شاہ عبدالعزیز آل سعود رحمہ اللہ 20-19 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Monday, September 21, 2020

شاہ عبدالعزیز آل سعود رحمہ اللہ 20-19

ھفت روزہ اھل حدیث، شاہ عبدالعزیز آل سعود، سعودی عرب کے معمار اول، معمار اول، سعودی معمار


سعودی عرب کے معمار اوّل

شاہ عبدالعزیز آل سعود رحمہ اللہ

تحریر: جناب ملک عبدالرشید عراقی

شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن بن فیصل بن ترکی بن عبداللہ بن محمد بن سعود بن محمد بن مقرن بن مرخان بن ابراہیم بن موسیٰ بن مانع عنیزہ کے مشہور قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔

یہ پڑھیں:  سعودی سفیر جناب نواف بن سعید المالکی﷾ کی مرکز 106 راوی روڈ آمد

شاہ عبدالعزیز ۲۹ ذی الحج ۱۲۹۳ھ مطابق ۱۸۷۶ء کو پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم کا آغاز قرآن مجید کی تعلیم سے ہوا۔ بعد ازاں علوم شرعیہ کی تحصیل شیخ عبداللہ بن عبداللطیفa سے کی اور گیارہ سال کی عمر میں شرعی علوم پر مکمل دسترس حاصلa کر چکے تھے۔ ان کے والد محترم شیخ عبدالرحمن بن فیصل نے ان کی تعلیم وتربیت پر خاص توجہ کی اور سفر وحضر میں ان کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے‘ ان کے والد محترم کا عبدالعزیز کو حکم تھا کہ

’’وہ بزرگوں اور علمائے کرام کی مجالس میں شریک ہوا کریں تا کہ ان کو گزرے ہوئے حالات کا اندازہ ہو سکے۔‘‘

چنانچہ عبدالعزیزa پابندی سے علمائے کرام کی مجالس میں شریک ہوتے اور مجالس میں جو گفتگو ہوتی اور کئی مسائل زیر بحث آتے ان میں شاہ عبدالعزیز حصہ لیتے اور ان کی رائے بھی لی جاتی تھی۔

عبدالعزیزa اپنی صوابدید کے مطابق جواب دیتے‘ ریاض میں جب الرشید کا قبضہ ہو گیا تو عبدالعزیزa اپنے والد محترم کے ہمراہ کویت چلے گئے‘ وہاں اس وقت الشیخ مبارک الصباحa کی حکمرانی تھی۔ عبدالعزیزa کا کویت میں زیادہ وقت اس سوچ میں گزرتا تھا کہ

’’ان کے والد محترم کس طرح کویت میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔‘‘

عبدالعزیزa ہمیشہ اپنے ملک کے بارے میں  پریشان رہتے تھے اور اس کی تعمیرو ترقی کا خواب دیکھتے رہتے تھے۔ عبدالعزیزa کویت میں اپنے والد محترم کے سائے میں منظم زندگی گزار رہے تھے اور ان کا کویت میں کافی مدت قیام رہا۔ ان کے والد محترم کی صرف ایک ہی خواہش تھی کہ وہ کسی طور ان کی وہ مملکت جس کی بنیاد الشیخ محمد بن سعودa نے رکھی تھی دوبارہ بحال ہو۔ ان کے دل میں یہ خواہش بھی تھی کہ ’’عرب دنیا ایک قوم کے طور پر اُبھرے اور ان میں سلف صالحین اور صادقین جیسے لوگ پیدا ہوں۔‘‘

عبدالعزیزa آخر بڑی سوچ وبچار کے بعد تقریبا ۱۵ جنوری ۱۹۰۲ء الریاض میں داخل ہو گئے اور ابن رشید کا کارندہ عجلان مارا گیا۔

عبدالعزیزa نے الریاض پر قبضہ کر لیا اور منادی کرنے والے نے یہ اعلان کیا: ’’اللہ اکبر‘ حکومت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور شہزادہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن الفیصل آل سعود اس کے امین ہیں۔‘‘

یہ پڑھیں:  سعودی عرب کا قومی دن اور تحفظ حرمین شریفین

الریاض کی فتح کے بعد شہزادہ عبدالعزیز نے اپنے والد محترم عبدالرحمن بن فیصلa کو ریاض آنے کی دعوت دی جو اس وقت کویت میں قیام پذیر تھے۔ چنانچہ شیخ عبدالرحمنa کویت سے روانہ ہوئے اور جب ریاض کے قریب پہنچے تو شہزادہ عبدالعزیزa نے اپنے پانچ سو جانثاروں کے ساتھ والد محترم کا استقبال کیا اور عزت واحترام کے ساتھ ان کے ہاتھوں کا بوسہ لیا۔ سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ ’’شہزادہ عبدالعزیز نے جس انداز اور عزت وتکریم سے اپنے والد محترم کا استقبال کیا انسانی تعلقات میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔‘‘

شہزادہ عبدالعزیز نے اپنے والد محترم کے ریاض میں قدم رنجہ فرمانے کے بعد جمعہ کی نماز کے بعد مسجد الکبیر میں علمائے کرام کی ایک تعداد کو جمع کیا جس میں شہزادہ عبدالعزیز کے والد محترم نے بھی شرکت کی‘ علمائے کرام کی موجودگی میں عبدالعزیز اپنے والد محترم کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’حکمرانی آپ کا حق ہے اور میں بطور ایک سپاہی کے آپ کے ماتحت کام کروں گا۔‘‘

الشیخ عبدالرحمن نے علمائے کرام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ’’اگر مجھے ریاض بلانے کا مقصد یہ ہے کہ میں حکمرانی سنبھال لوں تو یہ ناممکن ہے۔‘‘ علمائے کرام نے مداخلت کی اور شہزادہ عبدالعزیز سے کہا کہ اپنے والد محترم کی اطاعت کریں۔ اور الشیخ عبدالرحمن سے بھی کہا کہ وہ بھی شہزادہ عبدالعزیز کے جذبات کا احترام کریں۔ لیکن انہوں نے فرمایا: ’’حکمرانی کا حق شہزادہ عبدالعزیز کا ہے‘ میرا نہیں۔‘‘

شہزادہ عبدالعزیز نے اسے مشروط طور پر قبول کیا‘ شرط یہ تھی کہ میرے والد میرے نگران ہوں گے اور میری ان امور کی طرف رہنمائی کریں گے جن میں مملکت کی بھلائی ہو گی۔

اس کے بعد الشیخ عبدالرحمن نے عبدالعزیز کو ابتدائی ہدایات دیں اور شہزادہ عبدالعزیز سے مخاطب ہو کر فرمایا:

’’سنو! عبدالعزیز‘ انصاف حکمرانی کی بنیاد ہے اگر تم حکمرانی چاہتے ہو تو عدل کا خیال رکھو۔ ہمیشہ پیرہیزگاری کرو اور قوم کا ہر فرد خواہ والی ہو یا عام شہری‘ وہ تمہارا محاسبہ کر سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے بارے میں بہت غیرت والا ہے۔ اس دن کو یاد کرو جب تمہیں نہ مال‘ نہ حکمرانی نہ جاہ ومنصب اور نہ بیٹے فائدہ دے سکیں گے۔‘‘

یہ پڑھیں: پاک سعودی تعلقات کا تاریخی جائزہ

 عبدالعزیز بحیثیت حکمران:

اس کے بعد اہل نجد نے شہزادہ عبدالعزیز کی بحیثیت حکمرانِ نجد بیعت کی اور شہزادہ عبدالعزیز اب شاہ عبدالعزیز بن گئے۔ ان کے والد محترم نے انہیں سعود الکبیر کی تلوار عنایت کی۔ اس وقت شاہ عبدالعزیز کی عمر صرف ۲۲ سال تھی اور سن ۱۹۰۲ء تھا۔

اس کے بعد شاہ عبدالعزیز نے حجاز کی طرف توجہ کی‘ آخر حجاز پر مکمل قبضہ کر لیا اور نجد وحجاز کو مدغم کر کے ایک ملک ’’المملکۃ العربیۃ السعودیۃ‘‘ کی داغ بیل ڈالی۔ جب شاہ عبدالعزیز سعودی عرب کے حکمران بنے تو اس وقت حجاز کی دینی‘ معاشی اور معاشرتی حالت دگر گوں تھی۔ جہالت اور ناخواندگی کا دور دورہ تھا‘ عقائد میں فساد آگیا تھا‘ اقتصادی حالت زبوں تھی‘ فقر وفاقہ اور طوائف الملوکی عروج پر تھی۔ حجاج کے قافلوں کو لوٹ لیا جاتا تھا۔ حکومت کا نظم ونسق مفلوج ہو چکا تھا۔ ہر طرف مایوسی اور ناکامی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔

 شاہ عبدالعزیز کے اقدامات:

بالآخر خدائے حکیم ورحیم کی قدرت حرکت میں آئی‘ اس نے آل سعود کو حجاز (جو اب سعودی عرب کے نام سے معروف ہو چکا تھا) میں امن وامان قائم کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن نے درج ذیل فلاحی اور شرعی ودینی اقدامات کیے:

1       حاجیوں کے قافلے لوٹ مار سے محفوظ ہو گئے۔

2       کنویں کھدوائے اور پانی کی ریل پیل ہوئی۔

3       غذائی اشیاء کی فروانی ہوئی۔

4       توحید باری تعالیٰ کی دعوت عام ہوئی۔ شرک وبدعت‘ محدثات اور جاہلی رسومات کا خاتمہ ہوا۔

5       شریعت محمدی اور اسلامی حدود کا نفاذ ہوا۔

یہ پڑھیں:  عقیدتوں کے محور کا قومی دن

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (م ۱۹۹۹ء) کی ایک مختصر تحریر شاہ عبدالعزیزa کے اقدامات کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں‘ وہ لکھتے ہیں کہ

’’شاہ عبدالعزیز نے پر امن حاجیوں پر یلغار کرنے‘ سنگدل اور ناخدا ترس بدوؤں کا خاتمہ کر دیا۔ ظلم کا ہاتھ روک دیا‘ حدود شرعیہ کو نافذ کیا اور لوگوں کے سامنے سادگی اور مساوات کی ایک مثال قائم کی اور ایسے بڑے بڑے کام انجام دیے جن سے ان کی غیر معمولی قابلیت اور خدا داد صلاحیت کا اظہار ہوا۔ ہر انصاف پسند نے ان کاموں کو تحسین کی نظر سے دیکھا اور مشرق ومغرب کے بڑے مفکرین اور اہل قلم نے ان کا اعتراف کیا۔‘‘

 عادات وخصائل:

شاہ عبدالعزیزa کے سوانح نگاروں نے ان کے عادات وخصائل اور فضل وکمال پر اپنی کتابوں میں تفصیل سے لکھا ہے۔ ذیل میں مختصر الفاظ میں ان کے عادات وفضائل اور فضل وکمال پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔

شاہ عبدالعزیز اپنے والد محترم کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے۔ ان کے سامنے خاموش بیٹھ جاتے اور اس انتظار میں رہتے کہ کب والد محترم کوئی حکم دیں اور میں اس کی تعمیل کروں۔

۱۳۴۸ھ/۱۹۲۸ء کو منیٰ کے میدان میں حجاج کرام سے ایک استقبالیہ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

’’میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو بادشاہ کے القاب اور شان وشوکت پر فخر کرتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں میں سے نہیں جو شاہانہ القاب وتکلف حاصل کرتے ہیں۔ ہم دین اسلام پر فخر کرتے ہیں اور ہمیں فخر ہے تو اس بات پر کہ ہم اللہ تعالیٰ کی توحید کے  پیغام کو عام کرنے والے ہیں‘ اس کے دین کو عام کرنے والے ہیںاور اس پر عمل کرنے والا ہمیں پسند ہے۔ ہم نے اگر دین حق کی تھوڑی بہت خدمت کی ہے تو اس پر فخر ہے کیونکہ ایسی خدمت سے ہمیں بھی راحت وسکون میسر آتا ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں وہ فخر حاصل ہوا ہے جو بادشاہی اور اس کے دبدبہ سے کہیں بلند ہے۔‘‘

شاہ عبدالعزیز میں ایک نمایاں وصف یہ تھا کہ علمائے کرام کا دل کی گہرائیوں سے احترام کرتے تھے۔

یہ پڑھیں:  حرمین شریفین (نظم)

۱۹۰۲ء میں جب شاہ عبدالعزیز نے ریاض پر قبضہ کیا تو آپ نے الشیخ عبداللہ بن عبداللطیف (مفتی اعظم) کو جو اس وقت اسلامی دعوت کے سربراہ تھے‘ علمائے اسلام کے گروہ میں ایک عظیم عالم دین تسلیم کیے جاتے تھے اور علوم شرعیہ میں ان کا ایک منفرد مقام تھا۔ شاہ عبدالعزیز نے انہیں اپنا خصوصی معاون ومشیر بنایا‘ شاہ ان کا بہت احترام کرتے تھے اور ان کے درس (قرآن وحدیث) میں شرکت کرتے اور ان کی رائے کو اہمیت دیتے اور ملکی امور میں ان سے مشورہ کرتے تھے۔

شاہ عبدالعزیز بہت زیادہ سخی تھے اور ان کی سخاوت کے لا تعداد واقعات میں ان کے ایک مشیر حافظ وہبہ اپنی تصنیف ’’جزیرۃ العرب فی القرن العشرین‘‘ میں لکھتے ہیں کہ شاہ عبدالعزیز کے دسترخوان پر روزانہ (۵۰۰) مہمان ہوتے تھے اور کبھی یہ تعداد ہزاروں سے متجاوز ہو جاتی تھی۔

شاہ عبدالعزیزa فرمایا کرتے تھے کہ

’’یہ سخاوت انفاق فی سبیل اللہ میری اپنی استطاعت نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت وعطیہ ہے جو اس کی طرف سے مقرر ہے۔ اس میں سب شریک ہیں۔ اس لیے مجھے وہ کام بتاؤ‘ جو مجھے رب کے قریب کر دے اور میری مغفرت کا وسیلہ بن جائے۔‘‘

شاہ عبدالعزیزa انصاف کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے اور اسے اپنی زندگی کا مقصد قرار دیتے تھے۔

شاہ عبدالعزیزa بین الاقوامی سیاست سے پوری طرح باخبر تھے اور انہیں ملکی سیاست پر مکمل عبور تھا۔ شاہ عبدالعزیز میں ایک وصف بدرجہ اتم پایا جاتا تھا کہ وہ درگذر اور معاف کرنے میں اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔

شاہ عبدالعزیزa اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امن وامان کو بہت زیادہ اولیت دیتے تھے۔ امن وامان اور شریعت اسلامیہ کا نفاذ ان کی اپنی ذاتی کوششوں سے ہوا اور اب ان کے جانشین ان کے طریقہ پر چل رہے ہیں‘ اس وجہ سے سعودی عرب میں مثالی امن وامان قائم ہے۔

یہ پڑھیں:  مملکۃ التوحید والامن

 وفات:

شاہ عبدالعزیزa نے ۷۳ سال کی عمر میں طائف میں رحلت فرمائی۔ (تاریخ وفات ۲ ربیع الاول ۱۳۷۳ھ مطابق ۹ نومبر ۱۹۵۳ء) اور ان کی تدفین ریاض کے عام قبرستان میں ہوئی۔

اللہم اغفرلہ وارحمہ وادخلہ الجنۃ الفردوس!


No comments:

Post a Comment

Pages