استحکام پاکستان ریلی زیر انتظام مرکزی جمعیت اہل حدیث 20-17 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, September 12, 2020

استحکام پاکستان ریلی زیر انتظام مرکزی جمعیت اہل حدیث 20-17

ھفت روزہ اھل حدیث، استحکام پاکستان، ریلی، استحکام پاکستان ریلی، استحکام پاکستان ریلی زیر انتظام مرکزی جمعیت اہل حدیث

استحکام پاکستان ریلی زیر انتظام مرکزی جمعیت اہل حدیث

رپورٹ: جناب حافظ بلال احمد سلفی
۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو اسلاف کی بے بہا قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان معرض و جود میں آیا ، جس کی بنیاد کلمہ طیبہ ’’لا الٰہ الا اللہ، محمد الرسول اللہ‘‘ تھی ۔کلمے کے دو اجزا ہیں پہلا توحید اور دوسرا رسالت ، ایک مکمل مسلمان ہونے کے لیے دونوں اجزاء کو دل و جان سے ماننا ضروری ہے ۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والا یہ ملک آج لبرل کے ہاتھوں کھلونا بنا ہوا ہے جس کا دل چاہتا ہے وہ اسلام کی نظریاتی بنیادوں کو اپنے باطل نظریات سے کھوکھلا کرتا ہے اور زبان و قلم حرکت میں لاتا ہے ، فتنہ و فساد کو ہوا دیتا ہے ، پھر ہمارے ملک کے نام نہاد محافظ ان کی باتوں کو حقیقت سمجھ کر اسلام اور اسلامی نظریات سے دور ہوجاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی ریاست کو کبھی یہودیت ، عیسائیت ، مرزائیت ، ناصبیت ، رافضیت اور اسلام مخالف مختلف تنظیمات کے فتنوں سے دو چار کیا جاتا ہے ۔ ان کی سازشوں سے ملک عزیز کو عدم استحکام کا شکار کیا جاتا ہے۔
ان تمام فتنوں کو دیکھتے ہوئے بحمد اللہ تعالیٰ۲۳ اگست ۲۰۲۰ء بروز اتوار سہ پہر ۳ بجے مرکزی جمعیت اہل حدیث لاہور شہر کی قیادت نے مرکز ۱۰۶ راوی روڈ لاہور سے ۵۳ لارنس روڈ مرکز الاحسان لاہور  ’’علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ‘‘ کے مرکز تک ایک استحکام پاکستان ریلی کا انعقاد کیا ۔ 
ریلی میں شریک قافلے:
جس میں لاہور شہر کے تمام صوبائی حلقوں میں کارکنان کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی ، اور پھر اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے تمام قائدین حلقہ اور کارکنان نے
حلقہ پی پی۱۴۴:    میں سے قاری زکاء اللہ ڈوگر ، قاری عطاء الرحمٰن ، حافظ بلال احمد سلفی کے ہمراہ
حلقہ پی پی۱۴۵:     میں سے میاں عبد الرشید قمر ، حافظ فیصل محمود جانباز ، حافظ بلال احمد سلفی  کے ہمراہ
حلقہ پی پی۱۴۶:     میں سے حاجی محمد شریف ورٹ ، عبد المنان قمر کے ہمراہ
حلقہ پی پی ۱۴۹:     میں سے زبیر عقیل ، قاری کلیم اللہ کے ہمراہ
حلقہ پی پی۱۵۰:     سے لالا عبد الرزاق خان کے ہمراہ
حلقہ پی پی ۱۵۱:     میں سے مولانا عبید الرحمان کے ہمراہ
حلقہ پی پی۱۶۵:     میں سے رانا  داؤد کے ہمراہ
حلقہ پی پی۱۶۶:     میں سے قاری آصف ربانی ، میاں اسلم کھوکھر ، رفیق بھٹی ،عرفات ربانی کے ہمراہ
حلقہ پی پی۱۶۷:     میں سے عبد الرزاق ربانی ، شیح عمر فاروق، مولوی محمد منشاء ، زمان اللہ کے ہمراہ
حلقہ پی پی۱۶۸:     میں سے عبد الوحید سلفی ، کے ہمراہ
حلقہ پی پی۱۶۹:     میں سے مولانا ارشد یزدانی کے ہمراہ
حلقہ پی پی۱۷۰:     میں سے قاری ارشاد الرحمن، حاجی یعقوب ریحان ، حافظ عمران سلفی کے ہمراہ
حلقہ پی پی۱۷۱:     میں سے عبد المنان عابد ، عبد الستار زاہد کے ہمراہ
حلقہ پی پی۱۷۲:     میں سے ملک عطاء الرحمٰن ، ملک حبیب الرحمٰن ، مولانا اجمل طاہر کے ہمراہ متعدد قافلوں نے بھرپور شرکت کی۔
 لاہور شہر کی مرکزی کابینہ:
رانا عبد الوحید صاحب ، چودھری شوکت ضیاء صاحب، علامہ اصغر فاروق صاحب، حافظ ممتاز حسین صاحب، مولانا نعمان مختار لکھوی صاحب، میاں عامر بشیر صاحب نے بھی قافلوں کی صورت میں شرکت کی۔
لاہور شہر کے علاوہ شرقپور سے مولانا عبید الرحمن عبید صاحب نے بھی قافلہ کی صورت میں ریلی میں شرکت کی۔
ریلی کا منظر:
سہ پہر تین بجے کا وہ منظر کچھ یوں تھا کہ ہر طرف سے قافلے جوق در جوق مرکز میں پہنچ رہے تھے ، مرکز کے مین دروازے کے سامنے دو ٹرک استحکام پاکستان کی بڑی فلیکسوں سے سجائے گئے تھے ، جن میں سے ایک پر قائدین کے لیے اسٹیج بنایا گیا تھا اور دوسرے پر ساؤنڈ کے بڑے ۱۰ ڈبے اور بڑے لمبے اسپیکر بھی لگائے گئے تھے جن میں مرکزی جمعیت اور امیر محترم کے ترانے بہ آواز بلند چل رہے تھے جو شرکا کے جذبات کو ابھار رہے تھے ۔
ان ٹرکوں کے سامنے کھڑے قائدین علامہ معتصم الٰہی ظہیر صاحب، سرپرست مرکزیہ شہر لاہور ، ڈاکٹر ریاض الرحمن یزدانی صاحب، امیر مرکزیہ لاہور شہر، صاحبزادہ بابر فاروق رحیمی صاحب، ناظم مرکزیہ لاہور شہر، چودھری شوکت ضیاء صاحب، ناظم مالیات مرکزیہ لاہور شہر، رانا سیف الاسلام شاھد صاحب، ناظم سیاسی امور مرکزیہ لاہور شہر اور دیگر اہم شخصیات آنے والے قافلوں اور کارکنان کو مرحبا کہہ رہے تھے۔
شرکاء کارکنان اور قافلوں کے لیے مرکز میں جابجا میٹھے اور ٹھنڈے پانی کے بڑے ڈرم رکھے گئے تھے۔ اسی طرح نیسلے پانی کی بوتلوں کا بھی انتظام کیا گیا تھا جو ریلی کو مرکز سے روانہ کرتے ہوئے ان میں تقسیم کی گئیں ۔
اسی طرح سہ پہر کا وہ منظر بہت ہی شاندار تھا کہ جس میں سینکڑوں موٹر سائیکل، درجنوں بسوں، کاروں، مزدوں، ویگنوں، کوسٹروں پر سوار کارکنان ہزاروں کی تعداد میں جھنڈے لہراتے ہوئے امیر محترم علامہ ساجد میر صاحب کی قیادت میں یہ ریلی مرکز ۱۰۶ راوی روڈ سے روانہ ہوئی۔ سب سے آگے امیر محترم کی گاڑی اور ان کے دونوں اطراف میں کچھ کارکنان سیکورٹی کرتے ہوئے اور پھر ان کے پیچھے ٹرک اور ان کے پیچھے موٹر سائیکل، اور ان کے پیچھے کاروں اور بسوں، گاڑیوں کا کارواں شامل ہوا۔
ان میں سے ہر جانباز ایمان اور پاکستان کے استحکام کے جذبے سے سرشار نظر آرہا تھا۔ جب یہ ریلی نکلی تو میٹرو بس کے پلوں سے امیر محترم اور دیگر کارکنان پر گلاب کی پتیاں برسائیں گئیں۔ اس جذبے میں اضافہ اس وقت بھی ہوا جب امیر محترم نے اپنی گاڑی میں کھڑے ہوکے کارکنان کی حوصلہ افزائی کی ۔
یہ ریلی مرکز ۱۰۶ راوی روڈ سے چلی اور آزادی چوک، دربار، بھاٹی چوک، سیکرٹریٹ، جین مندر، سے گزرتی ہوئی قرطبہ چوک، عابد مارکیٹ، سر گنگا رام ہسپتال، سے گزر کر ۵۳ لارنس روڈ بالمقابل جناح باغ مرکز الاحسان اہل حدیث ’’علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ‘‘ کے مرکز میں پہنچی ۔
مرکز لارنس روڈ کے احوال:
مرکز کی انتظامیہ، طلبہ، اور جماعتی کارکنان وہاں پہلے سے موجود تھے جنہوں نے امیر محترم‘ حاجی عبدالرزاق صاحب اور علامہ ابتسام الٰہی ظہیر صاحب جوکہ ایک ہی گاڑی میں موجود تھے ان کا پر جوش انداز سے استقبال کیا ، علامہ معتصم الٰہی ظہیر صاحب اور ان کے رفقاء نے امیر محترم اور حاجی عبدالرزاق صاحب کو پھولوں کے ہار پہنائے اور پھر گاڑی سے نکلتے ہی سیکورٹی والوں نے حضرت الامیر اور علامہ ابتسام الٰہی ظہیر اور حاجی عبدالرزاق صاحب کو بحفاظت اسٹیج پر پہنچایا۔
اسٹیج کی ذمہ داری علامہ معتصم الٰہی ظہیر صاحب کے پاس تھی ، جو کہ بہت ہی اچھے انداز سے اس ذمہ داری کو نبھا رہے تھے، اور ان کے ساتھ مولانا عبد الرشید حجازی صاحب، امیر پنجاب، مولانا یونس آزاد صاحب، ناظم اعلیٰ پنجاب، قاری عزیر صاحب، مولانا نعیم بٹ صاحب، رانا نصراللہ خاں صاحب، علامہ بابر فاروق رحیمی صاحب، ڈاکٹر عبد الغفور راشد صاحب نے اختصار کے ساتھ اظہار خیال کیا۔
سب سے آخر میں امیر محترم اور علامہ ابتسام الٰہی ظہیر صاحب نے بیان فرمایا اور ریلی اپنے تمام مقاصد کے ساتھ بخیر و عافیت اختتام کو پہنچی۔
اس کے بعد قائدین اور عوام الناس کے لیے کھانے کا اہتمام کیا گیا اور نماز مغرب ادا کرنے کے بعد تمام لوگ بخیرو عافیت اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوئے۔
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages