سیرت رسول ﷺ کے چند اہم واقعات 20-19 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Monday, September 21, 2020

سیرت رسول ﷺ کے چند اہم واقعات 20-19

ھفت روزہ اھل حدیث، سیرت رسول ﷺ، اھم واقعات

 

سیرت رسول ﷺ کے چند اہم واقعات

امام الحرم المدنی الشیخ ڈاکٹر عبداللہ البعیجان d

ترجمہ: جناب عاطف الیاس                            نظر ثانی: جناب محمد ہاشم یزمانی

حمد و ثناء کے بعد!

بلاشبہ سب سے زیادہ سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد (e) کا طریقہ ہے۔ بدترین کام وہ ہیں جنہیں (شریعت میں) اپنی طرف سے جاری کیا جائے۔ ہر ایسا کام بدعت ہے‘ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں لے جائے گی۔

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘ (آل عمران: ۱۰۲)

یہ پڑھیں:  خطبۂ حرم مکی ... تاریخ الٰہی سے چند تاریخی واقعات ... الشیخ ڈاکٹر ماہر المعیقلی ﷾

اے مسلمانو! ہر شخص اپنے محبوب کا ساتھی ہوتا ہے، اور نبی اکرم e کی محبت ایمان کی شرطِ لازم ہے۔ محبتِ رسول کا بہترین ذریعہ سیرت، شمائل اور اخلاقِ نبوی کا مطالعہ ہے۔  چنانچہ  اپنے نبی کو پہچانو، تاکہ ان کا مقامِ عالی اور مرتبۂ بے مثال آپ پر عیاں ہو جائے۔ پھر تمہارے دل میں ان کی محبت گھر کر لے اور خود بہ خود فرماں برداری کی راہ پر چل پڑو۔ کیونکہ نبی کریم e سے محبت کو  اپنے نفس، والدین، اولاد اور کل مخلوقات کی محبت پر ترجیح نہ ہو تو کسی کا ایمان درست نہیں۔

اللہ کے بندو!  حقیقت یہ ہے کہ

’’اللہ ملائکہ میں سے بھی پیغام رساں منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔‘‘ (الحج: ۷۵)

محمد عربی e بھی اللہ ہی کا انتخاب ہیں، انہیں بہترین لڑی اور عظیم نفوس سے چنا گیا۔ پھر اللہ نے انہیں سبھی لوگوں پر فوقیت اور فضیلت عطا فرما دی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے۔‘‘ (التوبہ: ۱۲۸)

رسول اللہ e کی پیروی کو معیار فضیلت وکمال ٹھہرایا گیا:

’’در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو۔‘‘ (الاحزاب: ۲۱)

طریقۂ رسول اور اخلاق رسول کو پاکیزہ بنایا، آپ کے علم، عقل، قول، فعل، سب کو پاکیزہ فرمایا، مکمل طرح سے پاکیزہ فرما دیا، ظاہر بھی پاکیزہ، باطن بھی پاکیزہ، اللہ نے آپ e کی عقل کی تعریف فرمائی۔ فرمایا:

’’نہ وہ گمراہ تھے اور نہ راہ راست سے بھٹکے ہوئے تھے۔‘‘ (النجم: ۲)

آپ e کی نظر کی تعریف فرمائی۔ فرمایا:

’’نگاہ نہ چندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی۔‘‘ (النجم: ۱۷)

آپ e کے سینۂ اطہر کی پاکیزگی کی تعریف فرمائی۔ فرمایا:

’’کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لیے کھول نہیں دیا؟‘‘ (الشرح: ۱)

آپ e کے ذکر کی تعریف فرمائی۔ فرمایا:

’’تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آوازہ بلند کر دیا۔‘‘ (الشرح: ۴)

آپ e کی سچائی کی تعریف فرمائی۔ فرمایا:

’’وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا۔‘‘ (النجم: ۳) 

آپ e کے علم کی تعریف فرمائی۔ فرمایا:

’’اُسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے۔‘‘ (النجم: ۵)

آپ e کی بردباری کی تعریف فرمائی۔ فرمایا:

’’ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے۔‘‘ (التوبہ: ۱۲۸)

آپ e کے اخلاق کی تعریف فرمائی۔ فرمایا:

’’بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو۔‘‘ (القلم: ۴)

یہ پڑھیں:  خطبہ حرم مدنی ... چند قابل غور نصیحتیں ... الشیخ ڈاکٹر عبدالمحسن قاسم ﷾

اللہ کے بندو! اللہ نے اپنے تمام بندوں کو عقیدۂ توحید  پر پیدا کیا ہے، پھر شیطانوں نے انہیں گمراہ کیا اور انہوں نے اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام کر ڈالا، اور انہیں اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک کرنے کا کہا جن کاحکم اللہ نے نہیں دیا تھا۔ اللہ نے اہل زمین پر نظر ڈالی تو اہل کتاب کے ایک گروہ کے سوا سب ہی عرب وعجم کوبہت برے حال میں پایا، تو اس نے بہترین اصل اور عمدہ ترین نسل کے ایک بندے کو منتخب فرمایا، جو عزت وشرف کا پیکر ہے، جو خیر وفضیلت کا سرچشمہ ہے، محمد (e) بن عبد اللہ بن عبدالمطلب کو منتخب فرمایا۔ عربی، قریشی، ہاشمی کو منتخب فرمایا۔ پھر ان کے لیے بہترین علاقے کا انتخاب فرمایا، تو ان کی پیدائش، تربیت اور بعثت سرزمینِ وحی مکہ مکرمہ پر ہوئی۔ آپ کی ولادت با سعادت عام الفیل کے ماہِ ربیع الاول میں ہوئی، عیسیٰ بن مریمi کی ولادت سے تقریبًا چھے سو بتیس برس بعد۔ چالیس سال کی عمر میں بعثت ہوئی، اور تریسٹھ برس کی عمر میں آپ e کا انتقال ہوا۔

اے مسلمانو! آپe نے یتیمی کی سختی بھی دیکھی، ولادتِ کریمہ سے پہلے ہی والد فوت ہو گئے، چھ سال کی عمر ہوئی تو والدہ بھی انتقال کر گئیں، پھر دو سال دادا کی کفالت میں رہے، پھر وہ بھی چل بسے تو چچا ابو طالب نے اپنی کفالت میں لے لیا۔ انہوں نے آپe کی خوب حمایت کی، بہت دفاع کیا اور بہت ساتھ دیا، یہاں تک کہ ولادت سے دس سال بعد وہ بھی چل بسے۔ آپ اپنے ماں باپ کی اکیلی اولاد تھے۔ نہ کوئی بھائی تھا اور نہ بہن۔ مگر اللہ نے آپ میں خیر وفضیلت کے سبھی اوصاف اکٹھے کر دیے تھے، خصالِ فطرت اور اخلاق حمیدہ اکٹھے کر دیے تھے۔ آپ نے تجارت بھی کی۔ کئی مرتبہ تجارت کے سلسلے میں اپنے چچا کے ساتھ شام کا سفر کیا۔ پھر سیدہ خدیجہ بنت خویلد کی تجارت کے لیے بھی سفر کیا۔ چند پیسوں پر اہل مکہ کے لیے بکریاں بھی چرائیں۔ پچیس سال کی عمر میں سیدہ خدیجہr سے شادی کی۔ سیدہ بھی بہترین معاون ومددگار ثابت ہوئیں، ابراہیم کے سوا آپe کی ساری اولاد انہی میں سے ہے۔ ابراہیم کی ماں سیدہ ماریہ قبطیہ   تھیں۔

جب چالیس برس کی عمر کو پہنچے تو اللہ نے انہیں منتخب کیا، آپ کو مبعوث فرما کر سلسلہ نبوت ختم کر دیا۔ پھر آپ نے توحید اور ترکِ کفر کی دعوت شروع کی۔ نیکی کے متعدد کاموں کی تلقین فرمائی، نیکی کا حکم دیا، برائی، ظلم اور فساد سے منع کیا۔ دس سال تک مکہ مکرمہ میں صبح وشام سب کو اکٹھے اور ہر ایک کو الگ الگ دعوت دی۔ مگر لوگوں نے گویا کہ کانوں میں انگلیاں دے رکھی تھیں، وہ ان کے خلاف سخت سے سخت اور بد ترین چالیں چلنے لگے، اپنے کپڑوں کو اپنے اوپر لپیٹ لیا، ہٹ دھرمی، تکبر اور انکار پر اصرار کرنے لگے، سرکشی اختیار کی اور حق کے خلاف ڈٹ گئے، آپ e کو جھٹلایا اور اذیتیں دیں، آپ e کو استہزاء وتمسخر کا نشانہ بنایا، کبھی جادو گر کہا تو کبھی کاہن اور  مجنوں کہا، آپ e کے صحابہ اور پیاروں کو بھی سخت اذیتیں دیں،  اہل مکہ نے انہیں بہت ستایا اور بے گھر کر دیا:

’’اُن اہل ایمان سے اُن کی دشمنی اِس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اُس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔‘‘ (البروج: ۸)

یہ پڑھیں:   خطبہ حرم مکی ... بہترین نصیحت ... الشیخ ڈاکٹر عواد الجہنی﷾

پھر مدینہ منورہ، طیبہ الطیبہ اور طابہ کی طرف ہجرت کا حکم الٰہی صادر ہوا۔ جہاں کی رہائش بہترین ہے، جو بہترین مقام اور ایمان کا مرکز ہے، جہاں سمٹ کر ایمان پھر لوٹ آئے گا۔ جہاں اللہ کا لشکر اور اس کے مدد گار ہیں:

’’جو اِن مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لا کر دارالہجرت میں مقیم تھے‘ یہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے اِن کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی اُن کو دیدیا جائے اُس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (الحشر: ۹)

پھر مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست پھلنے پھولنے لگی، مختصر وقت میں اس کی بنیاد رکھ دی گئی، احکامِ الٰہی نازل ہوتے گئے اور اپنے ساتھ دیگر قبیلوں کے حلیف بناتی گئی، اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں کے ساتھ جہاد کرتی گئی، معاہدے اور اتفاق کرتی گئی۔ یہاں آپ e نے دس برس گزارے، جو واقعات، احکام اور غزوات سے بھر پور تھے۔ جنہیں پہلے نہ کبھی اس زمین نے دیکھا تھا اور نہ ہی تاریخ نے اس سے پہلے ایسی حق پرست، صراط مستقیم کی راہی، اور اللہ کو محبوب نسل دیکھی تھی۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں بھی ان کی معیت میں  رحمتِالٰہی میں جگہ عطا فرمائے، نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ۔ اور ان کا ساتھ کیا ہی عمدہ  ساتھ ہے۔

’’وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود اُنہی میں سے اٹھایا، جو اُنہیں اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے، اور اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اِس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘ (الجمعۃ: ۲)

دوسرا خطبہ

حمد وصلوٰۃ کے بعد:

اللہ کے بندو! مدینہ کے دس سالوں میں اللہ نے اپنے دین کو مکمل فرما دیا، اور لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہونے لگے۔ اسلام جزیرۂ عرب میں پھیل گیا، یہاں کے لوگوں نے اسلام کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ اس زمانے کے چند اہم واقعات یہ ہیں:

یہ پڑھیں:   خطبہ حرم مدنی ... ماہِ محرم‘ نیا اسلامی سال اور اسلامی تعلیمات ... الشیخ ڈاکٹر عبداللہ البعیجان﷾

سن ۱ ہجری میں:    رسول اللہ e نے مسجد اور اپنے گھر تعمیر فرمائے، مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنایا اور نظامِ اذان قائم ہوا۔

سن ۲ ہجری میں:   قبلہ تبدیل ہو کر کعبہ بن گیا، ماہِ رمضان کے روزے فرض ہو گئے، فطرانہ فرض ہوا، غزوۂ بدر کا معرکہ سر ہوا۔ اسی سال سیدہ رقیہ بنت محمد فوت ہوئیں، رسول اللہ e نے سیدہ عائشہ سے شادی کی، اسی سال سیدنا علیt نے سیدہ فاطمہr بنت رسول اللہe سے شادی کی۔

سن ۳ ہجری میں:   بہت سے معرکے اور جنگیں ہوئیں۔ غزوۂ احد بھی اسی سال ہوا، غزوۂ بنی النضیر بھی اسی برس ہوا، شراب کی حرمت بھی اسی سال میں ہوئی، رسول اللہ e نے سیدہ حفصہ بنت عمر بن خطاب w سے شادی کی، سیدنا عثمانt نے ام کلثومr بنت رسول اللہe سے شادی کی۔ اسی سال سیدنا حسن بن علی   پیدا ہوئے۔ ]!

سن ۴ ہجری میں:  رسول اللہ e نے سیدہ ام سلمہr سے شادی کی۔ حکم تیمم نازل ہوا۔ کہا جاتا ہے غزوۂ خندق بھی اس سال وقوع پذیر ہوا، غزوۂ ذات الرقاع بھی اسی برس ہوا۔ اسی برس  میں صلاۃ الخوف کا طریقہ نازل ہوا۔

سن ۵ ہجری میں:  غزوۂ دومۃ الجندل وقوع پذیر ہوا   اور اسی سال پردے کے احکام نازل ہوئے۔

سن ۶ ہجری میں:   صلح حدیبیہ، بیعتِ رضوان، غزوۂ بنی المصطلق، سورج گرہن کے واقعات پیش آئے اور اسی برس میں ظہار کی آیات نازل ہوئیں۔

سن ۷ ہجری میں:  غزوۂ خیبر ہوا، عمرۃ القضاء بھی اسی سال ادا کیا گیا۔ رسول اللہ e نے اسی برس میں  سیدہ ام حبیبہ، سیدہ میمونہ ، سیدہ صفیہ، اورسیدہ ماریہ قبطیہg سے شادیاں کیں۔ اسی سال سیدنا ابو ہریرہt نے اسلام قبول کیا۔

سن ۸ ہجری میں:  غزوۂ موتہ اور غزوۂ ذات السلاسل لڑے گئے، اور اسی سال ماہِ رمضان میں مکہ  مکرمہ فتح ہوا۔ اسی سال سیدنا ابراہیم بن محمد پیدا ہوئے، سیدہ زینب بنت محمد فوت ہوئیں۔ اسی سال غزوۂ حنین بھی ہوا۔

سن ۹ ہجری میں:   غزوۂ تبوک ہوا، آپ e نے سیدناابو بکرt کو اپنا قائم مقام بنا کر حج کے لیے روانہ کیا، سیدہ ام کلثومr بنت رسول اللہ e فوت ہوئیں، اسی سال نجاشی بھی فوت ہوئے اور بہت سے وفد آئے۔

سن ۱۰ ہجری میں: رسول اللہ e نے حجۃ الوداع کیا، سیدنا ابراہیم بن محمد فوت ہو گئے اور یہ آیات نازل ہوئیں:

’’جب اللہ کی مدد آ جائے اور فتح نصیب ہو جائے اور تم دیکھ لو کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔ تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو، اور اُس سے مغفرت کی دعا مانگو، بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘ (سورۃ النَّصْرِ: ۱-۳)

یہ پڑھیں:  خطبۂ حج برائے سال 2020/1442 ... معالی الشیخ عبداللہ بن سلیمان المنیع ﷾

اللہ کے بندو! ہر نفس کوموت کا مزا چکھنا ہے، اس زمین پر رہنے والی ہر چیز نے بالآخر ہلاک ہو ہی جانا ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔

موت کو تو آنا ہی ہے، اس سے کوئی چھٹکارا نہیں، جیسے ہی ایک میت کی تدفین مکمل ہوتی ہے تو دوسری تیار ہوتی ہے۔

سن ۱۱ ہجری، ربیع الاول میں حجۃ الوداع کے بعد رسول اللہe کو ایک تکلیف نے آ لیا۔ میرے ماں باپ آپe پر قربان! اللہ نے آپe کو اختیار دیا تو آپe نے پروردگار سے ملنا پسند کیا۔ اے اللہ! رفیقِ اعلیٰ! اے اللہ! رفیقِ اعلیٰ! جدائی کی گھڑی آ گئی، آپ نے وصیت کی اور سب کو الوداع کہا۔ آپe کی رخصت سے ساری دنیا تاریک ہو گئی، آپ کے جانے سے کلیجے پھٹ گئے۔ ہائے اللہ! کتنا ہولناک واقعہ ہے! کتنی سخت مصیبت ہے! کتنا بڑا سانحہ ہے! کتنے بھاری لمحات ہیں! ہوں بھی کیوں نہ؟ آپe کی رخصت سے آسمانی وحی کا سلسلہ جو ختم ہو گیاتھا۔ افق پر تاریکی چھا گئی تھی، مسلمانوں میں اضطراب پھیل گیا، کوئی پریشانی میں دہشت زدہ رہ گیا، کسی کی عقل جواب دے گئی، کسی کی ٹانگیں جواب دے گئیں اور کھڑا نہ رہ سکا۔ کسی کی زبان ساتھ چھوڑ گئی اور وہ بات نہ کر سکا۔ سیدنا انسt بیان کرتے ہیں: ’’جب مدینہ میں آپ کی آمد ہوئی تو مدینہ کی ہر چیز روشن لگ رہی تھی، پھر جب آپ e کا انتقال ہوا  تو ہر چیز تاریک لگ رہی تھی‘‘ مگر اللہ کا اصول یہی ہے کہ۔

موت نہ والد کو چھوڑتی ہے اور نہ اولاد کو، نہ چھوٹے کو، نہ بوڑھے کو، کسی کو بھی نہیں۔

آپ e بھی چل بسے، امت کے لیے وہ بھی نہ رہے، اگر آپ e سے پہلے کسی کو ہمیشہ کی زندگی ملی ہوتی تو آپ کو بھی مل جاتی۔

موت کے تیر برستے ہیں اور ان کا نشانہ کبھی غلط نہیں لگتا، جو تیر سے آج بچ گیا، وہ کل نہ بچے گا۔

دنیا کی زیب وزینت کو جو پہچان لے، وہ اگر اس میں دوسروں کا مقابلہ نہ کرے تو اسے کیا نقصان ہو سکتا ہے؟

اے اللہ! ہم تجھ سے تیری محبت اور تیرے رسول کی محبت کا سوال کرتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تک تیرا پیغام پہنچانے پر نبی کریم e کو بہترین اجر عطا فرما! اے اللہ! جس طرح تو نے مہربانی فرما کر ہمیں آپ e کے دین کی ہدایت عطا فرمائی ہے، اے اللہ! اسی طرح ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں ان کی شفاعت بھی نصیب فرما، ہمیں آپ e کے گروہ میں مبعوث فرما، ہمیں حوض کوثر کا گھونٹ نصیب فرما! اپنی رحمت سے ہمیں جنتِ خلد میں ان کے ساتھ اکٹھا فرما! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے!

یہ پڑھیں:  خطبہ حرم مکی: سیرت نبوی ﷺ اور کامیابی  ...  الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس﷾

اے اللہ! ہمارے حکمران، خادم حرمین کو کامیاب فرما! اس کی تائید فرما! اے اللہ! اسے اور اس کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اے دعا سننے والے!

اے اللہ! رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرما، اپنے بندے اور رسول، محمد e پر، اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین سے راضی ہو جا! ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے، اور تمام اہل بیت اور صحابہ کرام سے تابعین سے اور قیامت تک ا ن کے نقش قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔ اپنی کرم نوازی اور احسان سے ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

Pages