درس قرآن وحدیث 20-17 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, September 12, 2020

درس قرآن وحدیث 20-17

ھفت روزہ اھل حدیث، درس قرآن، درس حدیث، بد اعمالی اور نعمتوں کی نا شکری کے اثرات، زبان درازی اور لغو گفتگو

درسِ قرآن
بد اعمالی اور نعمتوں کی ناشکری کے اثرات
ارشادِ باری ہے:
﴿وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ﴾ (النحل)
’’اللہ تعالیٰ اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن اور اطمینان سے تھی، اُس کی روزی اُس کے پاس بافراغت ہر جگہ سے چلی آ رہی تھی، پھر اُس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزہ چکھایا، جو کہ اُن کی بداعمالیوں ہی کا نتیجہ ہے۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیفہ فی الارض کو اشرف المخلوقات بنانے کے بعد اس کے لیے طرح طرح کی نعمتوں اور آسائشوں کا بندوبست فرمایا ہے اور مطالبہ صرف اور صرف اپنی ہی بندگی اور اطاعت کا کیا ہے۔ لیکن حضرت انسان کی ناشکری اور نافرمانی کا عالم یہ ہے کہ وہ اس رب کائنات سے نہ صرف منہ موڑتا ہے بلکہ اُس کے خلاف محاذ کھڑا کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی ناشکروں، نافرمانوں اور حد سے گزر جانے والوں کے لیے بارہا کی تنبیہ کے بعد عذاب سے دوچار کیا تاکہ یہ عذاب جہاں اہل بستی کے گناہوں کا وبال ہو وہاں آنے والوں کے لیے عبرت کا سامان بھی ہو۔
خدائے بزرگ و برتر نے اپنے ہاتھ سے اس حضرت انسان کی مٹی کو گوندھا ہے، اور وہ کبھی بھی اسے عذاب میں مبتلا یا آگ میں جلتا نہیں دیکھنا چاہتا لیکن انسان کی اپنی ہی بداعمالیاں اسے اذیت اور مصیبت سے دوچار کرتی ہیں۔
﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ﴾ (يونس)
’’لوگو! تمہاری سرکشی کا وبال تمہاری ہی جانوں پر پڑے گا۔‘‘
﴿وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ ﴾ (شورىٰ)
’’اور (لوگو!) تم پر جو مصیبت پڑتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔‘‘
آج کا مسلمان اگر اپنا محاسبہ اور روز و شب کے معمولات کو اپنے خالق کے تابع کر دے تو یقیناً خوشحالی اور خوش بختی نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی اُس کا مقدر ٹھہرے گی۔
دوسرے مقام پر فرمایا:
’’اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے۔‘‘
قرآن کا یہ قانون خوشحالی آج بھی موجود ہے، اگر ہم اس سے مستفید ہونا چاہیں۔ اللہ تعالیٰ عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

درسِ حدیث
زبان درازی اور لغوی گفتگو
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
[عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَدِّثْنِي مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ، فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: "هٰذَا".] (رواه الترمذي)
سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفیt سے روایت ہے‘ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! جن چیزوں کو آپ میرے لیے خوفناک سمجھتے ہیں ان میں سب سے زیادہ خوفناک چیز کون سی ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپe نے اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا: ’’یہ۔‘‘
انسان کو اللہ کریم نے زبان ایک ایسا عضو دیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے دل کی بات ظاہر کر سکتا ہے۔ زبان تو اللہ نے ہر جانور‘ پرندے‘ درندے اور رینگنے والے کیڑوں کو بھی دی ہے مگر بولنے کی طاقت صرف انسان کو دی ہے۔ گفتگو سے ہی انسان کی شخصیت کا پتہ چلتا ہے۔ عمدہ لباس‘ خوبصورت چہرہ اور مال ودولت سے کسی انسان کی صحیح پہچان نہیں ہوتی جب تک وہ بات چیت نہیں کرتا اس کے اچھا یا بُرا ہونے کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ فارسی کا شعر ہے‘ ترجمہ: ’’جب تک کوئی انسان بات نہیں کرتا اس کے عیب وہنر چھپے رہتے ہیں۔‘‘
اسلام نے زبان کی حفاظت پر بہت زور دیا ہے اور تعلیم دی ہے کہ بولنے سے پہلے سوچو۔ رسول اللہe نے فرمایا کہ ایماندار طعن کرنے والا‘ لعنت کرنے والا‘ فحش بکنے والا اور زبان دراز نہیں ہوتا۔ زبان کے برے افعال جھوٹ‘ غیبت‘ بہتان‘ مذمت‘ قصہ گوئی اور خلاف شریعت گفتگو میں ان معاملات میں اپنی زبان پر قابو نہ پانا زبان درازی ہے جس کے نتیجے میں قیامت کے دن اسے الٹے منہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ سخت کلامی اور غیر محتاط گفتگو انسان کی شخصیت کو عیب دار بنا دیتی ہے جبکہ زبان کی نرمی اور سچائی اسے زینت بخشتی ہے اسی بنا پر رسول اللہe نے سائل کو عملی طور پر تعلیم دی کہ اپنی زبان مبارک کو پکڑ کر فرمایا کہ یہ چیز ہے جس پر مجھے امت کے اس کے دھوکے میں پڑ جانے کا خوف ہے۔
اسی طرح ایک مرتبہ آپe نے سیدنا معاذt کو دین کے بڑے بڑے کام بیان کرنے کے بعد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو ان سب پر بھاری ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا‘ ضرور فرمائیں۔ تو اس موقع پر بھی حضور اقدسe نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: ’’اسے اپنے اوپر بند رکھو۔‘‘ وہ حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اپنی باتوں کے لیے جوابدہ ہوں گے؟ تو آپe نے فرمایا: ’’چرب لسانی اور غیر محتاط گفتگو کے نتیجے میں لوگوں کو اُلٹے منہ جہنم میں گرایا جائے گا۔ جسم کے تمام اعضاء زبان سے کہتے ہیں اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے لیکن اگر تجھ میں ٹیڑھا پن آگیا تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں لغو گفتگو اور زبان درازی سے محفوظ فرمائے۔ آمین!
http://www.noorequraan.live/



No comments:

Post a Comment

Pages