تذکرۂ اسلاف 20-17 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, September 12, 2020

تذکرۂ اسلاف 20-17

ھفت روزہ اھل حدیث، تذکرۂ اسلاف

تذکرۂ اسلاف

تحریر: جناب پروفیسر محمد یٰسین ظفر
چند ماہ قبل فیصل آباد میں مرکزی جمعیت اہل حدیث فیصل آباد کے تعاون سے علامہ عبدالصمد معاذ صاحب نے ماضی قریب میں رحلت فرمانے والے ممتاز علماء مولانا محمد طیب معاذ، مولانا عبدالعزیز راشد اور مولانا عبدالعلیم یزدانیS کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک شاندار اجتماع منعقد کیا ۔ جس میں امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان حضرت علامہ پروفیسر ساجد میرd مہمان خصوصی تھے۔ اس میں نامور علماء نے خطاب کیے۔ راقم نے بھی اپنی معروضات پیش کیں جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
علامہ عبدالصمد معاذ ہم سب کے شکریے کے مستحق ہیں جو دن رات محنت کرکے ایسے پروگرام مرتب کررہے ہیں۔ جس کے ذریعے ہمیں اپنے ماضی قریب کے بزرگ علماء کرام کی سوانح حیات سے آگاہی مل رہی ہے۔ یہ ایک قابل قدر کوشش ہے۔ امید ہے ہمارے نوجوان ممتازعلماء کی خدمات اور ان کی تحریکی زندگی سے متعارف ہونگے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں حضرت انسان کو بڑی عزت اور کرامت سے نواز ہے۔ وجہ تخلیق اپنی بندگی اور عبادت ہے۔ اور فرمایا {وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون} اس مختصر زندگی میں انسان کو یہ امتحانات درپیش ہے کہ وہ کیسی طرز زندگی اختیار کرتا ہے۔ {اما شاکراً واما کفورا} ا س کا فیصلہ موت کے بعد ہوگا۔ فرمایا: ’’بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس نے زندگی اور موت کو پیدا کیا۔ تاکہ آزمائے ان میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔‘‘ (سورۃ الملک)
بظاہر انسان کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے جاتے ہیں۔ خوش نصیب وہ ہے جس نے زندگی کو احکام الٰہی کے تابع کرکے دعوت دین کے لیے وقف کیا۔ عام لوگوں میں علماء کو خاص مقام حاصل ہے۔ ان کی زندگیاں دوسروں سے مختلف ہیں۔ دنیا کے معاملات سے ہٹ کر وہ دین کے لیے وقف ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے کیا خدمات سرانجام دی ہیں؟ کیا کامیابیاں حاصل کیں ؟ ان کا طرز عمل کیا تھا؟ معمولات زندگی کیسی تھیں؟ یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ علماء ہمیشہ مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ مشقت والی زندگی بسر کرتے ہیں۔ انہیں معاشرے سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ لوگ حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ قدم قدم پر پریشانیاں آتی ہیں۔ لیکن یہ لوگ بڑے سخت جان ہوتے ہیں۔ حوصلہ نہیں ہارتے او رمسلسل جدوجہد کرتے ہیں۔ اور اصلاح معاشرہ میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ماضی قریب میں بہت سے علماء کرام شاندار کارکردگی دکھا کر آخرت کو سدھار گئے۔ان کی زندگیاں نمود ونمائش سے خالی تھیں۔ ریا کاری سے نفرت کرتے تھے۔ لوگ ان کی حسن کارکردگی سے پوری طرح آگاہ نہیںہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے حالات سے مسلسل آگاہ کیا جائے۔
 مولانا محمد طیب معاذ مرحوم:
مولانا مرحوم سے کوئی زیادہ رفاقت تونہیں رہی البتہ جووقت میسر آیا وہ یادگارہے۔ آپ بہت محنتی انتھک اور جانفشانی سے کام کرنے والے تھے۔ جہد مسلسل کا نمونہ تھے۔ دینی غیرت اور حمیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اپنے مکتب فکر سے بہت مخلص اور وفادار تھے۔ جماعتی زندگی اختیار کی۔ فیصل آباد کی جمعیت اہل حدیث (علامہ احسان الٰہی گروپ) یا مرکزی جمعیت اہل حدیث کی ذمہ داری قبول کرتے تو پھر کمر بستہ ہو کر خدمت بجا لاتے۔ کوئی انہیں دینی یا جماعتی کام سے آگاہ کرتا تو نہ صرف خود بلکہ ان کی روح بھی بے چین ہوجاتی۔ اس وقت تک چین سے نہ بیٹھتے جب تک وہ کام پایہ تکمیل تک نہ پہنچ جاتا۔ اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے کسی حدتک چلے جاتے۔ آپ بہت زیرک معاملہ فہم اور حکیم تھے۔ معاملات کو سلجھانے کے لیے اچھی تدبیر کرتے تھے۔ جماعتی زندگی میں مشاورت کے قائل تھے۔ احباب جماعت کو اعتماد میں لیکر کام کرتے۔ دھڑے کے پکے تھے۔ ضرورت کے مطابق لابنگ بھی کرتے۔ دلائل سے قائل کرتے۔ علامہ احسان الٰہی ظہیرa سے جذباتی تعلق تھا۔ ایک دفعہ دھوبی گھاٹ میں جلسہ عام تھا۔ جس میں علامہ صاحب مرحوم بھی تشریف لائے۔ بہت کامیاب اور بڑا جلسہ تھا۔ تمام انتظامات مولانا نے خود کیے۔ جلسہ گاہ کا جائزہ لینے کے لیے بار بار پنڈال کے اردگرد چکر لگاتے۔ گلے میں ریوالور لٹکا ہوا تھا۔ احساس ذمہ داری کی عمدہ مثال پیش کررہے تھے۔
یہ پڑھیں:      سوالات کے آداب
میں نے ان سے ایک عمدہ اسلوب سیکھا۔ ہو ایہ کہ ہم مرکزی جمعیت اہل حدیث کی مجلس عاملہ میں شریک تھے۔ صدارت علامہ پروفیسر ساجد میر فرما رہے تھے۔ بہت سی تجاویز آرہی تھیں۔ تاکہ مرکزی جمعیت کی کارکردگی بہتر ہو اور اسے عوامی ہمدردی مل سکے۔ مولانا محمد طیب معاذ صاحب نے بھی ایک تجویز دی کہ لوگوں سے ہمدردی حاصل کرنے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ اگر کسی شہر میں کوئی اہم کارکن یا عالم دین وفات پاجائے تو اس کی تعزیت کے لئے حضرۃ الامیر صاحب کو خود جانا چاہیے۔ تاکہ اچھے اثرات مرتب ہوں۔ حضرۃ الامیر صاحب تو خاموش رہے۔ سکیں لیکن بعض احباب نے جلدی میں فرمایا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ حضرۃ الامیر ہر جگہ جاسکیں۔ بلکہ دو چار حضرات نے اسکی مخالفت کی۔ مولانا طیب معاذ صاحب دوبارہ کھڑے ہوئے اور نہایت معصومیت سے فرمانے لگے آپ نے صحیح کہا ۔ فرشتے نے کونسی ہماری اجازت سے ان کی جان لی ہے۔ اور مرنے والے نے کون سا ہمیں پیشگی اطلاع دی ہے کہ ہم اس کی تعزیت کرتے پھریں۔ ۔ جو لوگ اتنے خود غرض ہوں کہ ہمیں اطلاع دئیے بغیر فوت ہوگئے ان کی بالکل تعزیت نہیں کرنی چاہیے۔ پھر کیا تھا کہ اعتراض کرنے والوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہ تھی اور حضرۃ الامیر ان کے اس طرح کے ردعمل سے محظوظ ہوتے رہے۔ میں خود ان کے اس انداز اسلوب سے بہت متاثر ہوا۔ کہ اگر آپ ایک معقول بات کررہے ہیں اور لوگ نہ صرف اسے ماننے سے انکار کریں بلکہ مذا ق بنا لیں۔ تو پھر زچ ہو کر اپنی بات پر یہی ردعمل بنتا ہے۔ اس سے مخالفت کرنے والوں کو خود ہی سمجھ آجاتی ہے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔
مولانا مرحوم میں جرأت اظہار کی خوبی تھی۔ علماء کی مجلس ہو یا عوامی‘ بات غور سے سنتے ، دوسروں کو بولنے کا موقعہ دیتے۔ دیگر علماء کی موجودگی میں ان کے ردعمل کا انتظار کرتے ۔ اگر کوئی تسلی بخش ردعمل نہ آیا تو پھر میدان میں کود پڑتے اور بلاخوف بات کرتے۔ ایک دفعہ مدینہ ٹاؤن کی طرف ایک مسجد دوفریقوں کے درمیان متنازعہ بن گئی۔ نوبت ہاتھا پائی پر آگئی۔ دوسرا گروپ مسلح بھی تھا اور تعداد میں زیادہ۔ لہذا بات حد سے بڑھ گئی اور پولیس نے آکر جان بچائی۔ اب کچھ سنجیدہ لوگوں نے باہمی مل کر بات طے کرنا چاہی اور بتایا کہ بات چیت کے لیے دوسرے فریق کے مرکزی رہنما آرہے ہیں۔ اجلاس گلستان کالونی جامع مسجد قدس میںہوا۔ بسیار انتظار کے باوجود فریق ثانی کا کوئی ذمہ دار نہ آسکا۔ اس موقعہ پر علماء بھی موجود تھے۔ لیکن سب خاموش تھے۔ جبکہ مولانا محمد طیب معاذ صاحب نے خوب سنائی اور پرجوش باتیں کیں۔ کہ مساجد پر قبضہ معمول بن چکا ہے۔ محض دھونس دندھالی اور اسلحے کے زور پر یہ لوگ انتہائی قدم اٹھاتے ہیں۔ چونکہ اپنا موقف بیان کرنے سے قاصر ہیں لہٰذا کسی بھی سنجیدہ مجلس میں آنے سے شرماتے ہیں۔ ہمیں یہ کہہ کر جمع کیا گیا کہ ( وہ ) آرہے ہیں۔ بات صرف اس مسجد کی نہیں ہو گی بلکہ کچھ اصول بھی طے کریں گے۔ تاکہ آئندہ ایسی بدمزگی پید ا نہ ہو۔ لیکن ان کے نہ آنے سے یہ بات ثابت ہوگی کہ وہ کسی مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں اور ہمارا وقت برباد کر رہے ہیں۔ بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں پیغام دیا جارہا ہے کہ اس طرح کا طرز عمل ہم بھی اختیار کریں اور اسلحہ کی بنیاد پر جہاں چاہیں قبضہ کرلیں۔ آپ بے حد رنجیدہ ہوئے اور جو لوگ میزبان تھے انہیں بھی کھری کھری سنائیں۔
یہ پڑھیں:      فضائل ماہِ رجب
مولانا محمد طیب معاذ امن کمیٹی کے رکن رہے۔ یہ ۹۰ کی دھائی کا واقعہ ہے کہ جامعہ سلفیہ کے گرد وپیش بعض بریلوی مساجد میں بڑی اشتعال انگیز تقرریں ہوئیں۔ مولانا سعید احمد اسعد ہر جگہ مناظرے کے چیلنج کررہے تھے۔ جامعہ سلفیہ چونکہ تعلیمی ادارہ ہے۔ ہماری طرف سے کوئی ردعمل نہ تھا۔ ہماری خاموشی کو ان مساجد کے خطباء نے کمزوری اور شکست سمجھا۔ بات بہت بگڑ گئی۔ جامعہ کے مشرق ومغرب میں دو مساجد میں یہ طرز عمل مسلسل کئی ہفتہ چلتا رہا۔ میں نے ذاتی طور پر بعض سمجھ دار بریلوی لوگوں کو سمجھایا کہ ایسا نہ کریں۔ اس سے ہمیں کچھ حاصل نہ ہوگا۔ الٹا لوگ دین سے متنفر ہورہے ہیں۔ ہمارئی طرف سے خاموشی سے بعض لوگ بہت متاثر ہوئے۔ لیکن آخر کب تک۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے مطابق ۔ ایک روز ہم نے بھی اعلان کیا کہ جامع مسجد عمر یکتا مارکیٹ میں جلسہ ہوگا۔ جامعہ سلفیہ کو اس دلدل میں نہ آنے دیا۔ بعض جوشلیے طلبہ کو تیار کیا۔ جن میں پیش پیش مولانا عبدالرشید شورش تھے۔ نماز عشاء کے بعد جلسہ شروع ہوا۔اب دونوں مساجد میں سپیکر چل رہے تھے۔ ایک دوسرے کو چیلنج کیا جارہا ہے اور سخت تنقید ہو رہی ہے۔ ظاہر یہ کوئی اچھی بات نہ تھی۔کسی نے تھانے فون کردیا۔ اس وقت سرگودھا روڈ تھانہ میں SHO سید زاہد شاہ تھے۔ جوان رعنا اور سمجھ دار۔ اس نے فوراً مولانا محمد طیب سے رابطہ کیا اور انہیں ہمراہ لیکر جامعہ میں آگئے اور مجھے ملنے کی خواہش کی۔ مگر میں نے ملنے سے انکار کردیا اور مطالبہ کیا کہ پہلے بریلوی مکتب فکر کے سپیکر بند کرائیں۔ چونکہ ان کی آواز جامعہ میں واضح سنائی دے رہی تھی۔ انہوں نے یہ کام پہلی فرصت میں کیا۔ جب کہ مسجد عمر کے سپیکر چل رہے تھے۔ ان سے رابطہ کیا تو مسجد اندر سے مقفل تھی اور پولیس کی بے بسی۔ ا س دوران مولانا محمد طیب صاحب نے مجھ سے رابطہ کیا اور میرے جانے سے معاملہ رفع دفع ہوا۔ مولانا مرحوم نے بڑی حکمت سے یہ سارا معاملہ ہینڈل کیا۔ کوئی اور ہوتا وہ جذباتی ہو کر یا انتہائی قدم اٹھاتا یا احتجاجا واپس چلا جاتا۔
مولانا محمد طیب صاحب مرحوم بہت خوبیوں کے مالک اور خوددار تھے۔ انہوں نے ساری زندگی جامع مسجد مبارک اہل حدیث محمد پورہ میں گزار دی۔ خود ایک دفعہ فرمانے لگے کہ مثبت کام کے بہت اچھے نتائج آتے ہیں۔ اپنا قصہ بتایا کہ شروع شروع میں جب میں محمد پورہ خطیب بن کر آیا تو بڑی جذباتی تقریریں کرتا ۔ تو مجھے انتظامیہ میں موجود حاجی خوشی محمد صاحب نے سمجھایا کہ آپ منفی کی بجائے تنقید کے بغیر صرف مثبت انداز اختیارکریں۔ اس کے بہت فائدے ہونگے۔ یہ مسجد دراصل دیوبند مسلک کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس دن سے میں نے مثبت انداز اپنالیا۔ جس کا نتیجہ آج یہ مسجد اہل حدیث مسلک کی مرکزی مسجدوں میں شمار ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی دینی ملی دعوتی خدمات قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے۔
مولانا عبدالعزیز راشد رحمہ اللہ:
مولانا مرحوم پنجابی زبان کے بہت عمدہ اور پسندیدہ خطباء میں سے ہیں۔ انہوں نے پوری زندگی دعوت دین کے لیے وقف کی۔گوجرانوالہ ، فیصل آباد میں زیادہ وقت گزارا۔ اہم مساجد میں خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے رہے۔ عوامی اجتماعات ، جلسوں اور دینی کانفرنسوں میں ان کا خطاب دلچسپی سے سنا جاتا ۔ انہیں بات کرنے کا بہت عمدہ سلیقہ آتا تھا۔ موضوع بیان کرنے کے لیے اچھی تمہید باندھتے تھے۔ میرے تایا جان حاجی خوشی محمد مرحوم‘ مولانا عبدالعزیز راشد اور مولانا عبدالرشید قمر سے بہت متاثر تھے۔ میں جامعہ سلفیہ سے بطور طالب علم ان کو لیکر گاؤں جاتا اور مسجد میں ان کی تقریریں ہوتی تھیں۔ یہ سلسلہ بڑا عرصہ چلتا رہا۔ حتی کہ کئی بار گگو منڈی گاؤں بھی لیکر گیا۔ مولانا عبدالعزیز راشد مرکزی جمعیت اہل حدیث سے وابستہ تھے۔ بہت وفادار اور جماعت کے خادم تھے۔ میاں فضل حق مرحوم ان پر بڑا اعتماد کرتے۔ یہ جہاد افغانستان کے دنوں میں چندہ مہم بھی چلاتے رہے۔ میرا ان سے احترام کا گہرا تعلق تھا اور وہ بھی بہت محبت فرماتے۔ جامعہ سلفیہ میں بلائے گئے اجلاسوں میں بڑے شوق سے شریک ہوتے اور تمام پروگرامز میں حوصلہ افزائی کرتے۔ بلاشبہ مولانا اخلاقی اعتبار سے بلند مقام پر فائز تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔
یہ پڑھیں:      صحبتِ صالح ترا صالح کند
مولانا عبدالعلیم یزدانی رحمہ اللہ:
آپ جامعہ سلفیہ میں میرے ہم جماعت تھے۔ آخری تین سال ہم نے اکٹھے تعلیم حاصل کی۔ ان سے خصوصی تعلق تھا۔ ہم ایک ہی کمرے میں رہائش پذیر تھے۔ مولانا قدرت اللہ فوق رحمہ اللہ ان کے عزیز (بہنوئی) تھے۔ یہ رشتہ بہت مقدس ہے۔ اوپر سے وہ ہمارے استاد بھی تھے۔ لہذا ہم باہمی تعلق کی وجہ سے ان کے ہاں اکٹھے جاتے۔ مولانا کی اہلیہ عبدالعلیم کی ہمشیرہ بہت ہی مہربان خاتون تھیں۔ وہ بہت خوش بھی ہوتیں اور عمدہ عمدہ کھانے پکا کر کھلاتی تھیں۔ بعض دفعہ دودھ یا گنے کے رس کی کھیر بنا کر جامعہ بھیج دیتی۔ ایسا بھی ہوتا کہ اگر ہم ایک ہفتہ ۴چک رام دیوالی نہ جاتے تووہ کھانا پکا کر جامعہ میں لے آتیں۔
مولانا عبدالعلیم میں بہت سی خوبیاں تھیں۔ چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی ، اعلی اخلاق کے مالک تھے۔ معاملہ فہم اور سمجھ دار تھے۔ فراغت کے بعد جھنگ چلے گئے۔ اور اپنی وفات تک جھنگ میں ہی خطابت کے جوہر دکھاتے رہے۔ بہت اچھے مقرر اور خطیب تھے۔ عوامی مزاج کے مطابق پنجابی میں تقریر کرتے۔ اشعار پڑھتے۔ سن اسّی کی دھائی میں جب وہ مرکزی مسجد میں خطیب تھے تو دینی مدارس کے طلبہ کے درمیان تقریری مقابلہ کرواتے ۔ بارہا میں اور مولانا محمدیونس بٹ بطور مہمان اس پروگرام میں شریک ہوئے ۔ ہم عمر ہونے کی وجہ سے بے تکلف گفتگو کرتے۔ وہ ہمیں بہت احترام دیتے اور جامعہ سلفیہ میں خدمت سرانجام دینے کی وجہ سے بہت دعائیں دیتے۔ اکثر دعوت کرتے اور تریموہیڈ پر کھانا کھلاتے تھے۔ ایک دفعہ تو تقریباً سو طلبہ اور اساتذہ کو تریمو ہیڈ پر بلایا اور بہت شاندار مہمان نوازی کی۔
کسی دور میں چنیوٹ جھنگ کی تحصیل تھی اور (ربوہ) چناب نگر بھی چنیوٹ کی تحصیل میں واقع ہونے کی وجہ سے ختم نبوت کے بڑے جلسے یہاں ہوتے۔ آپ نے بار ہا بہت شاندارختم نبوت کانفرنسیں منعقد کیں۔ جامعہ سلفیہ کی اس میں بھر پور شرکت ہوتی۔ بعض دفعہ عرب مہمان تشریف لاتے تو میں انہیں چنیوٹ لیکر جاتا۔
مولانا عبدالعلیم‘ علامہ احسان الٰہی مرحوم کے بہت قریب تھے۔ علامہ صاحب کی جماعت کے سرگرم رکن تھے۔ لیکن میاں فضل حق مرحوم کے بارے بہت مثبت رویہ رکھتے تھے اور جامعہ کے لیے جماعتی گروہ بندی کی پروا نہ کرتے تھے۔ علامہ مرحوم کی شہادت پر لاہور ناصر باغ میں غائبانہ جنازہ ہوا۔ اس میں جامعہ سلفیہ سے طلبہ اور اساتذہ نے شرکت کی۔ اس میں مولانا عبدالعلیم نے بڑا جوشیلا خطاب کیا اور میاں فضل حق اور جامعہ سلفیہ کا شکریہ ادا کیا۔
مرکزی جمعیت اور جمعیت اہل حدیث (میاں فضل حقa اور علامہ ساجدمیرd) کے درمیان جب صلح ہوگئی تو مولانا عبدالعلیم نے بہت خوشی کا اظہار کیا۔ جھنگ سے مٹھائی لیکر مبارک باد دینے جامعہ سلفیہ آئے۔انہیں انکی دعوتی خدمات کے اعتراف میں مرکزی کابینہ میں شریک کیا گیا اور ختم نبوت کا کنوئیرمقرر کیا گیا۔ آپ نے بڑے خلوص سے یہ ذمہ داریاں نبھائیں۔ مرکزی جمعیت سے منسلک ہونے کے بعد آپ کا دائرہ عمل بہت وسیع ہوگیا۔ کوئی دن ایسا نہ تھا جس میں آپ کسی نہ کسی شہر ، قصبے یا دیہات میں تقریر نہ کر رہے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ جامعہ سلفیہ کے متعدد پروگرامز میں ان کو دعوت دیتے تو بڑی خوشی سے شریک ہوتے۔ خطاب سے پہلے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار ان الفاظ میں کرتے کہ چوہدری یاسین ظفر اور مولانا یونس بٹ میرے ہم پیالہ اور ہم نوا لہ ہیں۔
میں نے ایک مرتبہ ان سے میر پور خاص سندھ مدرسہ بحرالعلوم السلفیہ کے لیے وقت لیا۔ سخت گرمیاں تھیں۔ وعدے کے مطابق وہاں پہنچے اور جلسہ عام سے بھر پور خطاب کیا۔ اس کے لیے انہیں اپنے کئی پروگرام منسوخ کرنے پڑھے۔
مرحوم بہت اچھے انسان مہربان دوست اور باکردار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ بھر پور دعوتی زندگی گزار کر اللہ تعالیٰ کے مہمان بنے۔ ان کی رحلت کا بلاشبہ بہت افسوس ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی دینی ملی دعوتی خدمات قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے۔
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages