سود ... صدقات کی ضد 20-17 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, September 12, 2020

سود ... صدقات کی ضد 20-17

ھفت روزہ اھل حدیث، سود، صدقات کی ضد، حرمت سود، سود ... صدقات کی ضد

سود ... صدقات کی ضد

(دوسری قسط)     تحریر: جناب مولانا محمد اقبال
  سود حرام ہونے کی حکمت:  
قرآن کریم کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ مالی لحاظ سے انسانوں کی تین اقسام ہیں۔ ایک غنی (جس کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہو) دوسرا فقیر جس کے پاس ضرورت سے کم مال ہو اور تیسرا وہ شخص جس کی ضرورت پوری ہو رہی ہو۔ نہ غنی ہو نہ فقیر اور یہی حالت ایک مثالی حالت ہے کیونکہ اس حالت میں رہنے والا انسان اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے محنت کرتا ہے اور سوال نہیں کرتا‘ اور اگر اس کو ضرورت سے زیادہ میسر آ جائے تو اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں فرمایا: ’’آپؐ سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کیا خرچ کریں؟ آپؐ فرما دیجئے کہ جو کچھ ضرورت سے زائد ہو۔ (البقرہ: ۲۱۹) جو ضرورت سے زیادہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتے ہیں وہی اللہ کے محبوب ہوتے ہیں۔ غنی کو حکم ہے کہ فقیر کو زکوٰۃ دے جو فرض ہے اور اگر اس کے باوجود اس کی ضرورت پوری نہیں ہوتی تو نفلی صدقہ اور قرض حسنہ بھی دے۔ غنی جب غنی کو دیتا ہے تو یہ نہ زکوٰۃ ہو گی نہ صدقہ کیونکہ جس غرض کیلئے غنی لے گا وہ بنیادی ضرورت پورا کرنے کیلئے نہیں لے گا۔ بلکہ غنی اپنی دولت کو بڑھا کر جمع کرنے کیلئے یا ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے کیلئے (جو یا تو اسراف ہو گا یا تبذیر) لے گا۔ تو ایسا کرنے والوں کیلئے بڑی وعیدیں آئی ہیں۔ البتہ اگر کسی مباح احتیاج کیلئے دیتا ہے تو وہ ہدیہ ہوگا نہ کہ صدقہ اور ہدیہ کے احکام صدقہ سے بالکل مختلف ہیں۔ حضور پاکؐ صدقہ نہیں لیتے تھے اور ہدیہ قبول کرتے تھے بلکہ اضافے کے ساتھ واپسی بھی کرتے تھے۔ مختصراً آدمی کی مالی حیثیت اور جس غرض کیلئے مال مطلقاً یا قابل واپسی (قرض) دیا گیا، معاملہ کی نوعیت کا تعین کریں گے۔ مثلاً اللہ کا حکم ہے کہ بھوکوں کو کھانا کھلائو۔ ایک نانبائی جو کھانا کھلانے کا کاروبار کرتا ہے اس کے پاس جو بھی آئے گا وہ بھوکا ہی ہوگا۔ کسی غنی کو اگر مفت کھلائے گا تو یہ اس کا ہدیہ ہوگا۔ اگر محتاج کو ادھار پر روٹیاں دیتا ہے تو اصل سے زیادہ لینا سود ہوگا۔ اور اگر کسی تاجر سے یہ معاملہ کرتا ہے جو روٹیاں خریدنے/ بیچنے کا کاروبار کرتا ہے تو اس سے کہہ سکتا ہے کہ نقد لو گے تو روٹی کی قیمت کم اور ادھار لو گے تو قیمت زیادہ ہو گی اور اگر تاجر راضی ہو جاتا ہے تو یہ بڑھوتری شرعاً جائز ہوگی۔ قرآن شریف کی واضح آیت ہے کہ ’’اگر مقروض تنگ ہے (یعنی اس حالت میں نہیں کہ قرض کی واپسی کر سکے) تو اس کو مہلت دو اور اگر صدقہ کر دو تو تمہارے لئے بہت بہتر ہے۔ اگر تم میں علم ہے۔‘‘ (البقرہ: ۲۸۰)
اس آیت کریمہ سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اگر مقروض کو معاف کر دو گے تو تمہارے قرض کی رقم صدقہ ہو جائے گی اور صدقہ تو محتاج پر ہی لگتا ہے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ جو شخص مفلس آدمی سے اپنا قرض وصول کرنے میں نرمی کرے اور اسے ڈھیل دے تو اس کو جتنے دن وہ قرض کی رقم ادا نہ کر سکے اتنے دنوں تک ہر دن اتنی رقم خیرات کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ (مسند احمد/ تفسیر ابن کثیر)
ایک دوسری حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ مقروض جونہی اس پوزیشن میں ہو کہ قرض واپس کر سکے تو اس میں جلدی کرے۔ سیدنا ابوہریرہt سے مروی ہے کہ نبی کریمe نے ارشاد فرمایا کہ غنی کا (یعنی جب مقروض غنی ہو جائے تو قرض کی ادائیگی میں) تاخیر کرنا ظلم ہے اور جب ایک تم میں سے غنی کے حوالہ کیا جائے تو قبول کرے۔ (متفق علیہ/ مشکوٰۃ) اسی طرح اگر محتاج کو زکوٰۃ جو محتاج کے گھر تک پہنچانا غنی کی ذمہ داری ہے نہیں ملتی تو پھر وہ سوال کرنے کیلئے مجبور ہو جاتا ہے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ صدقہ یا قرض کیلئے سوال کرنا غنی کیلئے جائز نہیں۔ حضور پاکe کا ارشاد ہے ’’سوال کرنا دو شخصوں کیلئے جائز نہیں، ایک غنی کیلئے دوسرا قوی تندرست کیلئے (جو کمانے پر قادر ہو) البتہ جس شخص کو خاک میں ملا دینے والا فقر یا پریشان کر دینے والا قرض لاحق ہو گیا ہو تو اس کے لئے سوال کرنا جائز ہے اور جو شخص مال بڑھانے کیلئے سوال کر رہا ہو اس کے منہ پر قیامت کے دن زخم ہونگے اور وہ جہنم کی آگ کھا رہا ہو گاجس کا دل چاہے زیادہ سوال کرے جس کا دل چاہے کم کرے۔ (صحیح مسلم)
پس مقروض آدمی کی مالی حیثیت محتاج سے بھی ایک درجہ نیچے ہوئی۔ یعنی محتاج تو وہ ہوا جس کی ضرورت پوری نہ ہو رہی ہو اور مقروض وہ ہوا کہ جس کی ضرورت بھی پوری نہ ہو رہی ہو اور الٹا اس پر مال واپس کرنے کا بار بھی ہو، اس لئے مقروض پر نہ حج فرض ہے نہ زکوٰۃ اور حکم یہ ہے کہ اس کا قرض اتارنے کیلئے اس کو زکوٰۃ دی جائے (یہ صدقہ کے مصارف میں سے ہے) اور مقروض سے اصل سے زیادہ نہ لیا جائے یہاں تک کہ حدیث شریف کا مفہوم ہے جس کے راوی سیدنا انسt ہیں کہ حضورe نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص کسی کو قرض دے پھر وہ قرض دار اس کو ہدیہ دے یا اپنی سواری پر سوار کرائے تو نہ ہدیہ قبول کرے اور نہ اس کی سواری پر سوار ہو البتہ اس قرض کے معاملہ سے پہلے اس قسم کا برتائو دونوں میں تھا تو مضائقہ نہیں۔ (ابن ماجہ/ بیہقی/ مشکوٰۃ)
قرض کے محتاج کو اسی وقت ضرورت پڑتی ہے جب غنی صدقات کو روک لیتے ہیں۔ سیدنا علیt کا فرمان ہے کہ اگر کوئی فقیر بھوکا رہتا ہے تو صرف اس لئے رہتا ہے کہ دولت مندوں نے دولت کو سمیٹ دیا اور مسلمانوں کی تاریخ میں ایسا دور بھی آیا جب صدقہ دینے کیلئے لوگ صدقہ لینے والوں کو ڈھونڈتے مگر صدقہ لینے والا نہ ملتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ صدقات کا نظام اسلامی معیشت کی بنیاد ہے۔ اگر ہر مسلمان صرف زکوٰۃ جو کہ فرض ہے ڈھائی فیصد مال میں سے اور عشر اپنی زرعی پیداوار میں سے پوری طرح ادا کرے تو ہر محتاج کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے اور یہی ایک مثالی نظام معیشت ہوگا۔ اس کے برعکس اگر غنی لوگ صدقات کو روک لیں اور فقیر اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے قرض لینے پر مجبور ہوں اور غنی لوگ اس پر قرض پر سود لینا شروع کر دیں تو یہ انتہائی ظالمانہ نظام ہوگا اور یہی سودی نظام ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ظلم کہا اور فرمایا: ’’اگر تم توبہ کرو تو وہ اصل مال تمہارا ہے نہ تم ظلم کرو (یعنی سود لے کر) نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ (البقرہ: ۲۷۹) اور اسی ظالمانہ نظام کو اگر کوئی قائم رکھتا ہے اور سود لینے سے باز نہیں آتا تو فرمایا: ’’اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ لڑائی کے لئے تیار ہو جائو۔‘‘ (البقرہ: ۲۷۹) اور احادیث شریف میں سود لینے کی جو وعید سنائی گئی (جیسے کہ گزر چکا) اس سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایسی سخت وعیدیں کسی اور گناہ کی نہیں آئیں۔
  فقیر کو دیا گیا قرض اور غنی کو تجارت کیلئے دیا گیا قرض ایک دوسرے کی ضد ہیں:   اب ہم اس غلط فہمی کی طرف آتے ہیں جس میں ایک غنی (جس کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہو) دوسرے شخص کو جو عام طور پر غنی ہوتا ہے تجارت کیلئے ادھار مال دے اور اس پر منافع مقرر کرے تو یہ بھی سود بن جائے گا اور اگر منافع مقرر نہ کرے اور نفع اور نقصان میں شریک ہو تو پھر یہ منافع ہی رہے گا۔ یہ جو سود ہوگا یہ وہی سود ہو گا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور جس کیلئے سخت وعید آئی ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ یہ ہے کہ تجارت کیلئے دئیے گئے سرمایہ کو وہی قرض فرض کر لیا گیا جس کا ذکر قرآن شریف میں سود کے حوالے سے ملتا ہے۔ حالانکہ سوائے اس کے کہ ایک لفظ قرض (جو تجارت کیلئے بھی استعمال ہوا) مشترک ہے۔ غرض کے حوالے سے ایک دوسرے کی ضد ہیں، تجارت کیلئے دئیے گئے قرض جس کو سرمایہ کاری کہنا مناسب ہوگا اور قرض حسنہ جس پر سود لینا حرام ٹھہرایا گیا ہے‘ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں کیونکہ دونوں کی نہ صرف قرض بلکہ قرض لینے والے کی مالی حیثیت بھی مختلف ہے۔ لہٰذا دونوں کو ایک شمار کرنا ظلم ہو گا۔ قرآنی آیات اور احادیث شریف میں جہاں بھی قرض کا ذکر آیا ہے تو یہ وہ قرض ہے جو ایک محتاج اپنی بنیادی ضرورت پوری کرنے کیلئے لیتا ہے۔ تجارت کیلئے لیا ہوا مال قرض کی اس تعریف میں آ ہی نہیں سکتا جس کی چند وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:
  قرض حسنہ تجارت کیلئے قرض:    اس قرض کو لینے کی غرض صرف بنیادی ضرورت پوری کرنا ہے، اس کی غرض مزید مال کمانا ہے۔
دینے والا غنی لینے والا محتاج ہوتا ہے، عام طور پر دونوں غنی ہوتے ہیں۔
محتاج جوں ہی غنی ہو جائے قرض فوراً واپس کرے۔ فوری واپسی کی ضرورت نہیں جب تک فریقین چاہیں فائدہ اٹھائیں۔
غنی کو جائز نہیں کہ قرض کا سوال کرے‘ کبھی قرض لینے والا سوال کرتا ہے‘ کبھی دینے والا جہاں جس کو فائدہ نظر آتا ہے۔
مقروض پر نہ حج فرض ہے نہ زکوٰۃ، عام طور پر مال کی مطلوبہ صورت میں دونوں فرض ہوتے ہیں۔
یہ پڑھیں:      مسلم نوجوان
مقروض کا قرض اتارنے کیلئے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، زکوٰۃ نہیں لگتی۔
یہ قرض دینا اللہ کا حکم ہے اور مقصود اللہ کی رضا ہے، اس میں اللہ کا حکم نہیں اور نہ ہی اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔
اس قرض پر اللہ تعالیٰ کا اجر کا وعدہ ہے، اُس پر کوئی وعدہ نہیں۔
یہ قرض دے کر انسان آخرت بناتا ہے، اُس سے دنیا بنتی ہے۔
اس کو معاف کر دینے سے صدقہ بن جائے گا اس کے معاف کرنے سے صدقہ نہیں بنتا۔
اصل سے زیادہ لینا حرام ہے، اصل سے زیادہ کمانے کیلئے ہی قرض لیا/ دیا جاتا ہے۔
قرض کی واپسی پر مہلت دینا صدقہ ہے، اس میں مہلت نہیں ہوتی بلکہ فریقین کا مفاد ہوتا ہے۔
اس مقابلہ سے یہ بات واضح ہو گئی کہ قرض حسنہ اور تجارت کیلئے دیا ہوا قرض نہ صرف مختلف ہے بلکہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ انسان کے ہر عمل کے دو جزو ہوتے ہیں۔ ایک اس کا طریقہ کار اور دوسرا اس کی نیت یا غرض۔ اجر کے حوالے سے ہمیشہ اس کی نیت کو ہی دیکھا جاتا ہے۔ دنیا کے قاضی کی عدالت ہو یا احکم الحاکمین کی عدالت ہو، نیت پر ہی ہر حکم کا مدار ہوتا ہے اور جب بھی کسی معاملہ کی حقیقت کو سمجھنا ہو تو اس کی غرض کو سمجھا جاتا ہے نہ کہ طریقہ کار کو۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے: ’’ہر عمل کی بنیاد اس کی نیت ہے۔‘‘ (بخاری شریف) جیسے قرآن شریف میں انفاق یعنی خرچ کرنے کا ذکر آیا ہے۔ تو اگر انفاق اللہ کی رضا کے لیے ہے تو وہ بہت بڑی نیکی ہے اور اس پر اللہ سے اجر ملتا ہے اور اگر انفاق ریاکاری کیلئے ہے تو بہت بڑی برائی ہے۔ یہاں تک کہ اس کو شرک کے ساتھ بھی ملایا اور اس پر سخت وعید سنائی۔ انفاق اگر ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو فضول خرچی ہو گی اور اللہ نے فضول خرچ کرنے والے کو شیطان کا بھائی کہا۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ ’’جس نے کسی اچھے کام کی سفارش کی اس میں اس کا حصہ ہو جاتا ہے اور جس نے کسی برے کام کی سفارش کی اس میں اس کا حصہ ہو جاتا ہے۔‘‘ (النساء: ۸۵) اب سفارش کے لفظ کی جگہ ’خرچ کیا‘ یا ’قرض دیا‘ لکھ دیں۔ اس کا بھی یہی مطلب نکلے گا یعنی اس نیک کام میں یا برے کام میں اس کا حصہ ہو جائے۔ یہاں طریقہ کار اور الفاظ ’’خرچ‘‘ کرنا یا ’قرض‘ دینا ایک جیسے ہیں لیکن کیونکہ غرض میں تبدیلی ہو گئی لہٰذا اس عمل کے احکام بھی تبدیل ہونے سے معاملہ حلال سے حرام میں بدل جائے گا۔ جبکہ تحفہ اور رشوت دینے کا طریقہ کار ایک ہی ہے۔ لہٰذا جو مال تجارت کے مقصد کیلئے خرچ کیا جائے گا وہ تجارت یا سرمایہ کاری کہلائے گا نہ کہ صدقہ۔ اسی طرح جو قرض تجارت کیلئے دیا جائے گا وہ بھی تجارت یا سرمایہ کاری ہو گی نہ کہ قرض حسنہ اور اس پر جو زیادتی حاصل ہو گی وہ نفع کہلائے گی نہ کہ سود۔ اس پر احکام بھی تجارت والے نافذ ہونگے نہ کہ سود والے اور یہ سارا معاملہ تجارت کے عنوان کے تحت ہی پرکھا جائے گا اور اگر کاروبار میں مال لگانے پر جو نفع ملتا ہے اس پر بحث چھڑ جائے کہ یہ جائز ہے یا ناجائز۔ تو اس کا یہ نتیجہ تو نکل سکتا ہے کہ یہ ناجائز ہے لیکن یہ نتیجہ کبھی نہیں نکلے گا کہ یہ سود ہے۔ کیونکہ سود کی بحث صدقات اور قرض حسنہ کے باب میں ہوگی۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو یہ ظلم ہوگا جس کی تعریف ہے: ’’کسی چیز کو اس جگہ رکھنا جہاں اس کا اصل مقام نہ ہو۔‘‘
یہ پڑھیں:      سجدۂ سہو کا بیان
 جہاں اللہ کا حکم وہاں وعید، جہاں حکم نہیں وہاں وعید بھی نہیں:
اللہ تعالیٰ نے سود کھانے والے کیلئے اتنی سخت وعید بتائی کہ ایسا شخص اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرے گا اور قرآنی آیات کی روشنی میں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ محتاج کو زکوٰۃ، صدقہ یا قرض حسنہ کی صورت میں مال دو تا کہ اس کی بنیادی ضرورت پوری ہو سکے۔ سود خور بجائے محتاج کو دینے کے اس سے الٹا لینے پر آ جائے تو یہ دوسری نافرمانی ہوگی۔ ایک صدقہ نہ دینے کی اور دوسرا اس ظلم کی جو اس نے محتاج سے مال لے کر کیا۔ اس کی مثال یہ دی جا سکتی ہے کہ محتاج کو ضرورت پوری کرنے کیلئے ایک ہزار روپوں کی ضرورت ہے اور وہ صرف پانچ سو کما سکتا ہے اور غنی کے پاس چار ہزار روپے ہیں جبکہ اس کی ضرورت ایک ہزار کی ہے۔ غنی کو حکم ہے کہ محتاج کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اسے پانچ سو روپے دے۔ غنی بجائے اس کے کہ پانچ سو محتاج کو صدقہ دے اس کو قرض دے کر اس پر ایک سو روپیہ سود لیتا ہے جس سے محتاج کی آمدنی پہلے سے بھی کم یعنی چار سو روپیہ ہو جاتی ہے اور یہ دہرا ظلم ہوگا۔ تجارت کی صورت میں ایسی کوئی صورت حال پیدا نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے تجارت کرنے کا حکم کہیں نہیں دیا (اگرچہ یہ کام مباح ہے) اور نہ ہی تجارت نہ کرنے والے کیلئے کوئی وعید ہے۔ بلکہ اللہ تو چاہتا ہے کہ میرے بندے کے پاس اگر ضرورت سے زیادہ مال آ جائے تو صدقہ کر کے اپنی آخرت بنائے اور جو لوگ صدقہ کرنے کے بجائے دنیاوی زندگی بنانے کیلئے مال میں بڑھوتری کی غرض سے تجارت میں مال خرچ کرتے ہیں ان کو پسند نہیں کیا۔ فرمایا کہ: ’’جب انہوں نے تجارت یا کوئی کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو ادھر بھاگ گئے اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیا۔ آپ کہیے کہ جو اللہ کے پاس ہے اس تماشے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ ہی سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ (الجمعہ: ۱۱)
ایک دوسری جگہ پر فرمایا: ’’بلکہ تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ یہی بات پہلے صحیفوں میں بھی (لکھی گئی تھی) یعنی حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیٰؑ کے صحیفوں میں۔ (سورہ اعلیٰ: ۱۹) حضورؐ اقدس کا ارشاد ہے کہ مجھے حق تعالیٰ نے یہ وحی نہیں بھیجی کہ میں تاجر بنوں اور مال جمع کروں بلکہ یہ وحی بھیجی ہے کہ (اے محمدؐ) تم اپنے پروردگار کی تسبیح اور تحمید کرتے رہو اور نمازیں پڑھنے والوں میں رہو اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ (ایسی حالت میں) تم کو موت آ جائے۔ (مشکوٰۃ)
وعید ہمیشہ وہاں ہی ہوتی ہے جہاں حکم کی خلاف ورزی ہو اور جتنا حکم سخت ہوتا ہے وعید بھی اتنی سخت ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں حکم واضح ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سود کی آیات سے متصل 14 آیات میں انفاق فی سبیل اللہ کی تاکید اور تفصیل بیان فرمائی‘ اس کے علاوہ قرآن پاک میں بار بار زکوٰۃ/ صدقات کا حکم دیا اور سود کو ان صدقات کی ضد قرار دے کر واضح کیا۔ جب اللہ نے تجارت کرنے والے کو مال مطلقاً دینے یا اسے قرض دینے یا ایسے قرض پر منافع مقرر نہ کرنے کا حکم ہی نہیں دیا تو تجارت کی غرض سے دئیے گئے مال پر منافع مقرر کرنے پر سخت وعید کیسے ہو سکتی ہے اور اگر یہ وعید یعنی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی (جو سود لینے کی صورت میں ہے) یہاں لاگو نہیں ہو سکتی تو اس منافع کو وہ سود بھی کسی صورت میں نہیں کہا جا سکتا جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو خوف یہ ہے کہ ہم ایسے لوگوں کے زمرہ میں نہ آ جائیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’جو جھوٹ تمہاری زبانوں پر آ جائے اس کی بنا پر نہ کہا کرو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ افترا کرنے لگو۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا کرتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پاتے (ایسے جھوٹ) کا فائدہ تو تھوڑا سا ہے مگر (آخرت) میں انکے لئے المناک عذاب ہے۔ (النحل: ۱۱۷-۱۱۶)
یہ پڑھیں:      کتابیں اپنے آباء کی
منافع مقرر کرنا سود نہیں ہوگا:
تجارت کے مقصد کیلئے دیا گیا قرض اس غرض کیلئے دیا جاتا ہے کہ اس پر نفع ملے۔ یہ دلیل کہ اگر منافع مقرر کر دیا جائے تو سود ہو جائے گا اور اگر منافع مقرر نہ کیا جائے اور نفع اور نقصان میں شریک ہوا جائے تو یہ نفع ہوگا ناقص ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دلیل نہ کسی قرآنی آیت نہ ہی کسی حدیث شریف سے ثابت ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے سود کو اصل سے زیادہ لینے کو بتایا۔ اس میں مقرر کرنے کی کوئی شرط نہیں۔ اصل سے زیادہ خواہ مقرر ہو خواہ نہ ہو تو سود ہوگا اور حدیث شریف (جو پہلے گزر چکی) سے بھی یہ بات واضح ہے کہ قرض دار اگر قرض خواہ کو ہدیہ کبھی دے جو مقرر نہیں ہوتا تو وہ بھی سود ہوگا۔ سیدنا ابوبردہt بن ابی موسیٰ سے روایت ہے کہ میں مدینہ آیا اور عبداللہ بن سلامؓ کو ملا اس نے کہا کہ تو ایسے علاقہ میں آیا ہے جہاں سود عام ہے۔ جب کسی آدمی پر تیرا کوئی حق ہو وہ بھُس کا ایک بوجھ یا جو کا ایک بوجھ یا گھاس کا گٹھا تیری طرف بھیجے اس کو قبول نہ کر، یہ سود ہے۔ (بخاری/ مشکوٰۃ) جب سود کیلئے مقرر کرنا شرط ہی نہیں تو تجارتی منافع مقرر کرنے سے سود کیسے ہو سکتا ہے؟ جبکہ سرمایہ لگانے والے کی نیت تجارت کی ہو اور فی الواقع تجارت ہو بھی رہی ہو۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمe نے اس کو لشکر کا سامان درست کرنے کو کہا۔ بس اونٹ ختم ہو گئے۔ آپؐ نے اس کو حکم دیا کہ زکوٰۃ کے اونٹوں کے وعدہ پر اونٹ خرید لے۔ وہ ایک اونٹ دو اونٹوں کے بدلہ میں زکوٰۃ کے اونٹ آنے تک خریدتا۔ (ابودائود/ مشکوٰۃ) یہاں خرید و فروخت میں ادھار پر نفع (ایک اونٹ کا) مقرر ہو جاتا تھا، اگر یہ سود ہوتا تو حضورؐ اجازت نہ فرماتے۔
تجارت میں باہمی رضا مندی قرآن کا اصول ہے: 
تجارتی کاروبار میں اللہ تعالیٰ نے ہر اس معاملہ کو جائز قرار دیا ہے جو باہمی رضا مندی سے طے پائے۔ آیت کا مفہوم ہے: ’’اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقوں سے نہ کھائو، ہاں اگر آپس کی رضا مندی سے تجارت کا لین دین ہو (اور اس سے مالی فائدہ ہو جائے وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ تم پر مہربان ہے۔‘‘ (النساء: ۲۹)
یہ اصول بڑا واضح اور وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ تجارت میں تمہاری باہمی رضا مندی سے جو طے پائے وہ جائز ہے۔ اس کے اندر پوشیدہ حکمت یہ ہے کہ ہر بندہ تجارت فائدہ اٹھانے کیلئے کرتا ہے۔ جب دو فریق آپس میں ایک معاملہ پر رضا مند ہو جاتے ہیں تو دونوں کو اس میں فائدہ کی توقع ہوتی ہے اور اگر کسی کو فائدہ کی توقع نہ ہو تو نقصان اٹھانے کیلئے کوئی بھی معاملہ نہیں کرے گا اور نہ باہمی رضا مندی ہوگی۔ اس لئے تجارت کیلئے مال دینے والا اور مال لینے والا اپنے اپنے نفع کی توقع کو دیکھیں گے جہاں دونوں رضا مند ہو جائیں گے وہ معاملہ جائز ہوگا۔ اس اصول میں کہیں یہ استثناء نہیں آیا کہ جب سرمایہ پر منافع مقرر کرنے پر فریقین راضی ہو جائیں تو یہ اصول لاگو نہ ہوگا۔ باہمی رضا مندی کے اس سنہری اصول سے جدید معاشیات کا اہم اور بنیادی اصول طلب و رسد وجود میں آیا۔ کسی بھی چیز کی قیمت مقرر کرنے میں یہی اصول کار فرما ہوتا ہے۔ خریدار کے اندر کسی چیز کی طلب ہوتی ہے اور فروخت کنندہ کے پاس اس چیز کی رسد ہوتی ہے۔ جس قیمت پر دونوں رضا مند ہونگے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خریدار اس قیمت میں اپنا فائدہ سمجھے گا اور فروخت کنندہ اپنا۔ اسی اصول کو آج کی دنیا میں آزاد معیشت کہا جاتا ہے۔
 ہر پیداواری عامل کا معاوضہ مقرر بھی ہو سکتا ہے اور نہیں بھی: 
ہر کاروبار میں چند بنیادی عوامل ہوتے ہیں جنہیں معاشی زبان میں عاملین پیداوار کہا جاتا ہے۔ ان میں کاروبار کرنے والا شخص (تاجر) زمین یا کاروبار کی جگہ دوکان وغیرہ، محنت اور سرمایہ شامل ہیں۔ ان عوامل میں مرکزی کردار کاروبار کرنے والا شخص ہوتا ہے جو نفع کمانے کیلئے باقی عوامل کو اکٹھا کرتا ہے۔ اور ان کے استعمال کے بدلے میں معاوضہ ادا کرتا ہے۔ یہ عوامل کیسے کام کرتے ہیں اور ان کا معاوضہ کیسے ملتا ہے ایک وسیع عمل ہے جس کا ذکر یہاں مقصود نہیں۔ مختصراً کاروباری شخص (تاجر) ان عوامل کو ساتھ اس شرط پر ملا لے کہ کاروبار میں جو نفع یا نقصان ہوگا آپس میں شریک ہو جائیں یا ایک مقررہ معاوضہ ہر ماہ یا سال لیتے رہیں۔ ہر صورت میں ایک معاہدہ ہوگا جو باہمی رضا مندی سے طے پائے گا۔ اگر باقی عوامل یہ سمجھیں کہ کاروبار میں شریک ہو کر ان کو زیادہ منافع ملے گا تو شریک ہو جائیں گے اور اگر ان کو تاجر پر اعتماد نہیں‘ اور شراکت میں نقصان سے ڈرتے ہیں تو وہ کہیں گے کہ ہمیں مقررہ معاوضہ دیا جائے۔ اب تاجر حساب لگائے گا کہ ان عوامل کا معاوضہ کتنا بنتا ہے اور کاروبار سے اسے کتنا نفع ہوگا۔ اگر اس کو نفع کی امید ہے تو ان سے مقررہ معاوضہ طے کرے گا اور اگر اس کو نقصان کا زیادہ احتمال ہے تو یہ معاہدہ نہیں کرے گا۔ ان چاروں عوامل پر زبردستی نہیں ہو گی جہاں چاروں عوامل کو فائدہ نظر آئے گا وہاں پر معاہدہ ہو جائے گا اور ہر ایک کا معاوضہ قرآن کی رو سے درست ہوگا کیونکہ وہ باہمی رضا مندی سے ہوگا۔ اسی میں سرمایہ کار کا معاوضہ بھی شامل ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کا خیال ہو کہ سرمایہ (مال) عامل پیداوار نہیں‘ اصل عامل محنت ہے۔ اگر اس دلیل کو مان لیا جائے تو ساری بحث ہی ختم ہو جاتی ہے اور منافع کا تصور بھی ختم ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے صرف محنت سے تجارت نہیں ہو سکتی اگر ممکن ہوتی تو سرمایہ کی ضرورت نہ پڑتی اور اگر ضرورت ہے تو اس کا معاوضہ بھی ہونا چاہیے اور اس کو عامل پیداوار بھی کہنا چاہیے اور یہی عدل ہے۔     ……(جاری)
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages