اسم اعظم کیا ہے؟ 20-17 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, September 12, 2020

اسم اعظم کیا ہے؟ 20-17

ھفت روزہ اھل حدیث، اسم اعظم، اللہ کا اسم اعظم، اسم اعظم کیا ہے؟!

اسم اعظم کیا ہے؟!

تحریر: جناب مولانا مقبول احمد سلفی
ویسے تو سارے مسلمانوں میں اسم اعظم کا شہرہ ہے اور کیوں نہ ہوجبکہ اس کا ذکر صحیح احادیث میں آیا ہے مگر برصغیر ہندوپاک میں جس طرح اس کا شہرہ اور استعمال ہے دنیا کے کسی کونے میں نہیں۔ بطور خاص پیشہ ورانہ جھاڑ پھونک،دم وتعویذ اور جناتی وسفلی علوم جاننے والوں کے درمیان ہے‘ تاہم اس کی اصل حقیقت سے اکثرعوام وتمام جعلی عاملین نابلد ہیں ۔ جعلی عاملین سمجھتے ہیں کہ ہم ہی اسم اعظم کی حقیقت جانتے ہیں اور اس زعم میں اس اسم اعظم کے نام پہ عوام کو مختلف طریقے سے ہیبت میں ڈالے ہوئے ہیں۔ ان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ عوام کی ہر پریشانی کو جناتی اثرات کا نام دے کران کے دل میں ڈر پیدا کرتے ہیں اور پھران سے من مرضی کامال وصول کرتے ہیں ۔بچہ بیمار ہوجائے تو جنات کا اثر، جانور مر جائے تو جنات کا اثر، گھر میں چوری ہوجائے تو جنات کا اثر، سفر سے لوٹنا پڑجائے تو جنات کا اثر، کام نہ بنے تو جنات کا اثر یا کوئی انہونی واقعہ ہوجائے تو جنات کا اثر۔اس طرح عوام ڈر جاتے ہیں اور عاملوں کا سہارا لیتی ہے۔اس قسم کے ڈرے سہمے عوام کے اندر یہی خیال عام ہے کہ اسم اعظم، کوئی الٰہی جادو یا خاص قسم کا سفلی یا کشف وکراماتی علم ہے جسے عاملوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ اسی سبب آج یہاں آپ کو مختصر انداز میں اسم اعظم کی حقیقت بتانا چاہتا ہوں تاکہ کسی سے دھوکہ نہ کھائیں اور آپ خودبھی اس کا صحیح استعمال کریں اور فائدہ اٹھائیں ۔
یہ پڑھیں:      سُترہ ... احکام ومسائل
سب سے پہلے اسم اعظم سے متعلق چند احادیث پیش کرتا ہوں:
پہلی حدیث
سیدنا بریدہ اسلمیt سے روایت ہے کہ نبی اکرمe نے ایک شخص کو ان کلمات کے ساتھ: [اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنِّی أَشْہَدُ أَنَّکَ أَنْتَ اللَّہُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ] دعاکرتے ہوئے سنا تو فرمایا: ’’قسم ہے اس رب کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! ا س شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے وسیلے سے مانگا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی گئی اس نے وہ دعا قبول کی، اور جب بھی اس کے ذریعہ کوئی چیز مانگی گئی اس نے دی ہے۔‘‘ (صحیح الترمذی: 3475)
دوسری حدیث:
سیدنا انس بن مالکt بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہe کے ساتھ بیٹھا تھا اور ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا تھا۔ جب اس نے رکوع اور سجدہ کر لیا اور تشہد بھی پڑھ لیا تو اس نے دعا کی اور اپنی دعا میں کہا: [اللھم! انی اسئلک بان لک الحمد الخ) اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس بنا پر کہ تیرے لیے ہی تعریف ہے۔ تیرے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔ تو بہت احسان کرنے والا ہے۔ آسمانوں اور زمینوں کو بلا مادہ پیدا کرنے والا ہے۔ اے بزرگی و عزت والے! اے زندہ وجاوید! اے سب کو قائم رکھنے والے! بے شک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ نبیe نے اپنے صحابہ] سے فرمایا: ’’تم جانتے ہو اس نے کن لفظوں سے دعا کی؟‘‘ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول بخوبی جانتے ہیں۔ آپe نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے اللہ تعالیٰ کے اس اسم اعظم کے ساتھ دعا کی ہے کہ جب اس کے ساتھ اللہ کو پکارا جائے تو وہ ضرور جواب دیتا ہے اور جب اس کے ساتھ کچھ مانگا جائے تو ضرور عطا فرماتا ہے۔‘‘(صحیح النسائی: 1299)
تیسری حدیث:
حضرت قاسم بن عبد الرحمن دمشقیa سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کا عظیم ترین نام (اسم اعظم) جس کے ساتھ اللہ سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے، تین سورتوں میں ہے: سورۂ بقرہ، سورۂ آل عمران اور سورۂ طٰہٰ میں۔‘‘ (صحیح ابن ماجہ: 3124)
ابن ماجہ کی دوسری روایت میں دوسورتوں کی آیت کی بھی تحدید ہے ، سورہ بقرہ:
{وَاِلٰہُکُمْ اِلٰـــہٌ وَاحِدٌ لَآ اِلَہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیمُ} (البقرۃ: 163)
{اَللّٰہُ لَآ اِلٰٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ}(آل عمران: 2)
وہ حدیث اس طرح سے ہے :
[عَنْ اَسْمَاء َ بِنْتِ یَزِیدَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِﷺ: اسْمُ اللَّہِ الْاَعْظَمُ فِی ہَاتَیْنِ الآیَتَیْنِ: {وَاِلٰہُکُمْ اِلٰـــہٌ وَاحِدٌ لَآ اِلَہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیمُ} وَفَاتِحَۃِ سُورَۃِ آلِ عِمْرَانَ
سیدہ اسماء بنت یزیدw سے روایت ہے، رسول اللہe نے فرمایا: اللہ کا عظیم ترین نام (اسم اعظم) ان دو آیتوں میں ہے: {وَاِلٰہُکُمْ اِلٰـــہٌ وَاحِدٌ لَآ اِلَہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیمُ} (البقرۃ: 163)، تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جو نہایت مہربان، بے حد رحم کرنے والا ہے۔ اور سورہ آل عمران کے شروع میں۔ (یعنی) {الٓمّ اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اَلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ}۔‘‘ (صحیح ابن ماجہ: 3123)
اور تیسری سورت طٰہٰ کی آیت:
{وَعَنَتِ الْوُجُوہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّومِ}(آیت: 111)
بتلاتے ہیں ۔
 اسم اعظم کیا ہے ؟
اسم عربی لفظ ہے جو ایک اکیلے نام کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اعظم یہ بتلاتا ہے کہ اس نام سے مراد عظیم نام ہے ۔ وہ نام کوئی ایک ہی ہوگا جیساکہ لفظ سے واضح ہے۔اوپر چند احادیث گزری ہیں جو اسم اعظم سے متعلق ہیں ۔اب یہاں اختلاف پایا جاتا ہے کہ اسم اعظم کون سا کلمہ ہے ؟ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس سے متعلق فتح الباری میں چودہ اقوال ذکر کئے ہیں۔ شیخ ابن عثیمینa کی نظر میں ’’الحی القیوم‘‘ ہے جو تین مواقع پر مذکور ہوا ہے: ایک جگہ آیہ الکرسی میں، دوسری جگہ شروع آل عمران میں اور تیسری جگہ سورہ طٰہٰ آیت نمبر۱۱۱ میں۔
میری نظر میں اسم اعظم لفظ جلالہ یعنی اللہ ہے۔ اللہ ہی وہ نام ہے جو اللہ کے ناموں میں سب سے عظیم ہے اسی کواسم اعظم کہا جاتاہے ۔ اس قول کو بہت سے علماء نے بھی اختیار کیا ہے۔ اللہ اسم اعظم ہے اس کی متعدد وجوہات ہیں جن میں سے چند کو یہاں بیان کرتا ہوں ۔
1     قرآن کریم میں اساسی طور پر اور کثرت کے ساتھ لفظ جلالہ اللہ کا ذکر ہوا ہے جو تقریبا ڈھائی ہزار سے زائد بار ہے۔
2     نبیe نے جتنی دعائیں کی ہیں ان میں سب سے زیادہ لفظ اللہ کا ہی استعمال ہوا ہے اور کثرت سے اللھم کا بھی استعمال ہوا ہے جو یا اللہ کے معنی میں ہے۔
3     ہر کام کی ابتداء اللہ کے لفظ سے اور قرآن کی ہر سورت کا آغاز لفظ اللہ سے ہوا ہے ۔
4     اللہ وہ جامع لفظ ہے جس میں خالق ومالک کی تمام حمدوثنا، اور تمام صفات وخصوصیات جمع ہیں ۔
5     لفظ اللہ کا کوئی بدل نہیں اور نہ ہی کسی زبان میں یہ لفظ استعمال ہوکرذرہ برابرمتاثر ہی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ جب پکار کے لئے حرف ندا لگاتے ہیں تب اللہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی یعنی شروع کا الف لام محفوظ رہتا ہے جبکہ دیگر تمام اسمائے الٰہی کے آگے ’’یا‘‘ لگانے سے الف لام گرجاتا ہے مثلا یا رحمن ، یارحیم، یا غفار وغیرہ۔
6     اگر لفظ اللہ کے علاوہ اسم اعظم ہوتا تو نبیe اپنی دعاؤں میں ضرور اکثر ان الفاظ کا ذکر کرتے بطور خاص جب آپ کو اپنے لئے یا امت کے لئے نازک موڑ پر رب سے دعا کرنا پڑی ۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب لفظ اللہ ہی اسم اعظم ہے تو پھر اسم اعظم سے متعلق دوسرے الفاظ کا کیا حکم ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اوپر مذکور تین احادیث میں اسم اعظم سے اصل لفظ اللہ ہی مقصود ہے۔ پہلی حدیث میں: [اللَّہُمَّ اِنِّی اَسْأَلُکَ بِاَنِّی اَشْہَدُ اَنَّکَ اَنْتَ اللَّہُ] میں اللھم اور اللہ کا ذکرآیا ہے ، دوسری حدیث میں [اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُک] اللھم آیا ہے اور تیسری حدیث میں سورہ طٰہٰ کے علاوہ میں بھی لفظ جلالہ کاذکر آیا ہے۔
اسم اعظم کا حاصل کلام :
یہ علم رکھتے ہوئے کہ اسم اعظم اللہ ہے ،یہ علم بھی رکھیں کہ جو الفاظ اسم اعظم والی احادیث میں آئے ہیں انہیں بھی دعا سے پہلے پڑھا جائے تو بہتر ہے کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کے سنہرے الفاظ کا دعاؤں میں اہتمام کرنا اولیٰ ہے ۔ وہ مندرجہ ذیل ہیں :
1     اَللّٰہُمَّ اِنِّیٓ اَسْأَلُکَ بِاَنِّی اَشْہَدُ اَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّــــہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔
2     اَللّٰہُمَّ اِنِّیٓ اَسْأَلُکَ بِاَنَّ لَکَ الْحَمْدَ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِیْعُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ اِنِّیٓ اَسْأَلُکَ۔
3     وَاِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیمُ۔
4     الٓمّ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ۔
5     وَعَنَتِ الْوُجُوہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّومِ۔
ان الفاظ کے بعد کثرت سے اسم اعظم یا اللہ کے ذریعہ سوال کیا جائے ۔
اسم اعظم کے ذریعہ دعا کس طرح کی جائے ؟
پہلے تین باتیں ذہن نشیں کرلیں ، پہلی بات یہ کہ کچھ لوگ صرف اللہ اللہ کا ورد کرتے ہیں اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگااور نہ ہی یہ ذکرکاطریقہ ہے اور نہ دعا کا طریقہ کیونکہ اس قسم کا کوئی ذکر یا دعا رسول اللہe سے وارد نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ دعا میں شرکیہ الفاظ ، غیراللہ کا واسطہ اور ناجائز مراد نہ ہو۔ تیسری بات یہ ہے کہ دعا کرنے والا حلال کمائی کھانے والا اللہ پر پختہ ایمان ویقین رکھنے والا ہو۔
دعا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے رب ذوالجلال کے حضور ثنا بجالائے، پھر نبیe پر درود پاک پڑھاجائے، اس کے بعد اوپر مذکور اسم اعظم سے متعلق کلمات پڑھنا چاہیں تو پڑھ لیں پھر لفظ اللہ کے ذریعہ یا اسمائے حسنی کے واسطہ سے اپنے خالق کے سامنے اپنی حاجات وضروریات رکھیں ۔
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages