مون سون بارشوں سے تباہی 20-17 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, September 12, 2020

مون سون بارشوں سے تباہی 20-17

ھفت روزہ اھل حدیث، مون سون بارشیں، بارشوں سے تباہی، مون سون بارشوں سے تباہی

مون سون بارشوں سے تباہی

ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بار ریکارڈ بارشیں ہو رہی ہیں۔ سندھ‘ بلوچستان‘ پنجاب‘ کشمیر اور خیبر پختونخواہ میں شدید بارشوں سے صورتحال گھمبیر ہو چکی ہے۔ دریاؤں میں پانی کی سطح نہایت بلند ہو گئی ہے۔ چترال‘ سوات‘ دریائے چناب اور جہلم میں آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ بارشوں اور سیلاب سے انسانی جانوں کی ہلاکتوں میں اضافے کی خبریں مسلسل آ رہی ہیں۔ دیہاتوں اور شہروں میں کچے مکان اور دیواریں کرنے سے جانی نقصان ہوا ہے۔ گذشتہ دنوں پھالیہ تحصیل منڈی بہاؤالدین میں کچے مکان کی چھت گرنے سے ایک مسجد کے پیش امام قاری صاحب کے بیوی بچے سب اللہ کو پیارے ہو گئے‘ ان کی دنیا ہی اُجڑ گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
یہ پڑھیں:      اسلام اور اس کے تقاضے
دیگر شہروں کی طرح لاہور میں بھی بارشوں سے کئی شاہراہیں اور گلیاں زیر آب آگئیں۔ کئی علاقوں میں بجلی بند ہو گئی جس کے باعث یہ علاقے اندھیرے میں ڈوبے رہے۔ ادھر کراچی میں بارشوں کا ۱۰۰ سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ بارشوں کی وجہ سے سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ کاروبار زندگی معطل ہو چکا ہے۔ نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ شاہراہیں اور سڑکیں ندی نالے اور دریا کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ پینے کا صاف پانی نا پید ہے۔ بجلی بند ہونے کی وجہ سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ املاک کے ساتھ بیسیوں جانیں ضائع ہو گئی ہیں۔
مون سون کے اس موسم میں بلاشبہ کراچی شہر کو سب سے زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے لگتا ہے جیسے اس شہر میں نکاسی آب کا نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔ بارشی پانی کے اخراج کا کوئی راستہ ہی نہیں۔ ندی نالوں کی صفائی پر کبھی توجہ ہی نہیں دی گئی۔ لوگوں نے ان ندی نالوں پر ناجائز تعمیرات کر رکھی ہیں۔ گذشتہ ادوار میں کراچی شہر ایک سخت گیر تنظیم کے ہاتھوں یرغمال بنا رہا۔ انہوں نے بھتہ خوری اور قتل وغارت گری کے سوا کراچی کو کچھ نہ دیا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کی کئی عشروں سے حکومت چل رہی ہے لیکن مجال ہے کہ ترقیاتی کاموں پر ایک روپیہ بھی خرچ کیا ہو۔ زبانی کھوکھلے نعروں سے عوام کو بے وقوف بنا کر ووٹ تو لے لیتے ہیں لیکن عملا کچھ نہیں کرتے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ آج کراچی سمیت پورا سندھ ڈوبا پڑا ہے۔
کراچی کا سیورج نظام پہلے ہی کمزور اور کسی حد تک فرسودہ ہو چکا ہے۔ چھوٹی موٹی بارشوں میں تو یہ قدیم نظام کسی حد تک کام کرتا رہتا ہے لیکن اس بار غیر معمولی بارشوں کے پانی کو پرانا سیورج سسٹم برداشت نہ کر سکا۔ ندی نالوں میں طغیانی سے رہا سہا سیورج سسٹم اور بھی ناکارہ ہو گیا۔ کراچی کے بلدیاتی ادارے اگر گندے نالوں کی صفائی کرتے رہیں تو برساتی پانی کسی حد تک نکل جاتا ہے اور روز مرہ زندگی متأثر نہیں ہوتی۔ لیکن جب تک بھٹو زندہ ہے کام نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔
یہ پڑھیں:      انسان کا مقصد حیات
لاہور میں کسی حد تک نکاسی آب کا نظام فعال ہے۔ موسلا دھار بارش کے وقت تھوڑی پریشانی ہوتی ہے البتہ بارش بند ہونے کے بعد پانی جلد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ کاروبارِ زندگی متأثر ضرور ہوتا ہے لیکن بالکل مفلوج نہیں ہوتا۔ لیکن کراچی حالیہ بارشوں میں لاہور کی نسبت کہیں زیادہ متاثر ہوا ہے۔
کراچی ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر بڑے شہروں لاہور‘ پشاور‘ کوئٹہ‘ راولپنڈی‘ ملتان‘ حیدرآباد اور فیصل آباد وغیرہ میں بڑی تعداد میں نجی ہاؤسنگ سوسائیٹیوں نے ٹاؤن پلاننگ کے لازمی قوانین کی کوئی پروا نہیں کی۔ نکاسی آب کا معقول اہتمام نہیں کیا جاتا جس کی بناء پر بارش کے وقت سبھی شہروں میں سڑکیں زیر آب آجاتی ہیں۔ نشیبی علاقے تالاب کا منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ آمد ورفت میں دشواری پیش آتی ہے اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔
ایک طرف یہ حال ہے تو دوسری جانب ملک کی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کا جائزہ لیں تو وہاں بھی حالات ابتر نظر آتے ہیں۔ مہنگائی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ خصوصا روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سبزی پھل اور ادویات کی قیمتیں آسمان پر جا پہنچی ہیں۔ مہنگائی نے غریب آدمی کا کچومر نکال کے رکھ دیا ہے۔
آخر میں ہم یہ بات کہنا ضروری خیال کرتے ہیں کہ حکومت اپنے گروہی اور انتقامی معاملات کو بالائے طاق رکھ کر سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق فرائض انجام دے۔ ملک کی بیوروکریسی اور دیگر ریاستی ادارے خود کو کسی سیاسی جماعت کا ملازم سمجھنے کی بجائے آئین اور قانون کے مطابق خود کو پبلک سرونٹ سمجھ کر کام کریں۔
وزیر اعظم اور ان کے حواری حالات کی نزاکت کا ادراک کریں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے اپنے ان کاموں پر توجہ دیں جن کے لیے پاکستانی عوام نے انہیں ووٹ دے کر منتخب کیا ہے۔ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کی بجائے کام پر توجہ دیں۔ کچھ کر کے دکھائی‘ زبانی کلامی جمع خرچ سے کام نہیں چلنے والا۔
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages