ناموس رسالتؐ اور ناموس صحابہؓ پر حملے ناقابل برداشت ہیں: پروفیسر ساجد میر 20-19 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Monday, September 21, 2020

ناموس رسالتؐ اور ناموس صحابہؓ پر حملے ناقابل برداشت ہیں: پروفیسر ساجد میر 20-19

ھفت روزہ اھل حدیث، ناموس رسالت کانفرنس، بیگم کوٹ کانفرنس، توھین صحابہ، توھین اھل بیت، ناموس رسالت وناموس صحابہ کانفرنس


ناموس رسالتؐ اور ناموس صحابہؓ پر حملے ناقابل برداشت ہیں: پروفیسر ساجد میر

قادیانیوں کے خلاف بنائے گئے قوانین میں ترمیم کی کوئی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔ امیر محترم کا بیگم کوٹ کانفرنس سے خطاب

لاہور (    )  مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجدمیر نے کہا ہے کہ ناموس رسالت e اور ناموس صحابہ] پر حملے ناقابل برداشت ہیں۔ قادیانیوں کے خلاف بنائے گئے قوانین میں ترمیم کی کوئی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر حکومت نے ایسا کیا تو احمدیوں کے خلاف ۱۹۷۴ئسے بھی زیادہ شدت سے احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ قادیانی اسلام کا ٹائیٹل لگا کر اپنی غیر اسلامی حرکتوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔،دینی قوتوں کو متحدہو کر اسلام دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ اصحاب رسول] اور اہل بیت] دین کے ستارے ہیں، جن کی روشنی سے اسلام دنیا میں پھیلا‘ ہم ان ستاروں کی ناموس پر پہرہ دیں گے ۔ناموس صحابہ] پر قانون سازی کی ضرورت پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ کسی ہمسایہ ملک کو پاکستان کے اندر تخریب کاری کی اجازت نہیں دیں گے ۔

یہ پڑھیں:  خیبر پختونخواہ ... صوبائی مجلس شوریٰ کا اجلاس

موجودہ حکومت کی صفوں میں فرقہ پرست عناصر اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں جن کی سرگرمیوں پر تشویش ہے ۔موٹروے پر خاتون سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے شرعی سزائوں کو نافذ کرنا ہو گا۔ پارلیمنٹ میں سرعام پھانسی کا بل پیش کیا گیا تو اسکی حمایت کریں گے، اس کے لیے قرآن کی تعلیم بالکل واضح ہے کہ مجرموں کو سزا کھلے عام دی جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی جمعیت اہل حدیث لاہور کے زیر اہتمام بیگم کوٹ چوک میں ۴۰ ویں سالانہ فضائل صحابہ] کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے مرکزی ناظم اعلیٰ سینیٹر حافظ عبدالکریمd اور چیف آرگنائزر حافظ ابتسام الٰہی ظہیر، ڈاکٹر ریاض الرحمن یزدانی، حافظ بابر فاروق رحیمی، حافظ معتصم الٰہی ظہیر سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

پروفیسر ساجد میرd نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ فرقہ پرست عناصر کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے۔ ریاستی اداروں کو ایسے عناصر کا قلع قمع کرنا ہو گا۔ ملک میں ایک عرصہ بعد امن کی فضا قائم ہوئی ہے جو ملک دشمن عناصر کو پسند نہیں۔ مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے مقدس ہستیوں کی ناموس پر حملے کرائے گئے۔ سیدنا صدیق اکبرt‘ سیدنا ابوسفیانt اور سیدنا امیر معاویہt کی شان میں توہین کرائی گئی تاکہ ملک میں بدامنی پیدا ہو مگر ہم امن پسند لوگ ہیں ہم نے اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی تلقین کی مگر سوال یہ ہے کہ کیا امن کے قیام کی ذمہ داری صرف اہل سنت پر عائد ہوتی ہے؟ باقی لوگوں کی زبانیں چل رہی ہیں اور منفی تقریریں ہورہی ہیں اور ہمیں امن کا درس دیا جارہا ہے، یاد رکھیں تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ۔ ہم اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جن عناصر نے محرم کا امن خراب کرانے کی کوشش کی ان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج ہونے چاہئیں اور ان کا ٹرائل فوجی عدالتیں کریں، انہیں عبرت ناک سزا ئیں دی جائیں ۔

ناظم اعلیٰ سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریمd نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا حبیب الرحمن یزدانی، مولانا عبدالخالق قدوسی اور محمد خاں نجیبS کو عظمت صحابہ] کے دفاع میں شہید کیا گیا، شہادتوں اور حملوں کے ذریعے نظریات کو چھینا نہیں جاسکتا۔ ہمیں اوچھے ہتھکنڈوں سے خوف زدہ نہیں کیا جاسکتا، ہماری زندگیوں میں صحابہ] و اہل بیت] کی توہین ہو کبھی برداشت نہیں کریں گے، تحفظ حرمین شریفین کیلئے امت مسلمہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے  سے بھی گریز نہیں کرے گی، امت مسلمہ کو اس وقت اتفاق و اتحاد کی اشد ضرورت ہے تاکہ مسلم امہ اپنے مسائل کو خود حل کرسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام مسلم حکمران اپنے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مسلم امہ کی بہتری کیلئے کام کریں تاکہ مسلمان اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکیں۔ صحابہ کرام] سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے کیونکہ صحابہ] سے محبت نبی پاکe سے محبت ہے اور صحابہ] سے دشمنی نبی پاکe سے دشمنی ہے، اس لئے صحابہ کرام] سے محبت کا اظہار اور ان کے ایمان کی طرح کوشش کرنا ہرمسلمان پر فرض ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کشمیر کے مسئلہ پر قوم کو اندھیرے میں رکھ رہی ہے، ہم کشمیر پر کسی بھی قسم کی سودے بازی قبول نہیں کریں گے،امریکی صدر اور مود ی نے اسلام اور عالم اسلام کو للکارا ہے،کشمیرکے مستقبل کا فیصلہ کشمیریوں نے کرنا ہے،اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر قرارداد پر مطلوبہ ممالک کی حمایت نہ ملنا سفارتی ناکامی ہے۔

یہ پڑھیں:  ناظم اعلیٰ سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم﷾ کا دورۂ ایبٹ آباد

حافظ ابتسام الٰہی ظہیر نے کہا کہ صحابہ] کا احترام ہم سب پر لازم ہے، اسلام امن اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے لہٰذا اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ نہ جوڑا جائے، تحفظ حرمین شریفین کیلئے امت مسلمہ اپنی جانوں کے نظرانے پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔ مولانا عبدالباسط شیخوپوری نے کہا کہ عالمی سطح پر ناموس رسالت eکا تحفظ بھی ضروری ہے اس کے لئے تمام انبیاء کرامo کے ناموس کے لئے تحفظ کا قانون بنانا از حد ضروری ہے۔ حافظ معتصم الٰہی ظہیر نے کہا کہ ہم حرمین شریفین کی طرف اٹھنے والے ہر قدم کو ایمانی تقاضا سمجھ کر روکیں گے۔

قاری حنیف ربانی نے کہا کہ ’’صحابہ کرام] اہل جنت تھے، ان کے سامنے قرآن نازل ہوا، انہوں نے رسول اللہ e کا دیدار کیا اور آپe کی معیت میں جہاد بھی کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اپنی خوشنودی، مغفرت اور اجر عظیم کی ضمانت دی اور رسولِ کریم e نے ان کے خیرالقرون ہونے کی گواہی دی۔‘‘

مولانا ناصر مدنی نے کہا کہ ’’صحابہ کرام] سب سے بڑھ کر اللہ تعالی کی معرفت رکھنے والے تھے، اس کے رسول e کو سب سے زیادہ جاننے والے اور قرآن و سنت کو سب سے زیادہ سمجھنے والے تھے، لہٰذا ہم علم انہی سے اخذ کرتے ہیں، ان کے اقوال سے تجاوز نہیں کرتے، انہی کے فیصلوں کو نافذ کرتے ہیں، اپنے آپ کو انہی کے رنگ میں رنگتے ہیں، انہی کی پیروی کرتے ہیں اور ہمیں حکم بھی اسی بات کا دیا گیا ہے۔‘‘

مولانا عثمان شاکر نے کہا کہ ’’صحابہ کرام] کے باہمی اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا ہی اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے۔‘‘

حافظ بابر فاروق رحیمی نے کہا کہ ’’صحابہ کرام] اور نبوت e امت کے درمیان بمثل ایک پل ہیں اور جب تک یہ پل سلامت ہے امت کو نبوت eسے مربوط رہنے میں کوئی امر مانع نہیں‘ لیکن دشمن اس پل پر حملہ آور ہو کر امت کو نبوت eسے جدا کرنے کی ناپاک جسارت پر عمل پیرا ہے۔‘‘

مولانا نعیم بٹ، مولانا امیر حمزہ، مولانا حنیف ربانی نے اپنے خطابات میں کہا کہ ’’نبی کریمe نے فرمایا کہ

’’میرے صحابہؓ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، ان کو میرے بعد طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنانا، جس نے ان سے محبت کی اس نے میرے ساتھ محبت کی جس نے ان کیساتھ دشمنی کی اس نے میرے ساتھ دشمنی کی، جس نے ان کو تکلیف پہنچائی بیشک اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی، جس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی بیشک اسکا ٹھکانہ جہنم ہے اور اللہ تعالیٰ اسے پکڑے‘‘۔

امام مالک فرماتے ہیں جو شخص نبی کریمe کے صحابہ] سے حسد کرتا ہے، ان سے جلتا ہے اور ان کے متعلق بدگمانی کرتا ہے وہ کافروں میں شامل ہو جاتا ہے، اس وجہ سے کوئی بھی مسلمان صحابہ] کے متعلق بدگمانی کر سکتا ہے نہ ہی انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنا سکتا ہے کیونکہ غلامی رسولe ایک ایسی سدابہار دولت ہے جس میں کبھی خزاں نہیں آتی اور جنہیں یہ نصیب ہو جاتی ہے انہیں دُنیا کا جاہ و جلال تو درکنار، دربار رسول e میں حاضر ہو جانے کے بعد انہیں دوزخ کا ڈرنہیں رہتا وہ جنتی روحیں ہیں۔‘‘

یہ پڑھیں:  ’’تحفظ نظریۂ پاکستان ریلی‘‘ گوجرانوالہ ... ایک نظر

کانفرنس سے مولانا عبدالرشید حجازی، حافظ محمد یونس آزاد نے کہا کہ ’’نبی کریم e کی ذاتِ اقدس سارے نبیوں اور رسولوں سے افضل و اعلیٰ ہے اور جن کی نسبت آپ e سے ہو گئی وہ بھی پچھلی تمام اُمتوں سے اعلیٰ ہیں اس لیے قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تم بہترین اُمت ہو سب اُمتوں سے جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں‘‘۔ نبی کریمe کی غلامی اختیار کرنے کی وجہ سے آپe کی اُمت سابقہ تمام اُمتوں سے افضل ہو گئی، آپe کا کلمہ پڑھنے والا ہر اُمتی صاحب عظمت ہے۔‘‘

کانفرنس سے مولانا اسحاق اوکاڑوی، مولانا بنیامین عابد،مولانا یوسف ربانی ،مولانا بشیر احمد خاکی‘ مولانا حبیب الرحمن ضیاء ودیگر نے بھی خطاب کیا۔


No comments:

Post a Comment

Pages