَہْلِ الْجِہَادِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الْجِہَادِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ اَہْلِ الصَّدَقَۃِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَۃِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ اَہْلِ الصِّیَامِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الصِّیَامِ وَبَابِ الرَّیَّانِ، فَقَالَ اَبُوبَکْرٍ: مَا عَلَی ہٰذَا الَّذِی یُدْعَی مِنْ تِلْکَ الْاَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَۃٍ، وَقَالَ: ہَلْ یُدْعَی مِنْہَا کُلِّہَا اَحَدٌ یَا رَسُولَ اللَّہِ! قَالَ: نَعَمْ وَاَرْجُو اَنْ تَکُونَ مِنْہُمْ یَا اَبَا بَکْرٍ۔]
’’میں نے رسول اللہe سے سنا، آپe نے فرمایا کہ جس نے اللہ کے راستے میں کسی چیز کا ایک جوڑا خرچ کیا (مثلاً دو روپے، دو کپڑے، دو گھوڑے اللہ تعالیٰ کے راستے میں دیے) تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! ادھر آ، یہ دروازہ بہتر ہے پس جو شخص نمازی ہوگا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص مجاہد ہوگا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص اہل صدقہ میں سے ہوگا اسے صدقہ کے دروازہ سے بلایا جائے گا اور جو شخص روزہ دار ہوگا اسے صیام اور ریان (سیرابی) کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ سیدنا ابوبکرt نے عرض کیا جس شخص کو ان تمام ہی دروازوں سے بلایا جائے گا پھر تو اسے کسی قسم کا خوف باقی نہیں رہے گا اور پوچھا کیا کوئی شخص ایسا بھی ہوگا جسے ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا یا رسول اللہ! آپe نے فرمایا: ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم بھی انہیں میں سے ہو گے اے ابوبکر!۔‘‘ (صحیح بخاری کتاب: انبیاءo کا بیان، حدیث: ۳۶۶۶)
ایسا کیوں نہ ہوتا‘ ابوبکر ہی تو تھا جو ان دنوں ہمرکاب ہوا کہ جب رسولِ اکرمe کی دعوت کا آغاز تھا‘ انسانی عقلوں کے ٹھہرے سمندرے میں اک ارتعاش پیدا ہوا تھا‘ فی الحال برق توحید کے شرر نے بہت سے خرد مندوں کو حواس باختہ کردیا تھا‘ ایسے وقتوں میں تمام مکے میں ابو بکر ہی تو تھا جس کے دل ودماغ توحید کی نورانی کرنوں سے منور ہوئے تھے۔ اس کی شہادت سابقون الاولون میں سے سیدنا عمار بن یاسرw نے ان الفاظ میں بیان کی ہے:
[عَنْ ہَمَّامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارًا، یَقُولُ: رَاَیْتُ رَسُولَ اللَّہِﷺ وَمَا مَعَہُ اِلَّا خَمْسَۃُ اَعْبُدٍ وَامْرَاَتَانِ وَاَبُو بَکْرٍ۔]
’’ہمام نے بیان کیا کہ میں نے عمارt سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہe کو اس وقت دیکھا ہے جب آپe کے ساتھ (اسلام لانے والوں میں صرف) پانچ غلام، دو عورتوں اور ابوبکرt کے سوا اور کوئی نہ تھا۔‘‘ (بخاری کتاب، انبیاءo کا بیان، حدیث: ۳۶۶۰)
سیدنا ابوبکر صدیقt رحمت عالمe کے وہ معتمد رفیق تھے کہ جن پر پیارے آقاu کو اس قدر اعتماد تھا کہ اپنے آخری ایام میں اپنے بعد اپنی امت کی رہنمائی اور قیادت کے لیے سیدنا ابوبکر صدیقt کا انتخاب فرماتے ہوئے دختر صدیقw صدیقۂ کائنات ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہr سے اس امر کا اظہار فرمایا:
[ادْعِی لِی اَبَا بَکْرٍ اَبَاکِ وَاَخَاکِ حَتَّی اَکْتُبَ کِتَابًا فَإِنِّی اَخَافُ اَنْ یَتَمَنَّی مُتَمَنٍّ وَیَقُولُ قَائِلٌ اَنَا اَوْلَی وَیَاْبَی اللَّہُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا اَبَا بَکْرٍ۔]
’’اپنے باپ ابوبکرt اور اپنے بھائی کو بلاؤ تاکہ میں ایک ایسی کتاب لکھوا دوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں کوئی خلافت کی تمنا نہ کرنے لگ جائے اور کوئی کہنے والا یہ بھی نہ کہے کہ میں خلافت کا زیادہ حقدار ہوں اور اللہ اور مؤمنین (]) سوائے سیدنا ابوبکرt کی خلافت کے اور کسی کی خلافت سے انکار کرتے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم کتاب، فضائل کا بیان، حدیث: ۶۱۸۱)
یہ پڑھیں:        سیکولرزم اور لا دینیت
سیدنا ابوبکر صدیقt نے عمر بھر اپنے آقاe کی محبت ہی کا سرمایہ جمع کیا اور یہی وہ سرمایہ ہے جسے آپ اپنے لیے حرزِ جاں سمجھتے رہے‘ اپنا سب کچھ تن من دھن جب اپنے آقاe پر لٹانا ہی زندگی کا مقصد ٹھہرا‘ انہی حالات کا تذکرہ رشک بھرے انداز میں فاروق اعظمt کرتے ہیں:
[اَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِﷺ اَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذٰلِکَ عِنْدِی مَالًا، فَقُلْتُ: الْیَوْمَ اَسْبِقُ اَبَا بَکْرٍ إِنْ سَبَقْتُہُ یَوْمًا، قَالَ: فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِی، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِﷺ: مَا اَبْقَیْتَ لِاَہْلِکَ؟ قُلْتُ: مِثْلَہُ، وَاَتَی اَبُوبَکْرٍ بِکُلِّ مَا عِنْدَہُ، فَقَالَ: یَا اَبَا بَکْرٍ مَا اَبْقَیْتَ لِاَہْلِکَ؟ قَالَ: اَبْقَیْتُ لَہُمُ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ، قُلْتُ: وَاللّٰہِ لَا اَسْبِقُہُ إِلَی شَیْئٍ اَبَدًا۔ قَالَ: ہٰذَا حَسَنٌ صَحِیحٌ۔]
’’رسول اللہe نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اتفاق سے ان دنوں میرے پاس مال بھی تھا، میں نے  (دل میں) کہا: اگر میں ابوبکرt سے کسی دن آگے بڑھ سکوں گا تو آج کے دن آگے بڑھ جاوں گا، پھر میں اپنا آدھا مال آپ کے پاس لے آیا، تو رسول اللہe نے پوچھا: اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ میں نے عرض کیا: اتنا ہی (ان کے لیے بھی چھوڑ آیا ہوں) اور ابوبکرt وہ سب مال لے آئے جو ان کے پاس تھا، تو آپ نے پوچھا: ابوبکر! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ تو انہوں نے عرض کیا: ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں، میں نے  (اپنے جی میں) کہا: اللہ کی قسم! میں ان سے کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکوں گا۔ (امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود، الزکاۃ ۴۰ (۱۶۷۸) (تحفۃ الاشراف: ۱۰۳۹۰)، وسنن الدارمی، الزکاۃ:  ۲۶ (۱۷۰۱) (حسن)۔ قال الشیخ الألبانی: حسن، المشکاۃ : ۶۰۲۱‘ صحیح وضعیف سنن الترمذی الألبانی: حدیث: ۳۶۷۵)
تو پھرایسے ہی واقعات ہیں کہ جن کی بنا ء پر رحمت جوش میں آتی ہے‘ رحمت کائناتe کی جناب سے اعلان ہوتا ہے یہی وہ اعلان جو صدیق اکبرt کو قیامت تک آنے والے شمع رسالت کے پروانوں میں آپ کو مزید ممتاز کرنے کا سبب ہے۔
[مَا لِاَحَدٍ عِنْدَنَا یَدٌ إِلَّا وَقَدْ کَافَیْنَاہُ مَا خَلَا اَبَا بَکْرٍ، فَإِنَّ لَہُ عِنْدَنَا یَدًا یُکَافِیہِ اللّٰہُ بِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَا نَفَعَنِی مَالُ اَحَدٍ قَطُّ مَا نَفَعَنِی مَالُ اَبِی بَکْرٍ، وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیلًا لَاتَّخَذْتُ اَبَا بَکْرٍ خَلِیلًا اَلَا وَإِنَّ صَاحِبَکُمْ خَلِیلُ اللَّہِ۔ قَالَ اَبُوعِیسَی: ہٰذَا حَسَنٌ غَرِیبٌ ہٰذَا الْوَجْہِ.
’’کسی کا ہمارے اوپر کوئی ایسا احسان نہیں جسے میں نے چکا نہ دیا ہو سوائے ابوبکر کے، کیونکہ ان کا ہمارے اوپر اتنا بڑا احسان ہے کہ جس کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن انہیں اللہ ہی دے گا، کسی کے مال سے کبھی بھی مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا مجھے ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے، اگر میں کسی کو خلیل (گہرا دوست) بنانے والا ہوتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا، سن لو تمہارا یہ ساتھی (یعنی خود) اللہ کا خلیل ہے۔  
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
(تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المولف (تحفۃ الاشراف: ۱۴۸۴۹) (ضعیف) (سند میں: داود الاودی: اور محبوب: ضعیف ہیں، اس لیے پہلا فقرہ یوم القیامۃ تک ضعیف ہے، مگر حدیث کا دوسرا اور تیسرا فقرہ شواہد ومتابعات کی بنا پر صحیح ہے۔ قال الشیخ الألبانی: صحیح، ابن ماجۃ: ۹۴۔ صحیح وضعیف سنن الترمذی الألبانی: حدیث: ۳۶۶۱)
سیدنا صدیق اکبرt کے جتنے بھی فضائل بیان ہوئے ہیں وہ تمام تر آپ کی بے لوث خدمت اسلام اور پیارے نبیe سے محبت اور انتہا درجہ عقیدت کا ثمر ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیقt کی حیات مبارکہ یقینا شمع ختم نبوت کے پروانوں کے لیے اک ایسا مینارۂ نور ہے جس کی دنیا مثال پیش نہیں کر سکتی۔
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages