علوم شریعت میں مصالح 20-17 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, September 12, 2020

علوم شریعت میں مصالح 20-17

ھفت روزہ اھل حدیث، علوم شریعت، مصالح، شریعت میں مصالح، علوم شریعت میں مصالح

علوم شریعت میں مصالح

(دوسری قسط)     تحریر: جناب رانا محمد شفیق خاں پسروری
رتبہ کے لحاظ سے مصالح کی تقسیم:
اس علم وفن کی تعریف اور غایت جاننے کے بعد اب اس کی دیگر اقسام جاننا ضروری ہیں۔ اس فن کے امام ابو اسحاق ابراہیم بن موسی الغرناطی الشاطبی کی مباحث سے بطور خلاصہ وانتخاب بیان کیا جاتا ہے:
مصالحِ تحسینیہ:
یعنی ایسی مصلحتیں اور ایسے اہداف جن کی رعایت انسانی کردار اور گفتار میں حسن وخوبی کا باعث ہوں، انہیں مصالحِ تحسینیہ کا نام دیا گیا ہے اور تمام اچھی عادات اور اچھے اخلاق اسی سے جڑے ہوتے ہیں ۔ پھر تمام برے اخلاق سے اجتناب برتنا بھی اسی قسم سے متعلق ہے؛ کیوں کہ بری باتوں اور برے اخلاق سے کنارہ کشی خود بخود انسان میں ایک حسن پیدا کردیتی ہے۔
گویاکہ شریعت نے احکام شرعیہ میں ان مصالح کو علت کے بعد سب سے مقدم رکھا ہے اور یہ پانچ مصالح ہیں جنہیں مقاصد خمسہ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔
یہ درج ذیل ہیں:
1 دین کی حفاظت 2 انسانی جان کی حفاظت 3 انسانی عقل کی حفاظت 4 انسانی نسل کی حفاظت 5 انسان کے مال کی حفاظت۔
گویا اب یوں سمجھیں کہ شریعت نے جتنے بھی احکام دیے ہیں، ان سب میں ان پانچ مصلحتوں میں سے کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور موجود ہوگی اور بعض میں دو تین یا سب مصلحتیں بھی موجود ہوسکتی ہیں؛ لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ شریعت کا کوئی حکم ایسا ہو جس میں ان پانچ باتوں میں سے کوئی بھی بات موجود نہ ہو۔ ان پانچوں باتوں کی اصل اور بنیاد خود قرآن مجید ہے جو اس فن کے ماہرین اور ماہرینِ قرآن پر مخفی نہیں۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ یہ پانچوں باتیں آپس میں ہم مرتبہ نہیں ہیں بلکہ ان پانچوں کے باہمی درجات میں تفاوت ہے، مثلا اگر دین اور جان میں سے کسی ایک کو بچانے کا موقع ہو تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ اس موقع پر دین بچانا مقدم ہوگا، اگرچہ جان نہ بچ پائے، اسی طرح اگر جان اور مال میں سے ایک چیز بچائی جا سکتی ہو تو شریعت جان بچانے کو ترجیح دے گی وغیرہ۔
یہ پانچ ضروریات اصول دین میں سے ہیں۔ امام شاطبیa نے انہیں اصول دین، قواعد شریعت اور کلیات ملت کے القاب دیے ہیں جن سے ان کی اہمیت خود بخود واضح ہو رہی ہے۔ مثلا:
\  ارکانِ اسلام کا مکلف اس لیے بنایا گیا تاکہ انسان کا دین سلامت رہے۔
\  دیت، قصاص اور زخموں وغیرہ کے احکام اس لیے دیے گئے تاکہ انسانی نفس کی حفاظت ہو۔
\  نشہ آور چیزوں اور دیگر لہو ولعب کی ممانعت کی گئی؛ تاکہ انسانی عقل سلامت رہے۔
\  گھریلو زندگی سے متعلق احکامات اس لیے دیئے گئے؛ تاکہ انسانی نسل کو بقاء اور تحفظ میسر آئے۔
\  خرید وفروخت کے احکامات اور چوری وڈاکہ زنی وغیرہ کی ممانعت اس لیے کی گئی؛ تا کہ انسانی مال محفوظ رہ سکے۔
اب دیکھ لیجیے کہ شریعت نے کس طرح اپنے احکامات میں ان پانچ باتوں کو ملحوظ رکھا ہے اسی لیے انہیں اصول دین اور قواعدشریعت کا لقب دیا گیا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ جو باتیں ان پانچ مقاصد میں سے کسی میں بھی خلل انداز ہوں انہیں شریعت مفاسد کا نام دیتی ہے اور جن باتوں سے یہ پانچ باتیں سلامت اور محفوظ رہیں انہیں مصالح قرار دیتی ہے۔
مصالح حاجیہ:
یعنی وہ مصلحتیں جن سے انسانی حاجات وابستہ ہوں اور اگر وہ حاجات پوری نہ ہوں تو انسان تکلیف اور مشقت میں پڑ جائے، اِن انسانی حاجات سے متعلقہ احکامات میں شریعت نے جو اَہداف مقرر کیے ہیں انہیں مصالحِ حاجیہ کا نام دیا گیا ہے۔ مثلا عذر کے وقت تیمم کرنا وغیرہ۔
اسی طرح تجارت اور کرایہ داری وغیرہ کے احکامات کا ہدف مال کی حفاظت یا اس کی بڑھوتری یعنی اضافہ ہے اور مال کی حفاظت بھی قسمِ اول؛ مصالح ضروریہ میں سے ایک مصلحت ہے۔
ان انسانی حاجات میں شریعت نے عموماً رخصت اور آسانی کی ملحوظ رکھا ہے؛ چنانچہ بوقت ضرورت مردار کھانے کی اجازت اور پانی میسر نہ ہونے یا قدرت نہ ہونے کے وقت تیمم کا حکم ، سفر میں نماز کی قصر اور روزہ نہ رکھنے کی اجازت اسی سہولت اور رخصت پر مبنی ہے؛ تاکہ انسان اپنی استطاعت کے حدود میں رہتے ہوئے دینی ارکان کو بجا لاسکے اور انہیں محفوظ رکھ سکے۔
مصالح ضروریہ:
اُن اَہداف و غایات کو کہا جاتا ہے کہ اگر وہ ہاتھ نہ آئیں تو انسان کی دنیا یا آخرت برباد ہو جائے ۔ مثلا نکاح اور نماز پڑھنا کہ اگر نکاح کی قدرت ہو اور کوئی مانع بھی نہ ہو اس کے باوجود نکاح نہ کیا جائے تو دنیوی فوائد سے محرومی ہے اور اگر شرعی عذر کے بغیر نماز ترک کر دی جائے اور اس سے منہ موڑ لیا جائے تو آخرت برباد ہو جاتی ہے ۔
اسراف اور بخل وغیرہ سے اجتناب کرنا، میاں بیوی کے انتخاب میں کفاء ت کو ملحوظ رکھنا، کھانے پینے کے آداب، حسنِ معاشرت، ستر عورت، نجاست سے پاک رہنا وغیرہ سب اس کی مثالیں ہیں۔
طہارت اور سترعورت کا حکم حفظِ دین کی طرف لوٹتا ہے۔
کھانے پینے کے آداب اور حرام چیزوں سے اجتناب حفظِ نفس کی طرف لوٹتا ہے۔
میاں بیوی کا صحیح انتخاب اور حسنِ معاشرت حفظ نسل کی طرف لوٹتے ہیں۔
حلال کمانا، صحیح خرچ کرنااور فقیروں کو اپنے مال میں سے حصہ دینا حفظ مال کی مصلحت کی طرف لوٹتے ہیں۔
یہ ایک نمونہ ہے اس بات کا کہ مصالح کی دوسری دونوں قسمیں اپنی انتہاء اور انجام کار میں قسم اول کی طرف ہی لوٹتی ہیں؛ اسی لیے علمائے کرام نے قسمِ اول کو اصول دین اور قواعدِ شریعت کا نام دیا ہے۔
یہ پڑھیں:      سفر آخرت کے راہی
 سرچشمہ اور مصدر:
مقاصدِ شریعت کی تینوں قسمیں جو اوپر مذکور ہیں، ان کا سرچشمہ اور منبع قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ہے ، اس فرق کے ساتھ کہ قرآنِ کریم نے ان باتوں کو اصولی انداز میں بیان کیا ہے اور سنت نبوی میں یہ چیزیں اپنی فروعات اورکافی تفصیلات کے ساتھ سے بیان ہوئی ہیں۔
اس علم کے فوائد:
اس علم و فن کی معرفت اوراس میں رسوخ وکمال حاصل کرنے کے بہت سے فوائد ہیں ، اُن میں سے تین درج ذیل ہیں:
1     اس علم وفن کی معرفت سے احکامِ شریعت کی صحیح سمجھ بوجھ حاصل ہوتی ہے۔
چنانچہ امام جوینیa فرماتے ہیں :
’’جو شخص شرعی مامورات اور منہیات کے مقاصد نہ سمجھ سکے تو شرعی احکامات میں صاحبِ بصیرت نہیں بن سکتا ، حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مقاصدِ شریعت مجتہدین کی کاوشوں کا قبلہ ہیں اور جو شخص کسی بھی مسئلے میں ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ ہمیشہ حق پا کر ہی رہتا ہے ۔‘‘
2     قرآنِ کریم اور سنت نبوی کے علوم و معارف میں باریکی اور گہرائی نصیب ہوتی ہے۔
3     وہ نت نئے مسائل اور حوادث جن کے بارے میں کوئی شرعی حکم منصوص نہیں ہوتا، اُن کے صحیح شرعی حکم تک رسائی حاصل کرنے میں یہ علم و فن خاص طور سے مددگار ہوتا ہے۔
4     اس علم وفن کا ماہر شرعی احکامات کو لوگوں کے سامنے آسان اور عام فہم بنا کر پیش کرتا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
’’اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتے ہیں اور تمہیں مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتے۔‘‘
نبی کریمe نے بھی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا:
’’تم آسانی کرو، مشکلات کھڑی نہ کرو اور خوش خبری سناؤ، متنفر نہ کرو۔‘‘
مقاصدِ شریعت کی ایک اور تقسیم:
شرعی احکام میں جو مقاصد اور اَہداف و غایات ملحوظ ہوتی ہیں، اُن کی خود اَحکام کے اعتبار سے تین قسمیں ہیں: 1 مقاصدِ عامہ 2 مقاصدِ خاصہ 3 مقاصدِ جزئیہ۔
ان کی کچھ وضاحت یوں ہے:
Ý  مقاصد عامہ:
اس سے مراد وہ مقاصد ہیں جنہیں شریعت تمام احکامات میں یا اکثر احکامات میں ملحوظ رکھتی ہے۔ مثلا:
’’اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔‘‘
یہ ایسا شرعی مقصد ہے جو عموماً شرعی احکامات میں ملحوظ ہوتا ہے۔
اسی طرح یہ ضابطہ: الضرورات تبیح المحذورات: ضرورت، ممنوع چیز کو مباح بنا دیتی ہے۔
یہ ضابطہ بھی اکثر شرعی احکامات میں بوقت ضرورت جاری ہوتا ہے۔
یہ دومثالیں ہیں، اُن مقاصد کی جو عموماً تمام یا کم ازکم اکثر شرعی احکامات میں ملحوظ رکھے جاتے ہیں۔
Þ   مقاصد خاصہ:
اس سے مراد وہ اَہداف و غایات ہیں جنہیں شریعت خاص خاص اَبواب میں ملحوظ رکھتی ہے۔ مثلا نماز، روزہ ، حج ، زکوۃ، جہاد فی سبیل اللہ، عقوبات، دیات، معاملات وغیرہ وغیرہ ۔
شیخ ا لاسلام طاہر ابن عاشور قدس اللہ سرہ نے ان مقاصد خاصہ کی درج ذیل تقسیم کی ہے:
\  گھریلو احکامات سے متعلق مقاصد شرعیہ
\  اَموال سے متعلق شرعی مقاصد
\  انسان اور انسانی بدن سے صادر ہونے والے اعمال سے متعلق مقاصد شرعیہ
\  قضاء اور شہادت(گواہی) سے متعلق شرعی مقاصد
\  تبرع ، ہدایا اور اِحسانات سے متعلق مقاصد
\  عقوبات سے متعلق مقاصد
ß   مقاصد جزئیہ:
اس سے مراد وہ شرعی مقاصد ہیں جنہیں شارع کی طرف سے ہر حکم شرعی میں ملحوظ رکھا گیا ہو۔ مثلا کسی چیز کا واجب ہونا، کسی کا حرام ہونا، کسی کا مندوب ہونا، کسی کا مکروہ ہونا، کوئی چیز کسی حکم کے لیے شرط ہو اور کوئی چیز کسی حکم کے لیے سبب ہو وغیرہ وغیرہ۔
اس تیسری قسم سے عام طور سے فقہائے کرام بحث کرتے ہیں؛ کیوں کہ وہی حضرات شرعی جزئیات اور دقائق کو حل کرنے میں متخصص ہوتے ہیں؛ البتہ اُن کے ہاں ان مقاصد کے لیے اصطلاحی نام مختلف ہوتے ہیں؛ چنانچہ وہ کسی مقصد کو علت سے ، کسی کو حکمت سے اور کسی کو سبب اور شرط وغیرہ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔
امام عزالدین بن عبد السلام قدس سرہ فرماتے ہیں:
’’جو شخص بھی منافع کی تحصیل اور مفاسد کے دفعیہ میں شرعی مقاصد کو تہہ تک پہنچے گا تو اسے کامل یقین یا کم از کم قابلِ اطمینان معرفت اس بات کی حاصل ہو جائے گی کہ اُن مصالح کو بے کار چھوڑ دینا جائز ہے اور نہ ہی اُن مفاسد کے قریب جانا جائز ہے ، اگرچہ اس سلسلے میں نہ تو کوئی اجماع ہو ، نہ ہی کوئی نص ہو اور نہ ہی کوئی خاص قیاس ہو۔‘‘
عصر حاضر میں مسلمانوں کو بہت سے پیچیدہ حالات ومسائل سے گزرنا پڑ رہا ہے (مثلا: معاشی معاملات،ملکی سیاست،اور بین الاقوامی تعلقات جیسے امور میں جو جدید مسائل درپیش ہیں)ان میں رہنمائی کے لئے مقاصد شریعت کی ایک وسیع تر فہرست کی ضرورت ہے۔
کمال اور ثواب و سزا کے اعتبار سے مصالح:
ہم نے امام شاطبیؒ کی اقسام اور درج بالا تیسری تقسیم سے زیادہ امام غزالیؒ کی تعاریف اور اقسام کو بوجوہ قبول کیا ہے۔ کہ ان میں یہ اقسام بھی آ جاتی ہیں جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں۔
امام غزالیؒ کا کہنا ہے کہ مصلحت کی تین اقسام ہیں:
1     معتبرہ           2     ملغاء              3     مرسلہ
معتبرہ وہ ہے جس کی دلیل شرع میں ہو اور وہ حکم کو معقولِ نص واجماع سے لینا ہے۔ چنانچہ یہ حجت ہے۔ ملغاء وہ ہے جس کے بطلان کے بارے میں شرع میں کوئی دلیل ہو۔ اس کے استعمال کی نہی ظاہر ہے۔ مرسلہ وہ ہے جس کے بارے میں شرع میں نہ کوئی بطلان کی دلیل ہو اور نہ ہی اس کے اعتبار میں کوئی معین نص (دلیل) ہو ۔ امام غزالیؒ کہتے ہیں:
جہاں تک مصلحت کا تعلق ہے تو اصل میں جلب مصلحت اور دفع مضرت سے عبارت ہے۔ ہماری اس (مصلحت) سے یہ مطلب نہیں کیونکہ جلب مصلحت اور دفع مضرت (تو) اپنے مقاصد کے حصول میں خلق کے مقاصد وصلاح ہیں۔ لیکن مصلحت سے ہمارا مطلب مقصودِ شرع کی حفاظت ہے۔ شرع میں پانچ مقاصد ہیں: اور وہ یہ کہ ان کے دین، جان، عقل، نسل اور مال کی حفاظت کی جائے۔ ہر وہ چیز جو ان پانچ اصولوں کی ضمن مین آئے وہ مصلحت ہے اور ہر وہ چیز جن سے یہ اصول فوت ہوں وہ مضرت ہے اور انہیں دفع کرنا مصلحت ہے… یہ ہیں اصولِ خمسہ: ان کی حفاظت ضروریات کے رتبہ میں سواقع ہے کیونکہ یہ مصالح کے قوی (بلند) ترین مراتب میں ہیں… آخری دو رتبوں (حاجات اور تحسینات) کی اصل پر جب تک کوئی دلیل نہ ہو حکم جائز نہیں کیونکہ یہ رائے سے وضعِ شرع والا حال ہوگا، اور یہ ویسا ہی ہے جیسا کہ استحسان… جہاں تک ضروریات کے رتبے کا تعلق ہے تو یہ بعید نہیں کہ وہ مجتہد کے اجتہاد تک لے جائے اگرچہ اس کی معین اصل کی دلیل نہ ہو… تین اوصاف سے ان کا اعتبار ہے: کہ وہ ضروری، قطعی (یا اس کے قریب ظنی) اور کلی ہوں… یہ بے بنیاد اصول (الاصول الموھونہ) ہیں پس جو گمان کرتا ہے کہ یہ (مصلحتِ مرسلہ) پانچواں اصل (ماخذ) ہے تو وہ غلطی پر ہے کیونکہ ہم نے مصلحت کو مقاصدِشرع کی طرف لوٹایا، اورمقاصدِ شرع کتاب وسنت اور اجماع سے معلوم ہوئے۔پس ہر وہ مصلحت جو کتاب وسنت اور اجماع سے سمجھے ہوئے مقاصد کی حفاظت کی طرف نہیں لوٹتی اور ان اجنبی مصالح (المصالح الغریبۃ) میں سے ہے جو تصرفاتِ شرع کے مطابق نہیں، تو وہ متروکِ باطلہ ہے اور جو کوئی اس کی طرف گیا اس نے شریعت سازی کی۔
اس عبارت سے کئی نکات ظاہر ہوتے ہیں:
\  غزالیؒ نے پہلے سے ان مسائل کو مصلحت سے خارج کر دیا ہے جو نصوص کے خلاف ہوں! آج اس مصلحت کی آڑ میں جو کئی فتوے جاری کیے جاتے ہیں وہ صریح نصوص کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
\  مقاصدِ شریعت کا ضروریات میں سے ہونا شرط ہے۔ غزالیؒ کے ہاں وہ پانچ ہیں: دین، جان، عقل، نسل اور مال۔ نبہانیؒ نے ان کی تعداد آٹھ بتائی ہے اور وہ ان کے علاوہ آبرو، ایمان اور ریاست ہیں۔ یہ استقراء کے ذریعے سمجھا گیا ہے یعنی مجموعی طور پر شرعی نصوص ان مقاصد کی حفاظت پر دلالت کرتے ہیں۔ مثلاًبے شمار نصوص انفرادی ملکیت کی حفاظت پر دلالت کرتے ہیں جیسا کہ چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم، غصب کے احکام، امانت کے احکام، ملکیت کے احکام وغیرہ۔ یہی معاملہ دیگر مقاصد کا ہے۔
\  دوسری شرط ان کا قطعی (یا غالب گمان) ہونا۔
\  تیسری شرط ان کا کلی ہونا ہے۔
امام غزالیؒ نے ان شرائط کو سمجھانے کے لئے کئی مثالیں دی ہیں۔ مثلاً جب کوئی کافروں کا گروہ، جس میں مسلمان قیدی بھی ہوں، دارالسلام پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے، تو اس صورت میں اس گروہ پر اسلامی لشکر حملہ کر سکتا ہے اگرچہ اس میں مسلمان قیدیوں کی ہلاکت کا بھی غالب گمان ہو۔ یہ اس لئے کیونکہ اگر کافروں کو نہیں روکا جائے تو ان کے ہاتھوں تمام مسلمانوں کی ہلاکت قطعی (یا غالب گمان سے) ہوگی۔ اگرچہ کسی مسلمان (جزئی) کو قتل کرنا حرام ہے مگر اگر ایسا نہ کیا تو تمام مسلمانوں کی جماعت (کلی) کی ہلاکت ہے۔ یہ ضروری اس لئے ہے کیونکہ اس میں جان کی حفاظت ہے۔ یوں اس مثال میں تینوں شرائط پوری ہو رہی ہیں، اس لئے ایسی صورت میں مصلحتِ مرسلہ کی بنیاد پر عمل صحیح ہوگا۔ لیکن اس کے برعکس، بقول غزالیؒ، اگر دو افراد کسی کشتی میں سوار ہوں اور اس بات کا غالب گمان ہو کہ اگر کشتی سے ان میں سے ایک کا بوجھ کم نہ ہوا تو دونوں ہلاک ہو جائیں گے، تو اس صورت میں دوسرے کو پانی میں دھکا دینا جائز نہیں ہوگا، یعنی اسے مصلحت مرسلہ میں نہیں مانا جائیگا کیونکہ یہ کلی نہیں فقط افراد کا معاملہ ہے۔  چنانچہ جان کا باوجود غزالیؒ نے یہاں مصلحتِ مرسلہ کو قبول نہیں کیا! آج کا معاملہ دور کی بات، تھوڑی سی مشقت ہو تو مصلحت کی آڑ میں حکم کو ترک کرنے کا جواز مہیا کیا جاتا ہے! یہ سب خواہشات کی پیروی ہے۔
یہ دعویٰ کرنا کہ شرع کئی امور پر خاموش ہے، ان صریح نصوص کے خلاف ہے:
’’اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی جو ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کر دی ہے۔‘‘
اسی طرح دوسرے مقام پر فرمایا :
’’آج ہم نے تمہارے لئے مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی۔‘‘
یہ آیات قطعی طور پر اس امر پر دلالت کر رہی ہیں کہ ایسا کوئی مسئلہ موجود وہی نہیں جس کا جواب شرع نے نہ دیا ہو۔ شریعتِ اسلامی زندگی کے تمام مسائل کو حل کرتی ہے خواہ وہ کتنا ہی باریک کیوں نہ ہو۔ کتبِ فقہ پر ایک سر سری نظر اس بات کی تصدیق کرتی ہے، یہاں باریک سے باریک مسائل اسلام کے نصوص سے سمجھے گئے ہیں اور قیامت تک اخذ کئے جائیں گے۔ جہاں تک انتظامی، صنعتی و سائنسی امور کا تعلق ہے، تو ایسی بات نہیں ہے کہ شرع ان پر خاموش رہے بلکہ اس نے ان امور کو انسان پر چھوڑ دیا ہے بشرطیکہ یہ خلافِ شرع نہ ہوں۔ شرع کا ان امور کو انسان پر چھوڑ دینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ ان مسائل پر خاموش ہے، کیونکہ اس امر کے دلائل شرع میں موجود ہیں، مثلاً:
’’تم اپنے دنیوی امور کو زیادہ جانتے ہو۔‘‘
اسی لئے سیدنا عمرt نے اپنی خلافت میں دیوانی نظام اہلِ فارس سے لیا، اسکے باوجود کہ کفار اس کے بانی تھے۔ یہ انتظامی امور میں سے تھا اور آج بھی ایسے تمام امور مثلاًٹریفک کے قوانین، اسی طرح صنعت وسائنس اور انجینئرنگ وغیرہ کا بھی یہی حکم ہے کہ ان تمام علوم کو دوسری قوموں سے لیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ عالمی ہیں، بشرطیکہ یہ اسلام کے خلاف نہ ہوں۔ لہٰذا شرع کسی بات پر خاموش نہیں۔
شریعت کا اصل ماخذ قرآن وسنت ہیں جن میں کلی مقاصد شریعت مثلاً اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کیلئے آسانی چاہنا اور تنگی نہ چاہنا‘ حرج کو ختم کرنا،تخفیف پیداکرنا اور حصول نفع ودفع ضرر وغیرہ بیان کئے گئے ہیں۔
مصالح کے حصول کے توقع اور محدود و غیر محدود مصالح:
امام عز الدین نے مصالح کے حصول کی توقع اور امید کے اعتبار سے تین اقسام ذکر کی ہیں:
متوقع الحصول مصالح:
یہ وہ مصالح ہیں جن کا حصول متوقع ہوتا ہے۔ امام عزالدین ؒنے مصالح کی اس قسم کو مظنون کہا ہے اور اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ مصالح کا حصول ان کے اسباب کے پائے جانے کے باوجود ظنی ہوتا ہے قطعی نہیں ہوتا۔ 
ناجز الحصول مصالح:
یہ وہ مصالح ہیں جن کا حصول یقینی ہوتا ہے ان کو مقطوع کہا جاتا ہے، آپ نے کھانے ، پینے کی اشیا، ملابس، مناکح، مساکن، مراکب، مختلف معاملات میں معاوضے کے طور پر حاصل ہونے والی مصالح اور شکار کھیلنے ، ایندھن اکٹھا کرنے جیسے مباح امور کو ناجز الحصول مصالح قرار دیا ہے۔
قطعی او رظنی کے مابین مشترک مصالح:
یہ وہ مصالح ہیں جن کا حصول قطعی اور ظنی کے درمیان مشترک ہوتا ہے ان کی مثال ان احکام سے دی جاتی ہے جن میں دو مصلحتیں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک مصلحت عاجلہ اور دوسری آجلہ ہو تی ہے۔ جیسے کفارات اور مالی عبادات، ان کی مصالح ان لوگوں کے لیے تو عاجلہ ہیں جو یہ قبول کرتے ہیں اور انہیں ادا کرنے والوں کے لیے ان میں مصالح آجلہ ہیں۔
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages