چند قابل غور نصیحتیں 20-17 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, September 12, 2020

چند قابل غور نصیحتیں 20-17

ھفت روزہ اھل حدیث، قابل غور نصیحتیں، چند نصیحتیں، چند قابل غور نصیحتیں

چند قابل غور نصیحتیں

امام الحرم المدنی الشیخ ڈاکٹر عبدالمحسن قاسم d
ترجمہ: جناب عاطف الیاس                       نظر ثانی: جناب محمد ہاشم یزمانی
حمد و ثناء کے بعد!
اللہ کے بندو! اللہ سے یوں ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے! کیونکہ تقویٰ ہی بہترین کمائی اور شاندار عطا ہے۔
اے مسلمانو! مہینوں اور سالوں کا بار بار لوٹنا اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’جس نے سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کیا۔ جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا‘ اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو کر نہیں سکتے‘ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے۔‘‘ (ابراہیم: ۳۳-۳۴)
یہ خطبہ پڑھیں:      بہترین نصیحتیں
آخرت کو بہتر کرنے کی کوشش کی بجائے وقت ضائع کرنے والوں کو جھڑکتے ہوئے اللہ عز وجل نے فرمایا:
’’کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو سبق لے سکتاتھا؟ اور تمہارے پاس متنبہ کرنے والا بھی آ چکا تھا‘ اب مزا چکھو ظالموں کا یہاں کوئی مددگار نہیں ہے۔‘‘ (فاطر: ۳۷)
دو نعمتیں ایسی ہیں، جن کی قدر نہ کرنے والا گھاٹے اور ندامت کا شکار ہو جاتا ہے۔ رسول اللہe نے فرمایا:
’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن کی اکثر لوگ قدر نہیں کرتے: ایک صحت اور دوسری فراغت۔‘‘ (بخاری)
اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیتوں میں وقت کے مختلف حصوں کی قسم کھائی ہے۔ کہیں رات کی تو کہیں دن کی، کہیں فجر کی تو کہیں صبح کی، کہیں عصر کی تو کہیں چاشت کی۔ دن اور راتیں ہی تو اعمال کا خزانہ اور زندگی کے مراحل ہیں، یہ نئی چیزوں کو پرانا اور دور چیزوں کو قریب کر دیتی ہیں۔ ذرا غور تو کیجیے! دن گزرتے جا رہے ہیں اور سال پے در پے چلتے جا رہے ہیں، نسلیں سفرِ آخرت کی طرف رواں دواں ہیں۔ کوئی آ رہا ہے تو کوئی جا رہا ہے۔ کوئی تندرست ہے تو کوئی بیمار ہے۔ مگر سب اللہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ رسول اللہe نے فرمایا:
’’ہر انسان دن کے آغاز میں اپنا سودا کرتا ہے، کوئی تو خود کو بچا لیتا ہے اور کوئی خود کو تباہ کر لیتا ہے۔‘‘ (مسلم)
زمانے کی بہت سی تکلیفیں خوشیوں میں بدل جاتی ہیں، بہت سی خوشیاں بھی غمیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ پریشانیوں میں چند دن بھی سالوں کے برابر ہوتے ہیں، اور خوشیوں میں سال بھی دنوں کے برابر ہوتے ہیں۔ عقلمند وہ ہے جو اس سے عبرت حاصل کرے اور سبق سیکھے۔ بلند وبرتر الٰہ کا فرمان ہے:
’’رات اور دن کا الٹ پھیر وہی کر رہا ہے اِس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے۔‘‘ (النور: ۴۴)
سال بندوں کے نیکیوں اور برائیوں کو لے کر گزر جاتا ہے اور اس کا کھاتا پھر قیامت کے دن ہی کھلتا ہے۔ اللہ عز وجل نے فرمایا:
’’اُس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتا دیا جائے گا۔‘‘ (القیامۃ: ۱۳)
تو گزشتہ دنوں کے صحیفوں پر بھی ایک نظر ڈالو، ان میں آخرت کے لیے کیا ہے؟ تنہائی میں امانت داری کے ساتھ اپنا محاسبہ کرو۔ یاد رکھو، دن ورات کی گزر آخرت سے قریب کرتی ہے۔ کامیاب وہی ہے جو اپنی عمر سے فائدہ اٹھاتا ہے، اپنے محاسبے کے لیے ٹھہر جاتا ہے، اپنا راستہ درست کر لیتا ہے اور لغزش کی تلافی کر لیتا ہے، جو رات کے وقت دن کے کاموں کو یاد کرتا ہے، اگر انہیں قابل تعریف پاتا ہے تو انہیں جاری رکھتا ہے، اور اگر قابل ملامت پاتا ہے تو ان سے توبہ کر لیتا ہے۔ کیونکہ وہ ایسا مسافر جو کبھی واپس نہیں لوٹتا۔ ابن حبانa فرماتے ہیں: ’’دانشمندوں میں سب سے بلند مقام کثرت سے اپنا محاسبہ کرنے والوں کا ہے۔‘‘
اپنی کمیوں اور کوتاہیوں پر نظر ڈال کر اللہ سے حیا آتی ہے۔ اپنی پہچان اور قبر کی یاد سے بندگی اور گریہ زاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ انسان کو خود پسندی کا شکار نہیں ہونا چاہیے، خواہ اس کی نیکیاں بہت اچھی ہی کیوں نہ ہوں، اسی طرح کسی گناہ کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہیے، خواہ وہ ہلکا ہی کیوں نہ ہو۔ جب تم لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہو تو لوگ تو تمہارے ظاہر کو دیکھتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ تمہارے باطن کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ جو اپنے باطن کو اخلاص اور خلوص اپنا کر پاکیزہ کر لیتا ہے، اللہ اس کے ظاہر کو نیکی اور کامیابی سے مزین کر دیتا ہے۔
اللہ کے حق کو جاننے اور کثرت سے اس کا ذکر کرنے سے اللہ کی یاد آتی ہے، اور انسان کو شکر گزاری میں کوتاہی کا احساس ہوتا ہے، وہ جان لیتا ہے کہ رجوع الیٰ اللہ کے بغیر کوئی راہ نجات نہیں، اس لیے اسی کی فرمان برداری کرنی چاہیے، اسی کا شکر کرنا چاہیے اور نا شکری نہیں کرنی چاہیے۔ ابن قیمa فرماتے ہیں:
’’محاسبہ کی ابتدا یوں ہوتی ہے کہ تم اللہ کی نعمتوں کا اپنے گناہوں سے موازنہ کرو، اس طرح تمہیں واضح فرق محسوس ہو گا اور تم جان لو گے کہ اللہ کی معافی اور رحمت ہی تمہیں بچا سکتی ہے، ورنہ تم تباہ ہو جاؤ گے۔‘‘
نفس کے عیبوں کو ٹٹولنے سے وہ صاف پاکیزہ ہو جاتا ہے۔ بلند وبرتر الٰہ کا فرمان ہے:
’’یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا۔‘‘ (الشمس: ۹-۱۰)
مالک بن دینارa فرماتے ہیں:
’’اللہ اس پر رحم فرمائے جو اپنے نفس کو کہے: کیا تم نے فلاں گناہ نہیں کیا تھا؟ کیا تم نے فلاں گناہ نہیں کیا تھا؟، اور پھر اسے کتاب اللہ کا پابند بنا دے اور اپنے نفس کا قائد بن جائے۔‘‘
بندہ اللہ سے دور تب ہی ہوتا ہے جب وہ غفلت کا شکار ہو جاتا ہے اور حساب کتاب کو بھول جاتا ہے۔ بلند وبرتر الٰہ کا فرمان ہے:
’’وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے۔‘‘ (النبأ: ۲۷)
گناہوں پر گناہ کرنے کے باوجود اللہ کی عفو ودرگزر کی امیدوں میں رہنے والا اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ کسی کریم کی عطاؤں کا بدلہ برائیوں سے تو نہیں ہوتا۔ بلند وبرتر الٰہ کا فرمان ہے:
’’اے انسان! کس چیز نے تجھے اپنے اُس رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا۔‘‘ (الانفطار: ۶)
ابن کثیرa فرماتے ہیں:
یعنی: اے ابن آدم! تجھے کس چیز نے اپنے رب کریم وعظیم کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے؟ یہاں تک کہ تم نے اس کی نافرمانی شروع کر دی اور اس کے احسانوں کا مقابلہ نا زیبا کاموں سے کیا؟‘‘
دنیا میں اپنا محاسبہ کر لینے والوں کے لیے آخرت کا حساب آسان ہو جاتا ہے، جبکہ اپنا محاسبہ نہ کرنے والوں کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ حسن بصریa فرماتے ہیں:
’’مؤمن کو یہی زیب دیتا ہے کہ اپنے نفس کو یوں مخاطب کرے: فلاں لفظ سے تمہارا مقصد کیا تھا؟ فلاں نوالے سے تمہارا مقصد کیا تھا؟‘‘
مؤمن تو اپنے نفس کا ذمہ دار اور اس کا محاسبہ کرنے والا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’حقیقت میں جو لو گ متقی ہیں اُن کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کار کیا ہے۔‘‘ (الاعراف: ۲۰۱)
سُدِّیa فرماتے ہیں: ’’جب ان کا پاؤں پھسلتا ہے تو وہ توبہ کر لیتے ہیں۔‘‘
یہ پڑھیں:      خطبۂ حج برائے سال 2020ء
تو گناہ میں پڑنے سے بچو، کیونکہ گناہ سے بچنا توبہ کرنے سے آسان ہے۔ نیکیوں میں کوتاہی پر اپنے نفس سختی سے ملامت کرو، کیونکہ دن ایک ہی حال میں نہیں رہتے۔ اپنے نفس سے پوچھو کہ گزشتہ دنوں میں اس نے کیا کیا ہے؟ اور اگلے دنوں میں وہ کس کی تیاری میں ہے؟ عمر بن خطابt فرماتے ہیں:
’’اپنا محاسبہ کرو، اس سے پہلے کہ آپ کا حساب لیا جائے۔ خود کو تولو، اس سے پہلے کہ انہیں تولا جائے: ہر صبح اپنے ساتھ پختہ عہد کرو کہ پانچوں نمازیں مسجد میں ادا کرو گے، نفع بخش علم سیکھو گے، حرام، جھوٹ، غیبت، بدگوئی اور فحش باتوں سے زبان کی حفاظت کرو گے۔ اپنے کھانے پینے میں تقویٰ اختیار کرو، حرام سے پرہیز کرو، والدین کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی کی کوشش کرو، قریبی اور دور کے لوگ، سب کی مدد کرو، دل کو حسد، دشمنی اور بغض سے پاک کر لو، مسلمانوں کی عزت آبرو پر حملہ نہ کرو، مسلمانوں کے ساتھ خلوص والا تعلق رکھو، بیوی بچوں کے حقوق ادا کرو اور نظروں کی نافرمانی سے بھی بچو۔‘‘
اے مسلمانو! زندگی صرف چند سانسوں کا مجموعہ ہے، جو اچانک ختم ہو جاتے ہیں۔ ہر دن کا سورج عمر میں کمی کر کے ہی ڈوبتا ہے اور عقلمند وہ ہے جو اپنے گزشتہ کل سے سبق سیکھے، آج میں محنت کرے اور آئیدہ کل کے لیے تیاری کرے۔ تو کل یہاں سے کوچ کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ، سفر کے لیے سامان جمع کر لو، اور بہترین زاد راہ وہ ہے جس میں تقویٰ شامل ہو اور اللہ کے ہاں سب سے بلند مرتبہ اسی کا ہے جو اس سے سب سے بڑھ کر ڈرنے والا ہو۔
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اے مسلمانو! دنیا میں انسان کو عمر ملی ہے، اگر وہ آخرت کے لیے اس کا ٹھیک طرح فائدہ اٹھائے گا تو وہ کامیاب ہو جائے گا، اور اگر صحیح طرح فائدہ نہیں اٹھائے گا، گناہوں اور نافرمانیوں میں پڑا رہے گا تو اپنا ہی نقصان کرے گا۔ صاحب توفیق وہ ہے جو اللہ کے محاسبے سے پہلے ہی اپنا محاسبہ کر لے اور نیکی کو نہ بھولے تاکہ اللہ بھی اسے نہ بھلائے۔
’’یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا۔‘‘ (التوبہ: ۶۷)
بھلائی فرماں برداری میں ہے اور برائی اس کی ضد میں ہے۔ زندگی نیک کاموں کا ایک کھلا میدان ہے۔ ٹال مٹول کرنے کا نتیجہ ندامت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ توبہ لغزشوں کو مٹا دیتی ہے، سعادت مند وہ ہے جو اپنی زندگی کے دنوں میں نیک اعمال کر لیتا ہے۔ تو قبروں کی تنہائی آنے سے پہلے اپنے دنوں کا فائدہ اٹھا لو، وقت گزرنے سے پہلے اپنی زندگی کو غنیمت جان لو۔ ہر دن کا استقبال بہترین نیکیوں سے کرو۔
یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو اپنے نبی پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا:
’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی! اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘ (البقرۃ: ۲۰۱)
’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا، تو یقینا! ہم تباہ ہو جائیں گے۔‘‘ (الاعراف: ۲۳)
’’اللہ کے بندو! اللہ عدل، احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ بدی، بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، تاکہ تم سبق لو۔‘‘ (النحل: ۹۰)
یہ خطبہ پڑھیں:      سیرت نبویﷺ اور واضح کامیابی
اللہ عظیم وجلیل کو یاد کرو، وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اس کی نعمتوں اور نوازشوں کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں مزید عطا فرمائے گا۔
’’اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو۔‘‘ (العنکبوت: ۴۵)
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages