شاہ سوارِ صحافت بشیر انصاری رحمہ اللہ تعالیٰ 20-18 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Tuesday, September 15, 2020

شاہ سوارِ صحافت بشیر انصاری رحمہ اللہ تعالیٰ 20-18

ھفت روزہ اھل حدیث، شاہ سوار صحافت، شہسوار صحافت، بشیر انصاری، مدیر اعلیٰ

شاہ سوارِ صحافت بشیر انصاری رحمہ اللہ تعالیٰ

تحریر: جناب قاری محمد حسن سلفی (ساہیوال)
ہفت روزہ اہل حدیث کو میں زمانہ طالب علمی سے ہی بڑے شوق سے پڑھتاآرہاہوں۔ جامعہ سلفیہ فیصل آبادکی لائبریری میں مغرب کے بعد رات ۱۰ بجے تک عالی جماعتوں کے طلبہ کو جانے کی اجازت ہوتی تھی۔ لائبریری میں مختلف رسائل وجرائد آتے تھے۔ میں جب بھی لائبریری جاتا تو رسائل وجرائد کو ضرور دیکھتا اور ان میں سرفہرست جس رسالے کو میری آنکھیں شدت سے تلاش کرتیں وہ  ہفت روز ہ اہل حدیث ہوتا۔  ہفت روزہ اہل حدیث سے مدیر اعلیٰ کے طور پر جس ہستی کا نام ہمیشہ پڑھا وہ تھا ہمارے ممدوح بشیر انصاری ایم اے جو اب اللہ کی جنتوں کے مہمان بن چکے ہیں ۔ان شاء اللہ ۔
بہاولنگر سے جب میں نے خطابت کا آغاز کیا تو حاجی ضیاء الدین ؒ جو مرکزی جمعیت اہل حدیث ضلع بہاولنگر کے ایک لمباعرصہ امیر رہے بہت صالح بزرگ تھے۔ علماء کرام کے سچے خادم تھے دینی مدارس ومساجد کے محسن تھے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ساتھ ان کا تعلق محبت وجنون والا تھا۔ ان کے پاس ہفت روزہ اہل حدیث آتا وہ بڑی شدت سے اس کے منتظر رہتے۔ مجھے کہا کرتے تھے کہ آپ جماعتی لوگوں کو ترغیب دلایا کریں کہ وہ اہل حدیث پرچے کا مطالعہ کریں۔ اس میں دینی مسائل آتے ہیں۔ درس قرآن ہوتا‘ درس حدیث ہوتاہے‘ وہ پرچے کی خوبیاں گنوانا شروع کر دیتے۔ ان کی گفتگو سے انداز ہ لگانا مشکل نہ تھا کہ انہیں اس رسالے سے کتنی محبت ہے۔
میں نے بہاولنگر میں ،ہفت روزہ اہل حدیث کی ایجنسی منظور کروائی۔ خط کتابت کے ذریعہ جناب بشیر انصاری ؒ سے رابطہ شروع ہوا جو بہت بعد میں میرے لاہور جانے سے اور زیادہ مستحکم ہوگیا۔ اکثر مرکزی دفتر میں ان سے ملاقات ہوجاتی۔ کبھی کوئی مضمون لکھ کر انہیں دیتا تو بہت زیادہ اصلاح کرتے ،لکھنے کا طریقہ سلیقہ میں نے ان کے اداریے پڑھ کر سیکھا اور مزید جو بہتری آئی وہ  ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ کے مطالعہ سے آئی۔ مجھے نہیں یاد کہ میں نے کبھی کسی پرچے کا ناغہ کیا ہو‘ ہمیشہ اس کا انتظار کیا اور جب تک سارا پڑھ نہیں لیا تب تک سکون نہیں ملا۔
میں نے حاجی ضیاء الدین ؒ کی وفات کے بعد ان پر ایک مضمون لکھا وہ ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ میں شائع ہوا، بلاشبہ انصاری صاحب ایک عظیم انسان تھے جنہوں نے ہمیشہ قلمی جہاد کیا۔ ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ کی یہ خوبی ہے کہ کبھی بھی اس کی اشاعت میں انقطاع نہیں آیا ہر ہفتے رسالہ ترتیب دینا، مضامین ،مسائل ،احکام ،جماعتی خبریں اور جماعتی کارکردگی رپورٹس مرتب کرنا اور چانچ پڑتال کے بعد اسے لائق طباعت بنا نا کوئی آسان کام نہیں۔
انصاری صاحب نے اس رسالے کو پروان چڑھانے کیلئے جان جوکھوں میں ڈالی۔ اہل حدیث رسالے کے ساتھ ساتھ انہوں نے نہ صرف دیگر کتب لکھیں بلکہ سال بعد ایک خوبصورت ڈائری بنام ’’الاسلام‘‘ بھی احباب جماعت تک پہنچاتے رہے۔ ایک دفعہ دفتر میں بیٹھے میں نے کہہ دیا کہ انصاری صاحب! اس ڈائری میں تو اشتہارات بہت ہوتے ہیں تو فرمانے لگے:
’’اب آپ کو یہ اشتہارمعمولی لگتے ہیں جب بھی کوئی اہل حدیث مساجد ومدارس کی تاریخ لکھے گا تووہ اس ڈائری سے استفادہ ضرور کرے گا۔‘‘
پھر فرمانے لگے کہ علامہ احسان الٰہی ظہیرشہید ؒنے بہت لوگوں سے ڈائری چھاپنے کا کہا کہ ہماری جماعت کی ایک ڈائری ہونی چاہیے‘ کسی نے بھی حامی نہ بھری پھر میں نے شروع کی تو علامہ صاحب ؒبہت خوش ہوئے۔ ان کی شہادت کے بعد ڈائری پر لکھا کرتے ’’بیاد حضر ت علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ‘‘وہ علامہ شہید ؒ اور ان کے جانشین علامہ پروفیسر ساجد میرd کے معتمد خاص تھے۔
میرے پاس مولانا اسحاق جھنگوی کی وہ جلدیں پہنچی ہیں جو انہوں نے مختلف رسائل وجرائد کی بنا کر رکھی ہوئی تھیں‘ ان میں  ہفت روزہ ’’الاسلام‘‘ بھی تھا۔ اس وقت کے الاسلام رسالے دیکھ کر اندازہ ہوتاہے کہ ہر ہفتے رسالہ تیار کرنا کتنا مشکل کام تھا۔ اپنے دور صحافت میں انہوں نے کتنے لوگوں سے مراسم بنائے اور انصاری صاحب کی شخصیت کیسی تھی وہ ان کی کتاب’’ مشاہیر کے خطوط بنا م بشیر انصاری ‘‘ پڑھ کر پتہ چلتاہے ،اپنے وقت کی نامور علمی ،ادبی اور تحقیقی شخصیات کے ساتھ ان کے مراسم تھے۔ نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بیرون ممالک کے احباب جماعت بھی بذریعہ خط کتابت ان سے رابطے میں رہتے۔ انصاری صاحب کی وفات سے ایک کبھی نہ پر ہونے والا خلا واقع ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی جنت الفردوس کا مہمان بنائے اور درجات بلند فرمائے۔ آمین!
http://www.noorequraan.live/


No comments:

Post a Comment

Pages